Hichkiyan Muhabbat Ki Season 1 By Amna Mehmood Readelle50146 Episode 6 Pt.2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 6 Pt.2
ماہ نور صوفے پر سر ٹکائے باہر لان میں برستی بارش کو دیکھ رہی تھی.اس کی آنکھوں میں بھی نمی تھی.وہ بارش دیکھتے دیکھتے دور کہیں ماضی میں کھو گئی
(ماہ نور کا ماضی)
ڈائینگ ٹیبل پر حویلی کے سب افراد ناشتہ کر رہیے تھے جب ڈرتے ڈرتے ماہ نور نے سردار حشمت علی خان سے کہا..
بابا میں آج کھیتوں میں چلی جاؤں کچھ دیر….؟؟؟
اس کی کوئی ضرورت نہیں حویلی میں ہر چیز موجود ہے باہر جا کر کیا کرو گی…؟؟
ماہ نور کی امید کے عین مطابق نہ میں جواب آیا.
اب اس نے اپنے چچا سردار دلاور علی خان کی طرف مدد طلب نظروں سے دیکھا.اس حویلی میں ماہ نور شروع سے جس شخص کی لاڈلی تھی وہ اس کے چچا تھے جو بچپن سے ماہ نور کو بہت پیار کرتے تھے ان کی اپنی بیٹی نہیں تھی وہ ماہ نور کو اپنی بیٹی مانتے تھے.
جانے دیں بھائی صاحب..کونسا روز روز جاتی ہے سرسوں پھولی ہوئی ہے بہار ہے کھیت خوبصورت لگ رہیے ہیں سب بچیاں جا رہی ہین اسے بھی جانے دیں. اور ہماری کونسی کسی سے دشمنی ہے جو جوں ڈر کر اپنے بچے چھپاتے پھریں.
دلاور علی نے ماہ نور کی حسب عادت حمایت کی.
اللہ نہ کرے جو ہماری دشمنی کسی سے ہو…..
اچھا چلی جاؤ پر ساتھ کمدار اور اس کی بیٹی جو عمر میں ماہ نور سے بڑی تھی نوری کو بھی لے جانا.
حشمت علی نے اجازت دیتے ہوئے تنبہی بھی کر دی.
شکریہ بابا جان میں جلدی آ جاؤں گی..
اور پیار سے چچا کو دیکھا
ناشتہ سے فارغ ہو کر سب اپنے اپنے کاموں میں لگ گئے
ماہ نور نے اپنے کمرے میں آتے ہی کپڑے تبدیل کیے.
اس نے سرخ چوڑی پامے کے ساتھ بیلو کلر کی کامدار فراک پہنی ساتھ بلو کلر کا ڈوپتہ جس کے کنارے سرخ کام تھا اچھے سے اوڑھ لیا.اسے تیار ہونے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی خدا نے حسن اسے بے مثال دیا تھا منہ دھو لیتی تو چاند شرماتا.
بقول شاعر
خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آ ہی جاتی ہے
یہ نازنینوں کے بنانے سے نہیں بنتی
کمدار اور نوری کےساتھ وہ کھیتوں میں پہنچ چکی تھی…
ہائے…نوری کتنے اچھے لگ رہے ہیں پیلے پیلے پھول…….
ماہ نور نے خوشی سے کہا
جی بی بی ..ہم تو روز ہی دیکھتے ہیں مجھے تو کچھ خاص نہیں لگتے…….
نوری نے جواب دی.
اچھا تم ادھر ٹہرو….میں کچھ پھول توڑ لاؤں ..؟؟؟
گلدستہ بنائے گے…ماہ نور کہتی ہوئی سڑک سے کھیت میں اتر گئی.
وہ پھول چنتی چنتی کھیتوں میں گھومتی کافی دور نکل گئی.جب اسے اپنے پیچھے کسی کا احساس ہوا.اس نے مڑ کر دیکھا تو ایک خوبصورت نوجوان سفید شلوار قمیض اور پشاوری ٹوپی پہنے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے بڑے غور سے اسے دیکھ رہا تھا.
کون ہو تم..؟؟؟ نوجوان نے جانچتی نظرون سے پوچھا
میں لڑکی ہوں.نظر نہیں آرہا.
ماہ نور نے غصہ سے جواب دیا.آخر سرداروں کی بیٹی تھی ڈرنا تو سیکھا نہین تھا.
