Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode Pt.1


ماہ نور اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو غور سے دیکھ رہی تھی جب زریاب کمرے میں داخل ہوا….
کیا دیکھ رہی ہو…؟؟ پیکنگ نہیں کی ابھی تک….
زریاب نے کمرے میں ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے پوچھا جہاں کچھ بھی پیک شدہ سامان موجود نہ تھا.
ماہ نور نے نفی میں گردن ہلائی.
کیوں…؟؟؟ آج جانے کا ارادہ نہیں ہے کیا….؟؟؟
زریاب نے ماہ نور پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا
ماہ نور نے ایک نظر زریاب کو دیکھا اور پھر دوبارہ اپنی ہتھیلیوں کو دیکھنے لگی…
تمہیں اپنے ہاتھ بہت پسند ہیں…؟؟؟ مگر مجھے تمہارے پاؤں بہت اچھے لگتے ہیں پتہ میں نے اتنے شفاف پاؤں کسی کے نہیں دیکھے جب تم چلتی ہو تو یہ گلاب کی طرح گلابی ہو جاتے ہیں جب بیٹھ جاتی ہو تو موتیے کی طرح سفید…..
زریاب کہتے ساتھ ہی ہنسنے لگا جبکہ ماہ نور اسے پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھ رہی تھی.
ماہ نور کو یوں دیکھتے ہوئے دیکھ کر زریاب نے کہا
حنین میری بہت کِٹ لگاتا ہے تمہارے پاؤں کی وجہ سے تمہیں پتہ ہے……
جبکہ ماہ نور اب اپنے پاؤں دیکھ رہی تھی اسے تو وہ عام سے ہی لگ رہے تھے……
گاؤں جانا ہے کہ نہیں…؟؟؟
بتا دو یار تاکہ میں پھر آرام سے لیٹوں بہت تھک گیا ہوں……
زریاب نے بیڈ پر لیٹتے ہوئے اپنی کہپٹیوں کو دبایا.
ماہ نور کچھ دیر زریاب کو دیکھتی رہی جو آنکھیں بند کر کے لیٹا ہوا تھا اور پھر ایکدم سوال کیا…
سردار زریاب علی خان تمہیں مجھ سے کتنی محبت ہے….؟؟؟؟
زریاب جو آرام سے لیٹا اب اپنی آنکھیں دبا رہا تھا ماہ نور کے سوال پر چونک کے بیٹھ گیا
مطلب…؟؟؟
مطلب تم مجھے کتنا خوش رکھ سکتے ہو..؟؟ اور کب تک…؟؟؟
ماہ نور سوالیہ نظروں سے زریاب کو دیکھنے لگی..
زریاب اپنی جگہ سے اٹھ کر ماہ نور کے پاس آیا.
مجھے تم سے شدید محبت ہے میں تمہیں ساری زندگی خوش رکھوں گا تمہارے دکھ درد میں تمہارا ساتھ دوں گا تمہیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑوں گا محبت کی تو میں گارنٹی دیتا ہوں وہ بھی لائف ٹائم …….
ہاں کبھی کبھی تمہیں ڈانٹا ضرور کروں گا جب تم میرے بچوں کو ڈانٹا کروں گی ..؟؟ کیونکہ مجھے بچے بہت اچھے لگتے ہیں.
زریاب نے پیار سے ماہ نور کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا
ماہ نور پلیززز میرا اعتبار کر لو ایک باررر پلیزززز….
ماہ نور نے ایک سانس خارج کرتے ہوئے کہا
اگر میں تم سے اپنی اور اسد کی باتیں کروں تو تمہیں کیسا لگے گا…؟؟؟
زریاب نے ماہ نور کے گرد اپنی بانہیں حائل کرتے ہوئے اسے خود سے قریب کیا اور کہا
مجھے بہت اچھا لگے گا اگر تم اپنے دل کی باتیں مجھ سے کروں گی یقین مانو میں بہت دھیان سے سنو گا کیونکہ مجھے تمہیں دیکھنا اور سننا بہت اچھا لگتا ہے…..
زریاب کے جواب پر ماہ نور کے اندر موجود گھٹن میں کافی کمی واقعی ہوئی اور اسے اپنا آپ ہلکا ہوتا ہوا محسوس ہوا.
اس رات ماہ نور نے زریاب کو اپنی اسد کے ساتھ پہلی ملاقات سے لے کر بارات والے دن تک ساری باتیں بتائیں جسے زریاب نے بہت غور سے سنا اور مختلف جگہوں پر کبھی خوشی اور کبھی دکھ کا اظہار بھی کیا.جوکہ ماہ نور کے لیے انتہائی حیران کن بات تھی. جبکہ زریاب بہت خوش تھا کہ ماہ نور نے اس سے اپنےدل کی باتیں کیں.
اس رات ماہ نور بہت عرصے بعد سکون سے سوئی کیونکہ اسے سب سے زیادہ اسد کا دکھ تھا اور یہ دکھ کوئی سننے کو تیار نہ تھا آج زریاب نے سب کچھ سن کر اسے ہلکا کر دیا تھا جس کے لیے وہ دل سے زریاب کی شکرگزار تھی پر اس کی انا یہ بات گوارا نہیں کر رہی تھی کہ وہ زریاب کا شکریہ بولے….
