Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Episode 18
No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
[ ] جہانگیر اور حیدر اندر جا.کہ.سب سے ملے .اماں جان نے جہانگیر سے جیسی ہی بات کرنے لگی افریدی صاحب نے انہے انکھوں کے اشارے سے روک دیا…جہانگیر اور حیدر بھی اتنے لمبے سفر کے بعد تھک.گے تھے.اسلیے ارام کرنے کے غرض سے چلے گے.حیدر کو ایک گھر کےفرد حیشیت حاصل تھی اسلیے اسے گیسٹ ہاوس کے بجائے جہانگیر کے ساتھ والا کمرہ ارام کے لیہ دیا گیا…
[ ] ¤¤¤¤¤•••¤¤¤¤……………………
[ ] شام کو فریش ہوکے جب وہ دونوں نیچے اے تو بی جان تایا جان اور جنید بھی ایا ہوا تھا ایک محفل لگی تھی سب ہی خوش گپوں میں مصروف تھے..
[ ] دونوں نے اکے سب کو سلام کیا اور سب کے ساتھ بیٹھ گے بی جان تو جہانگیر کی صدقہ واری ہورہی تھی..ایک تو انکو انتا خوبرو داماد مل رہا تھا اور ساتھ میں اسکی دولت بھی..مگر حیدر کو دیکھ کے جہاں بی جان کا منہ بنا وہی جنید کی رگیں بھی تن گی…
[ ] یہ کون ہے افریدی؟؟؟
[ ] افندی صاحب نے ان سے پوچھا..
[ ] بھائ صاحب یہ جہانگیر کا دوست ہے اور میرا بیٹا ہے.. افندی صاحب بہت خوش اسلوبی سے اس سے ملے لیکن جنید اور بی جان سے یہ بات ہضم نہں ہوئ….
[ ] اور بی جان بول پڑی…
[ ] معاف کرنا افریدی جس کے گھر میں جوان بیٹی ہو وہاں جوان جہاں لڑکے کو رکھنا شریفوں کا کام نہں.. حیدر سے یہ بات برداشت نہں ہوئ اس لیے وہ اٹھ کہ وہاں سے چلا گیا..
[ ] لیکن جہانگیر سے اپنے جگر کی یہ بے عزتی برداشت نہں ہوئ..
[ ] معاف کیجیے گا بی جان..
[ ] مگر جب ہم کسی کی بہن بیٹی کی عزت کرینگے تو اللہ.خود ہماری بہننوں کی حفاظت کرے گا..اور بولنے سے پہلے بندہ جو اپنے اس پاس بھی نگاہ ڈورا لینے چاہیے.جہانگیر کااشارہ جیندکی طرف تھا حیدر میرے جسم کا حصہ ہے وہ میرے لیہ ڈودی کی.طرح ہے میں برداشت نہں کرونگا.کہ.کوئ اسکی زات کو نشانہ بناے..
[ ] افندی صاحب نے بھی اپنی.بیگم کو توکا.. جب انہوں نے دیکھا کہ معملہ بگڑ رہا ہے. تو انہوں نے بات ہی گھما دی..
[ ] ارے میں تو ایسی ہی بول رہی تھی اپ تو خاما خای ہی غصہ کرہے ہیں.
[ ] ارے بانو تم جہانگیر سے پوچھ کہ بتا دینا تاکہ ہم ایک ساتھ ہی ساری رسم.کرلے…
[ ] یہ بول کہ بی جان اور انکی فیملی چلی گی…
[ ] حیدر جو غصۃ میں باہر اگیا تھا..سیڑھیوں پہ گم سم بیٹھا تھا کہ جبھی چوڑیوں کی کھنک پہ پیچھے مڑا..تو نور چاے لیکے کھڑی تھی..چاے حیدر کو دے کہ نور نے کہا..کہ فضول لوگوں کی باتوں کو دل سے نہں لگاتے بلکہ ایک کان سے سن کے دوسرت سے نکلتے ہیں..نور کی یہ بات سن کہ حیدر کے لبوں پہ ہنسی اگی اسکو ہستہ دیکھ کہ نور بھی ہسنے لگی….