اچھا……….میں سمجھا کوئی پری ہے…..؟؟؟حور ہے…؟؟؟؟
نوجوان سے مسکرا کر جواب دیا
پری اور حور …؟؟؟اس وقت….؟؟؟یہاں…؟؟؟؟
وہ تو رات میں ہوتیں ہیں.جو کہانیاں بچپن میں سنی تھیں اس حساب سے ماہ نور نے جواب دیا.
ہاں بلکل …. یہ تو اپنی اپنی نظر ہے….کسی کو رات میں نظر آتیں ہیں ..تو کسی کو دن میں..
نوجوان نے اب دلچسپی سے ماہ نور کو دیکھتے ہوئے جواب دیا اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ گاؤں کی عام لڑکی نہیں ہے.کیونکہ گاؤں والے پوٹھواری زبان بولتے تھے اردو کوئی نہیں بولتا تھا جو بولتا بھی تھا اس کا لہجہ اردو والا نہیں تھا.لیکن ماہ نور شستہ اردو بول رہی تھی جو اردو کی اعلٰی قسم ہے
کس کی بیٹی ہو…؟؟؟؟نوجون نے پوچھا
ماہ نور نے اپنے ڈوپتہ میں بہت سے پھول اکٹھے کر لیے تھے سوال سن کر مڑے بغیر بولی…سردار دلاور علی خان کی…اور ہاتھ کے اشارے سے بتانے لگی یہ سارے کھیت میرے بابا کے ہین.
جس پر نوجوان ہنسا پڑا…..
فلحال تو آپ چوہدریوں کے کھیت میں کھڑی ہیں.وہ جو ٹیوب ویل دیکھ رہیں ہیں اس نے انگلی سے ایک طرف اشارہ کیا.وہاں تک سرداروں کی زمین ہے آگے سے ہماری یعنی میرے بابا چوہدری محمد علی کی ہے.
اوہ…سوری..ماہ نور کو شرمندگی ہوئی.
کوئی بات نہیں.آج سے یہ کھیت بھی آپ کے ہوئے.جب دل چاہے آ جایا کرین.کوئی کچھ نہیں کہے گا.
اور آپ یہ پیلے پھول کیوں چن رہیں ہین یہ تو نفرت کی اور ناراضگی کی نشانی ہوتے ہین…؟؟؟؟
ماہ نور نے اس کی طرف منہ کر کے کہا اپنی اپنی سوچ ہے اسی کے انداز میں جس میں تھوڑی دیر پہلے نوجوان نے کہا تھا.ورنہ میرے نزدیک یہ بہار کی علامت ہین خوشی کی علامت ہیں لوگ مایوں مہندیوں پر یہی کلر پہنتے ہیں…
Interestingggggg…
تم تو کافی دلچسپ ہو
.میرا نام چوہدری اسد علی ہے میں ابھی ایک ہفتہ پہلے انگلینڈ سے انٹامولوجی میں ماسٹرز کر کے واپس آیا ہوں.اپنے بابا کا اکلوتا بیٹا ہون.
اسد نے ماہ نور سے اپنا تعارف کرایا
میں ماہ نور ہوں اپنے بابا کی اکلوتی بیٹی نہین ہون اور میں نے میٹرک کیا ہے دو سال پہلے…
ماہ نور نے اسی کے انداز میں جواب دیا اور ہنسنے لگی…
اسد اسے غور سے دیکھنے لگا وہ ہنستی ہوئی بہت پیاری لگ رہی تھی بل آخر بول پڑا
تم اس وقت بلکل ladybird لگ رہی ہو..
.
جس پر ماہ نور کی ہنسی کو بریک لگی…
اتنی چھوئی….اس نے اپنی آنکھین سے کھول کر کہا
ہاں اتنی چھوٹی…..وہ اپنی بات پر قائم تھا
.آگے کیوں نہیں پڑھا…؟؟؟؟ماہ نور سے پوچھا
میرے کزن نے پڑھنے نہیں دیا. کہتا ہے کالج جا کر لڑکیاں خراب ہو جاتیں ہیں.اور بابا نے بات مان لی ماہ نور نے افسوس سے بتایا.
اونہہ…یہ تو دقیانوسی سوچ ہے.اسد کو افسوس ہوا
ماہ نور اب کھیت سے نکل کر سڑک پر چڑھنے لگی جب ٹھوکر لگنے کی وجہ سے اس کے کچھ پھول نیچے گر گئے….
آپ نے میرے پھولوں کو نظر لگا دی.
