Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Last updated: 12 September 2025
Rate this Novel
Itebaar
By Mariyam Khan
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤ [ ] شان اور ماہ.کو ایک ساتھ یونی اتے دیکھ جہاں نازنین چونکی تھی وہی ناصر بھی حیران تھا جو کب سے ان دونوں کا ویٹ کررہے تھے.. [ ] دونوں کو ایک ساتھ گاڑی سے نکلتے دیکھ کہ نازنین اور ناصر نےدونوں کو وہی روک لیا..بلکہ نازنین نے تو ماہ سے پوچھ ہی.لیا . [ ] ماہ.اور شان تم.دونوں کو ایک ساتھ یونی.چکر کیا ہے.. [ ] نازنین کے سوال پہ ماہ.نے پہلے تو اسے ایک تھپڑ اسکے ہاتھ پہ.رسید کیا.. [ ] اور کہاں کینٹین چلو سب بتاتی.ہوں..... [ ] وہ چاروں کینٹین پہنچے تو پیچھے سے شاہ بھی آآ پہنچا اج اسکا.لیکچر تھوڑا لیٹ تھا تو اس نے شان سے ٹیکس پہ پوچھا کہ یونی پہنچنے کے نہی.تو اس نے اسے کینٹین انے کو کہا... [ ] وہ پانچوں بیٹھے تھے کہ جبھی شان نے ماہ اور اپنا رشتہ نازنین اور ناصر کو بتایا اور ساتھ میں شاہ کا بھی بتایا.. نازنین اور ناصر یی.جان کے بہت خوش ہوئے ..تو ماہ نے نازنین ناصر اور شاہ.کو یہ بھی بتایا کہ دس دن بعد اسکے بھائ.کی شادی ہے اسکے کزن کے ساتھ تو دسوں دن ان تینوں کو انکی.ہیلپ.کرنے انا ہوگا.اور ماہ.کی بات سن.کے سبھی نہ.ہامی.بھرلی... [ ] کہ جبھی نازنین کے نمبر کال ائ.تو اس نے ان لوگوں سے تھوڑی دور جاکہ بات کی. شاہ کی پیشانی پہ.ایک دم بل ابھرے جسکو وہاں بیٹھے ہر نفوس نے نوٹ کیا.. [ ] اس سے پہلے کوئ.کچھ بولتا نازنین وہاں اکے بیٹھ گئ...اس کے چہرہ سے پریشانی صاف جھلک رہی تھی... [ ] اسکا.پریشان چہرہ دیکھ کے ماہ.اس سے پوچھ بیٹھی..... [ ] کیا ہوا نازنین پریشان لگ رہی ہو کس کی.کال تھی... [ ] یار وہی امی.کہ.ایک.ہی رٹ انکے بھانجے سے شادی.کے لیہ.ہاں کردو.. [ ] نازنین کا بولنا تھا کہ پانی پیتے شاہ.کو ایک دم دھسکا لگا.. نازنین نے اسے گھور کے دیکھا .... [ ] ماہ.نے ایک نظر شاہ.کو دیکھا اور پھر نازنین سے پوچھا... [ ] تو پھر تم.نے کیا بولا..... [ ] یار میں نے کیا بولنا ہے. ہاں ہی.کرونگی اور کیا.کرونگی ..نازنین کا ایسا بولنا تھا کہ شاہ کی انکھوں میں انسو جمع ہونے لگے.... [ ] نازنین نے ماہ سے کہا..... [ ] ماہ مجھے یار لائیبریری سے تھوڑا کام ہے تو چل رہی ہے کیا.. [ ] ہاں چلوں ... [ ] ان دونوں کے جانے کے بعد ناصر اور شان نے.ایک ائیبرو اچکا کے شاہ.کو دیکھا تو وہ دونوں کی.شکل دیکھ کہ بول پڑا.... [ ] یار محبت کرتا ہو اس بلبٹوڑی سے مگر سمجھ نہی.اتا کہ.کیسے اس تک اپنے دل کی. بات پہنچاؤ.... [ ] سمپل ہے شاہ اگر تم واقعی اس سے محبت کرت ہو تو اپنے.والدین کو لیہ.کہ.اسکے گھر چلے جاؤ ایسا نہ ہو کہ ساری زندگی تم.پچھتاؤ اور رہا سوال نازنین سے اظہار کرنے کا تو وہ کسی پاک بندھن میں بندھ کر بول دینا....... شان نے اسکو ارام سے سمجھایا تو شاہ نے بھی ہاں میں گردن ہلائ... [ ] مگر شان تو بھی تو ماہ کو پچھلے تین سالوں سے محبت کرتا ارہا ہے یہ چوتھا سال ہے اور اب توتم لوگ ریلیٹف بھی ہو تو پھر تو کیوں چپ ہے؟؟؟. [ ] ..ناصر نے شان سے کہا... [ ] کیونکہ ناصر پہلے کی. بات اور تھی مگر اب وہ مجھ پہ عتبار کرتی ہے میری دوست ہے میں.کسی ایسی محبت کے لیہ اپنی دوست کا اعتبار نہی توڑ سکتا جو یکطرفہ ہو...ہاں بہت محبت کرتا ہو اس سے مگر اس سے بھی ذیادہ اسکی عزت کرتا ہو اور رہی بات وہ میرے نصیب میں ہے یہ نہ.یہ فیصلہ میرا الّللہ کریگا.. اور ناصر وہ شاہمیر سے بہت محبت کرتی.ہے میں نے اسکی انکھوں میں شاہمیر کا عکس دیکھا .ہے .... [ ] مگر شان تو جانتا ہے شاہمیر اسکے ساتھ فئئیر نہی.ہے.... [ ] ہاں ناصر مگر میری دعا ہے کہ میرا الّللہ میںری دوست کے حق میں جو بہتر ہو وہی.