[ ] بی جان کے جانے کے بعد جب جہانگیر حیدر کو ڈھونڈتا ہوا ادھر ایا تو نور اور حیدرکی باتیں سن کےانکو ایک ساتھ ہستہ.یوا دیکھ کہ اسے اپنے فیصلہ پہ فخر ہوا اور وہ.خاموشی سے وہاں سے چلا گیا……………..¤¤¤¤¤¤¤
[ ] حیدر اسٹریلیا سے سوچ کے ایا تھا کہ نور اور حیدر کے رشتہ کی بات کریگا.حیدر کے ماں باپ کا ایک روڈ ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا..حیدر اور جہہانگیر کی ملاقات یونی میں یوی تھی بس جب سے جہانگیر کو وہ.اپنا.اپنا سا لگا اکیلے ہونے کا باوجود اس میں کوی.عیب نہں تھا ہر طرح سے تسلی کرنے بعد اسنے نور کے لیہ حیدر کو سوچا تھا..¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] رات کو ڈنر پہ ڈودی بھی جہانگیر سے بچوں کی.طرح مگر اسکے ڈودی کہنے پہ.عجیب عجیب سی شکلیں بنانے لگا.تو سب کا.قہقہ گونجا..ڈودی کو حیدر بہت اچھا لگا بلکہ اسکی اچھی خاصی دوستی ہوگی تھی اس سے..کھانے کی ٹیبل پہ سب بیٹھے تھے جب امنہ بیگم نے جہانگیر کو بولا..
[ ] جہانگیر کھانے کے بعد ہمارے کمرے میں انا ہمیں تم.سے بات کرنی ہے..
[ ] تھیک ہے اماں جان…
[ ] کھانا کھانے کے بعد نور سب کے.لیہ چاے بنا کے لای چاے کے بعد سب سونے کے غرض سے اپنے اپنے کمروں کی طرف چل دیے جبکہ.جہانگیر نے امں جان کہ کمرے کا رخ.کیا…
[ ] ہلکہ.دروازہ ناک کیا تو اندر سے امں جان نے جہانگیر کو انے.کو کہا..
[ ] جی.اماں جان کہیے…
[ ] جہانگیر ہم.نے عالم کے ساتھ تمہاری شادی کا بھی فیصلہ کیا ہے اعر بی جان بھی.یہی چاہتی ہیں..
[ ] امں جان کی بات سن کے جہانگیر ہتے سے اکھڑ گیا..
[ ] اماں جان بی جان کون ہوتی ہیں میری زندگی کا فیصلہ کرنے والی.اپ نے کس سے پوچھ کہ میری شادی کرنے کا سوچا.
[ ] جہانگیر ہوش میں رہ کہ بات کرو.ہمم ماں ہیں تمہاری…
[ ] خستاخی معاف امں جان مگر اپنا کورس ختم.ہونے تک.اور کراچی شروع کرنے تک.میں شادی کا سوچ بھی.نہں سکتا. اگر بی جان رک نہں سکتی تو بیشک رشتہ توڑ دیں..اور اگر امں جان اپنے زبردستی کی تو زندگی بھر کے لیہ.اپ میرا چہرہ دیکھنے کے لیہ بھی ترس جاینگی…
[ ] جہانگیر کی یہ بات سن کہ بانو بیگم نے اپنے دل.پہ ہاتھ رکھا..
[ ] جہانگیر یہ بات بول.کہ جیسے ہی جانے لگا دروازہ پہ کھڑے افریدی صاحب کو دیکھ کہ رک گیا افریدی صاحب دونوں ماں بیٹوں کی بات سن چکے تھے..
[ ] جہانگیر تم.جاکے اپنے ک.رے میں ارام کرو وہی ہوگ جو تم چاہوگے..
[ ] اوع جہانگیر بے ساختہ اپنے بابا کے گلے لگ گیا.انہوں نے اس کی پیٹ تھتھپائ… اور اسے جانے کو کہا….
[ ] جہانگیر کی جانے کہ.بعد وہ کمرے کے اندر تشریف لاے اور بانو بیگم.کو صاف الفاظوں میں بول دیا.کہ اپنی بہن کو خود منع کر دیں.. اور بانو بیگم نے ڈھڑکتے دل کے ساتھ امنہ بیگم.کو فون.ملایا…
[ ] ہیلو ہاں بانو بات کی جہانگیر سے؟؟اپا جہانگیر ابھی تین سال تک شادی نہں کریگا.اور بانو بیگم.نے اپنے اور جہانگیر کے درمیان ہونے والی ساری گفتگو.امنہ بیگم کو بتا دی بلکہ یہ بھی بتا دیا کہ افریدی بھی جہانگیر کی طرف ہے…..
[ ] بانو بیگم.کی بات سن کے امنہ بیگم کو شدید جھٹکا لگا وہ تو سمجھ رہی تھی کھیال ان کے ہاتھ میں ہیں. اور وہ جہانگیر کے رشتہ توڑنے والی بات پہ بھی پریشان ہوگی. صبا کے ساتھ شاہین کا فیصلہ انکا اپنا تھا.اس فیصلہ سے افندی صاحب اور تنویر لاعلم تھے. جبھی امنہ بیگم کو زیادہ پریشانی نہں ہوئ..
[ ] چلو بانو تم جہانگیر سے زیادہ بد گمان نہ ہو..مت تم سے ناراض نہں ہو جیسے میرے بھانجے کی خوشی..
