Hichkiyan Muhabbat Ki Season 1 By Amna Mehmood Readelle50146 Episode 18 Pt.2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 18 Pt.2
ماہ نور کمرے سے باہر لاؤنچ میں آئی تو تب تک زریاب جا چکا تھا.ماہ نور کو دیکھتے ہی بیگم کوثر اور بیگم نسرین نے ایک ساتھ ماشاءاللہ کہا
ہماری بیٹی کتنی پیاری لگ رہی ہے.ادھر آؤں میرے پاس بیٹھو
بیگم کوثر نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے ماہ نور کے لیے جگہ بنائی.ماہ نور چلتے ہوئے جیسے ہی صوفے کے قریب پہنچی اس کی نظر افراسیاب پر پڑی.تو پوچھا…
یہ کیا ہوا ہے تمہیں…؟؟؟
لالا نے مارا ہے وہ بھی آپ کی وجہ سے کہتے میں نے آپ کا خیال نہیں رکھا.افراسیاب نے جواب دیا
دماغ خراب ہو گیا ہے اس کا،پاگل کہیں کا،اس کو بلایا کس نے تھے…؟؟؟
زریاب کے بعد اب ماہ نور کی آواز لاؤنچ میں گونج رہی تھی
میں نے بلایا تھا آپا…….
پارو نے ڈرتے ڈرتے کہا
پارو تم نے بلایا تھا مگر کیوں؟؟؟؟
ماہ نور نے پارو کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
اس لیے کے لالا کے سوا کوئی کچھ نہیں کر سکتا تھا اور میں آپ کے ساتھ یہ ظلم ہوتا نہیں دیکھ سکتی تھی آپا آئی لو یو..
کہتے ساتھ ہی پارو نے ماہ نور کے گرد اپنے بازوحائل کر دیے.
پیچھے ہٹو ,ماہ نور نے پارو کو اپنے سے الگ کیا اور افراسیاب کو کہا کہ وہ جا کر زریاب کو بلا کر لائے مجھے اس بات کرنی ہے
آپا میں تو نہیں جاتا.لالا آج بہت غصہ میں ہیں آگے ہی مفت میں تھپڑ پڑ گیا.
افراسیاب نے مسکین سی شکل بناتے ہوئے جواب دیا جس پر ماہین اور پارو نیچے منہ کر کے ہنسنے لگیں.
افراسیاب نے کشن اٹھا کر ماہین کی طرف پھینکا اور کہا
تمہیں بہت ہنسی آ رہی ہے تمہیں لگتا تو پتہ چلتا.
اس پر کیوں بول رہے ہو ؟؟اور یہ کیا بچوں جیسی حرکتیں کر رہے ہو؟؟؟ شرم کرو کچھ….
بیگم نسرین نے افراسیاب کو گھورتے ہوئے کہا
اور تم نے زریاب کو کچھ نہیں کہنا.سمجھی آگے ہی وہ بیچارا اتنا پریشان ہو گیا ہے جب سے حویلی پہنچا ہے ایک منٹ بچہ کو سکون نصیب نہیں ہوا.بیگم کوثر نے لہجے میں ممتا سموتے ہوئے کہا
ماں کی بات سنتے ہی ماہ نور کو غصہ آگیا پتہ نہیں آپ سب لوگوں کو وہ بیچارہ کیسے لگتا ہے ..؟؟؟
ابھی ماہ نور کے منہ میں ہی الفاظ تھے کہ زریاب زنان خانے میں داخل ہوا اور ماہ نور پر نظر پڑتے ہی پلکیں جھپکانا بھول گیا.زریاب کے لیے یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل تھا کہ ماہ نور خوبصورت تھی یا اس کی محبت نے اسے خوبصورت بنا دیا تھا.بہر حال جو بھی تھا وہ سر سے پاؤں تک سنگ مرمر سے تراشا ہوا دلکش پیکر تھی سر سے لے کر پاؤں تک زریاب کی نظروں نے اس کا طواف کیا اور آخر میں پھر اس کی نظریں اس کے پاؤں پر ٹک گئیں عجیب حسن تھا اس کے پاؤں میں وہ موتیاکی طرح سفید اور نرم تھے مگر جب ماہ نور قدم اٹھاتی تو وہ گلابی ہو جاتی زریاب کا خیال تھاکہ اس کے پاؤں اتنے نازک ہیں کہ وہ ماہ نور کا اپنا وزن بھی نہیں اٹھا سکتے.کھڑے ہوتے اور چلتے جتنے رنگ اس کے پاؤں بدلتے تھے اتنے رنگ تو شاید مور کے پَر میں بھی نہیں ہوتے. ماہ نور سامنے ہوتی تو زریاب ہوش کھونے لگتا اور آج تو واقعی ہی وہ کسی کے بھی ہوش اڑا سکتی تھی.حنین صحیح کہتا ہے تم نے مجھ پر تعویز دھاگے کیے ہوئے ہیں. تمہارے سامنے میں پگھلنے لگتا ہوں
اس سے پہلے کہ زریاب ماہ نور کو مخاطب کرتا ماہ نور بول پڑی.
