Hichkiyan Muhabbat Ki Season 1 By Amna Mehmood Readelle50146 Last Episode Pt.3
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode Pt.3
دبیر آج بے حد خوش تھا اسے ایک ساتھ ساری خوشیاں مل گئیں تھیں وہ جلد از جلد گھر پہنچ کر اماں بی کو سب بتانا چاہتا تھا مگر کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آپ خوشیوں کے بہت قریب ہوتے ہیں یا یوں کہا جائے خوشیاں تو ساری مل جاتیں ہیں مگر وقت ختم ہو جاتا ہے.
دبیر اپنی دھن میں گاڑی چلا رہا تھا جب سامنے سے آتے ڈمپر سے ٹکرا گیا……..
اس وقت ہسپتال کے کوریڈور میں تقریباً سب افراد ہی موجود تھے مگر اب رشتوں کی نوعیت بدل گئی تھی.
حنین تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا زریاب پاس پہنچا……
تم دونوں نے ٹھیکہ لے رکھا ہے مجھے اتنی سی عمر میں رلانے اور پریشان کرنے کا…..
مجھے پتہ ہے تم دونوں مجھ سے جیلس ہوتے ہو تم چاہتے ہو کہ میں رو رو کہہ جلدی سے بوڑھا ہو جاؤں…..
حنین ٹینشن میں کیا بول رہا تھا اسے خود بھی خبر نہیں تھی ہاں البتہ آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو صاف دکھائی دے رہے تھے.
اس سے پہلے زریاب کچھ جواب دیتا حنین کو رائحہ آتی ہوئی نظر آئی.
حنین نے اس کے قریب جا کر پوچھا styloo دبیر کیسا ہے…؟؟؟؟
شکر کرو کہ وہ بلکل ٹھیک ہے بس زرا پاؤں پر زیادہ چوٹ لگی ہے. تھوڑی دیر میں تم مل سکتے ہو….
رائحہ اس وقت جلدی میں تھی اس لیے یہ نہ پوچھ سکی کہ styloo کون ہے..؟؟؟؟
زریاب اور حنین اس وقت دبیر کے کمرے میں موجود تھے جبکہ باقی کے لوگ اسے مل کر جا چکے تھے.
ویسے جناب کو ایسی کون سی خوشی چڑھی تھی کہ مرنے لگے تھے وہ سیانے کہتے ہیں نا کہ
“خوشی سے مر نہ جاؤں کہیں…..”
حنین نے دبیر کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا
یار پتہ ہی نہیں چلا بس اچانک سے ڈمپر سامنے آگیا میں نے بچانے کی کافی کوشش کی مگر پھر بھی گاڑی سائیڈ سے لگ گئی…
دبیر نے ایکسیڈنٹ کی تفصیل بتائی…
یار پتہ ہی نہیں چلتا اور تو اوپر چلا جاتا ہماری تو خیر ہےstyloo بیچاری بیوہ ہو جاتی…
حنین کے آخری الفاظ کے ساتھ ہی رائحہ کمرے میں داخل ہوئی.
آپ لوگ اب جائیں مریض کو آرام کرنے دیں اور یہ styloo کون ہے میں نے آگے بھی آپ کے منہ سے یہ لفظ سنا ہے…؟؟؟
رائحہ نے تینوں کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
دبیر اور زریاب حنین کو دیکھ کر مسکرانے لگے اور حنین چھت پر لگی لائیٹیں گننے لگا جیسے وہ وہاں موجود ہی نہ ہو….
میں نے آپ سے پوچھا ہے مسٹر حنین کیا آپ کچھ دیر میری بات سن سکتے ہیں…؟؟؟
رائحہ کہتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی.
یار تم دونوں کی بیگمات کیا چیزیں ہیں مجھے تو توپ کے منہ پر رکھتی ہیں قسم سے کوئی معصوم لڑکی نہیں ملی تم دونوں کو…..
اب سو جھوٹ بول کر سیٹ کرنا پڑے گا….
حنین بڑبڑاتا ہوا باہر کی طرف جانے لگا جب دبیر اور زریاب کی آواز کانوں میں پڑی.
ہر لڑکی نرمین نہیں ہوتی..؟؟؟
…………….
