Hichkiyan Muhabbat Ki Season 1 By Amna Mehmood Readelle50146 Last Episode Pt.4
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode Pt.4
رات کا پتہ نہیں کون سا پہر تھا جب نرمین کے کان میں حنین نے سرگوشی کی.
نرمین اٹھو یار اب اور کتنا سوؤں گی….؟؟؟؟
حنین کی آواز پر اس نے آہستہ سے سائیڈ لیتے ہوئے آنکھیں کھولیں مگر اپنے آس پاس حنین کو نہ پایا. وہ مسکراتے ہوئے پھر سونے لگی تو اسے خیال آیا کہ وہ ہے کہاں…..؟؟؟؟؟
تھوڑا ذہن پر زور ڈالتے اندازہ ہوا کہ آج اس کی حنین کے گھر میں پہلی رات ہے مگر وہ ابھی تک نہیں آیا…؟؟؟؟
نرمین نے ادھر ادھر گردن گھما کر ٹائم دیکھنے کی کوشش کی گھڑی تو نظر نہیں آئی مگر اسے احساس ہوا یہ وہ کمرہ نہیں ہے جس میں وہ سوئی تھی یا شاید….؟؟؟
کمرہ انتہائی خوبصورت انداز میں سجا ہوا تھا جگہ جگہ گلاب کی پتیوں کے درمیان کینڈلز جل رہیں تھیں کمرہ کسی خواب کی مانند لگ رہا تھا خوشبوؤں سے بھرا…….
کچھ دیر نرمین کمرے کی درو دیوار کو غور سے دیکھتی رہی. کمرہ تو وہی تھا جس میں وہ سوئی تھی مگر سجایا کب گیا تھا اس کے بارے میں نرمین نہیں جانتی تھی…..؟؟؟
صوفے کے پاس ایک چھوٹے سے ٹیبل پر گلاب کی پتیوں کے درمیان شاید کیک پڑا تھا جسے دیکھتے ہی نرمین کو بھوک کا احساس ہوا وہ جیسے ہی ٹیبل پاس جانے کے لیے بیڈ سے اتری اس کے پاؤں کسی نرم و ملائم چیز پر پڑے.
بیڈ سے لے کر ٹیبل تک گلاب، موتیا اور گینڈے کے پھولوں سے راستہ بنایا گیا تھا.
نرمین تھوڑی دیر حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات سے کھڑی رہی پھر آہستہ آہستہ چلتی ہوئی ٹیبل پاس پہنچ گئی.کیک پر لکھی تحریر پڑھ کر نرمین کی آنکھوں میں نمی اتر آئی لکھا تھا…
“Thanks 4 coming in my life.🥰😘😍”
ایک پلیٹ میں پتیوں کے درمیان وہی سرخ رنگ کی ڈبیہ پڑی تھی جو اس دن حنین نے جیولری شاپ سے لی تھی.
اس سے پہلے کہ نرمین وہ ڈبیہ پکڑتی کسی نے اسے اپنے حصار میں لے لیا.
حنین……….نرمین کے منہ سے بے ساختہ نکلا
نرمین ……. حنین نے نرمین کے کندھے پر سر رکھتے ہوئے محبت سے بھر پور لہجے میں اپنے ہونے کی تصدیق کی.
تم نے یہ سب کب کیا….؟؟؟؟
نرمین نے پوچھا
جب تم گھوڑے، گدھے اور پتہ نہین کیا کیا بیچ کر سو رہی تھی اتنا پکا سوتی ہو قسم سے……
حنین نے شرارت سے نرمین کو جواب دیا جس پر نرمین نے مصنوعی غصہ سے منہ بنا لیا.
اچھا اب ناراض تو نہ ہو اتنی محنت کی ہے میں نے تمہارے لیے اپنے ہاتھوں سے…….
حنین نے نرمین کے بالوں سے اپنا سر ٹکراتے ہوئے کہا
تو کس نے کہا تھا اتنی محنت کرنے کو…؟؟؟ ڈیکوریشن والے سے کروا لیتے.
نرمین نے لاپرواہی سے کندھے اچکائے.
