Hichkiyan Muhabbat Ki Season 1 By Amna Mehmood Readelle50146 Episode 9 Pt.2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 9 Pt.2
زریاب اپنے فلیٹ کی بالکنی میں کھڑا دونوں ہاتھ ریلنگ پر رکھے ایک گھر کو گھور رہا تھا.کیونکہ اس گھر پر شادی کی لائیٹنگ لگی ہوئی تھیں.اور دیکھتے دیکھتے زریاب ماضی میں پہنچ گیا.
(زریاب کا ماضی)
سردار حشمت علی خان زریاب سے بہت پیار کرتے تھے.ان کا اپنا کوئی بیٹا نہ تھا.اور وہ پہلا بیٹا تھا اس خاندان کا..اسے گھر کے ہر فیصلے میں اہمیت دی جاتی بلکہ یوں کہنا درست ہو گا کہ جو وہ کہتا وہی ہوتا..
زریاب اپنی گاڑی میں پیپرز سے فارغ ہو کر حویلی پہنچا تو حویلی کو دیکھ کر اس کے ہوش اڑ گئے…
پوری حویلی کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا.حویلی میں خوب گہما گہمی تھی مگر اس سب کی وجہ زریاب کو سمجھ نہیں آ رہی تھی…
وہ جیسے ہی سردار دلاور علی کے کمرے میں داخل ہوا تو سامنے تایا حشمت کو بھی پایا دونوں سے ملنے کے بعد اس نے حویلی کی سجاوٹ کے بارے میں سوال کیا
یہ سب کیا ہو رہا ہے بابا سائین…؟؟
بیٹا دو دن بعد ماہ نور کی شادی ہے.ساتھ ہی انھوں نے تمام تفصیل بتا دی جسے سنتےہی زریاب ہتھے سے اکھڑ گیا.اتنا سب کچھ حویلی میں ہوا اور آپ لوگوں نے مجھے بتانا بھی پسند نہیں کیا؟؟
میرے بغیر ہی نکاح بھی کر دیا.شادی کا بھی نہ بتاتے میں واپس شہر جا رہا ہوں.زریاب ناراضگی سے کہتا ہوا دروازے کی طرف بڑھا.
مگر سردار حشمت علی خان نے اسے بازؤں سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کیا.
بیٹا سائیں آپ کی پڑھائی کے خیال سے نہیں بتایا تھا.تم اس گھر کے چراغ ہو ایسا کبھی مت سوچنا کہ ہم لوگ تمہیں اہمیت نہیں دیتےصرف تمہیں ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتے تھے.زریاب تایا کو کچھ کہہ نہیں سکتا تھا اس لیے چپ ہو گیا.مگر اب سارا غصہ ماہ نور پر نکلنا تھا
زریاب کا ہم عمر بھی گھر میں کوئی نہین تھا ماہ نور اس ساتھ کھیلتی نہین تھی.زریاب کو بچپن سے ہی ماہ نور کو تنگ کرنے کا مزا آتا.وہ کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتا جب چھوٹی تھی تو پٹائی بھی کر دیتا.ماہ نور اسے کچھ کہہ نہیں سکتی کیونکہ سردار حشمت علی خان زریاب کو کچھ کہنے نہیں دیتے تھے.ماہ نور نے میٹرک کے بعد آگے پڑھنے کی خواہش ظاہر کی شاید گھر والے مان بھی جاتے مگر زریاب نے یہ کہہ کر ماہ نور کو کالج میں داخلہ نہیں لینے دیا کہ میں شہر میں رہتا ہوں مجھے معلوم ہے کالج میں کیا کچھ ہوتا ہے کالج میں جا کر لڑکیاں خراب ہو جاتیں ہیں.
سرداد حشمت علی خان ماہ نور کو زیادہ پسند نہیں کرتے تھے ان کا کہنا تھا کہ یہ بچی منحوس ہے کیونکہ جب سے یہ پیدا ہوئی ہے اس کے بعد سے بیٹیاں ہی پیدا ہوئیں.اور میری نسل رک گئی.جبکہ زریاب قسمت والا ہے اس کے بعد بھی بیٹا پیدا ہوا
زریاب باپ کے کمرے سے نکل کر سیدھا ماہ نور پاس گیا جو بہت زیادہ خوش تھی.اور پیاری بھی لگ رہی تھی.
