Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

[ ] قسط نمبر 13.###
[ ] .اور ازلان نے اسے کسس کرنے کے علاوہ سب بتا دیا…
[ ] ازلان تم کیا پاگل ہو.ماہ نہ اپنے دونوں.ہاتھوں سےاسے پیچھے دھکا دیا..
[ ] یار تو تم.بتاو میں کیا کرتا..
[ ] کیا.کرتا کا کیا مطلب یہ کونسا طریقہ ہےزبردستی کرنے کا. تم نے اس سے کہا کہ تم اسے بچپن سے چاہتے ہو..
[ ] نہں…..
[ ] اف ازلان تم نے اپنے لیہ بہت بڑی مشکل کھڑی کردی ہے. اگر یہ بات اس نے چچی کو بتا دی یہ.پھر ماما کو بتا دی. تم نے سوچا ہے پاپا.تمہارا کیا حال کرینگےے.
[ ] کچھ ائیدیا ہے…
[ ] یار میں اس وقت بہت غصہ میں تھا… کچھ سمجھ ہی نہں اراہا تھا.اسکا کسی اور کے بارے میں سوچنا اسکا کسی.اور سے باتیں کرنا مجھ سے برداشت نہں ہوا….
[ ] تمہں لگتا ہے کہ.وہ.کبھی.تم.پہ.اعتبار کر پاے گی کبھی تم سے محبت کر پاے گی.
[ ] ازلان وہ کتنا ہرٹ ہوی.ہے اسکا اندازہ اس بات سے لگا.لو .کہ.اس نے چشمہ.پہنہ چھوڑ دیا..جسکے بغیر وہ.کبھی باہر نہں نکلتی تھی کل.وہ یونی نہں جاے گی…ازلان تم.نے بات کو بہت بگاڑ دیا یار…
[ ] ماہ نے جب دیکھا کہ وہ.نگاہ.نیچی کر کے بیٹھ گیا…تو اکے اس کندھے پہ.ہاتھ رکھا.. پلیز تم.اداس مت ہو..سب تھیک ہوجاے گا..
[ ] اوکے اب.میں بھی.جا رہی ہو سونے صبح یونی.میں دانس پریکٹس ہے
[ ] اوکے تم.جاو میں بھی.بس اٹھ رہا ہو..
[ ] تھوڑی دیر بعد وہ اپنے کمرے کی.طرف چل.پڑا …
[ ] فائزہ کے کمرے کی.طرف سے گزر رہا تھا تو اس نے دیکھا اس کے.کمرے کا.دروازہ کھلا ہے.اندر جھانکا تو اسے بہت افسوس ہوا سے اسکی.چشمش شیرنی کھڑکی کی طرف کھڑی ہے اور اسکے ہاتھ میں اسکا.ٹوٹا چشمہ.ہے ..ازلان سے برداشت نیں ہوا.
[ ] اس نے بنا سوچے سمجھے اندر کی.طرف قدم.بڑھا دے.مگر وہ دروازہ بند کرنا نہں بھولا.اہستہ.اہستہ .وہ فائزہ کی طرف.بڑھا ..
[ ] فائزہ..
[ ] اپنے نام پہ وہ چونکی پیچھے دیکھا تو ازلان اسکے بہت قریبب تھا..
[ ] یہاں کیا کررہے ہو تم.؟؟؟
[ ] نکلو ابھی کے ابھی یہاں سے..
[ ] ازلان نے اسکا ہاتھ پکڑ کے بیڈ پہ.بیٹھایا
[ ] پلیز یار میں شرمندہ.ہو دوپہر والی.حرکت کے.لیے پلیز مجھے معاف کردو مجھ سے برداشت نہں ہوا.یہ سوچ کہ تم.کسی اور سے محبت کرتی.ہو اور فائزہ کا دل.کیا کہ.وہ.اپنا سر پیٹ لے.. میں نہں دیکھ سکتا تمہں کسی اور کا ہوتے ہوے..میں بہت محبت کرتا ہو
[ ] یہ بات سن نے کے لیے تو ازلان میں نے اتنا ڈرامہ کیا مگر اب یہ الفاظ سے مجھے نفرت ہے اب تم.دیکھو میں کیسی تم سے اپنی تزلیل کا بدلہ لیتی ہو فائزہ نے.خالی یہ بات دل میں سوچی.
