Hichkiyan Muhabbat Ki Season 1 By Amna Mehmood Readelle50146 Episode 28 Pt.2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 28 Pt.2
عترت نے گھر آ کر فیصلہ کیا کہ اب وہ یونی نہیں جائے گی اور اس فیصلہ سے اماں بی اور دبیر کو آگاہ بھی کر دیا اماں بی تو خیر خوش تھیں مگر دبیر بہت پریشان ہو گیا تھا ….
عترت نے یہ فیصلہ دو وجوہات کی بنا پر کیا تھا ایک یہ کہ وہ کونین کو دیکھنا نہیں چاہتی تھی اور دوسرا جو کچھ آج یونی میں ہوا اس سے عترت خوفزدہ ہو گئی تھی
اسی طرح تین دن گزر گئے عترت نے اپنے کمرے سے نکلنا مکمل چھوڑ دیا تھا دبیر اس کی وجہ سے بہت پریشان رہنے لگا تھا آج بھی گھر کے سناٹے سے تنگ آ کر گھر سے نکلا اسے عترت کی حالت بہت تکلیف دے رہی تھی.وہ اسے دکھی نہیں دیکھ سکتا تھا مگر جو اس کی خواہش تھی وہ بھی پوری نہیں کرنا چاہتا تھا
وہ سڑکوں پر بغیر وجہ کے گاڑی لے کر گھوم رہا تھا جب اسے سڑک کے کنارے رائحہ کھڑی نظر آئی پتہ نہیں کیوں مگر دبیر کا دل کیا کہ وہ رائحہ سے سب شئیر کرے اس سوچ کے تحت اس نے گاڑی رائحہ کے قریب روکی اور اس کی طرف کا دروازہ کھول دیا
رائحہ پہلے تو ڈر کے دو قدم پیچھے ہٹی پھر دبیر کو دیکھتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گئی
آپ کو کیا ہوا ہے..؟؟رائحہ نے دوستانہ لہجے میں دبیر سے پوچھا
آئیں کافی پیتے ہیں..؟؟
دبیر نے گاڑی کافی شاپ کے باہر روکتے ہوئے کہا
میں خالی کافی نہیں پیوں گی..؟؟؟
رائحہ نے اطلاع دیتے ہوئے گاڑی کا دروازہ کھولا
دبیر نے رسٹورنٹ کے اندر داخل ہوتے ہوئے ایک سائیڈ ٹیبل کی کرسی رائحہ کے لیگ کھینچی اور اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے خود بھی رائحہ کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا
تھوڑی دیر بعد ویٹر آ کر آڈر لے گیا
جی اب بتائیں ..؟؟ کیا بات ہے..؟؟
رائحہ نے دونوں کہنیاں ٹیبل پر رکھتے ہوئے دبیر سے پوچھا
کچھ دیر دبیر خاموشی سے رائحہ کو دیکھتا رہا پھر ساری بات رائحہ کو بتا دی.
اچھا تو یہ بات ہے..؟؟؟
رائحہ نے ساری بات سننے کے بعد کہا
اتنی دیر میں ویٹر ان کا آڈر ٹیبل پر لگا کر چلا گیا
اب بتاؤں میں کیا کروں..؟؟؟
وہ بہت پریشان ہے میں جانتا ہوں مگر مجھے اس کا انتخاب پسند نہیں وہ بچی ہے اپنا اچھا برا نہیں جانتی…
دبیر کی آواز میں دکھ، پریشانی اور مایوسی جھلک رہی تھی جسے رائحہ نے محسوس کیا.
میرے پاس آپ کے مسئلہ کا ایک حل ہے اگر آپ وعدہ کریں کہ ناراض نہیں ہوں گے تو میں بتاؤں رائحہ نے برگر سے انصاف کرتے ہوئے پوچھا
ہاں کہو..؟؟؟ دبیر نے جواب دیا
آپ میری بات آرام سے سنے گے اور بیچ میں بولیں گے نہیں …
رائحہ نے انگلی اٹھا کر دبیر سے رضامندی چاہی جو اس نے فوراً دے دی اور کافی کا کپ اٹھا کر ہونٹوں ساتھ لگا لیا
آپ عترت سے کہیں کہ وہ کونین کو فون کرے اور کہے کہ اگر اس کے گھر والے دو شرائط مان لیں تو میرے بھائی تم سے میری شادی خوشی خوشی کر دیں گے
(دبیر کافی پیتے رائحہ کو مسلسل دیکھ رہا تھا جو اسے اس وقت حنین لگ رہی تھی بلکل وہی اندازِ بیان……)
1.کونین اسے آپ کی کالونی میں گھر لے کر دے…
2.ہمارے خاندان میں وٹے سٹے کا رواج ہے اس لیے تمہیں اپنی بہن کی شادی میرے بھائی سے کرنی ہو گی….
اگر وہ یہ شرائط مان لے گا تو بھی ہمارا فائدہ ہے…..
اور اگر نہ مانا تو بھی ہمارا فائدہ ہے….