کرے.......یہ بول کے شان چپ.ہوا تو ناصر نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگالیا.اور کہا مجھے فخر ہرے تجھ پہ.شان .. [ ] تو شاہ بھی نہ رہ سکا اسکو گلے لگائِے بغیر..... [ ] لیکن شان نے ایک دم شاہ سے کہا.... [ ] میں نازنین کو بھی ماہ.کی طرح 4 سال سے جانتا ہو وہ کسی.میں انولو نہی.مگر شاہ تو جلد سے جلد اس کے گھر رشتہ لے کر چلا جا ایسا نہ.ہو بعد میں خالی پچھتاوا رہ جائے..یہ بول کہ شان تو اپنی.کلاس کی.طرف بڑھ گیا..مگر شاہ نے ناصر کو گھور کہ.اسے بہت کچھ جتلا دیا...¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤ [ ] فائزہ یونی میں داخل ہوئ تو سامنے ہی اسے شمائلہ مل گئ. شمائلہ اور فائزہ اسکول لائف سے ایک ساتھ ہیں. [ ] ارے فائزہ پورے ایک ہفتہ بعد تم یونی ائ ہو موبائل بھی تمہارا بند جا رہا تھا.کہاں تھی تم ؟؟؟؟؟؟ [ ] شمائلہ نے جب بات کرتے کرتے فائزہ کی طرف دیکھا تو وہ رو رہی تھی...شمائلہ کو ایک دم حیرت ہوئ وہ فائزہ کو یوں روتا دیکھ کہ ایک دم گھبراگئ.... [ ] ارے فائزہ کیا ہوا تم ایسے کیوں رو رہی ہو دیکھو یہاں کافی اسٹوڈینٹ ہیں سب دیکھ رہے ہیں..فائزہ... [ ] اچھا چلو ادھر لان میں چلتے ہیں شمائلہ فائزہ کو لے کے یونی کے لان میں اگئ. [ ] اپنے بیگ میں سے اسے پانی کی بوتل فائزہ کو دی..اور پوچھا... [ ] اب بتاؤ کیا ہوا کیوں رو رہی ہو..؟؟؟؟؟.. [ ] میری شادی ہے دس دن بعد ازلان سے... [ ] کیاااااا؟؟؟؟؟ [ ] فائزہ کی بات سنتے ہی.شمائلہ خوشی سے چیخی اور اس کے گالے لگ گئ....اور کہا یار تو اس میں رونے کی کیا بات ہے اس میں تو بھی تو اسے بچپن سے چاہیتی ہے.. تو پھر یہ انسو. کیوں کیاکچھ ایسا ہے فائزہ جو تو نے مجھ سے چھپایا....شمائلہ نے جانچتی نظروں سے فائزہ کو گھورا تو فائزہ نے دھیرے دھیرے شمائلہ.کو سب بتا دیا.کہ کیسے اس نے ازلان کو ازمانے کے لیہ فرضی عامر سے اپنی عشق کی.کہانی ازلان کو سنائ ازلان کی.ہمت سے لیہ کے اسکی چھوٹی سوچ اسکا فائزہ کو ٹاچر کرنا وہ ایک.ایک بات شمائلہ کو بتاگئ... [ ] فائزہ کی بات سنتے ہی شمائلہ.نے زور سے اپنا ہاتھ اپنی پیشانی پہ.مارا اور کہا... [ ] فائزہ یہ.تم نے کی کردیا.یار تم نے ایک اسیے انسان کی.محبت کو ازمایا جسکی انکھوں میں اپنے.لیہ محبت بچپن سے دیکھتے اراہی ہو اوپر سے اب تم.ازلان کے رویہ.کی شکایت کرہی ہو ٹف ہے پہ.فائزہ تمہیں اندازہ نہی ہے تم.کتنی بڑی حماقت کر چکی ہو.. ان سب کے باوجود وہ اگر تم سے نفرت نہی تو کیا پھر تمہارے عشق میں قصیدے پڑھے گا...تم نے بہت برا کیا ازلان کیساتھ بھی اور خود کیساتھ بھی تم نے یہ بات سوچی کہ اگر ازلان سب کو یہ کہ کے تم سے شادی سے منع کردیتا. کہ فائزہ کسی عامر نام کے لڑکے کو پسند کرتی.ہے اور اسی سے شادی کرنا چاہتی ہے تو تمہیں اندازہ ہے تم کتنی بڑی مشکل.میں پھنس سکتی تھی کہاں سے لاتی عامر کو ایجاد کرکے یہ بات نہی سوچی تم.نے...... [ ] شمائلہ کی بات تلخ تھی مگر حقیقت پہ منبی تھی ... [ ] مگر یار شمائلہ وہ بہت جنونی ہے.. تمہیں نہی پتہ اس نے کیسے باتیں کی ہیں میری زات کے مطلق... میرے کردار پہ.انگلی اٹھائ ہے اس نے... میں اسے کبھی معاف نہی کرونگی... [ ] فائزہ کی یہ بات سنتے ہی شمائلہ کو تو پتنگے لگ گئے اس نے غصہ میں فائزہ کو گھورا اور کہا. [ ] کیا کہا تم.نے فائزہ کہ تم اسے کبھی معاف نہی کروگی... فائزہ میدم اپنا جملہ درست کرو... یہ سوچو جب اسے اس بات کا پتہ چلے گا کہ اصل میں تو کوئ عامر ہے ہی نہی تم یے سب اسکی.محبت کو ازمانے کے.لیہ کیا تو وہ تمہیں معاف کرے گا یہ نہی..پہلی.لڑکی دیکھی ہے میں نے فائزہ جس نے اپنی لو اسٹوری کا اینڈ خود خراب کیا ہے.....ا.