[ ]
[ ] فائزہ پلیز بھول جاو عامر کو ..
[ ] اور فائزہ کو اسکا دوپہر والا رویہ یاد ایا.تو اسکی.انکھومںیں انسو اگے..
[ ] ازلان نے اسکے انسو صاف کرنا چاہے تو اس نے اسکا ہاتھ جھٹک دیا
[ ] یہ ہے تمہاری محبت اسن اپنے ہونٹ کے زخم کی طرف اشارہ کیا
[ ] ایسے جتتاتے ہے محبت..
[ ] اچھا نہ.میں سوری بول.رہا.ہو…
[ ] بھاڑ میں گی تمہاری سوری سنا تم.نے ایک دم فائزہ اس سے دور ہوکے کھڑی ہوی..اور پھر اسکے قریب ائ.اور کہا..
[ ] بہت شوق ہے نہ.ان.انکھوں میں اپنا.عکس دیکھنے کا اج کے بعد تم.صرف ان میں اپنے لیےبے اعتباری دیکھو گے.سنا تم.نے اور ہاں کیا کہا.کہ بھول.جاو میں عامر کو تو سن لو ساری زندگی میں اس سے محبت کرتی.رہونگی..
[ ] )کسی سے بدلہ لینے کے.لیے انسان وہ وہ.الفاظ استعمال کرلے تہ.ہے جسکا.اس نے کبھی سوچا نہں ہوتا. یہاں تک.کہ.اپنی.محبت سے بھی.بدلہ لینے کے.لیے ہر حد تک جاتا.ہے )
[ ] اور یہ ہی فائزہ.کی.سب سے بڑی غلطی تھی… جو اگے جاکے.اس کے.لیے ایک امتحان بن نے والی تھی. فائزہ غصہ میں اتنی اگے نکل.گی کہ.اسے ازلان کے انسو بھی اسکا غصہ کم نہی کرسکے..جو اسکی باتیں سن کے اسکی انکھوں سے جاری ہوگے..
[ ] اب اپ جا سکتے ہیں یہ بول کہ واش روم.جانے لگی.بس ازلان کی حد یہی تک.تھی..
[ ] جیسے ہی فائزہ نہ واشروم.کا دروازہ بند کرنے لگی ازلان نے دورازہ.میں اپنی ٹانگ ارائ اور اسکو اندر دھکا دے کہ واشروم روم کا دروازہ بند کردیا.اپنی شرت اتار کے اہستہ.اہستہ.اسکی طرف بڑھنے لگا..
[ ] فائزہ نے جب ازلان.کی.انکھوں میں وحشت دیکھی تو خوف سے اسکی.انکھیں بھیگنے لگیی.اور الفاظ بھی اسکے ٹوٹ کے.ادا ہوے.
[ ] ا.ز.لان.یہ.کیا….ک .ر.ہیے..ہو
[ ] میں شور مچادونگی..
[ ] اوہ رئیلی تو مچاو شور تا کہ جو نکاح میں ایک ہفتہ بعد کرنے والا تھا..وہ.کل.ہی ہوجاے کیونکہ جب سب ہم دونوں کو اس حالت میں دیکھے گا تو ووووو
[ ] اگے تو تم.کافی سمجھ دار ہو…
[ ] ازلان کی.باتیں سن کے فائزہ ڈر کر مارے دیوار سے لگ گی..ازلان نہ اسکے قریب اکے شاور اون کردیا..
[ ] (وہ.کھسک کھسک کہ شاور کے نیچے اگی تھی)
[ ] اوہ دونوں بری طرح بھیگ رہے تھے..
[ ] ازلان نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اسکو پکڑ کر کھینچا..
[ ] فائزہ ڈری سہمی اسکے سینے سے الگی ڈر کہ مارے فائزہ کی.انکھیں بند تھی.ازلان کہ نظر اسکے لبوں پہ گی اور ایک بار پھر اسکے لبوں.پہ جھک.گیا.فائزہ نے کافی جدوجہد کی چھڑوانے کی.مگر ناکام رہی تکلیف کے باعث اس کی انکھوں کے انسو میں شدت اگی…
[ ] ازلان نے اسکو ایک جٹھکے سے چھوڑا تو اسکے لبوں پہ فائزہ.کا خون تھا جو اسنے بے دردی سے اپنے ہاتھ کی پشت سے صاف کیا..اور ایک جھٹکے سے پھر اسکے بالوں کو جکڑا..
