Hichkiyan Muhabbat Ki Season 1 By Amna Mehmood Readelle50146 Episode 15 Pt.2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 15 Pt.2
صبح صبح حنین زریاب کے فلیٹ پر موجود تھا. گھنٹی پر یاتھ رکھ کر ہمیشہ کی طرح اٹھانا بھول گیا تھا
زریاب جو ابھی تھوڑی دیر پہلے اٹھا تھا اس طرح اچانک ھنین کے آنے پر پریشان ہو گیا
دروازہ کھلتے ہی حنین سیدھا ٹی وی لاؤنچ میں پڑے صوفے پر گرا اور زریاب کو دیکھ کر بولا
“کچھ لوگوں کو دیکھ کر “کیسے ھو”
نہیں بلکہ!
“کیوں ھو” پوچھنے کا دل کرتا ھے😂
کیا تکلیف ہے تجھے…..؟؟؟؟
گاؤں کیوں نہیں جا رہا ہے..؟؟؟
اور یہ تیرا فون کیوں بند ہے..؟؟؟
پتہ صبح سے کتنی کالز تیرے گھر سے آ چکی ہیں.
حنین نے بغیر سانس لیے زریاب کی کلاس لے ڈالی.
اچھا تو، تُو اس لیے آیا ہے.
زریاب نے سلیپنگ سوٹ پہنا ہوا تھا.اور انکھیں رت جگے کی چغلی کھا رہیں تھیں.
جی اسی لیے آیا ہوں اور مجھے حکیم نے نہیں کہا کہ نہار منہ تیری شکل دیکھو….
حنین نے بیزاری سے جواب دیا.
زریاب ہنستا ہوا کچن میں چائے کا پانی رکھنے لگا.جبھی حنین کچن میں داخل ہوا اور شلف پر چڑھ کر بیٹھ گیا
میں نے ناشتہ نہیں کیا ہوا.
کونین نے صرف چائے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
بناتا ہوں ناشتہ صبر کر…
زریاب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا.
آج ماہ نور کا نکاح ہے نااااا.
حنین نے زریاب کے چہرے کا جائزہ لیتے ہوئے کہا
ہاں یار اسی لیے نہیں جا رہا.تو نے خودہی کہا تھا محبوب کے نکاح کے چھوارے کھانا میرے بس کی بات نہیں یہ کہتے ہوئے زریاب نے فریج سے بریڈ نکالی
وہ سارے تجھے بلا رہے ہیں حنین نے اتنا کہا تو ایک بار پھر ڈور بل بجی لگتا ہے دبیر آ گیا.
حنین نے شلف سے چھلانگ لگائی اور دروازہ کھولنے چلا گیا.
زریاب نے جلدی سے انڈے پھینٹے.
حنین نے دروازہ کھولا تو چیخ پڑا کیا ہوا ہے تیرے بازو پر یہ پٹی کیوں باندھی ہے..؟؟؟
.جبکہ دبیر سیدھا کچن میں آکر زریاب سے بولا
کیا تکلیف ہے تجھے ..؟؟
فون کیوں بند جا رہا ہے تیرا…؟؟؟
زریاب نے انڈا بریڈ پر لگاتے پلٹ کر دبیر کو دیکھا اور کہا
بازو پر کیا ہوا ہے تیرے…؟؟
یہی میں نے بھی پوچھا ہے حنین جو کچن میں داخل ہو رہا تھا زریاب کی تائید کرتے ہوئے بولا.
کچھ نہیں یار کل دراصل نرمین کے لیے فلاور لینے شاپ پر گیا تھا بس وہاں مجھ سے vase ٹوٹ گا اور چوٹ لگ گئی.دبیر نے بتاتے ہوئے سٹول اپنی طرف کھینچا اور زریاب اور حنین کے درمیان بیٹھ گیا.
حنین شلف پر بیٹھا دبیر کا جائزہ لے رہا تھا.