رائحہ نے کہتے ہوئے اپنا برگر ختم کیا اور ہاتھ ٹشو سے صاف کرنے لگی
وہ کیسے..؟؟؟ دبیر نے پوچھا
دیکھو اگر کونین دونوں شرطیں مان جاتا ہے تو پھر عترت تمہاری آنکھوں کے سامنے رہے گی اور اس کی بہن تمہارے گھر ہو گی تو کونین عترت کے ساتھ برے سلوک کا سوچے گا بھی نہیں کیونکہ یہ مڈل کلاس لوگ اپنی بہنوں کے لیے بہت جذباتی ہوتے ہیں……
اور دوسری صورت میں بھی تمہیں ہی فائدہ ہو گا کیونکہ اگر کونین شرطیں نہیں مانتا تو وہ عترت کے دل سے اتر جائے گا کیونکہ عترت کو احساس ہو گا کہ وہ اس سے محبت نہیں کرتا ورنہ وہ ضرور مان جاتا.اس طرح وہ دکھ سے نکل آئی گی اور پھت تم اپنی مرضی سے اس کی کہیں بھی شادی کر دینا..
کیسا…؟؟؟
آخر میں رائحہ نے داد طلب نظروں سے دبیر کو دیکھا جو ستائشی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا.
مگر میں اس کی بہن سے شادی نہیں کرنا چاہتا…..
دبیر نے کچھ دیر رک کے ادھر ادھر دیکھا اور پھر رائحہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا
میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں…؟؟؟
دبیر کی بات پر رائحہ ہنسنے لگی
آپ جیسا بندہ تو چار شادیاں بھی کر سکتا ہے یہاں تو پھر دو کا سوال ہے….
یعنی میں آپ سے دوسری شادی کروں..؟؟؟
دبیر نے بے یقینی سے پوچھا
جواب میں رائحہ نے مسکرا دیا مطلب “ہاں” تھا
( کوئی اور لڑکی ہوتی تو نہ مانتی؟ ؟ یہ واقعی ہی حنین جیسی ہے اگر اس کی اور حنین کی شادی ہو جائے تو کیا غضب کا کپل ہو گیا…؟؟؟ دبیر نے اپنی ہی سوچ پر فوراً خود کو جھڑکا)
دبیر کو خاموش دیکھ کر رائحہ نے سوال کیا
آپ کو اپنی بہن سے بہت محبت ہے..؟؟؟
“محبت” بہت معمولی لفظ ہے
عترت میں میری جان ہے…..
دبیر نے جیسے ہی یہ الفاظ ادا کیے اس کی آنکھوں میں جذبات کی شدت سے آنسو آگئے جسے رائحہ نے غور سے دیکھا
…………………..
حویلی میں آج زریاب اور ماہ نور کی مہندی تھی دونوں ہی بہت پیارے لگ رہے تھے زریاب نے سفید شلوار قمیض کے اوپر مہرون واسکٹ پہنی تھی جبکہ ماہ نور نے پیلا گوٹے والا فراک اور چوری دار پچامہ ساتھ نٹ کا سرخ ڈوپٹہ پہنا تھا بالوں میں موتیا کے پھول اور ہاتھوں میں موتیا اور گلاب کے گجرے وہ آج سچ مچ “پھولوں کی شہزادی”لگ رہی تھی
مہندی کا فنکشن اکٹھا نہیں رکھا گیا تھا زریاب مردان خانے میں تھا اور ماہ نور زنان خانے میں….
مہندی کا فنکشن شروع ہونے سے تھوڑی دیر پہلے ہی حنین اور دبیر کی پوری فیملیز پہنچی تھیں دونوں کی فیملیز کو بہت زیادہ پروٹوکال دیا گیا تھا حنین کو تو پوری حویلی ہی بدلی لگ رہی تھی.حویلی کی سج دھج اور کھانے قابلِ تعریف تھے ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی ریاست کے شہزادے کی شادی ہو….
زریاب کیونکہ مکمل صحت مند نہیں ہوا تھا اس لیے وہ کسی کو بھی ملنے کے لیے اٹھ نہیں رہا تھا مگر جیسے ہی حنین اور دبیر کمرے میں داخل ہوئے زریاب ان دونوں کو اٹھ کر ملا
حنین کو گلے لگاتے ہوا زریاب نے پوچھا
“تو نے میرا کام کر دیا ہے..؟؟ “
کوئی شرم ہوتی ہے کوئی لحاظ ہوتا ہے بے حیا…..ابھی میں بیٹھا بھی نہیں ہوں اور تجھے اپنے کام کی پڑی گئی ہے
حنین نے ہنستے ہوئے اس کے کان میں جواب دیا
عترت کو دبیر اس لیے گاؤں لے آیا تھا تاکہ اس کا دھیان بٹ جائے اور ہوا بھی ایسے ہی تھا ….
وہ گاؤں پہلی بار آئی تھی اور بہت خوش تھی اسے ماہ نور بہت پسند آئی عترت سے رہا نہ گیا تو ماہ نور کے قریب جا کر کہا
آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں…
جس پر ماہ نور مسکرانے لگی
حنین کی موم اور اماں بی کو بھی ماہ نور بہت پسند آئی
………………
جاری ہے