کیا ضرورت تھی آج حویلی آنے کی اور بابا سائیں ساتھ اتنی بتمیزی کرنے کی.یہی سب کچھ سیکھا ہے شہر میں رہ کر….؟؟؟
مان نور تم اندر جاؤ میں نے تم سے کسی قسم کی کوئی بحث نہیں کرنا چاہتا .زریاب ماہ نور سے نظر چراتا ہوا بولا.جبکہ افراسیاب نے پارو کے کان میں سرگوشی کی
“لالا کو دیکھو ابھی تھوڑی دیر پہلے جلاد بنے ہوئے تھے اب کیسے آرام سے بات کر رہے ہین.”
پھر دونوں نیچے منہ کر کے ہنسنے لگے
افراسیاب کو مار کر تم کیا ثابت کرنا چاہتے ہو کہ تم بہت غیرت مند ہو..؟؟
ماہ نور نے زریاب پر چلاتے ہوئے کہا
ماہ نور میں بہت تھکا ہوا ہوں پلیززززز ……..زریاب اپنے آپ کو بہت بے بس محسوس کر رہا تھا وہ اسے کچھ نہیں کہہ سکتا تھا.وہ زنان خانے میں افراسیاب سے معزرت کرنے آیا تھا.مگر ماہ نور کو دیکھ کر سب بھول گیا. اگر یہ کچھ دیر اور یہاں کھڑی رہی تو میں ہار جاؤں گا اس سے بہتر ہے کہ میں خود ہی یہاں سے چلا جاؤں.زریاب نے اپنے آپ سے کہا
ٹھیک ہےتم نہیں جاتی تو میں ہی چلا جاتا ہوں.مگر ماہ نور کی بات نے اس کے تن بدن میں آگ لگا دی
زریاب تم صرف بےغیرت ہی نہیں بلکہ نامرد بھی ہو اگر اتنے غیرت مند مرد ہوتے تو چھ سال پہلے گاؤں سے بھاگ نہ جاتے..؟؟ جرگہ کا سامنا کرتے.ایک عورت کے سر پر جی رہے ہو تم سمجھے……..
” مرد سب کچھ برداشت کر سکتا ہے مگر اپنی مردانگی پر ایک لفظ نہیں اور جو برداشت کر لے وہ مرد ہی نہیں”
یہ قول بھی حنین کا تھا جو شاید بہت غلط وقت پر زریاب کے کانوں میں گونجا اور اس کا غصہ آسمانوں کو چھونے لگا پھر وہ ہوا جس کی کسی کو امید نہیں تھی.
زریاب تیزی سے ماہ نور کے قریب آیا اور ایک زوردار تھپڑ ماہ نور کی دائیں گال پر مارا. ماہ نور کی دودھیا سفید جلد پر زریاب کی انگلیوں کے نشان یوں لگ رہے تھے کہ جیسے کسی نے ماہ نور کا چہرہ گرم لوہے کی سلاخوں سے داغ دیا ہو.پورا لاؤنچ “چٹاخ”کی آواز سے گونج اٹھا.سب اپنی اپنی جگہ پر ساکت ہو گئے.اس سے پہلے کے ماہ نور تھپڑ کی وجہ سے گرتی زریاب نے اسے دونوں بازوں سے پکڑ کر اپنے قریب کیا.ماہ نور کو زریاب کی انگلیاں اپنے بازوں میں پیوست ہوتیں محسوس ہوئیں.
تم میری محبت کو میری کمزوری مت سمجھو یہ تھپڑ جو میں نے آج تمہیں مارا ہے یہ چھ سال پہلے مارنا چاہیے تھا جب تم نے میری بات پر یقین نہیں کیا تھا.میں نے اسد کو نہیں مارا تھا مگر تم اگر دوبارہ ایسی بکواس کی تو میں تمہارا گلہ اپنے ہاتھوں سے دبا دوں گا جو مر گیا ہے وہ کبھی واپس نہیں آ سکتا مگر جو زندہ ہے وہ قبر میں جا سکتا ہے.
ماہ نور پھٹی پھٹی آنکھوں سے زریاب کو دیکھ رہی تھی.اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا جو شخص اس کے سامنے نظر نہیں اٹھا سکتا تھا اس نے ہاتھ کیسے اٹھا لیا..؟؟؟
ماہ نور نے جب سے ہوش سمبھالا تھا شاید تب سے لے کر اب تک پہلی بار کسی نے اس پر ہاتھ اٹھایا تھا.