آپ شاپ پر اکیلے گئے تھے آپ کو اس بات کا یقین ہیں..؟؟
حنین نے اپنی گھول مٹول انکھیں گھما کر دبیر کو دیکھا
کیا مطلب ہے تیری بات کا..؟؟ دبیر نے بات گھمانا چاہی.
جانی ایک مشہور کہاوت ہے کہ
” گھر کے بچے کے دانت گنے ہوتے ہیں”
مطلب آپ بغیر وجہ کے vase پر گر گئے بات ہضم نہیں ہو رہی.
چل اب پوری بات بتا دے حنین نے دبیر کو دیکھتے ہوئے کہا
دبیر نے ایک نظر زریاب کو دیکھا جو اب توے پر بریڈ تل رہا تھا اور پھر حنین کو دیکھ کر ساری بات بتا دی.
واہ جی مبارک ہو…..styloo نے اپنے ہاتھ سے پٹی باندھی اب تو اسے اتاری نہ بلکہ اس کا تعویز بنا کر گلے میں لٹکا لے.
حنین نے ہنستے ہوئے کہا
تعویز کی مجھے نہیں زریاب کو ضرورت ہے.دبیر نے زریاب کے اترے ہوئے چہرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
“جب قسمت ہی خراب ہو، تو پھر تعویز کی جگہ گلے میں
مولوی بھی باندھ لو، تو بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔”
حنین نے جواب دیا.
مجھے ایسا لگتا ہے کہ جب تو مجھے دیکھتا ہے تو تجھ پر “بکواسیات “کا نزول ہوتا ہے
زریاب نے فرائی بریڈ چائے جیم ٹرے میں رکھتے ہوئے حنین سے پوچھا.اور خود ٹرے اٹھا کر ٹی وی لاؤنچ میں ٹیبل پر ناشتہ لگا دیا.
حنین اور دبیر ہنستے ہوئے اس کے پیچھے پیچھے کچن سے باہر آگئے.
اب تینوں ناشتہ کر رہے تھے.جب حنین نے کہا
میں تیرے ساتھ آج گاؤں جا رہا ہوں…
جی نہیں تجھے تو میں کبھی بھی گاؤں نہ لے کر جاؤں…
اتنی دشمنی ہے ہماری، اللہ نہ کرے تجھے کچھ ہو گیا تو…؟؟؟
نہ بابا یہ ناممکن ہے.
زریاب نے دو ٹوک لہجے میں کہا
میں جا ریا ہوں تیرےساتھ اور بس…..؟؟
اگر تو خود شرافت سے نہیں جائے گا تو مجبوری مجھے ساتھ جانا پڑے گا
حنین نے بریڈ کھاتے ہوئے کہا
یار تو سمجھتا کیوں نہیں….؟؟؟ زریاب نے بےبسی سے حنین اور پھر دبیر کو دیکھا
اسے کیا دیکھ رہا ہے اسے تو خود کسی بات کا پتہ نہیں بازو لے کر بیٹھا ہوا ہے.حنین نے شرارت سے دبیر کو آنکھ ماری
تو اپنی بکواس بند کر اور زریاب کے مسئلہ کا حل نکال.دبیر نے چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے کہا
تُو ابھی تھوڑی دیر میں گاؤں کے لیے نکلے گا اور وہاں جا کر پھڈا ڈال دے گا کہ میں نے ماہ نور سے شادی کرنی ہے سمجھے.
حنین نے زریاب کی طرف دیکھ کر کہا
یہ اتنا آسان نہیں ہے جتنا حنین تو سمجھ رہا ہے اگر یہ سب اتناآسان ہوتا تو میں کب کا کر چکا ہوتا.زریاب نے اپنی پیشانی رگڑتے ہوئے کہا
پتہ مجھے لگتا تھا ہم تینوں میں سب سے زیادہ شدت زریاب کی محبت میں ہے کبھی کبھی مجھے پیرنی سے جیلسی ہونے لگتی ہے.اتنا پیار کرتا ہے تو اسے…
میرا دل کرتا کاش میں پیرنی ہوتا.حنین کا اتنا کہنا تھا کہ دبیر اور زریاب قہقہ لگا کر ہنسے.