[ ] میں نے کہا تھا فائزہ مجھے مجبور مت کرو کہ میں وحشی بن جاو..ابھی کہ ابھی میں تمہارا غرور توڑ سکتا ہو.. مگر نہں تیار ہوجاو ایک ہفتہ کے اندر اندر ہمارا نکاح ہے. اگر تم نے انکار کیا.تو انجام.کی پرواہ مجھے بھی نہں.. ایا تھا میں معافی مانگنے سوچا تھا اتنا پیار دونگا کہ تم بھول جاوگی اپنا ماضی لیکن نہں تمہں عزت راس نہں.. اب تم دیکھو تم سے نکاح بھی.کرونگا اور تم سے اپنی توہین.کا بدلہ بھی لونگا اور ایک جھٹکے سے اسے چھوڑ کہ اپنی شرٹ اٹھا کہ باہر نکل.گیا شاید اسکی.قسمت اچھی تھی کہ.کمرے سے نکلتے ہوے اسے کسی نہ دیکھا نہں..
[ ] اور وہاں فائزہ اپنا گیلا وجود لیے باہر ای اور ایسی ہی سو گئ.
[ ] ازلان.نے کمرے مے اکے گھٹنوں کے بل.بیٹھ گیا …اور روتے روتے اسنے.ایک ہے بات بولی
[ ] فائزہ اب تیار ہوجاو..
[ ] میری نفرت کے لیے…
[ ] (دل.غلطی کر بیٹھا ہے.
[ ] تو بول.کفارہ.کیا ہوگا..)
[ ] صبح فائزہ کی انکھ کھلی تو صبح کے 11 بج رہے تھے. اس کا سر کافی بھاری ہو رہاتھا. وہ ہمت کرکے اٹھی الماری سے اپنے کپڑے نکالے اور فریش ہونے چلی گی لائٹ پیرٹ گرین کلر کی سادی سی قمیض میں اسنے اپنا عکس شیشے میں دیکھا.روئ روئ انکھیں گولڈن.کلر کے بال جو کمر سے نیچے اتے تھے.اج اس نے کھلے ہی چھوڑ دیے تھے.ایک دم اسکی نگاہ اپنے ہونٹوں پہ گی جہاں ایک زخم.بن گیا تھا..زخم دیکھ کہ وہ.ایک بار پھر رو پڑی.. اپنا حلیہ درست کر کے وہ نیچے جانے کے لے جیسے ہی گیٹ تک پہنچی ایک دم چکرا کے گر گی.
[ ] نازہ جو فائزہ کے کمرے میں اسے اٹھانے کے لیے اس کے کمرے میں جا رہی تھی ایک دم اس کے کمرے میں سے کچھ گرنے کی.اواز پہ کمرے میں پہنچی.
[ ] جیسی ہی وہ کمرے. یں پہنچی تو فائزہ کو زمین پہ بیہوش پایا..
[ ] ایک دم نازہ نے زور زور سے ذلیخا کو اواز دینا شروع کردی..
[ ] بھابھی بھابھی…..
[ ] فائزہ اٹھو فائزہ..ایک دم نازہ کو احساس ہو کہ اسے تو بہت تیز بخار ہے..
[ ] اٹھو فائزہ…
[ ] نازو کی.اواز پہ.زلیخا اور اماں جان کمرے.میں پہنچہی.
[ ] یاللہ.نازہ فائزہ کو کیا ہوا زلیخا نے جب فائزہ کو دیکھا تو بول.پڑی ..
[ ] اماں جان.نے نازہ کو بولا..
[ ] بہو جلدی کال کرو دلاور کو بچی.کو بہت تیز بخار ہے..
[ ] جی جی.امی.
[ ] زلیخا نے مالازمہ کی.مدد سے فائزہ کو بیڈ پہ.لیتایا اتنے میں نازہ.نے.کال.کر کے دلاور کو بلا لیا.ٹھوڑی دیر بعد دلاور اور جہانگیر گھبراے ہوے گھر پہنچے…
[ ] کیا ہوا فائزہ کو ڈاکٹر کو کال کی
[ ] ہاں..
[ ] بس انے والے.ہیں..
[ ] تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر نے فائزہ کو چیک.کیا..
