Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Episode 38 Part 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 38 Part 2
قسط نمبر 38#( پارٹ نمبر 2)
بی جان کی غصہ سے بھری اواز سن کے شاہمیر ایک دم گھبرا گیا مگر اپنی.گھبراہٹ پہ قابو پاکہ.اس نے بی جان سے کہا..
بی جان میں نے ولیمہ والے دن کئ بار اسے کال کی مگر اسکا.موبائل گھر میں ہی رہ گیا تھا اپ فکر نہی کرے بی جان میں ایک ہفتہ سے اسکے سامنے نہی ایا ہو ..
اور مجھے پتہ.ہے میری نازاضگی سے وہ بہت ڈرتی ہےجب اسکے سامنے جاونگا اسکے بعد میں جو کہونگا وہ مانے گی بس دو دن اور بی جان پھر ہمارا مقصد بھی پورا ہوجائے اور اس گھنٹی(ماہ)کو بھی اپنے گلے میں باندھنا بھی نہی پڑے گا….
شاہمیر کی بات سن کے بی جان تھوڑی سکون میں ائ اور کال کٹ کردی تو ادھر بی جان کی کال کے بعد شاہمیر کو بھی تھوڑا سکون ہوا اور اپنا اگلا قدم اٹھانے کے لیہ اس نے اپنے دوست کو کال کی اور یونی میں اپنی ٰغیر مجودگی میں ماہ کے تاصورات کے بارے میں پوچھا…..
تو اگے سے اس کے دوست نے اسے بتایا کہ ماہ.پاگلوں کی طرح اسے یونی میں ڈھونڈ رہی.ہے….
اپنے دوست کی بات سن کے شاہمیر کے لبوں پہ ایک دلکش مسکراہٹ اگئ…..
.¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤Φ¤¤¤¤
بی جان کال رکھ کے پلٹی تو پیچھے جنید کو پایا جو وہیل.چیئر پہ بیٹھا ان ہی کو گھور رہا تھا…
بی جان نے جنید سے کہا…
کیا بات ہے اج ماں کی یاد کیسے اگئ….؟؟؟؟
امی اپ یہ سب ٹھیک نہی کرہی کیا ملے گا اپکو اس بچی سے بدلہ لے کے؟؟؟
سکون ملے گا ہمیں سکون……
جنید کے سوال پر بی جان چیخ پڑی…
کیسا سکون امی کیسا سکون اپ بھی اور میں بھی شاہین کی موت کی حقیقت سے اور شاہین کی.اصل حقیقت سے واقف ہیں کل کو جب شاہمیر کو اپکی اصلیت پتہ چلے گی اسے پتہ چلے گا جس بی جان کے پیچھے اس نے بدلہ لیا وہ بلاوجہ کی بدلہ کی اگ میں جل رہا ہے اور انہوں نے اسکے ساتھ کیا کیا تو اپکو کیا لگتا وہ دوبارہ اپکی شکل دیکھے گا ….صبا اپی جو اپکی.انا اور بدلہ کی بھینٹ چڑھ کے اپنے ہی سسرال والوں کی دشمن بنی بیٹھی ہیں اصلیت جاننے کے بعد اپکو معاف کرینگی کیا انکے شوہر اپنی بیوی کی اصلیت کے بعد ان کو اپنے گھر میں جگہ دینگے …شاہین کی زندگی اپکی واہ.واہ کی نظر ہوگئ …اور میں امی میں جو اپ کے ہر برے کام میں اپکے ساتھ تھا اج مجھے معزوری کی زندگی گزارتے ہوئے دیکھ کے بھی اپکے بدلہ کی اگ ٹھنڈی نہی ہوئ ..بابا کو روز ناشتہ میں اپن نشہ اوار دوائ شاہین کی بعد دیتی ائ ہیں کیونکہ اپکو اچھی طرح اندازہ تھا کہ بابا اپکو کبھی یہ سب نہ.کرنے دیتے جو اج اپ کرہی ہیں….
اپ کی انا ضد اور حسد امی جان اپکی اپنی اولاد کی زندگیوں کو کھا گئ…
سنبھل جائے امی جان ایساا نہ ہو کے ایک وقت ایسا ائے کہ اپکو پشتانے کو بھی الللہ.موقعہ نہ دے….
