Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 29 Part 2

[ ] قسط نمبر 29#(پارٹ 2)
[ ] دلاور کے خاموش ہوتے ہی.ایک خاموشی چھاگئ.وہاں بیٹھے ہر نفوس کی انکھ نم تھی..کہ جبھی حیدر نے اپنے دونوں ہاتھ جہانگیر کے سامنے جوڑ دیا اور روتے روتے کہا معاف کردے میںرے یار جب تجھے سب سے زیادہ میری ضرورت تھی اس وقت میں نے تجھے اکیلا چھوڑ دیا….
[ ] جہانگیر نے ترپ کے حیدر کو گلے سے لگالیا اور کہا….
[ ] سالے مار کھائے گا اگر ائندہ تو نے ایسے ہاتھ جوڑے میرے سامنے
[ ] جو ہوا وہ حالات اور وقت کا تقاضا تھا مگر دیکھ جو ہم نے تجھ پہ اعتبار کیا وہی اعتبار بابا کو بھی تجھ پہ تھا بھول جا حیدر سب اب بس میں اپنی باقی کی زندگی اپنے یار اور اپنی فیملی کیساتھ گزانا چاہتا ہو…
[ ] بی جان نے جو کیا اسکا بدلہ اللہ ان سے لیگا….. تو بس اب شادی.کی تیاری میں اب میرا ہاتھ بٹا اور ہاں میں اب ارام کرونگا سارا انتظام تو دیکھے گا شادی کا…
[ ] کس کی شادی ؟؟؟؟؟
[ ] نور اور حیدر نے حیرت سے سب سے پوچھا…..
[ ] ارے بھئ فائزہ اور ازلان کی شادی ہے دس دن بعد…
[ ] اور یہ خبر سن کے حیدر باری باری جہانگیر اور دلاور کے گلے لگا تو ادھر نور بھی اپنی بھابھیوں کے بھی خوشی سے گلے.لگ گئ……
[ ] کہ جبھی اپنے دل میں ابھرتے ہوئے سوال کو دلاور زبان پہ.لے ایا.اور جہانگیر سے پوچھا..
[ ] جہانگیر بھائ اگر بھابھی سب جانتی تھی کہ.کس وجہ سے نور اور حیدر حویلی سے نکلے تو یہ بات انہوں نے سب کے سامنے کیوں نہی.کہی…دلاور کے سوال پہ بے ڈھرک نور نے زلیخا کی.طرف دیکھا اور شدت سے دعا کی کاش بھابھی اج برسوں پرانا راز کھول دیں..مگر افسوس شاید ابھی زلیخا کی زندگی کا ایک اور امتحان باقی تھا…..
[ ] دو منٹ جب زلیخا نے خاموشی نہی توڑی تو نور نے ایک بار پھر نفی میں گردن.ہلائ .اور جبھی جہانگیر بول پڑا…
[ ] ڈوڈی میں نے ہی کہا تھا زلیخا کو چپ رہنے کے.لیہ کیونکہ.حویلی میں جنید اغواہ کرنے نور کو ایا تھا..یہ بات تو نہ بی جان مانتی اور نہ اماں جان اس لیہ میں.نے ہی زلیخا کو بولا تھا کہ جب تک.میں نہ اجاؤ اپنی خاموشی نہ.توڑے………..
[ ] جہانگیر کے چپ.ہوتے ہی.نور نے جہانگیر سے پوچھا…..
[ ] بھائ.عالم بھائ کہاں ہے؟؟؟؟
[ ] نور اوپر والے پورشن میں رہتے ہیں انکا کوئ واستہ نہی ہم سے نہ انکے بچے نیچے اتے ہیں اور نہ وہ خود ہاں صبا بھابھی اتی ہیں اماں جان سے ملنے نیچے…
[ ] اور زلیخا بھابھی پہ طعنے کسنے…. جہانگیر کی اگے کی بات نازو نے سڑا ہوا منہ بنا کہ کہی تو سب کے لبوں پہ.مسکراہٹ اگئ…
[ ] کہ.جبھی حیدر نے ماحول اور خوشگوار کرنے.کے.لیہ کہا..