[ ] ارے تینشن.کی.بات نہں بخار کی وجہ سے بہوش ہوگی.ہیں میں نے انجیکشن دے دیا…
[ ] تھوڑی دیر بعد ہوش اجاے گا..
[ ] دلاوراور جہانگیر ڈاکٹر کو چھوڑنے گے اور پھر وہی سے افس کے.لیے نکل.گے.
[ ] فائزہ کے پاس ہی نازہ بیٹھی تھی جب اسکی نظر اسکے ہونٹ کے زخم پہ گی..ارے زلیخا بھابھی یہ دیکھیے گا یہ کیسا زخم ہے اسکے ہونٹ پہ..
[ ] زلیخا نے بھی زخم.دیکھا تو بول.پڑی کے ہو سکتا ہے نازو بہیہوش ہونے سے جو گری ہوتو لگ گی ہو
[x]
[ ] ہاں ہو سکتا ہے..
[ ] تھوڑی دیر بعد فائزہ کو ہوش ایا. تو دیکھا اسکی ماما اور تائ اسکے روم.میں ہی ہے..
[ ] ارے شکر ہے میری جان اپکو ہوش ایا بخار تھا تو رات میں کیوں نیں بتایا..
[ ] نازہ نے فائزہ سے شکوہ کیا
[x] .
[ ] اور فائزہ اپنی ماما کی گود میں گم سم سی لیٹ گی..
[ ] نازو پیار پیار سے اسکے سر میں انگلیاں پہرنے لگے..
[ ] کیا ہوا فائزہ پریشان ہو..
[ ] نہں ماما ویسی بس پیپر ہونے والے ہیں اور میں بیمار پرگی..
[ ] ار جان اتنا پڑھای کو اپنے اوپر سوار مت کرو…
[ ] اوکے مام.میں تھور دیر ارام.کرلو ..
[ ] ابھی نیں پہلا تھورا سا یہ سوپ.پیو پھر دوائ کھاو پھر سونا..
[ ] زلیخا کی اورز پہ دونوں پلٹی جو فائزہ.کہ اتھٹے ہی سوپ بنا نے چلی گہ…اوکے تائ اپ رکھ دے میں پی لونگی.
[ ] پکاا نہ
[ ] جی تای..
[ ] نازو اور زلیخا اسسے ارام کا بول کہ نیچے چلی گی..
[ ] سوپ پی کی وہ میڈیسن کھا کہ سو گی..
[ ] شام میں ماہ یونی سے ای تو زلیخا نے اسے.فائزہ کی طبیعت کا بتایا
[ ] اب کیسی ہے ماما فائزہ… ؟؟
[ ] ابھی تک سو رہی ہے دوپہر میں کچھ کھا کہ مڈیسن لے کہ پھر سو گی…
[ ] تم بتاو اج کافی لیٹ ای.ہو..
[ ] ہاں ماما اپکو بتایا تھا نہ میں نے کہ.میں ڈانس میں حصہ لیا ہے رو بس اسی.کی پریکٹس میں دیر ہوگی..
[ ] اوہ اچھا..
[ ] ماما ازلان کہاں ہے..
[ ] پتہ نہں کال کی تو بول رہا تھا لیٹ اونگا دوستوں کی طرف ہو..
[ ] اچھا چلے تھیک ہے ماما میں فریش ہو جاو..
[ ] اوکے بیٹا جاو….
[ ] ماہ.کمرے میں ای تو پھر دوپہر کا یونی میں ہونے والے اپنے وہم.کو سوچنے..لگی..
[ ] اج وہ اور شان جب پریکٹس کررہے تھے تو ماہ.کو ایسا لگا کہ.کوئ.انہں دیکھ رہا ہے. اور دو تین بار ایک دم روشنی.چمکی تو اسے لگاا کوی اسکی تصویر بنا رہا ہے..
[ ] اس نے شان.کو بولا تو اس نے یہ.کہ.کے بات ختم.کردی کہ.اسکا.وہم.ہے
[ ] اففف ہو سکتا ہے میرا وہم.ہی.ہو یہ.بول.کء فریش ہونے چلی گی..¤¤¤¤¤¤¤
[ ] رات گے تک.جب ازلان گھر میں ایا تو گھر میں سناٹا تھا. جسکا.مطلب تھا کہ.سب سو گے..
