Hichkiyan Muhabbat Ki Season 1 By Amna Mehmood Readelle50146 Episode 7 Pt.1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 7 Pt.1
عترت آج سارا دن ہالہ کو یونی میں تلاش کرتی رہی مگر وہ نہیں ملی.بلآخر مایوس ہو کر ہسپتال جانے کا ارادہ کیا.
پہلے دن جو کچھ عترت ساتھ ہوا اس کی وجہ سے دبیر نے عترت کے لیے ایک ڈرائیور اور گاڑی مخصوص کر دی وہ سارا دن یونی کی پارکنگ میں رہتی جب بھی عترت فری ہوتی گھر واپس آ جاتی تھی.
ابھی عترت نے پارکنگ میں قدم رکھا ہی تھا کہ کونین نظر آ گیا.وہ ہمیشہ کی طرح اپنی بائیک سے سر کھپا رہا تھا
ہیلو…….
عترت نے ڈرتے ڈرتے کونین کو مخاطب کیا اس نے کبھی لڑکوں سے بات نہیں کی تھی شاید وہ کونین سے بھی نہ کرتی مگر ایڈیس معلوم کرنا تھا
کونین نے مڑ کر دیکھا اور عترت کو پہچان کر شرارت سے بولا ….
آج بھی لفٹ چاہیے؟؟؟
مگر سوری میم آج تو بائیک آپ کو لفٹ دینے کے موڈ میں نہیں
اس نے کندھے اچکائے ویسے بھی میری بائیک احسان فراموشوں کو پسند نہیں کرتی.
عترت کچھ شرمندگی سے بولی
وہ اصل میں، میں کبھی بائیک پر نہیں بیٹھی مجھے لگ رہا تھا میں گر جاؤں گی اس لیے مجھے بہت رونا آ رہا تھا جب گھر پہنچی تو میرا دل اماں بی سے ملنے کو تڑپ رہا تھا.میں شرمندہ ہوں اپنی اس دن کی حرکت پر….
کونین کو امید نہیں تھی کہ وہ اتنی جلدی شرمندہ ہو جائے گی اس لیے اسے حیرت سے دیکھا اور کہا
Seriouslyyyyyyy…..
جی…
اور اسی لیے میں اور میری اماں بی آپ کے گھر آنا چاہتے ہیں شکریہ ادا کرنے کے لیے مگر….
اتنا کہہ کر عترت رک گئی
مگر کیا..؟؟؟
کونین نے ابرو اچکا کر کہا
وہ مجھے آپ کے گھر کا ایڈریس معلوم نہیں…..
اچھا تو یہ بات ہے…….
کونین اب ہاتھ باندھے بائیک ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا تھا
وہ کیا ہے نا……مس ….؟؟؟؟
عترت ….عترت نے اپنا نام بتایا
جی….مس عترت
یہ جو آپ کی اتنی لمبی چوڑی گاڑی ہے یہ ہمارے محلہ میں داخل نہیں ہو سکے گئی اور آپ کو پیدل چلنا پڑے گا.جس کی وجہ سے آپ کو پھر رونے کا دورہ پڑ سکتا ہے.اس لیے میں نے آپ کا شکریہ قبول کیا.گھر آنے کی ضرورت نہیں.
کونین نے کہتے ہوئے پھر بائیک پکڑ کر کک لگائی…
مگر مجھےتو ہالہ بی کا شکریہ ادا کرنا ہے…..
عترت نے کونین کو جاتے دیکھ کر جلدی سے اونچی آواز میں کہا
کونین نے کانوں پر ہاتھ رکھتےہوئے کہا
مس جی…میں سنتا ہوں بہرہ نہیں اور اب سیدھا ہو کر کڑے تیوروں سے عترت سے مخاطب ہوا…..
بائیک میں چلا رہا تھا؟ ؟؟ ہالہ بی نہیں……
شکریہ صرف میرا بنتا ہے وہ میں نے قبول کیا اب کیوں گھر جانے کی ضد کر رہی ہیں….
وہ میں خود ہالہ بی کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں.اور پکا نہیں روؤں گی….
عترت نے مسکین شکل بنا کر کونین کی طرف دیکھا
کونین کو ہنسی آئی مگر وہ دبا گیا ٹھیک ہے آپ ایڈریس نوٹ کریں
………………………………….
دبیر آج صبح جلدی آفس آگیا تھا کیونکہ وہ زریاب ساتھ رائحہ کے بارے میں بات کرنا چاہتا تھا.زریاب ابھی نہیں آیا تھا اور دبیر کمرے میں چکر کاٹ کاٹ کے تھک گیا تھا.
زریاب کو کال کرتا ہوں وہ بڑبڑایا.
مگر ڈائل نمبرون پر نظر پڑتے ہی ہالہ کا خیال آگیا.
دبیر شرم کر کچھ اس لڑکی کا شکریہ ہی بول دے. اس نے اپنے آپ کر سرزنش کرتے ہالہ کو کال کی….
