Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Episode 4
No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
پری کی اواز پہ اسکی سوچو کا تسلسل ٹوٹا.!!
ارے ناصر بھائ اپ کب ائے ؟؟؟
ناصر کا بھای لفظ سن کے اپنا سر پیٹنے کو دل کیا!!
بس ابھی ایا ہو..!!
تم سناؤ کیسی ہو؟پیپر کیسے ہوئے ؟
پیپر تو لش پش ہوئے پری نے پہلی انگلی اور انگھوٹھے کو ملا کے واو کا نشان بنا کے کہا!!
اب اگے کا کیا ارادہ ہے ؟
کچھ سوچا نہیں فلحال !!!پری نے سیب کا بائٹ لیتے ہوئے کہا!!
ابھی تو سکون سے ریزلٹ کا ویٹ کرنا ہے اور خوب گھومنا ہے اور۔۔۔۔۔اس سے پہلے پری اپنی بات پوری کرتی شان کی آواز گونجی ۔۔۔۔
اور بھر پور کھانا ہے اور ہمارا سکون خراب کرنا ہے!!!
شان کی آواز پہ دونوں نے شان کو دیکھا !!!
بھائ میں معصوم اپکا سکون خراب کرتی ہوں؟ اور کیا کہا کے میں کیا زیادہ کھاتی ہو.؟؟؟
پری نے پھولے ہوے منہ سے شان سے پوچھا..!!!
نہیں میری پرنسس یہ جو دونوں ہاتھ میں تم نے کھانے کی چیزیں پکڑی ہیں ۔یہ سیب یہ چاکلیٹ !!!
یہ تو تم سونگھ رہی ہو اور ایک منٹ کیا کہا معصوم.؟؟؟
خدا کو مانو پری کم جھوٹ بولا کرو تم تو ڈائن ہو سب کھا جاتی ہو!!!
پری نے انکھوں میں آنسو لیے پہلے ناصر کو دیکھا جو منہ نیچے کر کے اپنا ہنسی کنٹرول کررہا تھا۔
پھر اپنے بھائ کو دیکھا اور غصہ میں چیختی ہوئی اپنی مام کے پاس پہنچی!!
مام بھائ کو دیکھے کب سے میرا مزاق اڑا رہے ہیں!!!
شان نہں کرو تنگ بہن کو.۔!!
چلو آجاؤ بھی سب کھانا لگ گیا!!
ایک خشگوار ماحول میں کھانا کھا یا گیا.!!
#
ماہ جیسے ہی گھر میں داخل ہوئ تو اسکا سامنا لانج میں بیٹھی نازو سے ہوا !!
اسلام وعلیکم چچی۔۔۔
وعلیکم اسلام!!
.اج دیر ہو گی ماہ رخ؟؟؟
جی چچی گاڑی خراب تھی تو رائیڈ سے ائ ہو!!!
چلو تم.فریش ہو جاؤ میں کھا لگاتی ہو!!!!
اوکے چچی!!!
یہ بول کے ماہ جیسی ہی اپنے کمرے کی طرف بڑھنے نے لگی نازو نے اسے آواز دے کے روکا!!!
ماہ؟؟؟
جی چچی!!!
بیٹا تم سے کچھ بات کرنی تھی؟؟؟؟
جی چچی بولے!!
بیٹا کچھ راز ایسے ہوتے ہیں جو وقت پہ جانے جائے تو ذیادہ اچھا ہوتا ہے خود کے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی!!!
ماہ سمجھ گئ کے نازو کا اشارہ صبح کے تماشے کی طرف تھا.
تمھاری دادی اور تائی کم سوال کرتی ہیں تمہاری ماں سے کے اب تم بھی شروع ہوگئ ۔۔
فریش ہوکے اپنی ماما کے کمرے میں جاؤ صبح سے نہ کمرے سے نکلی ہے نا کچھ کھایا ہے.!!
بیٹا ردا ابھی چھوٹی ہے مگر تم تو سمجھ دار ہو !
سمجھ رہی ہونا میری بات ماہ.!!
جی چچی میں جاتی ہوں ماما کے پاس. !!!
