Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21 Pt.1



ملک نزیر تیار ہو کر باہر لاؤنچ میں بیٹھے تھے جب بیگم غزالہ کو کمرے سے آتا دیکھ کر بولے
اپنے لاڈلے کی خبر لی ہے کہاں تک پہنچا ہے ..؟؟ یا ابھی وہیں بیٹھا گپے مار رہا ہے.جہاں جاتا ہے وہیں رہ جاتا ہے عورتوں والی حرکتیں ہیں اس کی….
جی بات ہوئی تھی کہہ رہا تھا آجاؤں گا.ابھی دوبارہ کال کرتی ہوں.آپ پہلے یہ بتائیں کہ میں کیسی لگ رہی ہوں…؟؟
بیگم نزیر نے اپنی شال درست کرتے ہوئے ملک نزیر سے پوچھا
آپ مسز نزیر ملک ہیں کوئی معمولی چیز نہیں…..
عام عورتوں جیسی باتیں نہ کیا کریں.آپ اچھی طرح جانتی ہیں کہ آپ کیسی لگ رہی ہیں…؟؟پھر مجھ سے پوچھنے کا مطلب…
ملک صاحب نے بیگم صاحبہ پرستائشی نظر ڈالتے ہوئے کہا
اچھا اچھا زیادہ مکھن نہ لگائیں جو پوچھا ہے وہ بتائیں ناااااا؟؟؟
بیگم غزالہ نے مصنوعی غصہ سے کیا جبکہ لبوں پر ایک خوبصورت مسکراہٹ تھی.
اپنے لاڈلے سے پوچھا کرو ایسی باتیں…اس نے ان باتوں میں Phd کی ہوئی ہے مجھے تو کبھی کبھی شرمندگی ہونے لگتی ہے یہ سوچ کر کہ کہیں ہم نرمین ساتھ زیادتی تو نہیں کر رہے کتنی پیاری،پڑھی لکھی اور سلجھی ہوئی بچی ہے اور آپ کے نالائق ساتھ ہم اسے باندھ رہے……..
ملک نزیر نے کچھ سوچتے ہوئے بیگم غزالہ کو تنگ کرنے کے لیے کہا
ملک صاحب آپ کا کوئی حال نہیں ہے. کہاں میرا حنین اور کہاں نرمین….؟؟؟
حنین جیسا بچہ ڈھونڈنے سے نہیں ملتا. اور نرمین جیسی بچیاں ہر گھر میں موجود ہیں.نرمین کے گھر والے اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کریں اتنا ہی کم ہے کہ انھیں حنین جیسا داماد مل رہا ہے. وہ تو نرمین پسند ہے حنین کو ورنہ میں نے کئی گنا زیادہ اچھی اور پیاری لڑکی سے حنین کی شادی کرنی تھی.نرمین جیسی لڑکیاں تو حنین کے آگے آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں.
بیگم غزالہ ملک نزیر کی بات پر پوری طرح تپ گئیں تھی.
بس کریں بیگم صاحبہ ہر کسی کو اپنا بچہ اسی طرح پیارا ہوتا ہے جیسے آپ کو حنین….
اپنی لسی کو کوئی کھٹا نہیں کہتا.مانا نرمین ہمارے حنین جتنی پیاری نہیں مگر وہ قابلیت میں حنین سے آگے ہے.
اچھا اچھا بس کریں میرا موڈ خراب نہ کریں حنین نہیں بھی آتا تو ہم نے جانا ہے کم از کم نرمین کی عیادت تو کرنی ہی ہے
آخر ہماری ان سے نئی نئی رشتےداری ہے
……………………..
حویلی ہی نہیں پورا گاؤں ہی گولیوں کی آواز سے گونج اٹھا تھا.
دونوں طرف سے فائرنگ ہو رہی تھی.حنین سخت پریشان تھا ایک تو اس کے اپنے بازو میں گولی لگی تھی.دوسرا زریاب خون میں لت پت تھا تیسرا فائرنگ مسلسل ہو رہی تھی اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے. آج سے پہلے وہ کبھی ایسی سچویشن سے نہیں گزرا تھا اس کی زبان جو روکنے سے نہیں رکتی تھی. اب بلکل خاموش تھی. کافی ہمت کر کے اس نے اپنا ہاتھ بڑھا کہ زریاب کو ہلایا. مگر زریاب کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا. حنین عجیب بے یقینی کی حالت میں زریاب کو دیکھ رہا تھا. جو کچھ چند منٹوں میں ہوا تھا وہ ناقابلِ یقین تھا.
