Hichkiyan Muhabbat Ki Season 1 By Amna Mehmood Readelle50146 Episode 27 Pt.1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 27 Pt.1
دبیر اس وقت بہت اچھے موڈ میں تھا ایک زبردست ڈیل کی تھی اس نے کسی پارٹی کے ساتھ…..
حنین کافی دیر سے عترت کے بارے میں کچھ کہنا چاہ رہا تھا مگر پھر رک جاتا اسے اچھی طرح اندازہ تھا کہ عترت کی کیا حثیت ہے دبیر کی زندگی ہیں اور حنین کی بات سن کر دبیر کا کیا ری ایکشن ہونا ہے…؟؟؟؟
پھر بھی ہمت کر کے حنین نے دبیر کو پکارا جو اپنے موبائل پر کچھ مصروف نظر آ رہا تھا
یار تجھے تو پتہ چل ہی گیا ہو گا کہ زریاب اس دفعہ شادی کر کے آ رہا ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ پیرنی کو بھی ساتھ لا رہا ہے…..
ہمممم بتایا ہے اس نے مجھے بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہو گا کہ بلایا ہے اس نے مجھے اور میری پوری فیملی کو شادی پر..
دبیر نے ایک نظر حنین کو دیکھتے ہوئے جواب دیا
حنین نے ایک لمبا سانس لے کر ہمت جمع کی کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اک غلط لفظ اگر عترت کے بارے میں اس کے منہ سے نکل گیا تودبیر اس کا کیا حشر کرے گا…؟؟؟
مجھے عترت کے بارے میں کچھ کہنا ہے
جیسے ہی حنین کہ یہ الفاظ دبیر کے کانوں میں پڑے اس نے موبائل ٹیبل پر رکھ دیا اور حنین کو دیکھنے لگا
تو نے آگے بھی دو دفعہ ایسا ہی کچھ کہا تھا مسئلہ کیا ہے..؟؟
دبیر نے ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے پوچھا
حنین نے عترت اور کونین کی پہلی ملاقات سے لے کر آخری ملاقات تک ، جن میں عترت کی محبت اور کونین کا پرپوزل شامل تھا بتا دیا.
دبیر کے کانوں کی لوئیں سرخ پڑ گئیں وہ ایک جھٹکے سے اٹھا اور حنین کا گریبان پکڑ لیا
بس ایک لفظ اور نہیں…..تیری اپنی تو کوئی بہن نہیں ہے اس لیے جو تیرے منہ میں آ رہا ہے تو بکواس کر رہا ہے یہ تو ہے جس نے اتنی بکواس کی اور میں نے برداشت کر لی اگر کوئی اور تیری جگی ہوتا تو اس وقت اپنے قدموں پر کھڑا نہ ہوتا.
دبیر نے ایک جھٹکے سے حنین کو چھوڑا جو پیچھے دیوار ساتھ جا لگا
چلا جا یہاں سے ….اس سے پہلے کہ میں بھول جاؤ تو حنین ہے اور خود سربراہی کرسی کی طرف منہ کر لیا.
میں جانتا ہوں عترت تیرے لیے کیا ہے مگر تو اس پر اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکتا وہ اب بڑی ہو گئی ہے…
حنین نے اپنے کپڑے درست کرتے ہوئے کہا
وہ اتنی بڑی نہیں ہوئی کہ اپنا اچھا برا سمجھ سکے.تیرا کیا خیال ہے میں عترت کسی ایسے شخص کے حوالے کر دو جو اپنا بوجھ اٹھا نہیں سکتا تاکہ وہ ساری زندگی عترت کو بلیک میل کرتا رہے اور مجھ سے پیسے مانگ مانگ کر اپنے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کا بھی پیٹ بھرتا رہے تو نہیں جانتا ان مڈل کلاس لوگوں کو…..یہ پلاینگ سے بڑے گھرانوں کی معصوم لڑکیوں کو اپنی جھوٹی محبت میں پھنساتے ہیں اور پھر ساری زندگی ان کی جائیداد پر عیش کرتے ہیں میں عترت کو روتی تڑپتی زندگی نہیں دے سکتا وہ شہزادیوں کی طرح رہی ہے اور ملکہ بن کر باقی زندگی کسی بادشاہ ساتھ گزارے گی فقیر ساتھ نہیں…..
مگر کونین کی فیملی بہت اچھی ہے میں خود ملا ہوں ان لوگوں سے ان کی چھان بین بھی کی ہے تجھے مجھ پر یقین نہیں….؟؟؟
حنین نے نرم پڑتے ہوئے کہا
تو نہیں سمجھ سکتا وہ ضائع کر دے گا عترت کو….
دبیر کے چہرے پر کرب کے واضح آثار تھے.
مجھے یہ سمجھ نہیں آرہی عترت کو وہی ملا تھا یونی میں حالانکہ اس یونی میں منسٹر،سینٹر، بزنس مین، ایم این اے ، فورس اور جاگیرداروں کے لڑکے پڑھتے ہیں عترت کو کسی ایسے لڑکے سے محبت کیوں نہیں ہوئی….؟؟؟؟
یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ عترت نے محبت نہیں کی بلکہ اس لڑکے نے عترت کو پھنسایا ہے میں اسے چھوڑوں گا نہیں الو کا پٹھا….