اپ کہتی ہیں جہانگیر اور اسکے گھر والوں نے غلط کیا اپ کے ساتھ …
تو کسی کے ساتھ غلط کرنے والا اتنا خوشحال اور پرسکون نہی ہوتا جتنا خالہ جان لوگ ہیں اپ اپنی ہی بہن کی دشمن ہیں امی اپ کی سگی بہین ہییں وہ دیکھ لے اج انکے پاس انکی ساری اولاد موجود ہین صحیح سلامت خوش خرم ..
اور دیکھ لیے اپ اتنی.بڑی حویلی میں اکیلی ہیں اور ساتھ کون ہے اپکے صرف اپکا معزور بیٹا….
یہ سب بول کے جنید نے اپنئ انکھوں سے بہتے انسو کو بے دردی سے صاف کیا اور اپنی وئیل چئر کو گھسیٹا ہوا بی جان کے کمرے سے باہر نکل گیا..
تو ادھر بی جان جنید کی باتوں پہ مسکرائ اور کہا بےوقوف…….
“
“جب کوئ انسان الللہ کی پکڑ میں انے والا ہوتا ہے تو پھر الللہ اسکے دل پہ مہر لگا دیتا ہے اس پہ توبہ کے سارے دروازت بند کردیتا یے”
¤¤¤¤¤¤¤¤¤
حیدر اور جہانگیر کا بزنس ایک ہونے کی وجہ.سے جمال ایک بار پھر خسارے میں اگیا تھا..مگر اسکے ہاتھ جو حکم کا ایکا تھا اسکو استعمال کرکے وہ حیدر اور جہانگیر کے درمیان نہ صرف ڈرار ڈال سکتا تھا بلکہ ایک رشتہ جمال کی دشمنی.کی نظر ہونے والا تھا…
¤¤¤¤
ناشتہ.کی.ٹیبل.پہ.لائبہ اور ناصر ناشتہ کیساتھ شادی کو بھی ڈسکس کرہے تھے کہ.جمال کے ٹیبل پہ اتے ہی دونوں خاموشی سے ناشتہ کرنے لگے ..جمال نے جب دونوں کا خاموش ہوتے دیکھا تو بول اٹھا….
بھئ میرے اتے ہی تم.دونوں خاموش کیو ہوجاتے ہو …
جمال کو ایسا بولنا تھا کہ ناصر اور لائبہ دونوں نے حیران نظروں سے جمال کو دیکھا جو اپنے ناشتہ کرنے میں مصروف ہوچکا تھا…
لائبہ دوسروں کی شادیاں اٹینڈ کررہی.ہو اپنے بیٹے کے سر پہ.سہرا سجانے کا سوچو کوئ.لڑکی ورکی ڈھونڈو..
جمال کی بات پہ ناصر کو ایک دم پھندا لگا جبکہ.لائبہ اج اپنے شوہر کا رویہ دیکھ کے جہاں حیران تھی وہی خوش بھی تھی..
برخوردار کوئ پسند وسند کی.ہے یہ پھر میں ڈھونڈو اپنی کوئ بہو….؟؟؟؟؟
جمال.کی بات پہ جہاں ناصر نے لائبہ کو دیکھا وہی جمال کے لبوں پہ ایک شیطانی مسکراہٹ اگئ ..
بابا….
ناصر نے ایک دم جمال کو پکارا….
ہاں بولو…
بابا مجھے ایک مہینہ کا وقت دے ..میں اپکو بتادونگا لڑکی.کون ہے…….
ناصر میں یہ بات جانتا ہو تم حیدر کی بیٹی سے محبت کرتے ہو مگر ابھی تک اس تک اپنے دل کی بات پہنچا نہی پائے ہو…
جمال کی بات پہ ناصر نے حیران نظروں سے جمال کو دیکھا تو کچھ ایسا ہی حال لائبہ کا بھی تھا…
ناصر نے حیران ہوکے جمال سے پوچھا…..
..
بابا اپکو کیسے پتہ یہ مطلب میں ک .پ.ری.ناصر ںے اٹک اٹک کے اپنی بات پوری کی..
تو جمال کا قہقہ پورے ٹیبل.پہ.گونجا اور ساتھ میں اس نے ناصر کو کہا….
بیٹا باپ ہو تمہارا اسکو چھوڑو مجھے کیسے پتہ چلا بس تم جلدی جلدی اپنی اسٹڈی کمپلیٹ کرو تاکہ..میں پھر حیدر کے گھر تمہارا رشتہ لیہ کے جاؤ اور اگر تم نہی پہنچا سکتے اپنی بات اس تک تو پھر میری پسند کی لڑکی سے شادی کرنی ہوگی….
