Hichkiyan Muhabbat Ki Season 1 By Amna Mehmood Readelle50146 Episode 30 Pt.2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 30 Pt.2
ماہ نور ابھی الاؤنچ میں بیٹھی انھی سوچوں میں گم تھی جب فلیٹ کی بل بجی…..
کون…؟؟؟ ماہ نور نے قریب جا کر پوچھا
حنین ملک زریاب کا دوست ویسے آج سے پہلے مجھے اس فلیٹ میں آنے کے لیے کبھی اپنا تعارف نہیں کروانا پڑا…..
حنین نے ناگواری سے جواب دیا
زریاب اس وقت واش روم میں تھا ماہ نور نے حنین کا نام کافی دفعہ سنا ہوا تھا اس لیے دروازہ کھول دیا
دوپٹے میں لپٹا ہوا صاف شفاف معصوم چہرہ اور پاکیزہ آنکھیں …..
حنین نے آج تک ماہ نور نہیں دیکھی تھی مگر یہ لڑکی جو اس وقت اس کے سامنے کھڑی تھی اسے کہیں سے بھی زریاب کی “بتمیز پیرنی “نہیں لگی اور یہ آج کے دن کا پہلا جھٹکا تھا اس نے “پیرنی ” کا عجیب سا نقشہ ذہن میں بنا رکھا تھا مگر ماہ نور دیکھنے میں اس کے ذاتی نقشہ سے بلکل الٹ تھی.
یہ ناشتہ ہے ….
حنین نے کچھ بیگز ماہ نور کی طرف بڑھا دیے جبکہ ماہ نور نے انھیں پکڑنے کی بجائے بہت پیار اور نرمی سے کہا
“چھوٹے بھائی”اپ اندر آجائیں.
اور دروازہ سے ہٹ کر راستہ دے دیا.
“چھوٹے بھائی” حنین زیرِ لب بڑبڑاتا ہوا اندر داخل ہوا (کچن میں سامان رکھا اور الاؤنچ میں پڑے صوفے پر سر جھکا کر بیٹھ گیا) یہ حنین کے لیے دوسرا جھٹکا تھا.
یہ سچ تھا کہ وہ کبھی کسی کو بہن نہیں بناتا تھا مگر یہ بھی سچ تھا کہ کبھی کسی لڑکی نے اسے بھائی نہیں بنایا تھا سوائے عترت کے……حنین عترت کو اپنی بہن نہیں مانتا تھا مگر وہ حقیقت میں اسے بہن ہی سمجھتا تھا.
حنین کو یوں بیٹھا دیکھ کر ماہ نور نے ہوچھا
“چھوٹے بھائی” آپ ناشتہ کر کے آئیں ہیں یا زریاب ساتھ کریں گے…؟؟؟؟
میں ناشتہ کر کے آیا ہوں یہ موم نے آپ لوگوں کے لیے بھجوایا ہے
ماہ نور کی طرف دیکھنے کی حنین میں ہمت نہیں تھی وہ نظریں جھکا کر اپنے جوتے دیکھ رہا تھا پہلی بار بولتی بند ہوئی تھی اور اس کی وجہ کچھ اور نہیں بلکہ صرف ایک لفظ”چھوٹے بھائی”تھا
حنین نے آج تک اپنے لیے بےشمار الفاظ سنے تھے مگر کبھی کسی نے اتنے پیار سے اسے “چھوٹے بھائی “نہیں کہا تھا.
ماہ نور نے کمرے میں آ کر زریاب سے کہا
باہر حنین صاحب آئے ہیں اندر بھیج دوں یا تم باہر آؤ گے..؟؟
حنین اور اتنی خاموشی وہ ہوتا تو اب تک پورے گھر کا چکر لگا چکا ہوتادبیر ہو گا ..؟؟؟
زریاب نے جواب دیا
پتہ نہیں مجھے تو یہی سمجھ آئی ہے ماہ نور دروازے سے کہتی پلتی اور حنین کو مخاطب کر کہا
آپ اندر چلے جائیں. حنین جو ابھی تک اس ایک لفظ میں اٹکا ہوا تھا اٹھا اور کمرے کی طرف بڑھ گیا.اندر داخل یوتے ہی حنین زریاب پر برس پڑا……
زلیل، کمینے انسان تجھے زرا شرم نہیں آتی کسی معصوم کو بدنام کرتے ہوئے
اور ڈریسنگ ٹیبل پر پڑے ہوئے سارے پھولوں کو دو ہاتھوں میں بھر بھر کر زریاب کہ منہ پر مارنے لگا.
کس کو بدنام کیا ہے میں نے…؟؟؟
زریاب نے اپنے بازو کو آگے کرتے ہوئے پوچھا
دل تو کرتا ہے کوئی سخت چیز تجھے ماروں مگر تیری حالت کو دیکھتے ہوئے پھول مار رہا ہوں.