تم جاؤ میں کھانا لاتی ہو۔
نازو کو اپنی اس جیٹھانی سے دلی ہمدردی تھی انہوں نے نازو کا بہت ساتھ دیا تھا کوئ بھی بات ہوتی نازو ان سے مشورہ لیتی۔ بڑی جیٹھانی تو بس اپنے اپ میں مگن تھی انکا تو پورشن بھی اوپر الگ تھا ۔اسلیے نازو کا سارا وقت زلیخا کیساتھ گزرتا تھا۔
مگر پتہ نہیں امی جان کو کیوں زلیخاں اچھی نہیں لگتی تھی یہ بات نازو ہمیشہ سوچتی مگر کبھی اپنی ساس سے پوچھنے کی ہمت نہیں کر پائ.!!
ماہ نے فریش ہوکے زلیخاں کے کمرے کا رخ کیا.!!
ہلکی سی نوک کے بعد دروازہ کے ہینڈل پہ ہاتھ رکھا تو دروازہ کھلتا چلا گیا کمرے میں اندھیرا دیکھ کے ماہ نے لائٹ جلائی تو پورا کمرہ روشنی میں نہا گیا روشنی کا احساس ہوا تو زلیخاں نے اپنی انکھیں کھول کے دیکھیں تو سامنے ماہ کھڑی تھی ۔
ارے ماہ تم وہاں کیوں کھڑی ہوں آؤ نہ!!!!!
ماہ نے جب اپنی ماں کی طرف دیکھا تو اسکی نظر اپنی ماما کی انکھوں کی طرف گئ اسے شدید ندامت نے ان گھیرا.!!!
وہ ڈورتی ہوئ اپنی ماما سے لپٹ کے رونے لگی۔۔۔
ماما مجھے معاف کردی میں نے اپکو بہت ہرٹ کیا آئندہ میں کبھی بھی اپ سے کچھ نہیں پوچھوں گی.
پلیز مجھے معاف کردے.!!!
ارے نہیں میری جان ایسے نہیں روتے زلیخاں نے اسکے آنسو صاف کرتے ہوے اسے گلے سے لگایا.۔۔
اپ تو میری سب سے بہادر بیٹی ہو چلو شاباش آنسو صاف کرو.!!!
زلیخاں نے اپنی بیٹی کے ہاتھ اپنے ہا تھوں میں لئے اور بولی..!!
لیکن میں اج اپکو سب سچ بتاؤ نگی میں نہیں چاہتی کے میری اولاد مجھ سے بدگمان ہو..!!!
.
نہیں ماما اپ تو سب سے اچھی ماما ہو !!!
ارے بھئ یہاں تو رونے دھونے کا سین اون ہے ۔۔نازو کی آواز پہ۔دونوں ماں بیٹیوں نے دروازے کی طرف دیکھا۔۔۔
اررے نازو!!!!!
نازو جو دروازے کے پاس کھڑے ہوکے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی ماہ کا ایسا رونا دیکھ کے اسے بھی دکھ ہوا اسلئے مزید رونے دھونے کا سین نہ ہو وہ کھانےکی ٹرے لیے اندر اگی ۔۔
لو بھئی تم بھی کھاؤ اور اپنی ماما کو بھی کھلاؤ۔۔
نازو نے کھانے کی ٹرے دونوں کے درمیان رکھتے ہوئے بولا۔۔
ارے چچی اپ بھی ائے نہ!!!!
ارے نہیں ماہ تمھارے چاچو اج دوپہر میں جلدی اگئے تھے تو میں نے انہیں کے ساتھ کھا لیا اپ لوگ کھاؤ میں زدا عدنان کو دیکھ لو جب سے ایا ہے کالج سے سو رہا ہے۔
نازو جیسے ہی جانے لگی تو ماہ نے انکا ہاتھ پکڑ لیا!!!
نازو نے سوالیاں نظروں سے ماہ کو دیکھا۔۔
ماہ اٹھ کے انکے گلے لگ گئی انکے گال پہ کسس کی اور انہیں شکریہ بولا…
thankyo chachi
no need my child
نازو کے جانے کے بعد ماہ نے اپنے ہاتھوں سے اپنی ماما کو کھانا کھلایا..
ٹرے سائیڈ میں رکھی اور اپنی ماما کے ہاتھ پہ لیٹ گئی اور انکھیں بند کر گئ
زلیخا آہستہ آہستہ اپنے ماضی میں کھونے لگی
صبح کی پہلی ازان کے ساتھ اسکی اٹھنے کی عادت اسے اپنی ماں سے وراثت میں ملی تھی.
.