[ ] صبح وہ جلدی چلا گیا تھا رات بھر رونے کی.وجہ.سے اسکی.انکھیں ایک دم ریڈ ہورہی تھی..اس کو دیکھ کہ.کوی سوال.کرتا اس لیے وہ خودی ہی صبح کہہی چلا گیا.اور بنا مقصد کے ادھر ادھر اپنا ٹائم.گزار کے گھر اگیا وہ فائزہ کی شکل بھی دیکھنا نہں چاہتا تھا..
[ ] وہ اپنے کمرے میں جانے لگا تو نظر فائزہ کے روم کی طرف گی.مگر اس نے غصہ میں اپنا منہ پھیر لیا..
[ ] اپنے دروازہ میں داخل.ہو کے جیسے ہی اس نے لائٹ جلای..تو ماہ.کو اپنے کمرے میں پایا..
[ ] جو غصہ میں اسکے کمرے کے صوفے پہ بیٹھی تھی..
[ ] ارے پاٹنر تم یاں اس وقت میںرے کمرے میں.خیریت…
[ ] اور یہ.شکل پہ چڑیلوں جیسا غصہ کیوں ہے..؟؟؟؟
[ ] ازلان کل.کیا ہوا تھا تمہارے اور فائزہ کے درمیان…؟
[ ] مطلب…!!!
[ ] کل تم بول رہے تھے کہ تم.بات کروگے اس سے..
[ ] اورازلان نے سو چ لیا تھا اب وہ فائزہ کو اپنے طور پہ.ہنڈل.کریگا
[ ] ارے نہں بھی میں نہ بات نہں. کری..
[ ] کیوں کیا ہوا….؟؟؟؟؟؟؟؟
[ ] ازلان نے انجان بن کے پوچھا…
[x]
[ ] اج صبح بخار کی وجہ.سے بیہوش ہوگی تھی. بخار ہے اسکو بہت اور ماما بتا رہی تھی.کہ گرنے سے اسکا ہونٹ بھی پھٹ گیا.میں گی تھی دیکھنے تو سورہی تھی.
[ ] ازلان سچ میں اس بار تو کچھ نہں کیا نہ؟
[ ] ارے نہں یار….
[ ] تو تم صبح سے اے نہں اور ابھی بھی میں نے تمہں بتایا کہ وہ بیمار ہے تو تب بھی تم نے ریکٹ نیں کیا….
[ ] ارے یار دوستوں کے ساتھ تھا ماما کے کال.کے بعد میں نے موبائل.بند کردیا تھا..اور بخار ہے نہ سب گھر والے نے تیماریدرای کر تو لی اسکی اب میں جوگی بن کے بیٹھ جاو کہ شہزادی فائزہ بیمار ہے……
[ ] ازلان نے بیزاری سے کہا….
[ ] ارے ارے ریلکس اتنے چڑ کیوں رہی ہو..
[ ] چڑ نہں رہا ہو بتا رہا ہو بندہ بیمار پڑتا ہے یہ.انوکھی نہں ہوی..
[ ] اچھا اچھا یار ازلان تم.لگتا ہے کافی تھک گے ہو. چلو ارام.کرو اوکے..میں نے تو اس لی بولا کیونکہ.پہلے تم اسکی زرا سی بیماری.پہ پورا پورا دن گھر میں گزار دیتے تھے کھانے پینے میدیسن کا بھی اسکی خودی دیھان رکھتے تھے اور اج صبح سے اب.اے ہو گھر اور اب بھی ایسا ریکٹ کر رہے ہو جیسے تمہں کوی فرق نہں پڑتا..
[ ] ماہ میں بہت تھک گیا ہو.
[ ] کیا ہم صبح بات کرے؟؟؟؟؟؟؟
[ ] ہاں چلو تم.ارام کرو میں چلتی ہو..
[ ] ماہ.کے جانے کے بعد فریش ہو کے لیٹ گیا.مگر اسکو نیند نہں ارہی لاکھ کوشیشوں کے باوجود وہ سو نہں پایا….
[ ] کیا مصیبت ہے اب مجھے نیند کیوں نہں اراہی..اور یہ چشم..ابھی وہ کچھ اگے بولتا ایک بار پھر پیار کی جگہ غصہ نے لے لی..
[ ] نہیں.. نیں ہے وہ میری چشمش شیرنی
[ ] فائزہ. i hate you..