نرمین کی بچی……میری ساری محنت پر پانی پھیر دیا تمہیں تو نہیں چھوڑوں گا.
حنین نے اپنے دانتوں میں نرمی سے نرمین کے کان کو پکڑتے ہوئے کہا
مجھے مت کھاؤ کیک کھا لو.
نرمین نے آہستہ سے اپنا کان چھڑاتے ہوئے جواب دیا.
حنین نے نرمین کے ہاتھ میں چھری پکڑا کر اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا اور دونوں نے ایک ساتھ کینڈلز بجھائی اور کیک کاٹا.
حنین نے نرمین کو اپنے حصار سے آزاد کر دیا.اب دونوں ٹیبل کے گرد بیٹھے تھے.پہلے نرمین نے حنین کو کیک کھلایا پھر حنین نے نرمین کو…….
مگر نرمین کی قسمت خراب تھی کہ کیک کے ساتھ حنین کی انگلی نرمین کے دانتوں میں آگئی.
اتنے زور سے حنین نے چیخ ماری کہ نرمین پریشان ہو گئی.
کیا ہوا…..؟؟؟
نرمین نے پریشانی سے پوچھا
تم آدم خور ہو میری انگلی بھی کھا گئی ہو ابھی سب تمہیں معصوم کہتے ہیں میں صبح سب کو بتاؤں گا کہ رات میں تم نے میری انگلی کھائی ہے.
حنین کی دھمکی پر نرمین کی آنکھیں پھیل گئی اسے معلوم تھا حنین صبح یہی کرے گا.
سوری حنین میں نے جان بجھ کر ایسا نہیں کیا.
نرمین نے شرمندگی سے نظروں کے ساتھ ساتھ اپنی گردن بھی جھکا لی وہ جلدی ڈر جاتی تھی خاص طور پر حنین کی دھمکی تو اس پر ویسے بھی بہت اثر کرتی تھی.اس سے پہلے کہ وہ حنین کی ناراضگی کا سوچ کر رو دیتی. حنین کے قہقوں نے اسے غصہ دلا دیا.
نرمین تم کتنی ڈرپوک ہو…..
حنین کا ہنس ہنس کر برا حال ہو رہا تھا.
میں نہیں بولتی تم سے نرمین کی آنکھوں میں ستارے چمکنے لگے اس سے پہلے کہ وہ موتی نرمین کی گالوں پر گرتے حنین نے نرمین کو بازو سے پکڑ کر اپنے ساتھ لگا لیا.
مزاق کیا تھا تمہیں معلوم ہے میں تمہیں روتا نہیں دیکھ سکتا اب رونا نہیں…….
پھر حنین نرمین کے بال سہلاتا رہا جب تک وہ رو کر چپ نہیں ہو گئی.
اچھا یہ دیکھو میں نے اپنی اور تمہاری سلامیوں کے پیسے سے تمہاری منہ دکھائی کے لیے کیا لیا ہے…؟؟؟
حنین نے نرمین کو خود سے الگ کرتے ہوئے وہی مخملی ڈبیہ نرمین کے ہاتھ میں رکھی.
نرمین نے اس کو کھولا تو حیران رہ گئی اس میں ڈائمنڈ کے دو چھوٹے چھوٹے مگر انتہائی قیمتی اور خوبصورت ٹاپس تھے.
میری سلامیوں کے اتنے پیسے نہیں تھے کہ میں تمہارے لیے یہ خریدتا اس لیے میں نے تم سے پیسے لیے…موم ڈیڈ سے میں لینا نہیں چاہتا تھا سوری….
حنین نے کان پکڑ کر معزرت کی
Love u so much Hunain
نرمین نے حنین کے سینے پر سر رکھتے ہوئے کہا
جبکہ حنین نے اسے اپنی بانہوں میں سمو لیا….
بے شک محبت دونوں پر مہربان تھی آج سے نہیں شروع سے…..
