Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 29 Pt.1


پہلے یہ طے پایا تھا کہ زریاب کی بارات ہفتہ والے دن ہو گی مگر بعد میں زریاب کی طبیعت کو دیکھتے ہوئے سردار حشمت نے اپنا ارادہ بدل دیا کیونکہ مہندی والے دن بیٹھنے کی وجہ سے زریاب کی طبیعت خراب ہو گئی تھی زریاب ابھی خود سے چل نہیں سکتا تھا اور نہ ہی زیادہ دیر بیٹھ سکتا تھا اس لیے اب پروگرام تھوڑا سا تبدیل کیا گیا تھا اور بارات کی جگہ سب کو ولیمے کی دعوت دے دی گئی تھی جسے سب نے خوشی خوشی مان لیا تھا
پوری رات حویلی میں مہندی کا فنکشن بہت دھوم دھام سے ہوا تھا اس لیے تقریباً سارے ہی مہمان صبح دیر سے اٹھے.
حنین ابھی تک سو رہا تھا دبیر نے گھڑی کی طرف دیکھا جو دن کے گیارہ بجا رہی تھی وہ تقریباً تین بار حنین کو اٹھا چکا تھا مگر حنین اٹھنے کا نام نہیں لے رہا تھا بلآخر دبیر کو ایک شرارت سوجھی
اس نے حنین کو ہلا کر کہا یار نرمین کی فیملی آئی ہے تو نے بلایا ہے..؟؟؟
جیسے ہی حنین کے کان میں یہ الفاظ پڑے فوراً کمبل اتار کر بیٹھ گیا اور بولا
کہاں ہے..؟؟
میرے موبائل میں…….دبیر نے ہنستے ہوئے جواب دیا
حنین نے زور سے تکیہ اٹھا کر دبیر کے منہ پر مارا اور خود دوبارہ کمبل لے کر لیٹنے لگا مگر دبیر نے اس سے کمبل کھینچ کر نیچے کارپٹ پر پھینک دیا
کیا تکلیف ہے تجھے ..؟؟؟ سونے کیوں نہیں دے رہا
حنین نے اپنی گول مٹول آنکھیں ملتے ہوئے پوچھا
یار میں نے تجھ سے ضروری بات کرنی ہے پھر ٹائم نہیں ملے گا سن لے ناااااا…؟؟؟
دبیر نے منت بھرے لہجہ میں کہا
چل جلدی بتا ….اتنے مزے کا خواب دیکھ رہا تھا ستیاس ناس کر دیا سارے خواب کا…..
حنین نے بیڈ سے ٹیک لگاتے ہوئے پوچھا
ایسا کیا دیکھ رہا تھا..؟؟
دبیر نے مشکوک نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا
اب شادی والے گھر میں بندے کو کیسے خواب آ سکتے ہیں…؟؟
حنین نے مسکراتے ہوئے دبیر کو آنکھ ماری.
بڑا ہی گھٹیا بندہ ہے تو…..مجھے تو ایسی کوئی خواب نہیں آئی ….
دبیر نے تکیہ دوبارہ حنین کی طرف پھینکتے ہوئے کہا جسے حنین کے فوراً کیچ کر کے اپنے سر کے پیچھے رکھ لیا
گھٹیا ہو گا تو…..اور ویسے بھی خواب بندہ دیکھ کر آتے ہے…..
حنین نے منہ بنا لیا
اچھا سوری نااااا نرمین کو دیکھ رہا تھا….؟؟
دبیر نے حنین کو راضی کرنے کے لیے پوچھا
او نہیں یاررر مجھے تو خواب میں…..
حنین نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ زریاب ملازم ساتھ کمرے میں داخل ہوا دبیر نے فوراً اٹھ کر زریاب کو سہارا دیتے ہوئے بیڈ پر بیٹھایا اور ملازم کو زریاب نے جانے کا اشارہ کیا تو وہ فوراً چلا گیا
تین گولیاں لگیں ہیں پر اللہ جانتا ہے تیری جان کو زرا سکون نہیں….
حنین نے زریاب کو دیکھتے ہی کہا
مطلب..؟؟ زریاب نے مسکرا کر پوچھا جبکہ دبیر اسے گھور رہا تھا.
اچھا خاصا بندہ ہو……نا تب بھی شادی سے پہلے سو دفعہ سوچتا ہے تُو تو پھر زخمی ہے کیا ضرورت تھی اس حال میں شادی کرنے کی وہ بھی اس بلا سے…..
حنین نے کہتے ہوئے قہقہ لگایا جبکہ دبیر کو بہت غصہ آیا
زریاب مار اس کے دو چار….
یہ تو مجھے کبھی نہیں مار سکتا. بڑے احسان ہیں میرے اس کے کندھوں پر….ویسے بھی ابھی اس کا ایک کام میں نے کرنا ہے وہ بھی بہت ضروری والا…ہے ناااااا
حنین نے آنکھ مار کر زریاب کو دیکھا جو دونوں کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا
ویسے میرے پاس ایک آئیڈیا ہے تیرے لیے اگر تو اس پر عمل کرے تو یقین مان ایک مہینے کے اندر اندر پیرنی تیرے قدموں میں ہو گی ……
نہیں تو دوسری صورت میں تو اس کے قدموں میں ہو گا. ویسا میرا دوسری صورت پر زیادہ یقین ہے….