[ ] ویسے یار جہانگیر ڈوڈی کی بیٹی کی شادی ہے مگر ہے یہ اج بھی ڈودئ….
[ ] حیدر کی بات پہ جہاں سب کا قہقہ گونجا وہی ڈوڈی نے صدمہ سے حیدر کو کہا…
[ ] حیییییدر بھائ اب اپ تو بھائ کی.طرح میںری ٹانگ نہ کھینچے..ڈوڈی نے اتنی معصوم شکل بنا کے کہا.کہ.ایک بار پھر سب کی.ہنسی نکل گئ……ایک حیسن رات کی.اختتام ہوئ جسکی صبح بھی حسین تھی…..
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[x]
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤ا
[ ] اج افریدی مینشن کی صبح ہی.نرالی تھی ناشتہ کی ٹیبل.پہ.ایک.رونق لگی
[ ] تو اج اماں جان کے ہونٹوں پہ.بھی ایک.مسکراہٹ تھی…جو شاید اج انکی بیٹی کے انے.کی وجہ سے تھی.نور نے ناشتہ ٹیبل پہ.شان اور پری کو بتایا..کہ دس دن بعد ازلان اور فائزہ کی شادی ہے.. شادی.کا سن کے پری تو بہت ایکسائڈیڈ ہوگئ تھی..
[ ] جبکہ.شان نے گلے لگا کہ ازلان کو شادی کی مبارک بعد دی..
[ ] ناشتہ کرتے ہوئے اچانک ازلان کو جیسے کچھ یاد ایا تو وہ جہانگیر سے بولا…..
[ ] پاپا کل تو اپکی میٹنگ تھی نہ.NJ compny کے اونر کیساتھ اپنے بتایا نہی میٹنگ کیسی رہی اور ہمارے کانٹرک کا کیا ہوا؟؟؟؟
[ ] ازلان کی بات پہ.جہاں جہانگیر ہنسا وہی ڈوڈی اور جہانگیر کی بھی ہنسی نکل گئ…
[ ] ازلان اور باقی سب نے انہیں حیرت سے دیکھا کہ جبھی جہانگیر نے ازلان سے کہا…
[ ] بیٹا اب جب کمپنی کا اونر ہمارے ساتھ بیٹھ کے ناشتہ.کررہا ہے تو کانٹریک کیا پوری NJ compny اپنی.ہے جہانگیر نے بات کہہ.کہ حیدر کی طرف اشارہ.کیا. تو ازلان پہلے تو کچھ سمجھا نہی اور جب اسکو بات سمجھ ائ تو اسکی بھی ہنسی نکل گئ اس نے حیدر سے کہا…
[ ] انکل مجھے اپکو دیکھ کہ.یقین نہی اتا کہ اپ اتنے بڑے بزنس میین ہیں اپکو پتا ہے کراچی کے کتنے بڑے بڑے کاروباری لوگ ترستے ہیں اپکے ساتھ کام کرنے کے لیہ….اپ بہت ٹیلنٹڈ ہیں انکل……
[ ] ہاں تو دوست کس کا ہے جہانگیر .نے ناشتہ.کرتے کرتے مصروف انداز میں کہا….جس پہ.سب نے ہی اسے رشک سے دیکھا جبکہ.حیدر کے لبوں پہ.ایک جاندار مسکراہٹ اگئ……
[ ] شکریہ بیٹا….
[ ] مگر ازلان انکل نہی اپ مجھے چاچو کہا کرو مجھے اچھا لگے گا بلکہ اپ سب مجھے چاچو کہہ کے ہی بلانا. سب نے ہی.اس کی بات پہ.کہا..ایک اواز میں …
[ ] اوکے چاچو…سب کے چاچو کہنے پہ.حیدر ایک بار پھر مسکرا اٹھا تو شان نے بہت غور سے اپنے.پاپا کو دیکھا جنکی.ہنسی میں ہمیشہ ایک.کھوکھلا پن تھا مگر اج انکی لبوں پہ ایک زندگی سے بھر ہور مسکراہٹ تھی ….