حنین ڈریسنگ ٹیبل کے پھول پتیاں زریاب کو مارنے کے بعد خود ڈریسنگ کے اوپر بیٹھ گیا
میری موم کے بعد کسی نے آج پہلی بار مجھے اتنے پیار سے بلایا ہے سچی میں تجھے بتا نہیں سکتا مجھے کیسا لگا…؟؟؟
حنین نے اپنی گول مٹول آنکھیں ٹمٹماتے ہوئے زریاب سے کہا
مجھے تیری باتیں سمجھ نہیں آ رہیں …؟؟ کس کی بات کر رہا ہے..؟؟؟
زریاب نے الجھ کر حنین کو دیکھا
تیری بیگم کی بات کر رہا ہوں کتنی اچھی ہے قسم سے…
حنین نے ڈریسنگ سے سیدھے زریاب کے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا
جبکہ زریاب کا حیرت سے منہ کھل گیا
آج سے پہلے مجھے اس فلیٹ ہر اتنی عزت نہیں ملی جتنی اس نے دی ہے مجھے بیٹھایا کھانے پینے کو پوچھا وہ بھی اتنی عزت اور تمیزززز سے…..
حنین کو رہ رہ کر ماہ نور کا رویہ یاد آ رہا تھا
وہ صرف مجھے ہی کوستی ہے باقی ساری دنیا کے لیے بہت اچھی ہے
زریاب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
اچھا کرتی ہے تو اسی قابل ہے
حنین نے فوراً زریاب کی بات کاٹی
یار تو اتنا “لوٹا” ثابت ہو گا میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کل تک تو تیری ساری ہمدردیاں میری طرف تھی مگر اب..؟؟؟(لیکن اصل میں اسے بہت خوشی ہو رہی تھی ماہ نور کی تعریف حنین کے منہ سےسن کر)
بس آج سے میں نے اپنی پارٹی بدل لی ہے….
حنین نے ہنستے ہوئے کہا
اچھا بتا اس وقت تو کیسے آیا ہے ؟؟؟
زریاب نے حنین سے پوچھا
ناشتہ لایا ہوں تیرے لیے بجائے یہ کہ تو میرا احسان مند ہو اوپر سے پوچھ رہا ہے کیوں آیا ہوں…؟؟؟
حنین نے منہ بنایا
ناشتہ اور اس وقت…..زریاب نے گھڑی کی طرف دیکھا جہاں دن کے گیارہ بج رہے تھے.
زیادہ گھڑی دیکھنے کی ضرورت نہیں میں نے صبح فون کیا تھا مگر تو سو رہا تھا اس لیے نہیں آیا کہ تو کہیں ڈسٹرب نہ ہو اور الٹا تو مجھے پر ناراض ہو رہا ہے.
حنین نے زریاب کو گھڑی دیکھتے ہوئے دیکھ کر کہا
اچھا ٹھیک ہے دن میں کھانا سمجھ کر کھا لوں گا
زریاب نے مسکرا کر جواب دیا
چلتا ہوں زرا دبیر کی بھی خبر لوں شام میں پھر چکر لگاؤں گا.
حنین کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا زریاب سے ہاتھ ملاتے
ہوئے دروازے کی طرف بڑھ گیا مگر دروازہ کھول کر رکا اور پیچھے مڑ کر زریاب سے کہا
“ویسے تیرا رن مرید ہونا بنتا ہے”
اور دروازہ بند کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا
جبکہ زریاب، حنین کی بات سمجھ کر مسکرانے لگا.
ماہ نور کچن میں تھی جب حنین نے کچن کے دروازے میں آ کر کہا
میں آپ کو کیا کہہ کر بلاؤں…؟؟؟
جو مرضی کہہ لیں ویسے تم میرے لیے بلکل افراسیاب جیسے ہو وہ مجھے آپا کہتا ہے …..
ماہ نور نے مسکراتے ہوئے سوپ پیالوں میں ڈالا
چلیں ٹھیک ہے آج سے میں بھی آپ کو آپا ہی کہوں گا…..
حنین نے کچن کے اندر آتے ہوئے جواب دیا
چلو اب خود بھی پیو اور اپنے دوست کو بھی یہ سوپ پلاتے جاؤ….
ماہ نور نے سوپ والی ٹرے حنین کی طرف کرتے ہوئے کہا
ٹھیک ہے ویسے آپا مجھے تمہارا میاں پسند نہیں….
حنین نے ٹرے لیتے ہوئے سرگوشی میں ماہ نور سے کہا
اور مجھے بھی…..ماہ نور نے بھی اسی لہجے میں جواب دیا اور دونوں ہنسنے لگے
……………….