نماز پڑھ کے جب دعا کے لیے اسنے ہاتھ اٹھائے تو اج پھر وہ خاموش تھی
پتہ نہیں اسکی زندگی کو کس کی نظر لگ گی تھی ؟؟
پتہ نہیں اور کتنے امتحان ابھی اسکے باقی تھے؟؟؟
اسنے جاہ نماز لپیٹی اور قران پاک کی تلاوت کرنے لگی..
ادھا گھنٹہ پرھنے کے بعد اسنے اپنا کمرہ سمیٹا اور نیچے آگئی دو کمرے کا یہ گھر اگر زیادہ بڑا نہیں تو زیادہ چھوٹا بھی نہیں تھا۔
.لیکن اس میں بھی اسکو رہنے کیلئے چھٹ کا اسٹور دیا گیا تھا.
اس نے جلدی جلدی صفای کی اور کچن میں گھس گئ۔
ابھی وہ پراٹھوں کا اٹا گوندہ ہی رہی تھی کے اسکی تایی کی اواز آئ ۔۔
ارے او زلیخاں!
کہاں مرگئ اج ناشتا ملے گا کے نہیں؟؟؟
بس تائی دو منٹ.!!ا
اسنے جلدی جلدی ناشتہ ٹرے میں رکھا اور دوڑی تائی کے کمرے ناشتے کی ٹرے لے کے۔۔۔۔
اس نے جیسی ہی ٹرے ایک طرف رکھی اسکے بالوں کو تائی نے ڈبوچ لیا۔۔
کہاں تھی اتن دیر سے محنوس ماری..؟؟؟
تکلیف سے اسکی اواز بھی نہیں نکل رہی تھی انکھوں میں آنسو لیے اسنے تائ کی طرف دیکھا اور بولی !!!!
تائی آئیندہ دیر نہیں ہوگی۔۔۔
جٹھکے سے ثمینہ بیگم نے اسکے بال چھوڑے اور کہا۔۔
جا!!!جاکے جمال کو ناشتہ دے۔۔۔
جمال کا نام سن کے پھر اسکی انکھوں میں خوف اگیا کیونکہ اسکی مشکوک حرکتیں زلیخاں کی جان ادھی رکھتی تھی.
کبھی اسکا ہاتھ پکڑنا ,کبھی کام کرتے ہوئے اسکی کمر پہ ہاتھ پھیڑتا کبھی اسکا ڈوپٹہ کھینچتا۔۔۔
پچھلے تین سالوں سے زلیخا یہ سب برداشت کرتی آرہی تھی۔ ایک بار اسنے تائی سے بولنے کی ہمت کی تو تائی نے اسے وہ مار لگائ کے کئ دنون تک وہ بستر سے نہ اٹھ سکی!!!
زلیخاں کے والدین ایک کار ایکسیڈینٹ میں اللّٰہ کو پیار ہوگے زلیخاں اس دن قسمت سے گھر میں ہی رک گئی تھی اپنے تایا کے پاس یو زلیخاں اپنی تائی کے رحم وکرم پر اگئ
یادوں سے نکل کے زلیخا نے جمال کا ناشتہ اٹھایا اور اسکے کمرے کی طرف چل دی جیسے ہی وہ کمرے میں گھسی جمال بنا شرٹ کے شیشے کے سامنے کھڑے ہوکے بال بنا رہا تھا..
زلیخا کی نظرے شرم سے جھک گئ اسنے ناشتہ رکھا اور جیسی بچ کے نکلنا چاہا جمال نے اسکا راستہ روکا..
ارے ارے ماے ڈئیر کزن اتنی جلدی بھی کیا ہے جانے کی۔۔۔۔۔
زلیخاں نے جب اسکی طرف دیکھا تو اسکی انکھوں میں موجود وحشت دیکھ کے اسکے رونگٹے کھڑے ہوگئے ۔
وہ اہستہ اہستہ اسکی طرف بڑھنے لگا زلیخاں ڈر کے مارے اپنے الٹے قدم اٹھانے لگی خوف سے اسکی انکھوں میں آنسو جمع ہونے لگے۔۔۔
۔.پ..پل.یز جمال بھائ مجھے جانے دے!!!
ارے ارے رو کیوں رہی ہو میں تو بس ا س سے پہلے جمال اسکا چہرہ چھوٹا ایک دم ثمینہ بیگم کی آواز ائ۔
اارے او زلیخا اپنے تایا کو تو ناشتا دے دے اور موقع دیکھتے ہی اسنے جمال کو دھکا دیا اور باہر کے طرف دوڑ لگائ۔
کچن میں جاکے اپنے کب سے رکے انسو کو بہنے دیا۔۔
یاالہی میری آزمائش کب ختم ہوگی ۔۔۔۔۔۔
وہ ناشتہ لےکے تایا کے پاس پہنچی تو دیکھا تایا کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھی.