پھول چنتے اسد کو دیکھ کر ماہ نور نے کہا
نظر تو لگائی ہے مگر پھولوں کو نہیں …
یہ کہتے اسد نے سارے پھول ماہ نور کے ڈوپٹہ میں واپس ڈال دیے..
اب دونوں سڑک پر چل رہیے تھے ساتھ ساتھ مگر فاصلہ پر..
آپ کل دوبارہ پھول توڑنے آئیں گی..اسد نے کچھ بے چینی سے پوچھا
نہیں…کل تو جمعرات ہے میں تو درگاہ پر جاؤں گی.ماہ نور نے جواب دیا
آپ درگاہ کیوں جاتیں ہیں؟؟؟ اسد نے پوچھا
کیونکہ میں منت مانتی ہوں اور جب منت پوری ہو جاتی ہے تو پھولوں کی چادر چڑھانے جاتی ہون.ماہ نور نے کہا
اوہ..اچھا….اگر میں بھی منت مانو تو پوری ہو گئی؟؟؟؟
اسد نے ماہ نور کا منت پر ایمان دیکھتے ہوئے پوچھا
ہاں کیوں نہیں…ماہ نور نے جواب دیا
چلو پھر کل درگاہ پر ملتے ہیں.پکا تم آؤں گی نا…اسد نے تصدیق چاہی
میں تو ہر جمعرات کو جاتی ہوں اور فقیرون کو پیسے بھی دیتی ہوں.ماہ نور نے تفصیل بتائی
اچھا پھر تو میں بھی فقیر ہوں آپ مجھے بھی کچھ دیں…؟؟؟
وہ اب اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ماہ نور کو دیکھ رہا تھا
آپ دیکھنے سے فقیر تو نہیں لگتے..؟؟؟ ماہ نور نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھتے کہا
پہلے نہیں تھا مگر ابھی تھوڑی دیر پہلے میرا سب کچھ لٹ گیا.اب اس نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا ہوا تھا
ابھی ابھی وہ کیسے..؟؟ ماہ نور نے حیرت سے پوچھا
اسد نے اس کی آنکھوں کے سامنے اپنا ہاتھ لاتے ہوئے تین چٹکیاں بجائیں…..
اور بولا
ایسے… ایسے… ایسے…
پھر دونوں ہنسنے لگے…
وہ جو سامنے گاڑی کھڑی ہے شاید آپ کی ہے..اسد نے ماہ نور سے تصدیق چاہی
جی میری ہے….ماہ نور نے کہا
کمدار نے ماہ نور کے آتے ہی بیک ڈور اوپن کیا اور ڈرائیور اپنی سیٹ سمبھال کر بیٹھ گیا کمدار اور نوری بھی اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے.
میں کل آپ کا انتظار کرون گا اسد نے کہتے ہوئے ماہ نور کی سائیڈ کا ڈور مسکرا کر بند کر دیا
بیک مرر میں ماہ نور اسے دیکھتی رہی یہاں تک کہ وہ نظر آنا بند ہو گیا اور اس کی جگہ دھول مٹی نے لے لی….
ماہ نور گھٹنوں میں سر دے کر رونے لگی…
وہ جب بھی ماضی سوچتی یہی ہوتا.
اللہ کرے زریاب تم مر جاؤ….
میری خوشیوں کو کھا گئے….
………………………………….
عترت نے خوشی سے اماں بی کے گلے میں اپنی بانہیں ڈال لی
اماں سچ مچ آپ جائیں گی میرے ساتھ ہالہ بی کے گھر شکریہ ادا کرنے…عترت نے جوش سے پوچھا
لڑکی تیری تسلی نہیں ہوتی کہہ تو دیا ہے اتوار کو چلیں گے اور کتنی بار کہوں تو یقین آئے گا
اماں بی نے لاڈ سے عترت کو پیچھے کرتے ہوئے کہا
اماں بی اگر آپ کو ہالہ بی اچھی لگی تو بات کریں گی نا..عترت نے صبح سے کوئی دسویں بار اپنا سوال دہرایا
کہہ تو دیا ہے کرون گی اب جان چھوڑ میری…اور ہاں کل پتہ پوچھ آنا چلیں گئے اتوار کو میں بھی دیکھو کیسی لڑکی ہے جس کی دونوں بہن بھائی تعریفیں کر رہیے ہیں.
عترت نے خوشی سے سر ہلا دیا
………………………………….