کوریڈور میں اماں بی اور عترت دبیر سے مل کر واپس جا رہیں تھیں جب اماں بی کی نظر سبطین بخاری پر پڑی وہ دونوں آمنے سامنے تھے کچھ دیر ایک دوسرے کو دیکھنے کے بعد آگے بڑھنے لگے جب اماں بی نے پکارا.
چھوٹے ہمیں معاف نہیں کرو گے ہم بہت اکیلے ہو گئے ہیں …؟؟؟؟
اماں ابا اور عابد صاحب کے جانے کے بعد ہم نے تمہیں شدت سے یاد کیا دبیر نے تمہیں بہت تلاش کیا مگر……
اتنا کہہ کر اماں بی رونے لگیں جبکہ عترت حیران سی سبطین بخاری کو دیکھ رہی تھی.
کونین نے سبطین صاحب سے کہا
بابا معاف کر دیں پھپھو جان کو……
کونین کے پھپھو کہنے پر عترت نے حیرت سے اسے دیکھا
اماں بی کو سبطین نے گلے لگا لیا وہ دونوں ہی رونے لگے اور کونین نے عترت کو حیران پریشان سا دیکھا تو مسکرا کر مخاطب کیا..
ڈئیر کزن میں آپ کا ماموں زاد ہوں وہ بھی سگے والا…..
دبیر ایک ہفتہ ہسپتال داخل رہا اس کے بعد گھر شفٹ ہو گیا دبیر کے پاؤں میں چوٹ کی وجہ سے چلنے میں دشواری تھی باقی زخم معمولی تھے جلد ٹھیک ہو گئے.
دبیر کے بھر پور اصرار پر سبطین بخاری کی پوری فیملی دبیر لوگوں کے گھر تو شفٹ نہیں ہوئی لیکن ان کے سامنے والے بینگلور میں شفٹ ہوگئی جو دبیر نے انھیں یہ کہہ کر خرید کر دیا کہ جائیداد میں آپ کا جو حصہ ہے وہ اب آپ خود سمبھالے یا کونین کو دیں مگر مجھ سے لے لیں.
اس طرح آپ پر میرا کوئی احسان نہیں ہے بلکہ یہ آپ کا حق ہے……
……………….
حنین کے یپرز بھی کسی لطیفے سے کم نہ تھے. ساری کلاس حنین کا ساتھ دیتی نرمین کیونکہ Phd کی سٹوڈنٹ تھی اس لیے اسے کمرہ امتحان میں دوسرے سٹوڈنٹ ساتھ نگران مقرر کیا گیا جس کا حنین کے ساتھ ساتھ باقی نکمے سٹوڈنٹس نے بھی خوب فائدہ اٹھایا …..
سو سو دفعہ وہ ایک بات حنین کو بتاتی مگر حنین پھر بھی سر نفی میں ہلا رہا ہوتا
کمرہ امتحان ،کمرہ امتحان کم اور ایک مچھلی منڈی کا نقشہ زیادہ پیش کر رہا ہوتا جیسے ہی چیکنگ والے آتے یوں سناٹا چھا جاتا جیسے کوئی موجود نہ ہو.
اللہ اللہ کر کے حنین کے یپرز ختم ہوئے تو نرمین نے سکھ کا سانس لیا جبکہ حنین اداس ہو گیا حنین کو اداس ہوتا دیکھ کر نرمین نے پوچھا…..
اب کیا ہوا ہے تمہیں…..؟؟؟؟
یار میں اب اس یونی سے چلا جاؤں گا قسم سے یہ سوچ کر میرے دل کو کچھ ہو رہا ہے میں بہت مس کروں گا سب کو……
حنین واقعی ہی سیریس تھا.
…………………..
عترت کا کونین سے اور ہالہ کا دبیر سے رشتہ طے پایا دونوں کپل ہی بہت خوش تھے.🥳🥳
آج حنین کی بارات تھی اس نے مہرون اور گولڈن شیروانی پہنی تھی جبکہ نرمین کا ڈریس بھی بلکل حنین کے کلر کا تھا اور اس کا انتخاب حنین نے خود کیا تھا.
رخصتی کے بعد جب نرمین نے اپنے اور حنین کے مشترکہ کمرے میں قدم رکھا تو حیران رہ گئی وہاں کسی قسم کی کوئی سجاوٹ نہیں تھی کمرہ بلکل اپنی عام حالت میں تھا جسے دیکھ کر نرمین کو دکھ لگا مگر اس نے ظاہر نہیں کیا…..