ابھی تو زریاب ہنس رہا تھا باتیں کر رہا تھا.یہ کیا ہوا اسے ….؟؟؟
حنین تقریباً سکتے کی حالت میں تھا.کہ اچانک ہوش کی دنیا میں آتے ہی چلایا
زریاب کو دیکھو…اسے بہت گولیاں لگیں ہیں.اسے ہسپتال لے کرچلو جلدی کرو…..
سردار حشمت علی خان جو سونے کے لیے ابھی لیٹے ہی تھے کہ گولیوں کی آواز سے ایکدم اٹھ بیٹھے اور فوراً ان کے منہ سے نکلا “زریاب”
حویلی میں ایکدم ہلچل مچ گئی سردار حشمت، دلاور، اور افراسیاب سب کے سب فوراً گاڑیوں میں باہر نکلے ان کے ساتھ مزید مسلح افراد بھی تھے اور اس جانب بڑھے جہاں سے فائرنگ کی آوازیں آ رہی تھی. جیسے ہی سردار حشمت کی نظر زریاب پر پڑی انھیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں ہوا زریاب کو گاڑی سے نکال کر نیچے سڑک پر لیٹا رہے تھا سارے کپڑے خون سے رنگے ہوئے تھے.کچھ اندازہ نہیں ہو رہا تھا کہ کہاں کہاں گولیاں لگیں ہیں.جبکہ حنین مسلسل زریاب کا چہرہ تھپتھپا رہا تھا اس کا اپنا بازو بھی خون سے بھرا ہوا تھا. مگر اسے اپنی فکر نہیں تھی.افراسیاب جلدی سے آگے بڑھا اور زریاب کا سر اپنی گود میں رکھا.
کیا ہوا لالہ کو..؟؟؟
لالہ آنکھیں کھولیں…؟؟
افراسیاب نے ایک نظر حنین پر ڈالتے ہوئے کہا
جبکہ دونوں کی آنکھوں میں ہی آنسو تھے.
افراسیاب جلدی کر اسے ہسپتال لےچلیں کہیں دیر نہ ہو جائے..؟؟؟حنین نے کہا
زریاب کی حالت ایسی تھی کہ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ زریاب مر چکا ہے اسے ہسپتال لے جانے کی ضرورت نہیں جبکہ حنین یہ بات ماننے سے انکاری تھا وہ جلد از جلد زریاب کو ہسپتال لے جانا چاہتا تھا.مگر کوئی بھی اس کا ساتھ دینے کو تیار نہ تھا.
سردار حشمت کی حالت ایکدم خراب ہو گئی تھی سردار دلاور جوان بیٹے کی لاش (بقول سب کے زریاب مر چکا ہے) دیکھ کر اپنے آپ میں نہیں تھے.
فائرنگ اب رک چکی تھی.چوہدریوں کا کتنا نقصان ہوا تھا کسی کو معلوم نہ تھا مگر سرداروں کا ناقابلِ تلافی نقصان ہوا تھا.
حنین کے بار بار کہنے پر افراسیاب نے سب کو راضی کرنے کی کوشش کی.
مگر سردار حشمت نہیں مان رہے تھا ان کا کہنا تھا کہ لاش کو تکلیف نہ دی جائے.اور یہ بات مان لینی چاہیے کہ زریاب اب ہم میں نہیں…..
جیسے ہی حنین نے یہ الفاظ سنے وہ چیخ پڑا.
کس نے کہا کہ زریاب مر چکا ہے..؟؟؟
پاگل ہیں یہاں سب کے سب پاگل ہیں.بغیر تصدیق کے جس کے منہ میں جو آیا بول رہا ہے. آپ اپنے بیٹے کے بارے میں ایسا کیسے بول سکتے ہیں. مجھے یقین ہے زریاب زندہ ہے پلیززز دیر نہ کریں اسے ہسپتال لے چلیں
(حالانکہ کہ حنین کو بھی زریاب کی حالت عجیب لگ رہی تھی نہ نبض چل رہی تھی نہ سانس لیتا محسوس ہو رہا تھا سینے پر گولیوں کی وجہ سے دل کی دھڑکن بھی معدوم تھی.مگر ایک آس تھی کہ زریاب مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتا.حنین پُر امید تھا)
سردار دلاور ،افراسیاب اور حنین کےعلاوہ بہت سے لوگ اس وقت ہسپتال کے کوریڈور میں موجود تھے.مگر کوئی ڈاکٹر بھی زریاب کو دیکھنا نہیں چاہ رہا تھا کیونکہ یہ پولیس کیس تھا ویسے تو اس طرح کے مسئلہ کو حل کرنا سردار دلاور کے بائیں ہاتھ کا کام تھا مگر اس وقت وہ ہوش میں نہیں تھے. چنانچہ حنین نے مجبور ہو کر ملک نزیر کو کال کی……
جی برخوردار آئی گئی یاد باپ کی….