تیسری بل پر کال اٹینڈ ہو گئی
اسلام و علیکم
پیاری سی آواز دبیر کے سپیکر میں ابھری…
وہ میں دبیر بات کر رہا ہوں سلام کا جواب دیتے ہوئے دبیر نے اپنا تعارف کروایا
کون دبیر…؟؟؟ سوری میں نے پہچانا نہیں.
ہالہ نے جواب دیا
ہالہ اس وقت ہسپتال میں کافی مصروف تھی اس لیے لمبی بات نہیں کرنا چاہتی تھی
دبیر کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہو گیا.جلدی سے بولا
جی میں عترت کا بھائی…..
اچھا پھر…ہالہ نے جواب دیا
وہ میں آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا. دبیر فوراً اصل موضوع کی طرف آیا
نہین اس کی ضرورت نہیں…
میں زرا مصروف ہوں برا مت منائیے گا.یہ کہہ کر اس نے کال کاٹ دی
عجیب لڑکی ہے اس دن بولنے سے رک نہیں رہی تھی اور آج سننے کے لیے تیار نہیں.
اتنے میں افس کا دروازہ کھلا اور زریاب اندر داخل ہوا
کیا بات ہے فون کو کیوں گھور رہا ہے مانا کافی مہنگا ہے پر اس کا مطلب یہ نہیں کہ بندہ اپنے آس پاس سے بے خبر ہو جائے.اور ہنستے ہوئے دبیر کے سامنے کرسی پر بیٹھ گیا
دبیر نے مسکرا کر فون ٹیبل پر رکھا اور چلتا ہوا زریاب پاس آگیا
بہت خاص بات ہے کیا…؟؟؟؟
زریاب نے پاس کھڑے دبیر کو آنکھیں اچکا کر آہستہ آواز میں کہا….
ہاں بھی اور نہیں بھی…؟؟؟دبیر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا اور زریاب کا ہاتھ پکڑ کر صوفے پر آ بیٹھا.
یار تو ٹھیک تو ہے؟؟ تیری حرکتیں کچھ مشکوک نظر آ رہی ہیں…؟؟؟
زریاب نے دبیر کے ماتھے کو ہاتھ لگاتے ہوئے مصنوعی فکر مندی سے کہا.جس پر دبیر کاقہقہ بلند ہوا
یار مجھے خود بھی سمجھ نہیں آ رہی کہ کہاں سے شروع کرو.
دبیر نے پر سوچ انداز میں کہا
جہاں مرضی سے شروع کر میں سمجھ لوں گا.زریاب نے حوصلہ دیتے کہا
اچھا پھر وعدہ کر حنین کو نہیں بتائے گا..؟؟
کیونکہ وہ بہت زچ کرتا ہے.دبیر نے انتہائی سنجیدگی سے زریاب کو ہے
تھیک ہے تو بتا کیابات ہے ..؟؟
اب میں الجھن کا شکار ہو رہا ہوں؟؟؟
زریاب نے اکتا کر کہا
پتہ یار جب تو گاؤں میں تھا تو……
دبیر نے بتانا شروع کیا
………………………………….
نرمین کوریڈور سے گزر رہی تھی جب پیچھے سے حنین نے آواز دی…
رک پڑھاکو…… رک
کیا بتمیزی ہے..؟؟؟
ساری زندگی ایسے ہی رہنا.
نرمین نے خفگی سے پیچھے مڑ کر کہا اور آگے چل پڑی
اتنی دیر میں حنین بھی نرمین کے قریب پہنچ چکا تھا.اب حنین الٹے قدموں سے چل رہا تھا اور منہ نرمین کی طرف تھا.جبکہ نرمین سیدھی قدم اٹھا رہی تھی مگر منہ حنین کی طرف تھا
آرام سے بیٹھ کر بات سنو میری…
حنین نے کہا
مجھے کچھ نہیں سننا…
نرمین نے ناراضگی سے کہا
یارررر تیرے ساتھ مسئلہ کیا ہے سوری بولی تھی نا……
حنین نے یاد دلایا
ہاں جی…….
آپ کے احسانات یاد ہیں مجھے پورا ہفتہ بیمار رہی ہوں.
نرمین نے آہستہ سے جواب دیا
نرمین تجھے تو لڑنا بھی نہیں آتا.جتنا آہستہ تو غصہ میں بول رہی ہے اتنا تو میں سرگوشی میں بھی نہیں بولتا اور ہنسنے لگ گیا.جبکہ نرمین سنجیدہ تھی
حنین تم پلیزززز MBA کر لو نا.
نرمین نے رک کر ایک ہاتھ اپنی کمر پر رکھا اور دوسرا ہاتھ جس میں فولڈر تھا حنین کے سر پر مارا
اوچ چ چ چ چ چ چ چ …..
ظالم لڑکی اتنے زور سے مارا ہے
ابھی زریاب اور دبیر کہتے ہیں کہ تم معصوم ہو…؟؟؟
حنین نے اپنا سر سہلاتے ہوئے نرمین سے کہا اب وہ نرمین کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل رہا تھا
نرمین نے فولڈر کو سینے سے لگا رکھا تھا.