یہ بول کے جمال تو آفس کے لیہ نکل گیا مگر ناصر کو ایک نئ پریشانی میں چھوڑ گیا…
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ماہ.یونی کے گاڑدن میں افسردہ بیٹھی تھی اج شاہمیرکو غائب ہوئے 8 دن ہوگئے تھے اس دوران.نہ.تو اسکی.کوئ.خبر تھی نہ ہی وہ.یونی.ایا تھا….
ابھی وہ.اپنی سوچوں میں گم تھی.کہ.نازنین اسکے برابر میں اکے بیٹھی اور کہا…
یار کب سے ہم سب تمہارا کینٹین میں ویٹ کررہے ہیں اور تم یہاں بیٹھی ہو…
نازنیںن نے جب یہ بولتے ہیوئے جب ماہ کو دیکھ تو اسے جھٹکا لگا کیونکہ ماہ رو رہی تھی..
ارے ماہ کیا ہوا رو کیوں رہی ہو…؟؟
نازنیںن کے پوچھنے پہ.ماہ نے اسے ولیمہ والے دن سے لے کر اب تک سب شاہمیر کے بارے میں بتایا…..
ماہ.کی بات سن کے نازنین کو غصہ بھی ہوا اور ساتھ میں افسوس بھی .کہ اسکی دوست کسی غلط ادمی کے پیچھے اپنے سچے جزبات ضائع کررہی تھی….
اس سے پہلے نازنین کچھ بولتی…
ماہ.دوبارہ بول پڑی….
پتہ نہی یار کہاں غائب ہوگیا ہے وہ کیسا ہوگا کس حال میں ہوگا…
کہاں یوگا ہوگا اپنی.کسی عیاشی کے سامان کے ساتھ اچھا ہے غائب ہی رہے…
نازنیںن بہت ہی ہلکی اواز میں بڑبڑائ..
کیا کچھ کہا تم نے ..؟؟؟؟
ماہ نے نازنیںن کو بڑبڑاتے ہوئے دیکھا تھا مگر کچھ سن نہی پائ….
یار نازنیںن تم چلو میں تھوڑی دیر میں تم لوگوں کو جوائن کرتی ہو…..
ماہ کی بات پہ نازنین نے اپنے کندھے اچکائے اور کینٹین کی طرف چل دی….
ماہ تھوڑی دیر انکھیں بند کرے وہی پارک کی بینچ پہ بیٹھی رہی …کہ کسی نظروں کی تپش اپنے اوپر محسوس کرکے
ماہ نے پٹ اپنی آنکھیں کھولی..
تو اسکے سامنے شاہمیر موجود تھا جو اسی.کو گھور رہا تھا…
اپنے سامنے شاہمیر کو دیکھ کہ ماہ نے بے یقینی سے شاہمیر کو چھوا ..
جب یقین ہوگیا کہ یہ شاہمیر ہی ہے تو ماہ اسکے گلے لگ گئ تو شاہمیر نے بھی موقع سے فائدہ اٹھایا اور ماہ.کے کندھے پہ اپنے لب رکھ دیے…..
شاہمیر کے.لبوں کا لمس اپنے کندھے پہ.محسوس کرکے ماہ.ایک جھٹکے سے شاہمیر سے الگ ہوئ اور شکوہ بھری آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی…
مگر پھر شاہمیر کی نازاضگی یاد انے پہ.ایک دم سنجیدہ ہوئ اور کہا…
یہ.کونسا طریقہ ہے نازاض ہونے کا کہ بندہ غائب ہی ہوجائے…
ماہ کے شکوہ کرنے پہ بھی شاہمیر کچھ نہی بولا بس ماہ.کو گھورنے لگا اور اچانک کھڑا ہوگیا اور ہاتھ بڑھا کے ماہ.کو بھی اپنے روبرو کھڑا کیا اور کہا…
سب باتوں کے جواب میں تمہیں جب دونگا جب تم اج شام میرے فلیٹ پہ اوگی..
شاہمیر کی بات سن کے ماہ نے ایک دم.گھبرا کے کہا….
شاہمیر میں کیسے اونگی…؟؟؟
یہ سب مجھے نہی پتہ اگر تم.نہی آئ تو سمجھ لینا ہمارا ریلیشن ختم …..
یہ بول کے شاہمیر چلا گیا تو ماہ بھی کینٹین کی طرف چل دی…….