بہت خوش ہو تم…؟؟؟
مگر یہ خوشی زیادہ دیر تک رہے گی نہیں…
زریاب نے ماہ نور کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
خلاف معمول ماہ نور نے ہنس کر جواب دیا
دیکھو زریاب میں اب اس گھر سے ہمیشہ کے لیے جا رہی ہوں اس لیے میں چاہتی ہوں کہ اب ہم اپنی دشمنی ختم کر دیں.
اچھا…دوستی اور تم سے….کبھی نہیں..
اور ہاں تم یہ بات دل سے نکال دو کہ تم اس گھر سے کہیں جا سکتی ہو…؟؟؟؟
جو لینے آئیں گے وہ لے کر جائیں گے….
ماہ نور نے تپا دینے والے انداز میں کہا
اچھا پھر میں بھی دیکھتا ہوں کیسے لے کر جاتے ہیں؟؟؟ گولی مار دوں گا اسے جو لینے آئے گا تمہیں..
یہ کہتے زریاب وہاں سے چلا گیا مگر ماہ نور کو پریشان کر گیا
زریاب کو ماہ نور سے محبت نہیں تھی اور نہ ہی وہ اس سے شادی کرنا چاہتا تھا اسے بس غصہ تھا کہ گھر والوں نے اس سے مشورہ کیوں نہیں کیا.گھر والوں کو تو کچھ کہہ نہیں سکتا تھا مگر ماہ نور پر اپنا غصہ نکال گیا
زریاب کو یہ غصہ کتنا مہنگا پڑنے والا تھا اس کا اسے اندازہ نہین تھا
ڈور بل کی آواز نے زریاب کو ماضی سے حال میں پہنچایا.
……………………
عترت کے سر میں دو تین دن سے بہت درد تھا اسے اماں بی اور دبیر کے رویے نے بہت دکھ دیا تھا.یونی میں بھی اس کا دل نہیں لگ رہا تھا کچھ دیر گراؤنڈ میں بیٹھ کر وہ اب کینٹین کی طرف گئی کہ کافی پی لیتی ہوں سردی بھی بہت ہے آج مگر….
وہاں جا کر وہ ایک مصیبت میں پھنس گئی ہوا یہ کہ اس وقت کینٹین بلکل خالی تھی اور کچھ آوارہ لڑکے وہاں بیٹھے موبائل پر فلم دیکھ رہے تھے.عترت کاؤنٹر پر کافی کا کہہ کر پلٹی تو وہ لڑکے اس کی طرف دیکھ کر بولنا شروع ہو گئے.پریشانی میں اس کا جسم ہلکا ہلکا کانپنے لگا وہ خودکو کمپوز کرتی جلدی سے کینٹین سے نکل جانا چاہتی تھی. جب ان لڑکوں میں سے ایک نے عترت کا راستہ روک لیا.
آپ یونی میں نئی ہیں؟؟؟
وہ عترت کے قریب ہوتا ہوا بولا
اتنے میں دوسری سائیڈ سے دوسرا لڑکا آگیا
ہم سے دوستی کریں گی؟؟؟
پھر تیسرا
ہم اتنے برے نہیں…
اور سب لڑکے عترت کی زرد ہوتی رنگت سے لطف اندوز ہو رہے تھے اور اسے ڈرا رہے تھے.
عترت تو بیہوش ہونےوالی تھی اگر سے پیچھے سے کوئی آواز نہ دیتا.
کونین کینٹین میں داخل ہوا تو ایک طرف لڑکوں کا شور سنا.یہ تو روز کا معمول تھا مگر جب وہ آڈر کر کے ٹیبل پر بیٹھنے لگا تو اس کی نظر عترت پر پڑی وہ تیزی سے اس طرف بڑھا اور ساتھ میں عترت کو آواز بھی دی.
کونین کی آواز پر عترت کے ساتھ وہ لڑکے بھی پلٹے.
عترت نے ان لڑکوں کے پلٹتے ہی جلدی سے کونین کی طرف قدم بڑھائے اور اس کی جان میں جان آئی.
جی کیا مسئلہ ہے؟؟؟
آپ لوگوں کے ساتھ……..
کونین نے لڑکوں سے مخاطب ہو کر کہا
کچھ نہیں بس ویسے ہی شغل کر رہے تھے اور ساتھ ہی کینٹین سے باہر چلے گئے.