مگر اب مجھے لگتا تری محبت محض ڈرامہ ہے.اگر تجھے اس سے سچی محبت ہے تو جا کر اسے اپنا بنا لے.کبوتر کی طرح آنکھیں بندکرنے سے کچھ نہیں ہو گا.ہمت کرے گا تو بات بنے گی.یاد رکھ آج اگر تو نہ گیا تو ساری زندگی تجھے یہ دکھ رہے گا کہ اگر میں چلا جاتا تو شاید حالات کچھ اور ہوتے….
حنین نے سمجھاتے ہوئے کہا
اچھا دیکھتا ہوں مگر ایک اور بات بھی ہے…؟؟؟
زریاب نے ہونٹ کاٹتے ہوئے حنین کو دیکھا
کیا…؟؟؟؟حنین نے انکھیں مٹکائیں
یار وہ ماہ نور مجھے پسند نہیں کرتی اور میں اس کے ساتھ زبردستی نہیں کرنا چاہتا.زریاب نے بیچارگی سے دونوں کو دیکھ کر کہا
ماہ نور کی تو تُو فکر نہ کر مجھے لگتا ہے اس کا software خراب ہو گیا ہے reinstall ہو گا تو وہ ٹھیک ہو جائے گی.حنین نے جواب دیا
کیا کیسے…..؟؟ زریاب اور دبیر نے ایک ساتھ کہا
سمپل سی بات ہے تھوڑی سی پٹائی کر اس کی جو virus اس کے دماغ میں ہے وہ خودبخود ختم ہو جائے گا.ڈنڈا سب سے بڑا استاد ہے بس پھر عیش کر…
حنین نے معصومیت سے وضاحت دی
شرم کر کچھ تو مجھے صاف لفطوں میں اسے مارنے کا کہہ رہا ہے.زریاب نے افسوس سے کہا
یہ اس کے مستقبل کے لیے بہت ضروری ہے.ماں باپ اساتزہ بھی تو مارتے ہیں بچے کے اچھے مستقبل کے لیے…
حنین نے زریاب کو قائل کرتے ہوئے کہا اور ہاں پریشان نہ ہو تو اکیلا نہیں جو محبوبہ کے نکاح کے چھوارے کھائے گا مجھے تو اپنا کیس بھی ایسا ہی لگ رہا ہے ہم دونوں کا دکھ ایک جیسا ہے حنین نے اٹھ کر زریاب کو گلے لگایا
کتنی دفعہ کہا ہے میرے ساتھ چپکا نہ کر…..
زریاب نے حنین کو پیچھے کرتے ہوئے کہا
تیرا کیس ایسا کیوں ہے..؟؟؟
دبیر نے پوچھا
یارر اس کا باپ کہیں اور اس کا رشتہ کرنا چاہ رہا ہے..؟؟
حنین کو نرمین کی آخری کال یاد آ گئی.
پتہ میں شادی کے بعد سب سے پہلا کام کیا کروں گا.
حنین نے گول مٹول آنکھیں گھما کر باری باری دونوں کو دیکھتے ہوئے کہا
کیا..؟؟ دبیر نے پوچھا جبکہ زیاب نے ناشتے کے برتن سمیٹ کر کچن کی راہ لی
میں سب سے پہلے نرمین کا DNA کرواؤں گا اور دیکھ لینا وہ احمد مراد کی بیٹی نہیں نکلے گی…
حنین نے جیسے ہی یہ الفاظ کہے دبیر کو غصہ آ گیا کیا بکواس کر رہا ہے سوچ سمجھ کر بولا کر جو منہ میں آتا پے بولتا رہتا ہے.تجھے پتہ ہے اس بات کا کیا مطلب بنتا ہے.دبیر نے غصہ سے کہا
ہاں مجھے معلوم ہے جو میں نے کہا ہےیار تم خود دیکھوں نرمین اپنے بہن بھائی ماں باپ سب سے مختلف ہے نہ شکل سے ملتی ہے اور نہ ہی عقل سے مجھے لگتا احمد مراد نے کسی کی بچی اغوا کر کے پالی ہے جب یہ ثابت ہو جائے گا تو میں احمد مراد کو جیل بھجوا دو گا.یہی سزا ہونی چاہیے اس کی پھر میرا بدلا بھی پورا ہو جائے احمد مراد سے…
حنین نے دبیر کو دیکھتے ہوئے جواب دیا جس کا منہ حیرت سے کھلا ہوا تھس
یار کچھ خدا خوفی کر نرمین کو پتہ چلا تو وہ کیا سوچے گی..؟؟
زریاب نے صوفےپر بیتھٹے ہوئے کہا
کچھ نہیں سوچے گی اس میں اتنی عقل نہیں کہ وہ کچھ سوچے اس کی اوپر والی منزل خالی ہے…..
