Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20 Pt.1


سردار دلاور نے زریاب کے قہقے دروازے سے باہر ہی سنتے ہوئے دعا مانگی.
“یا اللہ میرے بیٹے کو خوش رکھ. کتنے عرصے بعد خوش ہوا ہے . اسے دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھنا.آمین
اور دستک دیتے ہوئے دروازہ کھولا.
حنین اور زریاب جو اس وقت آپس میں گپے لگا رہے تھے سردار دلاور کے یوں اچانک آنے پر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے اور پھر احترام سے کھڑے ہو گے.
کیا ہو رہا تھا بیٹا سائیں..؟؟؟
سردار دلاور نے دونوں کی طرف پیار سے دیکھتے ہوئے کہا
کچھ نہیں بس ویسے ہی باتیں کر رہے تھے.زریاب نے جواب دیتے ہوئے حنین کی طرف دیکھا جو انتہائی سنجیدہ سا منہ بنا کر کھڑا تھا.
بیٹھیں کھڑے کیوں ہیں آپ..؟؟؟
سردار دلاور نے دونوں سے کہا اور خود بھی بیٹھ گئے.
بیٹا ہم آپ سے بہت شرمندہ ہیں آپ پہلی بار آئیں ہیں مگر ہم اپنے خاندانی مسائل کی وجہ سے آپ کی صحیح مہمان داری نہیں کر سکے.آپ بھی سوچتے ہوں گے کہ کیسے لوگ ہیں ہم…؟؟
سردار دلاور نے حنین کو مخاطب کرتے ہوئے افسوس سے کہا
نہیں بابا یہ ایسی باتیں نہیں سوچتا.بہت پیارا دوست ہے میرا…
حنین کی بجائے زریاب نے جواب دیا
مجھے معلوم ہے.مگر ہم سے تو اس کی مہمان داری میں کوتاہی ہوئی ہے نااااااا..
سردار دلاور نے جواب دیا
انکل ایسی کوئی بات نہیں ہے آپ پلیززز مجھے شرمندہ نہ کریں.
حنین نے جیسے ہی یہ الفاظ ادا کیے. زریاب نے گردن موڑ کر حنین کی طرف سرگوشی کی
“تو شرمندہ بھی ہوتا ہے مجھے کیوں اب تک پتہ نہیں چل سکا.”
جس پر حنین نے اپنی آنکھیں گھما کر زریاب کو دیکھا.
بیٹا سائیں آپ کیا کام کرتے ہیں؟؟؟ میرا مطلب ہے زریاب کے ہی آفس میں ہوتے ہیں یا کچھ اور کرتے ہین.
سردار دلاور نے جیسے ہی یہ سوال کیا حنین کو کھانسی کا دورہ پڑ گیا.جبکہ کہ زریاب نے مسکراتے ہوئے حنین کو پانی کا گلاس دیا اور کہا
بابا سائیں یہ پڑھتا بھی ہے اور اپنے والد کا بزنس بھی دیکھتا ہے اس کے والد کا شہر میں بہت بڑا بزنس ہے.
ابھی تک پڑھتا ہے..؟؟؟
سردار دلاور نے قدرے حیرانی سے پوچھا.
جی وہ….اصل میں مجھے پڑھنے کا بہت شوق ہے.
حنین نے اپنی ہنسی دباتے ہوئے جواب دیا اور اب کی بار کھانسنے کی باری زریاب کی تھی …..
اچھا بیٹا سائیں آرام کریں کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو باہر نوکر موجود ہیں ان کو بتا دینا.پہلی دفعہ تمہارا دوست آیا ہے اس کا بہت خیال رکھنا.
سردار دلاور یہ کہتے جانے لگے کہ پھر کسی خیال سے پلٹے تم لوگوں نے باتوں میں لگا کر مجھے بھلا ہی دیا کہ کیا کہنے آیا تھا…؟؟؟
کچھ دیر سوچنے کے بعد سردار دلاور نے دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
بھائی صاحب نے سختی سے منع کیا ہے کہ تم لوگ آج حویلی سے باہر نہیں نکلو گے. کل صبح ہم خود تمہیں حفاظت سے شہر پہنچا دیں گے.