حنین پلیزززز کر لو ناااااMBA پلیزززز
نرمین نے نیچے دیکھتے ہوئے کہا
تیرے لیے میری جان بھی حاضر ہے مگر یہ MBA میرے بس کی بات نہیں.
اتنا کہہ کر حنین نے گاڑی کی چابیاں اچھالی جو سیدھے اوپر لگے بلب پر لگیں.اور ایک زوردار آواز کے ساتھ وہ زمین پر گرا..
اس کوریڈور میں سارے پروفیسروں کے کمرے تھے یہاں سٹوڈنٹس کا آنا منع تھا نرمین تو اپنے بابا سے ملنے آئی تھی. مگریہ حنین پتہ نہیں کہاں سے ٹپک پڑا تھا بلب کے ٹوٹتے ہی وہ غائب ہو گیا تھا جبکہ تمام پروفیسر اپنے اپنے آفس کے دروازے میں کھڑے نرمین کو گھور رہیے تھے
……………………………
اس وقت نرمین یونی کے ایڈمںسٹریشن روم میں موجود تھی.سامنے تین بڑے پروفیسرز اور ایک طرف نرمین کے بابا پروفیسر احمد مراد بیٹھے تھے.
جی تو آپ کہہ رہی ہیں آپ نے بلب نہین توڑا…؟؟
ایک پروفیسر نے طنزیہ نظروں سے نرمین کو دیکھا
سر میں بتا چکی ہوں کہ مین نے بلب نہین توڑا آپ یقین کیون نہین کرتے.
نرمین بیچارگی سے بولی…
اس نے کبھی گھر میں شرارت نہین کی تو یونی میں کیا کرے گی….
اب کی بار نرمین کے بابا نے پروفیسرز کی جیولری سے مخاطب ہو کر رہا
سر آپ خاموش رہین یہ یونی کے ڈسپلن کا معاملہ ہے ہمیں پوچھ لینے دیں.
ایک پروفیسر نے احمد مراد کو چپ کراتے ہوئے نرمین سے سوال کیا
بیٹا اگر آپ نے نہین توڑا تو پھر کس نے توڑا ہے. کیونکہ کوریڈور میں آپ کے سوا کوئی اور نہین تھا.
نرمین حنین کا نام لینا نہیں چاہتی تھی اسے آگے ہی دو دفعہ warning letterجاری ہو چکا تھا اگر اب وہ حنین کا نام لیتی تو اسے یونی سے نکال دیا جاتا.جو نرمین نہیں چاہتی تھی.
جب پروفیسروں نے سوالات کی بوچھار کی تو نرمین نے اسی میں عافیت سمجھی کہ سارا الزام اپنے سر لےلے…
Sir i m sorry …..
نرمین نے معافی مانگ لی مگر اس کی انکھوں میں آنسو آگئے
اسے کبھی کسی ٹیچر سے ڈانٹ نہیں پڑی تھی ہمیشہ سب نے تعریف ہی کی تھی مگر آج حنین کی وجہ سے اچھی خاصی کلاس ہو گئی تھی.
ایک تو آپ سر احمد مراد کی بیٹی ہین دوسرا آپ ایک لائق سٹوڈنٹ ہیں تیسرا آپ نے کبھی یونی ڈسپلن کی خلاف ورزی نہیں کی اس لیے آپ کو ہم warning letter اشو نہین کر رہیے مگر…..
next time be careful
یہ کہتے جیولری نے نرمین کو جانے کا اشارہ کیا
روم سے باہر آتے ہی احمد مراد بول پڑے ….
نرمین بولو تمہارے ساتھ حنین تھا..؟؟؟
یہ حرکت اسی کی ہو سکتی ہے …؟؟
وہی ایسے کاموں کا ماہر ہے.
بولو …جواب دو.؟؟
جبکہ نرمین سر جھکائے باپ ساتھ چل رہی تھی.
احمد مراد نے اپنے آفس میں آتے ہی نرمین کو بیٹھنے کا اشارہ کیا.
اور خود فائلین سمیٹنے لگے
نرمین بہت ہی حساس لڑکی تھی چھوتی چھوٹی باتوں پر پریشان ہو جاتی.یہ تو بہت بڑی بات تھی اس کے لیے..وہ اب بیٹھی رو رہی تھی.جب احمد مراد کی نظر نرمین پر پڑی تو انھیں دکھ ہواآخر لاڈلی بیٹی تھی چلو اب چپ کرو کوئی بات نہین معاملہ رفع دفع ہو گیا ہے.
بری بات روتے نہیں میں فائلین سمیٹ لوں پھر گھر چلتے ہیں.
نرمین نے ہاں میں سر ہلا دیا
اسے حنین پر سخت غصہ آ رہا تھا.پر سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ غصہ نکالے کیسے… ؟؟؟
کچھ دیر سوچنے کے بعد اس نے اپنا موبائل آف کر دیا