حنین نے ہنستے ہوئے کہا
چل اب تیار ہو جا جلدی سے اور ہاں میں تیرے ساتھ گاؤں جا رہا ہوں مزید کوئی بحث نہیں حنین نے حتمی انداز میں کہا
زریاب سر ہلاتا کمرے کی طرف بڑھ گیا.
حنین کی نطر دبیر پر پڑی تو مسکرا کر دبیر کو مخاطب کیا جو اپنی پٹی کو دیکھ رہا تھا
“عورت اگر خوبصورت ہونے کیساتھ ساتھ پاگل بھی ہوتو اس سے محبت نہیںعشق ہو جاتاہے_
کیا خیال ہے تیرا؟؟؟؟؟؟؟؟ اشارہ رائحہ کی طرف تھا”
دبیر نے کشن اٹھا کر حنین کے منہ پر مارا اور کہا
کبھی تو اس منہ کو بند کر لیا کر….جبکہ حنین ہنس رہا تھا
زریاب صحیح کہہ رہا ہے تو اس کے ساتھ گاؤں مت جا.. ..
دبیر نے حنین کو فکرمندی سے کہا
میرا جانا ضروری ہے اگر میں اسے ہمت دوں گا تو مجھے یقین ہے کہ یہ ماہ نور سے نکاح کرنے میں کامیاب ہو جائے گا.میں اسے ساری زندگی دکھی نہیں دیکھ سکتا….
اب کی بار حنین کا لہجہ بہت نرم تھا
اچھا اور اپنے بارے میں کیا خیال ہے..؟؟
دبیر نے حنین سے نرمین کے بارے میں پوچھا…؟؟
یار وہ ٹھیک ہے آج رات تک ڈسچارج ہو جائے گی..؟؟؟
حنین نے جواب دیا
ویسے بہت گھٹیا حرکت کی تو نے کیا تھا اگر ہسپتال اسے دیکھنے چلا جاتا.؟؟
دبیر نے افسوس سے گردن ہلائی
اتنے میں زریاب تیار ہو کر آ گیا.
(وائٹ شلوار قمیض پر بلیک واسکوٹ اور سر پر پشاوری ٹوپی پاؤں میں کھسے بہت ہی زبردست لگ رہا تھا.)
میں نے بھی کہا تھا مگر یہ نرمین کو دیکھنے نہیں گیا زریاب نے ہاتھ پر گھڑی باندھتے ہوئے دبیر کی بات آگے بڑھائی
تم دونوں کو یقین ہے کہ میں نہیں گیا…؟؟
حنین نے شرارت سے مسکراتے ہوئے پوچھا
ہاں تو نے تو خودہی کہا تھا……
زریاب نے جواب دیا اور دبیر نے اس کی ہاں میں گردن ہلائی.
تم دونوں کو کیا لگتا ہے کہ میں نے سچ بولا تھا..؟؟
حنین نےاپنی آنکھیں مٹکائیں.
ہاں..دونوں نے ایک ساتھ کہا
رئیلی…..حنین نے تصدیق چاہی
اب دونوں کی سمجھ میں کچھ آیا.
حنین کے بچے……
دبیر نے زور سے چیخ کر کشن حنین کی طرف اچھالا جسے آسانی سے اس نے کیچ کر لیا
………………….