[ ] اور ازلان جس کے نام پہ.کمپنی رکھی ہے اب وہ ہی میرے ساتھ ملکے سنبھالے گا یہ.کمپنی…
[ ] حیدر کی بات پہ ازلان اگر چونکا تھا تو ٹیبل پہ بیٹھا ہر شخص جاننا چاہتا تھا کہ اتنی بڑی.کمپنی کس کے نام پہ ہے جبکہ ان سب کے درمیان میں بیٹھی نور صرف مسکرا رہی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی..کہ کمپنی کس کے نام ہے..
[ ] جبکہ.جہانگیر بول پڑا..
[ ] سالے اب سسپنس ختم کر اور بتا سب کو کہ کمپنی کس کے نام پہ ہے..
[ ] اور حیدر نے پیار سے اپنے برابر میں بیھٹے جہانگیر کے کندھے پہ.ہاتھ رکھا اور کہا تیرے نام پہ..
[ ] حیدر کی بات سن کے سب ہی چونکے تھے جبکہ.جہانگیر کی انکھوں میں انسو تھے جو روکنے کے باوجود بہہ.نکلے جنکو اپنے ہاتھوں سے صاف کرتے کرتے حیدر کی.انکھیں بھی نم ہوگئ..
[ ] اور ان دونوں کو دیکھ ہر کسی نہ ایسی دوستی کی دعا کی.تھی سوائے شان اور ماہ.کے جنکے پاس اسیسی دوستی کے رشتہ موجود تھے..
[ ] مگر چاچو اپکی کمپنی.کا نام تو .NJ ہے نہ ؟؟؟
[ ] عدنان نے کچھ سوچتے ہوئے کہا..
[ ] ہاں N سے نور اور J سے جہانگیر حیدر نے عدنان کی بات کا جواب دیا جس پہ سب کے لبوں پہ مسکراہٹ اگئ اور عدنان نے صرف ہاں میں گردن ہلائ..
[ ] حیدر کے چپ ہوتے ہی ردا بول پڑی…
[ ] عدنان ویسے تم ایک بات مان کیوں نہی لیتے ردا نے جوس پیتے پیتے مصروف انداز میں عدنان سے کہا…
[ ] کیا ؟؟؟مان لو عدنان نے اپنی ایک ائیبرو اچکا کہ کہا…
[ ] یہ ہی کہ تمہارے پاس دماغ نہی اسکی جگہ بھوسا ہے…بھرا ہے ردا کا ایسا کہنا تھا کہ.ایک بار پھر سب کا قہقہ گونجا…. ..
[ ] عدنان نے ایک غصیلی نظر ردا پہ ڈالی پھر جوس سے بھرا گلاس اٹھایا اور ردا کے سر پہ انڈیل دیا..ایک دم سب کی ہنسی کو بریک.لگا.
[ ] مگر پھر ایسا ہوا جسکی کبھی کسی نے توقع نہہی.کی تھی…
[ ] ٹیبل پہ.اماں جان کا قہقہ گونجا ردا کو دیکھ کے اور برسوں بعد جب سب نے اپنے دادای کو یوں قہقہ لگاتے دیکھا تو پھر ایک بار افریدی مینشن قہقوں سے گونج اٹھا.
[ ] ردا نے چیخ کے کہا….
[ ] عدنان کے بچے تم اب تم مجھ سے بچ کے دیکھاؤ….