[ ] (غصہ لاکھ اپنی جگہ مگر جن سے محبت ہوتی ہے ان سے چاہ کے بھی انجان نہں بن سکتے اور جن سے ایک بار محبت کرتے ہیں چاہ کے بھی ان سے نفرت نہہں کی جا سکتی..#مریم)
[ ] یہی ازلان کے ساتھ ہوا وہ چاہ کے بھی اس سے بےاعتنائ برت نہں سکتا تھا.اس لیے چل پڑا اپنی چشمش شیرنی.کو دیکھنے.. اپنے کمرے سے نکلتےہواس نے ادھر ادھر دیکھا…اور فائزہ کہ کمرے کے دروازہ کے ہنڈل پہ یاتھ رکھ کے گھمایا تو وہ کھل گیا.تو ازلان نے شکر کا سانس لیا.اندر اکے وہ اہستہ اہستہ چلتا ہوا فائزہ کے بید تک ایا..
[ ] وہ بے خبر سو رہی تھی اس نے اسکی ماتھے پہ ہاتھ رکھا تو اسے ابھی بھی بخار تھا..
[ ] وہ.وہی گھٹنوں کے بل.بیٹھ گیا اور اسکو غور سے دیکھنے لگا..سوجی انکھیں بکھرے بال جو ہلکے ہلکے اسک چہرے پہ اراہے تھے. اس نے بہت احتیاط سے اس کے بال چہرہ سے ہٹاے.اورزخمی.ہونٹ..
[ ] (وقت بدلہ ہے زرا سہ میں وہی ہو جانے جا..
[ ] کیسے تجھ کو بات میں یہ سمجھاو ساتھیا….😢😢😢😢
[ ] کیسے خوش تجھے رکھو نہیں پتا پر چاہتا ہو تیرے لبوں پہ ہنسی.
[ ] محبت ہے یہ جی.حضوری نہں💔💔💔💔)
[ ] ازلان اسکے پاس سے اٹھھ کے جانے.لگا پھر کچھ یاد انے پہ وہ.مڑا اور جھک کے فائزہ.کے زخمی.لب کو اپنےلبوں سے ہلکے سے چھوا اور دھیرسے سے کہا.سوری ….
[ ] اور کمرے سے باہر اکے اپنے کمرے میں چلاگیا..¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
….
[ ] بانو بیگم رات کو کمرے میں ای تو افریدی صاحب کمرے میں کسی بک کا مطلعہ کرنے میں مصروف تھے..
[ ] بانو بیگم نے افریدی صاحب سے پوچھا..
[ ] اپ نے جہانگیر سے پوچھا..کہ کب ارہا ہے وہ آسٹریلیا سے؟؟!
[ ] ہاں وہ میری بات ہوی تھی پڑسوں تک اراہا ہے. اور حیدر بھی ارہا ہے…….
[ ] اچھا حیدر بھی اراہا ہیے. چلو اچھا ہے ویسے بھی اپنی ماں کے اننتقال کے بعد بلکل اکیلا رہ گیا..
[ ] ہا ں بانو بیگم بہت ہی نیک بچہ ہے.میں نے تو اسے اپنی نور کے لیہ سوچا ہے.
[ ] مگر افریدی صاحب اپا نے تو جنید کے لیہ سوچا تھا…
[ ] کیا کہا بانو بیگم سوچیے گا.بھی نہں. افریدی صاحب ایک دم دھاڑے..
[ ] اپنی بہن کو اپ خود اپنی زبان میں منع کردے تو بہتر ہوگا ای سمجھ اس اوراہ جنید کو میں اپنی بیٹی دے دو جو شہر میں روز کتنی.لرکیوں سے کھیلتا ہے..ایسا کبھی نہیں ہوگا.
[ ] اور بانو بیگم ایک دم اپنی گردن جھکا گی..
[ ] اور جب بانو بیگم.کچھ دیر تک.کچھ نہ بولی.تو افریدی صاحب پھر بولے.اور کچھ بولنا ہے اپکو…
[ ] نہیں..
[ ] تو لائٹ بند کردے مجھے نیند اراہی ہے..
[ ] بانو بیگم لائٹ بند کر کہ لیٹ گی.مگر انہے نیند نہ ای یہ سوچ کہ کہ وہ اپنی بہں کو منع کیسے کرینگی….
[ ]
[ ] جاری ہے.