عترت اپنے کمرے میں خاموشی سے لیٹی ہوئی تھی اس دن کے بعد سے وہ یونی نہیں گئی تھی اب وہ سارا دن اپنے کمرے میں ہی رہتی تھی ابھی بھی وہ چپ چاپ کمرے میں لیٹی کونین کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ پتہ نہیں وہ مجھے مس بھی کرتا ہو گا کہ نہیں……..؟؟؟؟
دبیر جو آفس کے لیے نکل رہا تھا عترت کے کمرے کا بند دروازہ دیکھ کر کچھ دیر رکا اور پھر دستک دے کر اندر آ گیا
گڑیا کیا ہو رہا ہے…؟؟؟؟؟
دبیر نے اندر آتے ہی پیار سے عترت کو کہا
عترت جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گئی.
کچھ نہیں بھائی بس ویسے ہی …..
عترت کو اس وقت دبیر کے آنے کی امید نہیں تھی اس لیے بوکھلا گئی
دیکھو بیٹا تم میری جان ہو اور اپنی جان پر کوئی بھی شخص کوئی کمپرومائز نہیں کرتا مگر میں تمہیں دکھی نہیں دیکھ سکتا اس لیے تمہارے مسئلہ کا میرے پاس ایک حل ہے اگر کونین تم سے سچی محبت کرتا ہے تو وہ تمہارے لیے ہر حد سے گزر سکتا ہے اس لیے تم اسے فون کر کہ کہوں کہ اگر وہ میری دو شرطیں مان لے تو میں خوشی خوشی تمہاری شادی اس سے کر دوں گا.
دبیر نے عترت کا ہاتھ پیار سے پکڑتے ہوئے کہا
کیسی شرطیں …؟؟؟ عترت نے حیرانگی سے پوچھا
پھر دبیر نے کچھ سوچ کر رائحہ والی دونوں شرطیں اسے بتا دیں
جبکہ شرطیں سن کر عترت ہکا بکا رہ گئی اور صرف اتنا ہی کہہ سکی…
بھائی آپ تو وٹے سٹے کے خلاف تھے
گڑیا میں وٹے سٹے کے خلاف ” تھا “نہیں “ہوں “مگر اپنی جان کے لیے کسی قسم کا رزق لینا نہیں چاہتا.تم کونین سے بات کر کے مجھے بتاؤ ٹھیک ہے پھر دیکھتے ہیں کہ کیا کرنا ہے…..
دبیر عترت کاہاتھ تھپتھپا کر اٹھ کھڑا ہوا اور جانے لگا
بھائی وہ مجھ سے محبت نہیں کرتا تو شرطیں کیوں مانے گا….؟؟؟
عترت نے نم آواز میں جواب دیا یہ سنتے ہی دبیر کا سر اور پاؤں دونوں ہی اپنی جگہ پر گھوم گئے.
کیا کہا تم نے..؟؟ وہ تم سے محبت نہین کرتا..؟؟؟
دبیر نے شاکڈ حالت میں عترت کے پاس دوبارہ بیٹھتے ہوئے پوچھا
عترت دبیر ساتھ لگ کر رونے لگی بھائی مجھے وہ بہت اچھا لگتا ہے اس نے دو دفعہ میری عزت بھی بچائی ہے مگر اب وہ یونی سے جا رہا ہے میں کیسے اس کے بغیر یونی میں رہوں گی..؟؟
پھر آہستہ آہستہ روتے ہوئے عترت نے دبیر کو کونین کے بارے میں سب سچ سچ بتا دیا
تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ تمہیں کوئی تنگ کرتا ہے..؟؟؟
دبیر نے چپ کراتے ہوئے کہا
بھائی وہ ایک گروپ ہے مجھے ڈر لگتا ہے میں اب یونی نہیں جاؤں گی مگر مجھے کونین چاہیے….
عترت نے دبیر سے کونین کو ایسے مانگا جیسے وہ بازار میں پڑی کوئی چیز ہو اور دبیر اسے خرید کر لا دے
اچھا تم چپ کرو میں کرتا ہوں کچھ……
دبیر عترت کو چپ کرا کر آفس کے لیے نکل پڑا مگر گاڑی چلاتے ہوئے مسلسل عترت کے بارے میں سوچ رہا تھا پھر اپنا موبائل پکڑ کر حنین کو کال کی جو اس وقت زریاب ساتھ بیٹھا سوپ پی رہا تھا
جی حکم…حنین نے کال اٹینڈ کرتے ہوئے کہا
حنین تو جلدی سے کونین کو لے کر میرے آفس آ جتنی جلدی ہو سکے اور کال بند کر دی
حنین کال سن کر پریشان ہو گیا
………..