.ارے تایا جان کیا ہوا اپ کو ؟؟
رو کیوں رہے ہیں ہے ؟؟طبیعت تو ٹھیک ہے اپکی..؟؟؟
رکے میں تائی کو بلاتی ہو!!
نہیں بیٹا میں ٹھیک ہو!!!!
بیٹا مجھے معاف کردو میں تمھاری حفاظت نہیں کرسکتا ان ٹانگوں نے مجھے بلکل بیکار کردیا..
انکا اشارہ اپنی کٹی ہوئی ٹانگوں کی طرف تھا جن کو بڑھتی ہوئ شوگر کے باعث کاٹنا پڑا…..!!!
اپ رو کیوں رہے ہیں.؟؟؟
تایا نے اسکے سر پہ ہاتھ رکھا اور ایک بار پھر رونے لگے۔
روتے روتے انہوں نے زلیخاں کے اگے ہاتھ جوڑ دیے!!!
ارے نہیں تایا ایسا نہیں بولے اپکا ساتھ ہی میرے لیے بہت ہے اپ بس دعا کرا کرے میر لئے میرا رب مجھے ہمت دے اور میری حفاظت کرے!!!
(آمین)
دونوں نے یک زبان ہوکے کہا!!
چلے اب اپ ناشتہ کرے مجھے انٹرویو کے لیے جانا ہے اپ دعا کرے گا تایا جان مجھے یہ جاب مل جائے اور میں تھوڑا تائی کا ہاتھ بٹا سکو اپکی پنشن اور میرے گھر کے کراے سے پورا نہیں ہوتا!!!
ارے اپنی تائی کو تم رہنے دو اسکا تو کسی حال میں بھی گزارا نہیں.!!!!
.. ہاں ہاں کرلو میری برائ. !!!
اندر اتی ثمینہ بیگم نے ان دونوں کی باتیں سن لی تھی.
تم گئ نہیں ابھی تک ؟؟
بس نکل رہی تھی تائی!!
اس نے ٹائم دیکھا تو تو صدمہ.سے بیہوش ہوتے ہوتے بچی ایک گھنٹہ تھا بس انٹرویو شروع ہونے میں فٹافٹ وہ کام.ختم کرکے نکلی..
مگر ہائے یہ بن موسم کراچی کی بارش جو ہوتی تو تھوڑی دیر کی مگر روڈوں کی حالت ایسی ہوجاتی ہے جیسے سیلاب ایا ہو.
وہ جیسے تیسے آفریدی انٹرپرائز پہنچ گئ ابھی وہ اپنی فائل ٹھیک کرتے ہوے تیز تیز چل رہی تھی کے سامنے آتے ہوئے شخص سے بری طرح ٹکرائی۔۔
ہائے اللّٰہ اپ دیکھ کے نہیں چل سکتے میرے سارے پیپر گرا دی اب دیکھ کیاااااا..
باقی کے الفاظ زلیخاں کے منہ میں رہ گے کیوں کے اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے سامنے کوئ شہزادہ ہے وہ بنا پلک جھبکاے اسے دیکھنے میں مگن تھی.
گرین انکھیں لمبی نک سلیقے سے بنے بال ہلکی ہلکی ڈارھی بلیک کوٹ پینٹ میں وہ کوئ شہزادہ لگ رہا تھا.
. اسکی اواز پہ وہ ایک دم اپنے خیالوں سے باہر ائ اور اپنے دل ڈانٹا جو ایک الگ انداز سے ہی ڈھڑکنے لگا تھا..
ایم سو سوری اصل میں میں جلدی میں تھا اپکو آتے ہوئے دیکھا نہیں۔۔
کوئ نہیں اٹس اوکے۔۔۔زلیخاں نے ہلکا سا مسکرا کے کہا۔۔
اپ یہاں جاب کیلئے ائ سامنے کھڑے نفوس نے پوچھا۔۔
.
ارے نہیں نہیں فیشن شو میں ائی ہو زلیخاں نے جل کے جواب دیا اور اس شہزادے نے بہت مشکل سے اپنی ہنسی روکی..
اوکے اوکے ریلکس !!!
دیکھے مس اپ غصہ نہیں کرے انشاء اللہ جاب مل جائے گی اپ کو!!!!