ملک نزیر نے کال اٹینڈ کرتے ہوئے کہا
ڈیڈ….جس انداز میں حنین نے کہا ملک نزیر کی روح کانپ گئی.
کیا ہوا ہے حنین تو اس وقت کہاں ہے..؟؟؟
ملک صاحب فوراً پریشانی سے بولے
حنین نے جتنا مختصر بتا سکتا تھا بتایا اور آخر میں کہا کہ ماما کو مت بتانا وہ پرشان ہوجائیں گی.مگر آپ جلدی سے آ جائیں میں آپ کو بہت مس کر رہا ہوں.وہ تقریباً رونے والا تھا
اچھا میں بس دو منٹ میں تمہارے پاس ہونگا فکر مت کرو حنین بیٹا میں آ رہا ہوں.پتہ نہیں انھوں نے اس وقت حنین کو تسلی دی یا اپنے آپ کو…….
ھنین نے یکے بادیگر رائحہ اور دبیر کو بھی کالز کیں.
رائحہ اس وقت ہسپتال میں ہی موجود تھی فوراً ایمرجنسی پہنچی. حنین کو دیکھتے ہی چیخ پڑی.
حنین کا بازو اور ہاتھ کی انگلیاں سوجھ چکی تھیں اور خون بھی جما ہوا تھا.تکلیف اور پریشانی سے حنین کا رنگ اڑا ہوا تھا.
تمہیں ڈریسنگ کی ضرورت ہے میرے ساتھ آؤں.
رائحہ نے فوراً حنین کو اپنے ساتھ آنے کا کہا
نہیں میں ٹھیک ہوں تم پلیززز اگر زریاب کے لیے کچھ کر سکتی ہو تو کر دو تمہارا میرے پر بہت بڑا احسان ہو گا..؟؟
حنین نے التجا کرتے ہوئے کہا
پاگل اگر گولی کا زہر پھیل گیا تو پورا بازو کاٹنا پڑے گا…
رائحہ کو حنین سے ہمدردی تھی زریاب کو وہ جانتی نہیں تھی اور ویسے بھی اس طرح کے کیس ہسپتالوں میں دیکھ دیکھ کر وہ کچھ سخت دل ہو گئی تھی.
اس لیے اُسے زریاب کی فکر نہیں تھی مگر حنین کے لیے اسے دکھ ہو رہا تھا.
تم میرے ساتھ آؤں میں تمہارے پیشنٹ ک لیے بھی کچھ کرتی ہوں.پھر رائحہ نے کچھ ڈاکٹرز سے بات چیت کی اور زریاب کو آپریشن کے لیے ICU میں لے جایا گیا.جبکہ رائحہ نے سب سے پہلے حنین کے بازو کا ایکسرے کیا جس سے یہ بات سامنے آئی کہ گولی گوشت میں لگ کے نکل چکی ہے اور اس نے ہڈی کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا.پھر حنین کی ڈریسنگ کی. حفاظتی انجکشن ایک ڈرپ کی صورت میں لگائے اور کہا اگر تم اپنے دوست کو دیکھنا چاہتے ہو تو تمہیں میری ایک بات ماننا پڑے گی
بولو…..حنین نے آہستہ آواز میں کہا وہ اس وقت شدید ذہنی اور جسمانی تکلیف میں تھا
ایک گلاس دودھ پی کر یہ دوا کھا لو.چلو شاباش جلدی کرو.
حنین نے فوراً ایک ہی سانس میں دوائی منہ میں رکھتے ہوئے دودھ پی لیا.چلو اب مجھے زریاب پاس لے جاؤ.
جب کہ رائحہ یہ سب دیکھ کر پریشان ہو گئی.اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتی حنین کے موبائل پر ملک نزیر کی کال آنے لگ گئی جسے حنین نے اٹینڈ کیا اور بتایا کہ وہ اس وقت ہسپتال میں کہاں ہے.فون بند کرتے ہی حنین کی آنکھین بھی بند ہونے لگیں.
رائحہ نے وارڈ بوائے کی مدد سے حنین کو بستر پر لٹایا اور اس ہر کمبل ڈالتے ہوئے وارڈ بوائے سے کہا.جیسے ہی انھیں ہوش آئے مجھے بتانا.