زریاب جب کمرے میں آیا تو ماہ نور کو سکون سے سوتے دیکھا زریاب دبے قدموں سے چلتا ہوا ماہ نور کے پہلو میں آ بیٹھا اور ماہ نور کو دیکھتے ہوئے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا…
تمہں کیا لگتا تھا کہ میں تمہیں ڈانٹوں گا ….؟؟؟ پاگل لڑکی میں مُردوں سے جیلس نہیں ہوتا اور اگر اسد زندہ بھی ہوتا تب بھی مجھے کچھ فرق نہیں پڑتا تھا کیونکہ تم میری ہو میرے لیے اتنا کافی ہے مجھے امید ہے آج کے بعد تم خود بھی اسد کا ذکر نہیں کرو گی کیونکہ تمہارے دل میں جو کچھ بھی تھا وہ تم نے شئیر کر لیا ہے اور بہت جلد وہ دن آئے گا جب تمہارے دل ودماغ میں صرف ایک نام ہو گا اور وہ میرا نام”سردار زریاب علی خان” کا ہو گا…….
یہ منزلیںیہ راستے
میری ہر دعا_
تیرے واسطے!
یہ سکوناور یہ قرار بھی
میرا مان_
تیرے واسطے!!
کبھی غم
نہ تیرے قریب ہو
تجھے
ہر خوشی نصیب ہو!
میری التجا_ تیرے واسطے
میری ہر دعا___
تیرے واسطے
ماہ نور نے فجر کی نماز پڑھی اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے سب سے پہلے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے اسے جہنم کی زندگی سے نکال کر جنت جیسی زندگی دی پھر اسد کے لیے دعا کی اور آخر میں نظر بیڈ پر سوئے زریاب پر پڑی کافی دیر خاموش رہنے کے بعد زندگی میں پہلی دفعہ ماہ نور نے پورے ہوش و حواس میں زریاب کے لیے دعا مانگی اور پھر خود ہی مسکرانے لگی…..
سردار زریاب علی خان میں اب گاؤں نہیں جانا چاہتی بلکہ میں اب تمہارے ساتھ رہنا چاہتی ہوں ہمیشہ کے لیے…….
ﺍﻧﺴﺎﻥ ﭨﮭﻮﮐﺮ ﮐﮭﺎﺋﮯ ﺑﻐﯿﺮ , ﺯﺧﻢ ﮐﮭﺎﺋﮯ ﺑﻐﯿﺮ , ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺟﻼﺋﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺑﺎﺕ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﺘﺎ۔ ﭘﮩﻠﯽ
ﺩﻓﻌﮧ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﮞ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺘﺎ؟ ﭘﮩﻠﮯ ﺣﮑﻢ ﭘﮧ ﺳﺮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﮭﮑﺎﺗﺎ؟ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺁﺧﺮ ﻣﻨﮧ ﮐﮯ ﺑﻞ ﮔﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﻧﮯ ﮐﮧ ﺑﻌﺪ ﮨﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﯿﻮﮞ ﺳﻤﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ؟؟
………………………….
نرمین تم ایک نافرمان بیوی ہو….؟؟ شوہر کے بہت زیادہ حقوق ہوتے ہیں اور تم میری صرف ایک بات نہیں مان رہیں.
حنین پچھلے آدھے گھنٹے سے نرمین کا سر چاٹ رہا تھا کہ وہ اپنی سلامیوں کے پیسے حنین کو دے….
تمہیں شرم نہیں آتی مجھ سے پیسے مانگتے ہوئے…
نرمین کو اب سچ مچ حنین پر غصہ آنے لگا تھا.
دیکھو بیوی سمیت اس کی ہر چیز پر شوہر کا حق ہوتا ہے اور تم میری بیوی ہو اس لیے میرا تمہارے پیسوں پر پورا پورا حق ہے…..
حنین نے اپنی دلیل پیش کی جو کہ کافی مضبوط تھی ویسے بھی نرمین حنین کا مقابلہ باتوں میں تو بلکل نہیں کر سکتی تھی.
اچھا ٹھیک ہے لے لو پیسےمگر تم ان پیسوں کا کرو گے کیا..؟؟؟
نرمین نے ہار مانتے ہوئے سوال کیا
تم پیسے لے کر نیچے آؤ، میں باہر گاڑی میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں پھر خود دیکھ لینا کہ میں نے ان پیسوں کا کیا کرنا ہے…
حنین نے خوش ہوتے ہوئے جواب دیا
تم ابھی بھی باہر کھڑے ہو…؟؟؟
حنین اب تو اندر آ جایا کرو ہماری کالونی والے کیا کہیں گے..؟؟ کیسا چھچھورا داماد ہے احمد مراد کا….
نرمین نے حیران ہوتے ہوئے جواب دیا.
اچھا زیادہ بھاشن نہیں دو اور جلدی سے نیچے آ جاؤ….
حنین نے گاڑی ایک جیولری شاپ پاس روکی نرمین اور وہ دونوں شاپ کے اندر ہوئے..
نرمین جیولری دیکھنے لگی جبکہ حنین نے payment کر کے ایک چھوٹی سی سرخ مخملی ڈبیہ شاپر میں ڈالی
چلو نرمین …..
حنین کہتا ہوا گاڑی میں آکر بیٹھ گیا جبکہ نرمین حیران پریشان سے اس کے پیچھے چلتی ہوئی گاڑی میں آ کربیٹھ گئی….
مجھے ساتھ لانے کا مقصد…؟؟؟
نرمین نے پھولے ہوئے منہ سے پوچھا
نرمین تم عام لڑکیوں کی طرحناراض ہو کر منہ پھلاتی ہوئی بلکل بھی اچھی نہیں لگتی….
حنین نے مسکرا کر نرمین کو جواب دیا
یہ میری بات کا جواب نہیں ہے…
نرمین نے حنین کو گھورتے ہوئے کہا
اچھا نااااااا صبر کرو ابھی ہم زریاب کے فلیٹ پر جا رہے ہیں پھر اس بارے میں بات کرتے ہیں….
حنین نے آنکھیں گھما کر نرمین کے پھولے ہوئے چہرے کو دیکھا