اب کی بار حنین نے قہقے مارتے ہوئے دبیر کی گود میں سر رکھ لیا
اچھا چل بتا کیا آئیڈیا ہے ..؟؟؟
زریاب نے گاؤ تکیہ سے ٹیک لگاتے ہوئے پوچھا
مرد كى پانچ حركات كو عورت بہت پسند كرتى ہے جس كو اكثر لوگ نہيں جانتے:
1۔ عورت كے ہاتھوں كو اپنے ہاتھوں ميں لينا، اس سے بيوى اطمینان اور راحت محسوس كرتى ہے۔
2۔ بيوى كے چہرے اور ماتھے پر لٹكنے والے بالوں كو نرمى سے ہٹانا، ايسا كرنے سے بيوى آپ كو ہر طرح كا تاثر دے گى۔
3۔ بيوى كے آنسوؤں كو اپنى انگليوں سے صاف كرنا، اس ميں عورت اپنے ليے حد درجے كى اپنائيت محسوس كرتى ہے۔
4۔ بيوى كو يہ كہنا كہ مجھے آپ سے محبت ہے، (I love you) حتى كہ بيوى كو غصے كى حالت ميں بھى يہ كہيں، يہ كہنے سے بيوى میں آپ كے ليے لَو فيلنگز پيدا ہوں گى اور ممكن ہے وہ بھى آپ كو ايسے ہى كلمات كا تبادلہ خيال كرے۔
5۔ بيوى كے ماتھے پربوسہ ديتے ہوئے كہيں كہ آپ ميرے ليے اللہ كى طرف سے بہت بڑى نعمت ہیں جو اللہ سبحانہ وتعالىٰ نے مجھے تحفے میں دى ہے…
حنین نے اپنے ہاتھ کی باری باری انگلیاں کھولتے ہوئے کہا
جبکہ دبیر اور زریاب نے اسے بڑے غور سےگھورتے ہوئے ایک ساتھ پوچھا
یار تیرا بڑا تجربہ ہے…..
بات تجربہ کی نہین ہے بات مشاہدہ کی ہے …..
حنین نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے جواب دیا
اور یہ مشاہدہ کہاں سے حاصل کیا ہے ..؟؟
دبیر نے پوچھا
ظاہری سی بات ہے اپنے موم ڈیڈ سے….ہر وقت ہمارے گھر میں لو یو لو یو مووی چل رہی ہوتی ہے کبھی موم ڈیڈ کو کہتی ہیں تو کبھی ڈیڈ موم کو…میں نے آج تک دونوں کو لڑتے نہیں دیکھا. اللہ کرے نرمین بھی میری موم پر جائے میں نے زندگی میں اپنی موم سے اچھی اور خوبصورت “بیوی”نہین دیکھی.
یہ کہتے ہوئے حنین کے لہجہ میں عجیب سی محبت اور آنکھوں میں چمک تھی جسے دونوں نے محسوس کیا.
چل ٹھیک ہے میں کوشش کروں گا تیری باتوں پر عمل کرنے کی..
زریاب نے حنین کو دیکھتے ہوئے کہا
عمل کرے گا تو تیرا ہی فائدہ ہو گا پیرنی کے منہ سے بدعاؤں کی جگہ دعائیں نکلیں گی تیرے لیے…ویسے یہ ہے مشکل….
آخر میں پھر حنین ہنسنے لگا
چل تو بتا تو نے کیا بات کرنی تھی..؟؟؟
حنین نے دبیر کی گود سے اٹھتے ہوئے کہا
وہ عترت کے بارے میں بات کرنی تھی..
دبیر نے کہتے ہوئے شرمندگی سے سر جھکا لیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس دن حنین پر کتنا غصہ کیا تھا
زیادہ شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے میں تجھ سے ناراض نہیں جو تیرا ردِعمل تھا وہ قدرتی تھا تو بس بات بتا ..؟؟؟
حنین نے دبیر کو شرمندگی سے نکالتے ہوئے حوصلہ دیا تب دبیر نے رائحہ کا آئیڈیا اور عترت کا رویہ سب بتا دیا.
یہ سب سن کر حنین کی گول مٹول آنکھیں گھوم گئیں.
یہ آئیڈیا styloo کا ہے..؟؟
ہاں اسی نے دیا ہے..دبیر نے چھت کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا
ٹھیک ہے پھر عمل کر…
حنین نے اپنے آپ کو نارمل کرتے ہوئے کہا
مگر ایک بات ہے اگر تو دو شادیاں کرے گا تو پھر میں بھی دو شادیاں کروں گا.