……………………
صبح حنین نےناشتہ کی ٹیبل پر بیٹھتے ہوئے کہا
پتہ موم رات نرمین نے میرے ساتھ کیا کیا…؟؟؟
حنین کا اتنا کہنا تھا ملک صاحب کو کھانسی لگ گئی نرمین بیچاری اپنی پلیٹ پر پہلے سے زیادہ جھک گئی جبکہ غزالہ بیگم نے غصہ سے کہا
حنین کبھی تو اپنی بکواس بند رکھا کر…..
موم آپ سنے تو سہی کہ کیا ہوا تھا…؟؟؟
حنین نے احتجاج کیا جس پر بیگم غزالہ نے جواب دیا
ہم نے کچھ نہیں سننا بس تو چپ کر جا……
اس کے بعد حنین نے ہوٹل میں ولیمے پر زریاب اور دبیر کو بھی اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے بارے میں بتانا چاہا مگر کوئی سننے کو تیار نہ تھا کیونکہ حنین سے کچھ امید نہ تھی کہ کیا بتائے گا……
البتہ حنین نے اپنی ذاتی کوششوں سے انھیں اپنی انگلی کا بتا کر اپنی شامت کو خود آواز دی. زریاب اور دبیر نے ٹکا کر حنین کی کلاس لی اور خوب انجوائے کیا.
حنین کی شادی کے بعد دبیر اور کونین کی شادی ہوئی….
……………….
پھر چاروں کپل ایک ساتھ ہنی مون پر گئے ہنی مون میں نرمین کا پلہ کافی بھاری رہا کیونکہ جو نرمین کہتی زریاب اور دبیر فوراً اس کی حمایت میں بول پڑتے عترت اور ماہ نور بھی نرمین کا ساتھ دیتیں . یوں حنین کی بولتی بند ہو جاتی اور نرمین ووٹنگ میں جیت جاتی جبکہ کونین اور ہالہ کسی چیز میں حصہ نہ لیتے صرف ان کی نوک جھوک کو انجوائے کرتے…..
…………
سب سے پہلے اللہ نے حنین کو اولاد کی نعمت سے نوازا.بقول حنین کے اللہ بندے کی نیتیں دیکھ کر دیتا ہے اور یہ پوائنٹ ہمیشہ کی طرح زریاب کے لیے تھا جسے زریاب نے ہنس کر برداشت کر لیا.
حنین کا بیٹا بلکل شکل و صورت اور عادات میں حنین پر تھا بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہو گا کہ اس سے بھی چار ہاتھ آگے تھے. حنین نے اس کا نام اپنے نام سے ملا کر”حمین ملک” رکھا تھا.
ملک صاحب اور غزالہ بیگم کی آنکھوں کا تارا تھا جدھر سے حمین گزرتا پتہ چلتا تھا کہ حمین گزر کر گیا تھا سب کا لاڈلا تھا کسی کے قابو نہیں اتا تھا صرف حنین ہی اسے قابو کر سکتا تھا.
نرمین حمین سے سخت تنگ تھی اس نے زندگی میں اتنا شرارتی بچہ نہیں دیکھا تھا کبھی کبھی تو وہ رو بھی پڑتی تھی جبکہ حنین اپنے بچہ پر بہت خوش تھا اس کا کہنا تھا میرا بچہ ہے اور پتہ چلتا ہے کہ ” حنین ملک ” کا بیٹا ہے.
میں نے سوچا تھا میرا بیٹا میرے جیسا ہو گا…؟؟؟
ایک دن نرمین نے دکھ سے حمین کو شرارت کرتا دیکھ کر کہا…
نرمین تم ہمت مت ہارو کوشش جاری رکھو دیکھو محمود غزنوی نے بھی سومنات کو فتح کرنے کے لیے سترہ حملے کیے تھے اور بلآخر کامیاب ہوا مجھے لگتا ہے اگر تم نے محنت جاری رکھی تو سترواں بچہ تم پر ہو گا….
حنین کے جواب پر نرمین نے پاس پڑا کشن پورے زور سے حنین کو مارا.
لیکن اللہ نے نرمین کی جلدی سن لی حمین کے تین سال بعد اللہ نے نرمین کو ایک اور بیٹا دیا جو بلکل نرمین پر تھا سانولا سا پر کشش آنکھوں والا…..