کیوں؟؟ اپ کیا یہاں کے مالک ہیں؟
ہٹے راستے سے خاماخائ میں میرا ٹائم ضائع ہو گیا!!!
وہ اندھی کی طرح ٹکرائ اور طوفان کی طرح جہانگیر آفریدی کے دل کی دنیا ہلا گی !!!
جیسے ہی اسنے جانے کے لے قدم بڑھائے اسکی نظر نیچے پڑے کاغذ پہ پڑی ۔۔۔
جہانگیر نے کاغذ اٹھا کے دیکھا تو اسکے لبوں پہ ایک شرارتی مسکان اگئ اسکے لبوں نے دھیرے سے سرگوشی کی…
زلیخاں!!!!
اللّٰہ کا نام لے کے اس نے باس کے کیبن کا دروازہ نوک کیا!!
پتہ نہیں کتنے ہی نفل اسنے مان لیے تھے کے اسک باس پاس کردے جاب کے لیے۔۔
اصل میں جاب کی کال تو اسے اگئ تھی مگر جس کی اسے پرسنل سیکریٹری بننا تھا وہ خود اج اسکا انٹرویو لینے والے تھے.
my i coming sir.
yes plz
زلیخاں اندر ا تو گئ تھی مگر جیسے اسکا انٹرویو لینا تھا کمپیوٹر پہ جھکا کوئ کام کررہا تھا
وہ کب سے انتظار کررہی تھئ کے اسکا کام ختم ہو اور یہ سر اٹھا کے دیکھے.!!!
اسکا انتظار ختم ہوا اور کام کرتے ہوے شخص نے جیسے ہی نظر أٹھائ
سامنے بیٹھے شخص کو دیکھ کے زلیخاں کامنہ کھلا کا کھلا رہ گیا!!!
ایک بار پھر اسکی فائل نیچے گر گئ
جہانگیرنے بہت مشکل سے اپنی ہنسی روکی….
ارے ارے ارام سے مس ذلیخاں!!!
اپنی ٹینشن میں وہ یہ بھی بھول گئ کے سامنے بیٹھے شخص کو اسکا نام کیسے پتا.
سوری سر….
اٹس اوکے….
اپ پلیز اس ٹکراؤ کی ٹینشن نہ لے۔۔۔
لائے اپنی سیوی دیں تاکے میں اپکو اپائنٹمنٹ لیٹر دو..!!
جی جی سر !!
وہ اپنی فائل دیکھنے میں مصروف تھی اور جہانگیر اسے دیکھنے میں..
لمبے.بال جو چٹیا میں قید تھے چند ایک دو لٹے جو چہرے کا طواف کر رہی تھی ہلکے شہد رنگ کی انکھیں،چھوٹی سی ناک پتلے ہونٹ ہلکی گندمی رنگت جو گھبراہٹ میں لال ہو رہی تھی.
. ایسا نہیں تھا اسنے خوبصورت لڑکیاں نہیں دیکھی تھی…ایک عرصہ اسنے باہر ملک میں گزارا تھا…
لیکن کہتے ہے نہ جو چہرہ پہلی دفع میں ہی دل کو بھا جائے وہی سب سے خوبصورت لگتا ہے.۔
[کیا ہوا مس زلیخاں؟؟
any problem???
سر مجھے لگتا ہے میری سیوی کہیں گر گئ.!!!
یہ ق بات بول کے ایک دم چونکی….. اور پوری انکھیں کھول.کے جہانگیر کو دیکھا..
سر اپکو میرا نام کیسے پتا.؟؟
جہانگیر اس کے سوال کرنے پہ ایک دم گھبرا گیا…
ارے ارے مس ابھی اپنے بتایا…
اچھا وہ سوری سر مجھے یاد نہیں رہا
کوئ بات نہیں ہوجاتا ہے…
شکریہ سر …
سر نہیں میرا نام جہانگیر ہے اپ مجھے نام سے ہی بولائینگی
جی اسنے بے یقینی سے اسے دیکھا.. !!
اسے کیا دیکھ رہی ہے بھئ سر بولنے سے مجھے بڈھوں والی فیلنگ ارہی ہے.
جہانگیر نے سڑے ہوا منہ بناکے بولا..
.ہاہاہاہاہاہاہا.
اوک سر میرا مطلب جہانگیر…
[جیسے اپ کہے!!
ہہہم گدگرل…
جاری ہے….
[م