دبیر نے گالی دیتے ہوئے پیپر ویٹ اٹھا کر دیوار پر مارا
کیا لوجک ہے تیری..؟؟؟ مجھے تو تیری سمجھ نہیں آ رہی اگر وہ کسی بڑے گھرانے کے لڑکے سے محبت کرتی تو تجھے کوئی اعتراض نہ ہوتا مگر اب…….؟؟؟
حنین نے تاسف سے دبیر کو دیکھا
فلحال تو کچھ بھی سوچنے سمجھنے کے قابل نہیں اس لیے میں چلتا ہوں
حنین جانے کے لیے دروازے کے قریب آیا پھر کچھ رک کر مڑا اور کہا
فرض کر تیری styloo بھی ایسے ہی بیگ گراؤنڈ سے تعلق رکھتی ہو پھر…؟؟؟
اس بات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا وہ دیکھنے سے ہی کسی اونچے گھرانے کی لگتی ہے اور اگر ہم فرض بھی کر لیں کہ وہ ایک مڈل کلاس لڑکی ہے تو میں پھر کبھی بھی ،کسی بھی صورت میں اس سے شادی نہیں کروں گا کیونکہ میں کوئی گھٹیا لڑکی اپنے گھر اور اپنی نسل کے لیے پسند نہیں کرتا سمجھا….
ساتھ ہی دبیر نے انگلی اٹھا کر حنین کو وارنگ والے انداز میں جواب دیا.
ٹھیک ہے اس بات کافیصلہ وقت کرے گا میں یا تو نہیں…..
اور حنین آفس سے نکل گیا
………………
زریاب اس وقت بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے ماہ نور کے بارے میں سوچ رہا تھا کتنا اچھا احساس ہوتا ہے جب بندہ کسی کو چاہے اور اسے پھر حاصل بھی کر لے وہ بھی ساری دنیا کے سامنے، دھوم دھام سے ،ڈنگے کی چوٹ پر، بلکل جائز اور حلال طریقے سے…..
ماہ نور سادہ سی اتنی پیاری لگتی ہے تو پھر دلہن بن کر وہ کسی افسرا،حور، پری سے کم نہیں لگے گی جیسے ہی زریاب کو ماہ نور کے دلہن بننے کا خیال آیا ساتھ ہی کچھ اور باتیں یاد آ گئیں زریاب نے فوراً حنین کو کال ملائی جو اس وقت ڈرائیو کر رہا تھا زریاب کا فون دیکھ کر اس نے مسکراتے ہوئے کال اٹینڈ کی
جی دولہے میاں! کسی حال میں بھی جان کو سکون نہیں ہے
بس کیا کروں تیری بکواس سنے بغیر دن نہیں گزرتا….
زریاب نے بھی اسی ٹون میں جواب دیا
فلحال تو دبیر کی بکواس سن کر آ رہا ہوں.پھر حنین نے ساری بات زریاب کو بتا دی
تجھے کون کہتا ہے پرائے پھڈے میں ہاتھ ڈالنے کو…..
زریاب نے دانٹتے ہوئے کہا
کیا کروں..؟؟ عترت سے وعدہ کیا ہے تو پھر کچھ نہ کچھ تو کرنا ہے.
حنین نے گاڑی ایک طرف کھڑی کرتے ہوئے جواب دیا
اچھا سن تو نے میرا ایک کام کرنا ہے اور کوئی بہانہ نہیں
زریاب نے کہا
جی حکم کریں……حنین نے جواب دیا
زریاب نے اسے اپنی ساری بات بتانے کے بعد کہا یار ضرور کر دیں تیری مہربانی ہو گی
مجھے سمجھ نہیں آتا کہ تم لوگوں نے مجھے سمجھا کیا ہوا ہے.؟؟؟ لڑکی کے گھر کا پتہ معلوم کر دو، رشتہ کروا دو،محبت میں نے کی ہے بھائی سے بات آپ کر لیں.سسر صاحب کہتے MBA کرو اور اب تم…..
مجھے لگتا ہے تم لوگوں کے بچوں کے کانوں میں اذانیں بھی میں ہی دون گا بلکہ دائی کا بندوبست بھی میرے ہی ذمہ ہو گا…..
حنین کہہ رہا تھا جبکہ زریاب قہقے لگا رہا تھا
زریاب کا فون بند کر کے حنین نے ڈاکٹر رائحہ کو کال کی…
ہیلو پیاری اور رحمدل ڈاکٹر….
حنین نے فل مکھن لگاتے ہوئے کہا
خیر ہے حنین صاحب..؟؟؟
رائحہ نے مسکرا کر جواب دیا
جی بس آپ کا آدھا گھنٹہ چاہیے تھا…..
حنین نے کہا
اچھااااااا مگر کس لیے…؟؟؟رائحہ کو حیرت ہوئی
بس میں دس منٹ میں آپ کو پک کر رہا ہوں پھر بتاؤں گا.
یہ کہتے ہوئے حنین نے کال کاٹ دی جبکہ رائحہ فون کی سکرین دیکھتی رہ گئی
See translation