حنین نے نرمین سے کہا کیونکہ یہ تم پر ہے اس لیے تم ہی اس کا نام رکھو….
نرمین نے اس کا نام “موسیٰ ملک” رکھا. جس پر حنین نے خوب شور مچایا تم میرے حمین کو “فرعون “سمجھتی ہو اس لیے تم نے اپنے بیٹے کا نام موسٰی رکھا ہے.
حمین کے ہاتھوں بیچارے موسیٰ کی خوب پٹائی لگتی جس وجہ سے نرمین ہمیشہ موسیٰ کو اپنے ساتھ رکھتی.اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ نرمین کا لاڈلا بن گیا.
موسیٰ کے دو سال بعد اللہ نے حنین کو ایک بیٹی دی جو بلکل حنین پر تھی اس کا نام حنین نے”رامین ملک ” رکھا.
یہ تو تھی حنین ملک کی فیملی…..
زریاب نے ماہ نور کے تقریباً سارے خواب پورے کیے. پوری دنیا کی سیر کروائی. ہر سال اسے عمرے کے لیے لے کر جاتا.
اللہ نے زریاب کو پانچ سال بعد ایک بیٹی دی جو شکل و صورت میں ماہ نور پر تھی اور عادات زریاب پر…
زریاب نے اس کا نام”زرناب علی خان” رکھا.
یہ بچی بڑی ہو کر انتہائی ذہین اور مغرور نکلی اس کی ٹکر ہمیشہ “حمین ملک” سے رہتی…
زریاب کو اللہ نے اور اولاد نہیں دی جس کا ماہ نور کو بہت دکھ تھا.پہلے بھائی نہ ہونے کا غم اور اب بیٹے کی کمی …….
دبیر اور رائحہ کے دو جڑواں بیٹے تھے.”سید ارتضیٰ حسین شاہ اور سید مرتضٰی حسین شاہ”جبکہ عترت اور کونین کی ایک بیٹی اور ایک بیٹا تھا.
……………
یہ تینوں دوست وقت کے ساتھ ساتھ مزید ایک دوسرے کے قریب آتے گئے ایک دوسرے کے بچوں پر جان چھڑکتے تھے مگر “حمین ملک”خاص طور پر سب کی آنکھوں کا تارا تھا. پنڈی اسلام آباد کے لوگ ایک اور حنین کے منتظر تھے حمین کی شکل میں………….
………………
25 سال بعد
اسلام آباد ائیر پورٹ پر لندن کی فلیٹ لینڈ کرتی ہے بہت سارے لوگوں کے ساتھ ایک چوبیس سال کا خوبصورت نوجوان بھی اترتا ہے پانچ لاکھ کا سوٹ زیبِ تن کیے برینڈڈ گھڑی، جوتے پہنے اور موبائل ہاتھ میں لیے ایک لاکھ کے ہئیر سٹاءل کے ساتھ آنکھوں پر بلیک گلاسس لگائے ایک ہاتھ سے اپنا سفری سامان گھسیٹتے ہوئے دوسرے بازو پر اپنا کوٹ ڈالے شانِ بے نیازی سے چلتا ہوا کلیئرنس تک پہنچا…..
ریسپشن پر موجود لڑکی نے مودبانہ لہجہ میں پوچھا.
سر آپ کا نام…؟؟؟
گلاسس اتارتے اپنی گول مٹول آنکھوں میں شرارتی مسکراہٹ سجائے انتہائی غرور سے جواب دیتے وہ نوجوان بولا
“I am Humain Malik son of Hunain Malik”
لندن سے وکالت کی ڈگری حاصل کر کے آنے والا یہ نوجوان جس کا باپ “حنین ملک”کو کبھی کسی نے دلائل میں نہیں ہرایا تھا تو پھر “حمین جو کہ باقاعدہ ڈگری ہولڈر تھا کسی سے ہار جاتا ناممکن…….
اس نوجوان نے اسلام آباد کے لاء چمبر میں جو طوفان برپا کرنا تھا اسلام آباد ائیر پورٹ سے نکلتے ہی ہوائیں بتا رہی تھیں…
بقول شاعر
“یہ کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے…”
ختم شد…………..