غزالہ بیگم نے نرمین کو بہت پیار سے بیڈ پر بیٹھایا اور کہا
ہمیں حنین نے کمرہ سجانے نہیں دیا تمہیں تو معلوم ہے وہ اپنی بات منوا کر چھوڑتا ہے اگر ہم سارا گھر سجا سکتے ہیں تو کمرہ کیوں نہیں….؟؟؟؟
اتنی دیر میں حنین موبائل پر بات کرتا ہوا کمرے میں داخل ہوا اور مسکراتے ہوئے غزالہ بیگم اور نرمین کے درمیان آ کر بیٹھ گیا.
موم میک اپ میں آپ کی بہو بہت پیاری لگ رہی ہے ……
حنین کی شرارت سمجھ کر نرمین اور غزالہ بیگم ہنسنے لگیں.
میری بیٹی بغیر میک اپ کے بھی مجھے بہت پیاری لگتی ہے….
غزالہ بیگم نے نرمین کی طرف محبت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا
مام یہ غلط بات ہے صرف میں آپ کا بیٹا ہوں اور کوئی بیٹی نہیں آپ کی….
یہ بہو ہے اسے بہو ہی سمجھیں ہمارے ہاں اسی لیے گھر خراب ہوتے ہیں کہ ہم ایک دوسرے سے غلط امیدیں رکھتے ہیں یہ بہو ہے اور ساری زندگی بہو ہی رہے گی میں بیٹا ہوں اور ساری زندگی بیٹا ہی رہوں گا. سمجھی آپ…….
چلیں اب آپ جائیں اور ملک صاحب کی بات سن لیں وہ آپ کو پورے گھر میں تلاش کر رہے ہیں ایک تو آپ نے ان پر پتہ نہیں کونسا جادو کیا ہوا ہے ہر وقت آپ کے پیچھے پھرتے رہتے ہیں.ویس بھی کباب میں ہڈی بننا بری بات ہوتی ہے.
حنین نے آنکھ مارتے ہوئے اپنے موبائل پر میسج چیک کیا.جبکہ غزالہ بیگم ڈھیروں دعائیں دیتی وہاں سے چلی گئیں.
غزالہ بیگم کے جاتے ہی حنین نے جلدی سے روم لاک کیا اور دراز سے کچھ پیپرز نکال کر نرمین کے آگے رکھے…
یار نرمین مجھے کہیں جانا ہے تم پلیززز یہ پیپرز فل کر دو تمہیں تو ایسے فارم فل کرنے میں مہارت ہے اور پن نرمین نے ہاتھ میں دیا.
ویسے بہت افسوس کی بات ہے نہ تم نے مجھے منہ دکھائی دی اور نہ ہی میرا کمرہ سجایا تمہیں زرا خوشی نہیں میرے آنے کی….
نرمین نے پیپرز اور پن لیتے ہوئے گلہ کیا
یار منہ دیکھائی اسے دیتے ہیں جسے کبھی دیکھا نہ ہو اور میں تمہیں ہر حال میں پچھلے چھ سال سے دیکھ رہا ہوں اس لیے منہ دیکھائی نہیں بنتی.دوسرا مجھے مزاروں کی طرح کمرہ سجا ہوا بلکل پسند نہیں ایسا لگتا ہے بندہ قبر میں سو رہا ہے جس پر رنگ بھرنگی جھنڈیاں لٹک رہی ہوں……
حنین نے ڈرانے والے انداز میں نرمین کو جواب دیا جس پر وہ جھرجھری لے کر رہ گئی
اچھا سنو میں ٹیرس کے راستے باہر جا رہا ہوں کیونکہ گیٹ سے مام جانے نہیں دیں گی تم چینج کر کے سو جاؤ میں کچھ دیر تک آتا ہوں.
حنین یہ کہہ کر واشروم کپڑے بدلنے چلا گیا جبکہ نرمین حیران پریشان سی اسے دیکھنے لگی.
شادی کی پہلی رات عجیب ہو گی اسے اندازہ تھا مگر اتنی عجیب یہ اندازہ نہیں تھا.
نرمین نے فام فل کر کے کپڑے چینج کیے اور نائٹ بلب جلا کر سو گئی.