یہ کیا کر رہے ہو چھوڑو اسے،
جیسے ہی نسرین بیگم نے کہا
زریاب نے ایک جھٹکے سے ماہ نور کو چھوڑا اور وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھتے ہوئے پیچھے پڑے صوفے پر جاگری.اب وہ سکتہ سے نکل کر ہوش کی دنیا میں واپس آئی.
مجھے تم سے، اس سے بھی زیادہ گھٹیا رویہ کی امید تھی سردار زریاب علی خان ،ماہ نوہ نے اپنی گال پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا جو دہک رہی تھی.
چپ اب ایک لفظ اور نہیں نہ تمہیں پیار کی بات سمجھ آتی ہے نہ مار کی ،تم ایک کمرہ میں رہ رہ کر نفسیاتی مریض بن چکی ہو میری بات کان کھول کر سنو وہ ایک دفعہ پھر اس کے قریب آ گیا تھا
“ہر رشتے کی قدر کرو اور خوب کرو ایک ایک۔کر کے سب نے چلے جانا ہے پیچھے رہ جانی ہیں تو صرف حسرتیں اور یادیں۔اور۔کبھی کبھی پچھتاوے بھی۔۔۔۔!!!
اور پچھتانے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا ۔ رشتوں کو نبھانا اور چاہنا ہی زندگی کی خوبصورتی ہے۔یاد رکھو جس دن میں چلا گیا ناااااا تم بہت پچھتاؤ گی بہت ……
زریاب شہادت کی انگلی ماہ نور کی طرف کرتا پلٹ گیا
………………….
حنین نے جیب میں موبائل ڈالتے ہوئے زریاب کو دیکھا جو اسی کی طرف آ رہا تھا.
کیا ہوا.؟؟؟؟حنین نے اس کے قریب آنے پر پوچھا
یارایک بات تو بتا تیری زبان کالی ہے…؟؟؟؟
جو کہتا ہے وہی ہو جاتا ہے بلکہ مجھے شک پڑتا ہے تو فرعون کے دربار میں موجود نجومیوں کی نسل سے تعلق رکھتا ہے تیری ساری پیشنگوئیاں سچ ہو جاتیں ہیں.
میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ میں ماہ نور کو مارو گا مگر ابھی ابھی میں اسے مار کر آ رہا ہوں اتنا زور سے مارا ہے کہ میرا ہاتھ ابھی تک لال ہے.یہ دیکھ…..
زریاب نے یہ کہتے ہوئے اپنی ہتھیلی حنین کے سامنے کر دی
حنین ایک نظر ہتھیلی پر ڈالتا اور دوسری زریاب پر……جب اس نے تین دفعہ ایسا کیا تو زریاب تپ گیا اور بولا
یہ کیا کر رہا ہے…؟؟؟؟
مجھے یقین نہیں آ رہا کہ تو ایسا کر سکتا ہے…؟؟؟
حنین نے حیرانگی سے کہا
یہ سب تیری وجہ سے ہوا ہے تو نے میری اتنی برین واشنگ کی ہے کہ بس……..
حنین تو پوری” پھپھےکٹنی” ہے یہ تو اللہ کا احسان ہے ہم پر کہ اس نے تجھے لڑکا بنایا خدانخواستہ اگر تو لڑکی ہوتا تو اپنے اقوالِ زریں اور حرکتوں کی وجہ سے روز سات گھر اجاڑتی.
زریاب دکھ اور غصہ کی ملی جلی کیفیت میں بولا.
حنین نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا
شیر بن شیر ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں پر منہ نہیں بنا لیتے.چل ادھر آ جپھی ڈال.
تجھے کتنی بار منع کیا ہے مجھے ہاتھ نہ لگایا کر ….
زریاب نے تنگ ہوتے ہوئے حنین کے سینے پر اپنا ہاتھ رکھ کر پیچھے کیا
زریاب میں نے بھی تجھے کتنی بار سمجھایا ہے یہ لڑکیوں والے ڈائیلاگ مت بولا کر……
مرد بن مرد،ویسے مجھے ابھی تک یقین نہیں آ رہا کہ تو نے اسے مارا ہے.خیر اس تھپڑ کا تجھے ساری زندگی فائدہ ہو گا اب وہ تجھ سے ڈرے گی تیری نافرمانی نہیں کرے گی.اب تو اپنے تایا سائیں پاس جا اور انھیں بتا کہ تو ماہ نور سے شادی کرنا چاہتا ہے تاکہ نکاح ہو اور ہم واپسی کے لیے نکلیں.
حنین نے زریاب کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
تیری غلط فہمی ہے کہ وہ مجھ سے ڈرے گی اور نکاح کے لیے تو اب وہ کبھی راضی نہیں ہو گی.