[ ] اور بانو بیگم.ایک بار پھر اپنی بہن کے احسان تلے دب گی…
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] صبح سے افریدی حویلی میں افراتفری کا عالم تھا ملازم سے لے کہ گھر کے مکین تک سب ہی اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے..
[ ] اج صبح ہی عالم شہر سے ایا تھا
[ ] جہانگیر اور سب سے ملکے ارام کرنے چلا گیا..
[ ] اج شام میں مہندی اور مایو کا فنکشن کا کمباہنڈ فنکشن تھا..حیدر اور جہانگیر صبح ہی سے کام میں مصروف تھے دوپہر کا کھانا بھی انہوں نے نہں کھایا..
[ ] افریدی صاحب نے جب حیدر کو اسطرح اپنوں کے جیسے کام کرتے دیکھا.. تو انکا فیصلہ اور مضبوط ہو گیا..
[ ] نور ان دونوں کے لیہ چاے اور ساتھ میں کچھ کھانے کو لے ای.
[ ] نور نے جہانگیر کو اواز دی..
[ ] جہانگیر بھای اجاے کب سے کام.کرے جا رہے ہیں…
[ ] ننور کی.اوعز پہ.جہانگیر نے مسکرا کے نور کو دیکھا..جہانگیر نے حیدر کو بھی.اواز دی اوع دونوں چاے پینے اگے…
[ ] ابھی وہ لوگ چاے پی رہے تھے کہ جہانگیر کے نمبر پہ.کال اگی تو وہ سننے سائڈ پہ اگیا…
[ ] اور حیدر اور نور چاے کیلے پی رہے تھے جب حیدر نے نور کو مخاطب کیا…
[ ] اپ کہاں تک پڑھی ہیں..حیدر کہ سوال پہ نور نے حیدر کو دیکھا..
[ ] میں نے تو انٹر کیا ہے اور اگے پڑھنے کا مجھے شوق نہں…
[ ] تو پھر اپکے کیا شوق ہیں.حیدر نے پھر سوال.کیا..
[ ] میرے کھانا بنانا. کھانا کھانا..اوع پوری دنیا کی سیر کرنا مگر اماں جان گاوں سے باہر جانے ہی نہیں دیتی یہاں تک کہ میں اپنا کراچی والا گھر بھی نہں دیکھا..
[ ] نور نے انتہائ معصومیت سے کہا.
[ ] اور حیدر ایک بار پھر اسکے چہرہ پہ کھوگیا…
[ ] جہانگیر کہ انے پہ وہ.ہوش کی دنیا میں لوٹا…….
[ ] کیا ہوا بھائ اپ پریشان لگ رہے.ہو کس کی کال تھی. نور نے جہانگیر سے پوچھا جو کال سن کے ایک سم پریشان ہوگیا تھا..
[ ] حیدر نے بھی اس سے پوچھا…
[ ] یار جمیل(مینیجر) کی کال تھی جس پراجکٹ پہ ہم.کام کرہے تھے اس کی ڈیل فائنل کرنے.کے لیہ ہمیں بلایا ہے اور ولیمہ کے اگلے دن کی صبح ہی ہمارے فلاہٹ ہے اگر ہم نہ پہچے تو وہ ڈیل کینسل.کردینگے…
[ ] اوہ بھای ابھی تو اپ ائے ہیں ابھی سے جانے کی بات کرہے ہیں نور ایک دم روہانسی ہوگی…
[ ] ارے یار کام ہی ایسا ہے نہ نور اپناکورس بھی کملپیٹ کرہے ہیں اور کام بھی ساتھ کرہے ہیں…
[ ] تم اداس کیوں ہو رہی ہو ایک بار پروجیکٹ مل جاے آور میرا کورس ہوجاےپھر لمبی چھٹی پہ اونگا اور تمہیں بھی پیا گھر بھیجونگا…
[ ] بھائ نور شرما کہ اندر چلی گی. جہانگیر نے حیدر کو کہا.میں زرا امں جان کو بتا کے اجاو.
[ ] ہممم اور حیدر ک
[ ] جہانگیر کی بات جو اسنے نور کے مطلق کہی تھی سن کہ پریشاب ہوگیا..
[ ] مگر اسکی سمجھ میں نہئں ارہا تھا کہ.کیسی جہانگیر سے نور کے لیہ بات کرے. اخر معملہ بھی تو دوستی.کا تھا¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] مایوں کا فنکشن اسٹارٹ ہو چکا تھا.. صبا کو پیلے جوڑے میں گھونگھٹ ڈالے عالم کے برابر میں بیٹھا یا گیا..تو ادھر جہانگیر کی نظر جب صبا کے ساتھ بیٹھی شاہین پہ پڑی تواسے وہ معصوم سی لڑکی نہ زیادہ پیاری لگی نہ زیادہ بڑی….