کونین نے عترت کے چہرے کو دیکھا تو اسے بہت دکھ ہوا.آپ یہاں بیٹھیں میں کھانے کے لیے کچھ لاتا ہون.اتنا کہہ کر کونین کاؤنٹر کی طرف بڑھ گیا.جبکہ عترت نے اللہ کا شکر ادا کیا
تھوڑی دیر بعد وہ ہاتھ میں فرنچ فرائز اور دو کافی کے کپ لیے واپس لوٹا
یہ لیں مس عترت کھائیں…
کونین نے دوستانہ لہجے میں کہا
شکریہ……
عترت کے ابھی تک حواس جگہ پر واپس نہیں آئے تھے
آپ ان کو اتنا سیریس مت لیں یونی میں ایسا ہوتا رہتا ہے بس اکیلی مت آیا کریں.ویسے بھی وہ صرف معصوم لڑکیوں کو تنگ کرتے ہیں.خیر چھوڑیں کافی لیں.
جب عترت کافی دیر تک کچھ نہیں بولی تو کونین نے بولنا شروع کیا اسے عترت پر بہت ترس آ رہا تھا
اج بہت سردی ہے..؟؟؟
کونین نے پوچھا
جی وہ تو ہے……..
عترت نے مختصر جواب دیا
آپ آئیں نہیں پھر..؟؟؟
کونین کے سوال پر عترت شرمندہ ہو گئی
وہ بس ……نہیں آ سکی
اس نے جھوٹ بولا
آپ جھوٹ بول رہیں ہیں آپ اتوار کو آئیں تھی.؟؟
جیسے ہی کونین نے کہا عترت نے حیرے سے کونین کو دیکھا
زیادہ حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہےہمارے محلے میں بڑی گاڑی بہت کم آتیں ہیں اور جب بھی آتیں ہیں دھوم مچ جاتی ہے کہ کس کے گھر آئی ہے.
کونین نے ایک فرنچ فرائز منہ میں ڈالتے ہوئے عترت کو دیکھا جس کے چہرے پر واضح حیرت تھی.
ویسے بھی اس وقت میں اور ہالہ بی چھت پر کپڑے پھیلا رہے تھے.اتوار کو ہمارے محلے کے تقریباً ہر گھر میں واشنگ مشین لگی ہوتی ہے کیونکہ سیوریج کا نظام پرانا ہے اس وجہ سے گلیاں گندی ہو جاتیں ہیں کوڑے والے بھی اتوار کو چھٹی کرتے ہیں تو سونے پر سہاگہ ہو جاتا ہے مطلب گند ڈبل پھیلتا ہے.
وہ کچھ دیر رکا اور پھر بولا
گاڑی بڑی تھی آپ کے بھائی ٹھیک ریورس نہیں کر رہے تھے لگتا وہ ایسے علاقے میں پہلی بار آئے تھے.میں اور ہالہ بی چھت سے دیکھ کر لطف اندوز ہو رہے تھے.
بات کے آخر میں کونین نے مسکرا کر عترت کو دیکھا جس کا مطلب اسے شرمندگی سے نکالنا تھا
I am sorry am really sorryyy
عترت نے کونین سے کہا اور نظریں جھکا لیں.
کونین کو وہ سچی لڑکی بہت اچھی لگی کچھ دیر سوچنے کے بعد کونین نے فرنچ فرائز عترت کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
Friendsssss…..??????
عترت نے حیرانگی سے کونین کو دیکھا جس نے تھوڑی دیر پہلے اس کی مدد کی تھی.پھر مسکرا کر ایک فرنچ اٹھا لی
سوری میں لڑکا لڑکی کی دوستی پر یقین نہیں رکھتی.
عترت نے جواب دیا
کونین نے سر سے پاؤں تک عترت کو بغور دیکھا اور پھر کچھ سوچ کر کہا
“رشتہ پر یقین رکھتی ہیں میں آپ سے رشتہ جوڑنا چاہتا ہوں.”
عترت کو تو اپنی سماعتوں پر یقین نہیں ہوا.وہ تو اظہارِمحبت کے بارے میں بھی نہیں سوچ سکتی تھی اور یہ تو ڈاریکٹ پرپوزل تھا.
جب کہ بولنے کے بعد کونین کو بھی احساس ہو گیا تھا کہ کیا بول گیا ہے؟ ؟؟ فرطِ جزبات میں کچھ زیادہ ہی ہو گیا ہے مگر اب پیچھے ہٹنا بےوقوفی ہے کیونکہ تیر کمان سے نکل گیا تھا
……………………