¤¤¤¤¤¤¤¤¤
یونی سے گھر اکے ماہ نے ایک آئیڈیا سوچا اور شام کا ویٹ کرنے لگی…..
شام کے 6 بجے اس نے زلیخا سے کہا کہ.وہ ڑائیڈ کرکے نازنیںن کے گھر جا رہی ہے واپسی میں جب میں کال کرو تو اپ ڈرائیور کو اسکے گھے بھیج دیے گا…
یہ بول کے نازنین تیار ہوکے ڑائیڈ میں شاہمیر کے فلیٹ کی طرف نکل گئ….
6.30کے قریب زلیخا نے ماہ کو بہت کال کی مگر ماہ.نے.ایک بھی.کال ریسو نہی.مگر اتنی دیر میں نوکرانی نے ماہ.کا فون زلیخا کو لا کے دیا اور کہا بی بی جی یہ.کب سے بج رہا ہے .زلیخا کو جب پتہ چلا کہ.ماہ کا موبائل تو گھر پہ.ہی رہ گیا پھر اس نے نازنیںن کو کال کی جو اس نے ایک بیل پہ.ہی پک کرلی.اور کہا…
اسلام وعلیکم…آنٹی جی کہیے…
اگے سے زلیخا نے کہا..
ارے نازنیںن ماہ اپنا موبائل گھر میں ہی.چھوڑ گئ ہے تم اس سے بولو کے ڈرائیور کسی کام سے گیا ہے تو وہ تمہارے ساتھ تمہارے گھر ہی رک جائے میں جہانگیر کو کال کردونگی کہ وہ آفس سے واپسی مییں تمہارے گھر سے ماہ کو.لیتے ائے..اچھا بیٹا میں کال رکھتی ہو اماں جان بولا رہی.ہیں..
نزلیخا نے تو اپنی بات کرکے کال رکھ دی ..مگر نازنیںن کو ایسا لگا کہ پور گھر کی چھٹ اسکے سر پہ اگئ ہو وہ یہ سوچنے پہ مجبور ہوگئ کہ.ماہ.میرا ساتھ جانے کا بہانہ کرکے گئ کہاں…..
..
اچانک اسکے دماغ میں ایک دھماکہ ہوا…
اس نے فورا شان کے نمبر پہ.کال کی ..جو شان نے تھوڑی دیر بعد پک کرلی..نازنیںن نے فور شان کو اپنے گھر انے کو کہا…
شان نازنین کی اواز سن کے فورا سمجھ گیا کہ.کوئ.گڑ بڑ ہے…
وہ گاڑی کی.چابی اٹھا کہ نکلا ..نور اسکو اوازیں دیتی.رہ گئ مگر وہ تیزی سے گاڑی لے کے گھر سے نکل گیا..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ماہ.یونی.کے قریب شاہمیر کے فلیٹ پہ.پہنچی…شاہمیر نے ماہ.کو اوپر سے نیچے تک دیکھا….
پلیک اور یلو کنڑاس کی فراک میں وہ بہت حسیین لگ رہی تھی شاہمیر اسے فلیٹ کے اندر لے ایا اور اسے حال میں بیٹھایا….
ماہ کئ بار شاہمیر کوسرپرائز گفٹ دینے کے چکر میں نازنیںن کے ساتھ اسکے فلیٹ میں اچکی تھی ….
شاہمیر نے تھوڑی بہت باتیں کی اور پھر بھر پور ایکٹنگ کے ساتھ اپنے سر پی ہاتھ مارا اور کہا….
اوہ دیکھو میں نے تو تم سے کچھ پوچھا ہی نہی بتاو کیا لوگی.تم …
شاہمیر کی بات پہ ماہ نے کہا…
نہی نہی شاہمیر میں بس اپ چلونگی تم ناراض تھے بس اس لیہ تمہارے کہنے پہ اگئ…
ارے ایسے کیسے ماہ روکو میں جوس لاتا ہو…
اس نے کچن کے اسٹور میں چھپے اپنے دوست کو کیمرہ ریڈی رکھنے کو کہا اور جوس لے کے ماہ کی طرف چل.پڑا……
ماہ نے جب جوس کا گلاس جیسی ہی ختم کیا . اور جانے کے لیہ جیسی ہی تھوڑا اگے بڑھی اسے زور سےچکر ایا اور وہ وہی شاہمیر کی بانہوں میں جھول گئ..
جاری ہے…