[ ] اور اسطرف شاہین جسکے ہونٹوں سے اج ہنسی الگ ہی نہں ہورہی تھئ گم سم رہینے والی شاہین اس اکی ادا ہی نرالی تھی سب جو شاید یہ سمجھ رہیے تھے.کہ یہ مسکراہٹ جہانگیر کے انے سے..مگر یہ راذ تو شاہین کو ہی پتہ تھی کہ اسکی خوشی کہ وجہ جہانگیر نہں بلکہ وہ خبر تھی جو اسے اسکی بہن نے دی تھی کہ جہانگیر نے ابھی شادی کرنے سے صاف منع کردیا.بلکہ 3 سال تک اسکا شادی کرنے کا کوی ارادہ نہں تھا.شاہین کو بس جلد از جلد شہر پہچنے کی.جلدی تھی تاکہ وہ علی کو بھی یہ خبر سنا سکے…
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] نور نکسک سی تیار ہوکہ مہمانوں کو اٹینڈ کرہی تھی.مگر اسکی نگاہیں کسی کو تلاش کرہی تھی.. لیکن وہ ہے کہ ابھی تک تیار ہوکہ.ہی نہیں ایا تھا..دو اوع انکھیں تھی جو نور کا گہری نگاہوں سے طواف کرر رہی تھی..
[ ] نور نے جہانگیر سے اسکا کیمرہ مانگا..جو جہانگیر نے اسے بتایا کہ.وہ اپنے کمرے میں ہی چھوڑ ایا ہے..
[ ] نور جہہانگیر کے کمرے کی.طرف چل دی اور کوئ.اور بھی تھا.جو ااکی طرف بڑھتا..اس سے پہلے ڈودی نے جنید کو اواز دے کہ روکا..
[ ] رے جیند بھائ اپکو جہانگیر بھائ بولا رہے ہیں..جہانگیر نے جیند کو نور کے پیچھے جاتے ہوے دیکھ لیا تھ اس لے بہانے سے ڈوڈی سے اسے بلوالیا.کیونکہ جہانگیر اپنے اس کزن کی گھٹیاحرکتوں سے اچھی طرح واقف تھا..
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] نور جہانگیر کے کمرے میں اکے کیمرہ ڈھونڈے لگی.اور وہاں حیدر جس کا باتھ روم کا نل کام نہں کرہا تھا..جہانگیر کے کمرے میں نہانے اگیا.ابھی وہ وائٹ شلوار اور وائٹ بنیان پہنے تولیے سے اپنے بال رگڑتے نکلا.تھا.نور کو دیکھ کہ ایک دم چونکا. جو کچھ ڈھونڈنے میں مصروف تھی واہٹ گرارے یلو شرٹ پہنے نیٹ کے ڈوپٹہ اورے اور پھولوں کا زیور پہنے. بالوں کی ڈھیلی چوٹیا بناے وہ سیدھا حیدر کا دل دولہ رہی تھی ایک دم ڈریسنگ کی ڈرار سے اسے کیمرہ.مل.گیا وہ جیسی ہی کھڑی ہوئ ائینہ میں اپنے پیچھے کا عکس دیکھ کہ ایک دم گھبرای. وہ بیڈ کہ سائڈ میں سے جیسی.ہی نکلنے لگی گرارے میں اسکا پیر اٹکا اور وہ حیدر کو تھامتے بیڈ پہ گر گی. حیدر کا ایک ہاتھ نور کی.کمر پہ تھ جبکہ نور نے اسکا کندہ مظبوطی سے تھاما ہوا تھا اور انکھیں سختی سے بند کی.ہوی تھی
[ ] حیدر کہ دل.میں کیا ای جو وہ اسکی بند انکھوں کو چومنے کی.غلطی کر بیٹھا..حیدر کی اس حرکت پہ نور نے جھٹ اپنی انکھیں کھولی اور اس پہ سے اٹھنے لگی جیسی ہی وہ آتھٹی دورازہ کی اوراز پہ.دونوں نے گھبراکہ ایک دوسرے کو دیکھا..
[ ] اس سے پہلے انے والا ان دونوں جو اس حالت میں دیکھتا. حیدر نے نور کی.کمر کو پکڑ.کے اپنے اوپر جھوکایا.اور گھومتا ہوا بیڈ کی اسطرف نور کو لیے کہ گر پڑا اب نور انکھیں بند کرے لیٹے تھی جب اسکے اوپر جھکے حیدر نے اسکے کان میں سرگوشی کی کہ.نور اواز مت نکلنا.اور دروازہ بجانے والا نفوس دروازہ.کھول.کہ اندر اچکا تھا..
[ ] جاری ہے..