زریاب نے حنین کا ہاتھ پیچھے ہٹاتے ہوئے کہا
تو اس سے پوچھ کون رہا ہے؟؟؟؟
جیسے پہلے اس سے پوچھے بغیر نکاح ہو رہا تھا ویسے ہی اب ہو گا
……………
زریاب سردار حشمت علی خان کے کمرے میں داخل ہوا جو اس وقت لائٹ بند کر کے ایزی چئیر پر جھول رہے تھے.تایا سائیں مجھے آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے.جیسے ہی زریاب نے یہ کہاسردار حشمت علی خان نے جھولنا چھوڑ دیا مگر بولے کچھ نہیں.
تایا سائیں میں ماہ نور سے شادی کرنا چاہتا ہوں ابھی اور اسی وقت……
زریاب نے سردار حشمت علی کے پاؤں میں بیٹھتے ہوئے کہا
بیٹا سائیں یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں. آپ ہوش میں تو ہیں..؟؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے وہ آپ سے عمر میں بڑی ہے..؟؟؟
ابھی انھوں نے اتنا ہی کہا تھا کہ سردار دلاور اندر داخل ہوئے اور سردار حشمت کو بتایا کہ میں نے چوہدری محمد علی کو فون کرکے رشتے سے منع کر دیا ہے مگر وہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں.
ٹھیک ہے جب وہ آئیں تو مجھے بتا دینا لیکن بندے اور اسلحہ تیار رکھو.سردار حشمت نے سردار دلاور کو کہتے ہوئے اب زریاب کو دیکھا
بیٹا سائیں آپ آج حویلی سے باہر نہیں نکلیں گے کل صبح میں خود آپ کے ساتھ جاؤں گا. ٹھیک ہے.
جی بہتر…مگر آپ نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا
زریاب نے دوبارہ اپنا سوال دہرایا جس پر سردار دلاور کھل اٹھے.میں بھی یہی چاہتا ہوں
بھائی صاحب …..آپ ماہ نور ہمیں دے دیں مجھے تو شروع سے وہ بچی بہت اچھی لگتی ہے میں منت کرتا ہوں آپ کی….
سردار دلاور نے کہتے ہوئے زریاب کے ساتھ نیچے بیٹھ گئے
کچھ دیر سوچنے کے بعد سردار حشمت نے ہاں کر دی اور کہا
زنان خانے میں پردہ کرواؤں نکاح ابھی اور اسی وقت ہو گا
……………………..
ماہ نور کے کمرے میں اس وقت ماہین،پارو،بیگم نسرین اور بیگم کوثر کے علاوہ کچھ قریبی رشتہ دار عورتیں موجود تھیں.جبکہ کمرے کے باہر زریاب، افراسیاب اور حنین ایک ساتھ بیٹھے تھے سردار حشمت اور سردار دلاور ایک ساتھ ان تینوں کے سامنے تھے مولوی صاحب اور کچھ گاؤں کے معززین بھی موجود تھے.ماہ نور کے کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا اور ایک سفید کپڑا پردہ کے لیے لگایا گیا تھا.
مولوی صاحب نکاح شروع کریں.جیسے ہی سردار دلاور نےیہ کہا تو مولوی صاحب نے لڑکا لڑکی کی رضامندی چاہی زریاب نے سر ہلا کر اپنی رضامندی دی اب ماہ نور کی باری تھی اونچی آواز میں پوچھا گیا کہ بیٹا آپ کو سردار زریاب علی خان ولد سردار دلاور علی خان سے نکاح منظور ہے مگر دوسری طرف سے کوئی جواب نہ آیا پھر دوسری دفعہ بھی پوچھنے پر ایسا ہی ہوا جبکہ کمرے میں موجود بیگم کوثر اور بیگم نسرین ماہ نور کو مسلسل ہاں کرنے کا بول رہی تھیں.جب تیسری بار مولوی صاحب نے پوچھا تو ماہ نور کی آواز پورے کمرے میں گونجی
“مجھے یہ نکاح منظور نہیں”
جسے باہر بیٹھے ہر شخص نے آسانی سے سنی
جیسے ہی ماہ نور کہ یہ الفاظ حنین کے کانوں میں پڑے تو بےساختہ حنین کے منہ سے نکلا
“او تیری خیر تھپڑ کھا کے بھی کوئی اثر نہیں ہوا”
حنین کی آواز اتنی تھی کہ سب نے پیچھے مڑ کر دیکھا زریاب نے حنین کو کہنی ماری اور کہا اپنا منہ بند رکھ.
اتنی سنجیدہ صورتِ حال میں بھی زریاب اور افراسیاب نیچے منہ کر کے ہنسنے لگے جبکہ حنین اپنا قہقہ روکنے کے چکر میں لال ہو گیا.اور سردار حشمت غصہ سے لال ہوتے کھڑے ہو گئے
………………..