حنین نے کچھ بولنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ زریاب نے اشارے سے چپ کروا دیا.
ٹھیک ہے بابا سائیں آپ بے فکر رہیں ہم کہیں نہیں جا رہے. زریاب کہتا ہوا سردار دلاور کے ساتھ ہی کمرے سے باہر آ گیا.
کیا بات ہے کچھ کہنا ہے..؟؟؟
زریاب کے اس طرح باہر آنے پر سردار دلاور نے زریاب کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا
بابا سائیں آپ نے نکاح سے پہلے ماہ نور کو کیا کہا تھا…؟؟؟
جو سوال کب سے دماغ میں گھوم رہا تھا وہ زبان پر آ گیا.
سردار دلاور زریاب کی بات سن کر ہنسنے لگے.آپ کو کیوں بتاؤں یہ میرا اور میری بیٹی کاّمعاملہ ہے جیسے والدین کی غلطیاں اولاد کو بھگتنی پڑتیں ہیں بلکل اسی طرح اولاد کی غلطیاں والدین کو سنوارنی پڑتیں ہیں.
اب دونوں باپ بیٹا ساتھ ساتھ برآمدے سے گزر رہے تھے.
آج آپ نے ماہ نور پر ہاتھ اٹھا کر اچھا نہیں کیا.ہمارا خاندان کافی دقیانوسی روایات کا مالک ہے مگر پھر بھی ہم نے آج تک اپنی عورت پر ہاتھ نہیں اٹھایا. بہت تکلیف ہوئی مجھے آپ کی اس حرکت کی.آپ کی اس حرکت کا جرمانہ بھرا ہے میں نے اور بس……
پھر رک کر زریاب کی طرف منہ کر کے بولے
آج کے بعد ماہ نور پر ہاتھ نہیں اٹھانا.اگر تم نے پھر اسے مارا تو میں سمجھوں گا کہ تم نے مجھے مارا ہے.عورت ذات کمزور اور مرد کی محتاج ہوتی ہے اور مرد کو زیب نہیں دیتا کہ وہ اس پر اپنی طاقت استعمال کرے.مقابلہ اپنے برابر والے سے کیا جاتا ہے اپنے سے کمتر والے سے نہیں……..
زریاب جو کب سے سر جھکائے باپ کی بات سن رہا تھا پھیکا سا مسکرایا اور بولا
بابا سائیں اب آپ میرے ساتھ زیادتی کر رہیں ہیں اُس نے بھی تو مجھے اتنا کچھ سنایا تھا…
وہ زبان استعمال کر رہی تھی اور تم نے ہاتھ استعمال کیا تم بھی بدلے میں زبان استعمال کر سکتے تھے.
سردار دلاور نے سمجھاتے ہوئے کہا
ُاُسے زبان کی بات سمجھ نہیں آتی……اور آپ بھی اسی کا ساتھ دے رہے جبکہ وہ غلط تھی یہ زیادتی ہے….
زریاب اب چڑ گیا تھا
یہ آپ کس لہجہ میں بات کر رہے ہیں مجھ بہت دکھ ہوا سن کر….
سردار دلاور نے افسوس سے کہا
جو پوچھا ہے وہ بتایا نہیں اور…….زریاب نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے باہر آسمان کی طرف دیکھا
میں نے اپنی بیٹی سے ایک معاہدہ کیا ہے جسے تم پورا کرو گے.
سردار دلاور نے زریاب کو ناراض ہوتے دیکھا تو کچھ نرم لہجہ میں کہا
جب مجھے کچھ معلوم ہی نہیں تو میں کیسے پورا کر سکتا ہوں.
وہ کندھے اچکا کر بولا
صبر کرو سب پتہ چل جائے گا اور تم گئے ماہ نور پاس….