[ ] ارے ردا کچرا رانی پہلے پکڑ کے دیکھاؤ یہ بول.کے عدنان نے چھلانگ لگا گے صوفے سے اپنا بیگ اٹھایا اور باہر کو ڈور لگا دی…
[ ] ردا نے غصہ سے پیر پٹھکا اور فریش ہونے چلی گئ تو اماں جان بھی اپنے کمرے میں ارام کرنے چلی گئ…
[ ] تھوڑی دیر بعد ماہ بھی یونی کے لیہ نکلنے.لگی جب شان نے کہا ماہ اجاؤ ہم ساتھ چلتے ہیں شان کے ایسے کہنے پہ.پہلے تو ماہ نروس ہوئ مگراب تو وہ.کزن تھا اس لیہ حامی بھرلی…ان دونوں کو دیکھ کے باقی سب بھی اپنے اپنے کاموں کی طرف چل پڑِے …ازلان جیسیےہی آفس نکلنے کے لیہ اٹھنے لگا تو فائزہ کی.اواز اس کے کانوں پہ.پڑی جو شان سے کہہ رہی تھی…
[ ] shan if you dont mind can you drop.me in uni
[ ] شان نے کہا..
[ ] ہاں فائزہ کیوں نہی اجاؤ مگر تمہاری یونی ہیں کہاں..پہ
[ ] اس سے پہلے فائزہ کچھ بولتی …ازلان بول پڑا….
[ ] شان تم.لوگ جاو اپ لوگوں کو دیر ہوجائے گی فائزہ کی یونی میںرے آفس کے راستے میں ہیں..
[ ] فائزہ سڑا ہوا منہ بنا کے وہاں سے .اپنا بیگ لینے چلی گئ تو ماہ بھی نفی میں گردن ہلاتی ہوئ باہر نکل گئ…
[ ] فائزہ بیگ لے کے باہر نکلی تو ازلان کار کے اندر بیٹھا اسی کا ویٹ کررہا تھا اسکے بیٹھتے ہی اس نے گاڑی اسپیڈ میں اگے بڑھادی….
[ ] گاڑی کی خاموشی کو ازلان نے توڑا…
[ ] شان سے کیوں بولا یونی جانے کے لییہ. ؟؟؟؟؟
[ ] کیونکہ میری مرضی….
[ ] ..فائزہ نے ازلان کو جواب دیا اور اپنی بیگ سے بک کھول کے بیٹھ گئ…
[ ] ازلان نے اپنا مکا زور سے اسٹیڑنگ پہ.مارا اور کہا.. فائزہ تم کیوں ہر وہ.کام کرتی ہو جس سے مجھے چڑ ہوتی ہے….
[ ] ازلان کا ایسا بولنا تھا کہ فائزہ نے زور سے بک بند کری اور کہا..
[ ] اب کیا کیا میں نے بولو شان سے چپک کے کھڑی تھی…یا شان سے انکھیں لڑا رہی تھی یہ پھر اسکے ساتھ پہ میں ڈیت پہ جارہی تھی. .
[ ] ایسا کیا کیا میں نے ماہ بھی جا رہی تھی شاید ہمارے ساتھ…. جب بہن کے جانے پہ پابندی نہی تو مجھ پہ کیوں میں چاہے جو کرو تم کو اس سے کیا شان بھی میرا کزن ہے جیسی اب تم ہو…
[ ] اب سے مطلب…ازلان نے حیران ہوکے فائزہ سے پوچھا…
[ ] جو چاہے سمجھو اب سے مطلب کا مجھے کوئ فرق نہی پڑتا تمہاری کس بھی بات سے..ابھی تمہارے نکاح میں نہی ائ ہو جو اسطرح مجھ پہ حکم چلا رہے ہو ائ سمجھ….یہ بول کے فائزہ چپ ہوگئ..
[ ] ازلان کے پاس شاید اسکے کسی سول.کا جواب نہی تھا.. اس لیہ وہ خاموش رہا..گاڑی یونی کے گیٹ پہ رکی.. تو فائزہ نے جھٹ دروازہ کھولا
[ ] مگر اترنے سے پہلے صرف اتنا کہا..
[ ] بدگمانیوں میں اتنے اگے مت نکل جانا ازلان کے جب واپس انا چاہو تو میں تمہیں نہی ملو…
[ ] یہ بول کے فائزہ نے زور سے گاڑی کا دروازہ بند کیا اور یونی کے اندر داخل ہوگئ..
[ ] جاری ہے….