حنین یہ کہتے ہوئے جوش سے بولا
کیا..؟؟؟ دماغ ٹھیک ہے تیرا..؟؟
زریاب نے حنین کی بات پر تقریباً چیختے ہوئے کہا
تو نہ کریں میں نے تجھے نہیں کہا ویسے بھی تیرے والی چار بیویوں کے برابر ہے…مگر میں تو کروں گا اگر دبیر نے کی تو..
حنین نے ہاتھ اٹھاتے ہوئےحتمی اعلان کیا
یار مزاق نہیں میں سیریس ہوں میں ایک ایسی لڑکی سے کیسے شادی کر لوں جسے میں نے کبھی دیکھا نہیں اور اس سے بھی گلٹ والی بات یہ ہے کہ کسی معصوم کو میں اپنے انتقام کی بھیڑ چڑھا دوں یہ میں نہیں کر سکتا مگر عترت…؟؟؟
دبیر نے بیچارگی سے دونوں کو باری باری دیکھا
اچھا سوچتے ہیں اس مسئلے پر…….پہلے زریاب کو تو اس کے گھر کا کر دیں اور ہاں پیرنی کو بتا دینا میں تیرے فلیٹ پر آتا جاتا رہوں گا میں تیرے سے لاپرواہی نہیں برت سکتا ہم نے تجھے بیاہا ہے پیرنی ساتھ بیچا نہیں…..
جیسے ہی حنین نے یہ باتیں کیں دبیر اور زریاب ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئے
عصر کے بعد ولیمے کا فنکشن سٹارٹ ہوا زریاب نے کیمل کلر کا تھری پیس سویٹ پہنا ہوا تھا جبکہ ماہ نور نے سرخ، لیمن اور پیچ کلر کا کامدار فراق پہنا تھا دونوں کی جوڑی بہت پیاری لگ رہی تھی ماہ نور زنان خانے میں اور زریاب مردان خانے میں تھا
زریاب کو اسٹیج پر بیٹھا دیکھ کر حنین ہنستے ہوئے اس کے پاس جا بیٹھا اور سرگوشی کرنے والے انداز مین بولا
ساری شادی میں سب سے معصوم مخلوق دولہا ہوتا ہے جسے سب سے اونچی جگہ بیٹھا دیا جاتا ہے بیچارہ ہل جل بھی نہیں سکتا قسم سے “جوکر” لگتا ہے مگر اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ہر بندہ چاہے وہ جیسا بھی ہو زندگی میں ایک بار تو اسپیشل پروٹوکول سے گزرتا ہے
اور ہنستا ہوا نیچے اتر آیا
ماہ نور کو باری باری سب نے ہدایات دیں کہ زریاب کا بہت خیال رکھنا ہے اس کی خوراک سے لے کر آرام تک اور ہمیں روز فون پر اسکی خیریت بتاتی رہنا.
ماہ نور سب کو “ہوں” ،”ہاں” میں جواب دے رہی تھی اور اندر سے بہت دکھی ہو گئی تھی
میری کسی کو فکر نہیں میں بھی تو پہلی بار گھر سے دور جا رہی ہوں میں وہاں کیسے رہوں گی ..؟؟؟ مجھے سب یاد آئیں گے ..؟؟ مگر یہاں تو میری کسی کو فکر ہی نہیں ہے سب کہ سب زریاب کی فکر میں گھل رہے ہین. میرا دل کرتا ہے زریاب کو زہر دے دوں…..
ماہ نور ایک بار پھر بدگمانی کی انتہا پر تھی
مغرب تک سارا فنکشن ختم ہوا اور سب اپنی اپنی گاڑیوں کی طرف بڑھنے لگے سردار دلاور اور حشمت علی خان نے خاص طور پر حنین اور دبیر کی فیملی کا شکریہ ادا کیا اور بہت سارے تحفے تحائف دیتے ہوئے یہ گزارش کی کہ آپ پلیززز ماہ نور کو زریاب کے فلیٹ پر پہنچا کر پھر اپنے گھر جائیں .
ماہ نور کو رخصت کرتے ہوئے پارو اور ماہین رو پڑیں جبکہ بیگم کوثر اور بیگم نسرین بھی غمزدہ تھیں.
سردار حشمت نے سب سے آخر میں ماہ نور کو اپنے سینے ساتھ لگایا ناچاہتے ہوئے بھی ماہ نور باپ کے سینے سے لگتی ہوئی رو پڑی پھر سردار دلاور نے ماہ نور کو پیار کیا اور اسے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھایا ماہ نور نے کالی چارد منہ تک لی ہوئی تھی.
پھر سب زریاب سے باری باری ملے سردار دلاور نے خاص طور پر زریاب کو کہا کہ وہ ماہ نور کا خیال رکھے.
زریاب بھی پچھلی سیٹ پر ماہ نور ساتھ بیٹھ گیا جبکہ آگے ڈرائیور اور گارڈ بیٹھ گئے. دبیر، حنین اور زریاب کی گاڑیاں آگے پیچھے نکلی اور سردار دلاور اور افراسیاب ایک ایک جیپ لے کر ان گاڑیوں کو گاؤں سے باہر چھوڑنے گے