بیٹا سائیں اُسے کچھ گفٹ ہی دے دو اس سے محبت پیدا ہوتی ہے.اسی بہانے معافی بھی مانگ لینا اس سے کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہوتا.
سردار دلاور زریاب کو منانے والے انداز میں بولے…..
(پہلے جانا تھا مگر اب تو نہیں جاؤں گا اوپر سے حنین نے بھی پائل کا اتنا مزاق بنایا ہے اور اب معافی بھی مانگو…بدلہ میں مجھے کیا ملے گا ..؟؟ بدعائیں
زریاب کو تھوڑی دیر پہلے کی گئی حنین کی گفتگو یاد آ گئی
حنین تیری زبان کالی ہے پہلے مجھے شک تھا مگر اب یقین ہو گیا ہے……….)
زریاب دل میں سوچتا ہوا سردار دلاور کے آگے سر ہلانے لگا جس کا مطلب تھا ایسا ہی کروں گا
شاباش میرا اچھا بیٹا……
سردار دلاور کہتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گے
…………………………
زریاب کے کمرے سے جانے کے بعد حنین نے کچھ سوچتے ہوئے رائحہ کو کال کی.
رائحہ اس وقت کلینک میں تھی اور حنین کی خوش قسمتی کہ فری تھی.دوسری بل پر ہی کال اٹینڈ ہو گئی.
اسلام و علیکم
رائحہ نے کال اٹینڈ کرتے ہوئے کہا
آپ نے مجھے پہچانا ….
حنین نے سلام کا جواب دینے کے فوراً بعد پوچھا
جی بلکل آپ حنین بات کر رہے ہیں.رائحہ نے شائستگی سے جواب دیا
ارے واہ آپ نے تو فوراً پہچان لیا میں سمجھا شاید مجھے بھول گئیں.
حنین نے حیرانگی سے کہا
آپ کوئی بھولنے والی چیز ہیں.رائحہ کہتے ہوئے ہنسنے لگی
اچھا پھر میں کیسی چیززززز ہوں.؟؟؟

ین نے لفظ چیز پر زور دیا
میرا مطلب ہے کہ آپ اتنے دلچسپ ہیں کہ بھول نہیں سکتے میرے والد بھی آپ کو یاد کر رہے تھے.دوبارہ چکر نہیں لگایا آپ نے…..
رائحہ نے اب کی بار سمبھل کر جواب دیا
ہمممم….بس ٹائم ہی نہیں ملا جلد ہی چکر لگاؤں گا انشاءاللہ
حنین نے جواب دیا
جی ضرور …رائحہ نے بھی کا اظہار کیا
اگر آپ کو برا نہ لگے تو مجھے آپ سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے
جی کہیے میں سن رہی ہوں..
رائحہ نے جواب دیا
آپ مجھ سے دوبارہ مل سکتیں ہیں..؟؟؟
اور یقین مانیے اس میں آپ کا بہت بڑا فائدہ ہے بلکہ صرف آپ کا ہی نہیں آپ کے پورے خاندان کا بھی فائدہ ہے.
حنین نے پر اعتماد لہجے میں کہا
کتنا بڑا فائدہ ہے..؟؟؟ رائحہ نے پوچھا
بس آپ یوں سمجھ لیں جیسے آپ کے پاسFX گاڑی ہے اور کوئی آپ سے وہ لے کر آپ کو Audi A6 لے دے وہ بھی بلکل مفت …….
حنین نے رائحہ کو اُسی کی زبان میں سمجھایا.
ٹھیک ہے میں آپ سے ملنے کو تیار ہون.کہاں اور کب ملنا ہے…؟؟؟
رائحہ کو تجسس ہوا
تیر نشانے پر بیٹھا ہے حنین نے اپنے آپ کو داد دی
ابھی نہیں میں ایک دو دن تک بتاتا ہون.
ٹھیک ہے جیسا آپ کو جیسا مناسب لگے.رائحہ نے جواب دیا