Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24 Pt.1


عترت یونی سے واپس آئی تو کافی پریشان لگ رہی تھی. الاؤنچ مں بیٹھی اماں بی کو سلام کر کے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی.
کمرے میں داخل ہوتے ہوئے ہاتھ میں پکڑی تمام چیزیں بیڈ پر پھینکی اور خود اوندھے منہ بیڈ پر لیٹ گئی.
اسے کونین پر بہت غصہ آ رہا تھا. بھلا اس میں ناراض ہونے والی کون سی بات ہے..؟؟؟ میں نے کیا غلط کہا تھا..؟؟ اب یہ کوئی اچھا لگتا ہے کہ میں منہ اٹھا کر اس کے گھر چلی جاؤں. کتنے حالات خراب ہیں.؟؟ کسی کےمنہ پر تو نہیں لکھا ہوتا کہ وہ “شیطان ” ہے یا “رحمان”..؟؟
اور یہ حنین بھائی کو دیکھو..کہہ رہے تھے میں خود دبیر سے بات کر لوں گا. ابھی تک بات نہیں کی ..اور خود بھی غائب ہو گئے ہیں
ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ اماں بی نے کمرے کا دروازہ کھولا اور عترت کے پاس بیڈ پر آ کر بیٹھ گئیں.
کیا ہوا ہے..؟؟؟ کسی نے کچھ کہا ہے تم سے…؟؟؟نہ کھانے کا شور مچایا نہ بھائی کا پوچھا….
انھوں نے عترت کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے نرمی سے پوچھا
کچھ نہیں بس ویسے ہی…عترت کہتی ہوئی اٹھ بیٹھی جبکہ اس کا دل کر رہا تھا کہ ماں کو کونین کے بارے میں سب بتا دے مگر جو رائے انھوں نے ہالہ بی کے لیے دی تھی اس کے بعد وہ اماں بی سے کچھ شئیر کر کے اپنے آپ کو زیادہ دکھ نہیں پہنچانا چاہتی تھی آگے ہی وہ بہت ٹنس تھی
آپ بتائیں بھائی کہاں ہیں…؟؟؟
ارے وہ بیچارہ تو رات سے ہسپتال میں ہے.پھر اماں بی نے ساری تفصیل عترت کو بتائی.
یہ تو بہت برا ہوا حنین بھائی ٹھیک ہیں..؟؟؟
سب سن کر عترت نے پوچھا
ہائے لڑکی تیراتو دماغ کام نہیں کر رہا میں کہہ رہی ہوں زریاب کی حالت خراب ہے اور تو کہہ رہی ہے حنین کیسا ہے..؟؟؟ بھئی وہ توشکر ہے کافی بہتر ہے اسے توگولی بھی ایک ہی لگی تھی.دبیر بیچارہ زریاب کی وجہ سے بہت پریشان ہے کہہ رہا تھا اماں بی اس کے لیے دعا کریں کہ وہ جلد ہوش میں آ جائے……
اماں بی نے کہتے ہوئے ایک نظر عترت پر ڈالی تو دوسری گھڑی پر….چل اب اٹھ جا فریش ہو کر باہر آ میں نے بھی ابھی تک تیرے انتظار میں کھانا نہیں کھایا …..
اچھا آپ چلیں میں فریش ہو کر آتی ہوں.
……………………………..
اس وقت سب ہی زریاب کے کمرے میں موجود تھے.سردار دلاور علی خان خوشی سے رو رہے تھے.ڈاکٹرز نے بات کرنے سے منع کیا تھا مگر سب ہی کی کوشش تھی کہ زریاب ان سے کچھ نہ کچھ بات ضرور کرے.زریاب بولنے کی کنڈیشن میں تو نہیں تھا مگر سب کو آنکھیں گھما کر دیکھ رہا تھا جب اسے کمرے میں حنین نظر نہیں آیا تو بہت مشکل سے ہمت جمع کرکے بولا…
بابا حنین…؟؟؟
وہ ٹھیک ہے بیٹا سائیں….
آپ فکر نہ کریں ابھی آ جاتا ہے ڈاکٹر نے تمہارے پاس رش ڈالنے سے منع کیا تھا اس لیے ہم نے سوچا کہ باری باری تم سے ملتے ہیں…..
افراسیاب نے زریاب کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا..
لالہ آپ نے تو ہماری جان ہی نکال لی تھی مت پوچھیں کیا حالت ہوئی ہماری،حویلی میں سب ہی پریشان تھے آپ کے لیے دعائیں مانگ رہے تھے.
جیسے ہی افراسیاب نے حویلی کا ذکر کیا زریاب نے ایک سرد آہ بھری.
کیا ہوا لالہ درد ہو رہا ہے…..
افراسیاب نے بےچینی سے پوچھا
حنین کو بلا دو….؟؟؟
زریاب نے جواب دیا
اچھا…….بلاتا ہوں
افراسیاب نے کمرے سے باہر نکلتے ہوئے ماہین کو کال کی
…………………………….
سردار حشمت علی خان کی خوشی دیدنی تھی جیسے ہی ماہین نے آکر بتایا کہ افراسیاب کا فون تھا لالہ کو ہوش آ گیا ہے.
شکرانے کے نفل ادا کیے گئے میلاد کا بندوبست ہوا نظر و نیاز بانٹی گئیں. حویلی کا ہر فرد خوش تھا سوائے ماہ نور کے…..وہ اپنے کمرے میں بیٹھی سوچ رہی تھی.
زریاب تم بہت خوش قسمت ہوں سب تمہیں کتنا پیار کرتے ہیں کیسے تمہاری تکلیف میں ٹرپ رہے تھے جیسے گولیاں تمہیں نہیں انھیں لگیں ہوں اور اب دیکھو ان کی خوشی………
یہ تو ناانصافی ہے گھر کے ایک بچہ سے اتنا پیار اور ایک بچے کو آپ انسان ہی نہ سمجھیں.
زریاب میں چاہ کر بھی تمہیں معاف نہیں کر سکتی جب سب تم سے اتنا پیار کرتے ہیں تو ایک میرے نہ کرنے سے تمہیں کیا فرق پڑے گا…..؟؟؟
ماہ نور مسلسل غلط سوچ رہی تھی.جب کمرے میں کوثر بیگم داخل ہوئیں
ماہ نور چلو چادر لے کر باہر آجاؤ ہم سب زریاب کو دیکھنے تمہارے بابا سائیں ساتھ ہسپتال جا رہے ہیں.
مگر اماں سائیں میں وہاں جا کر کیا کروں گی…؟؟؟
ماہ نور نے ماں کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا..؟؟؟
پاگل ہو گئی ہو کیا..؟؟ یہ کیا سوال ہے..؟؟ ظاہری سی بات ہے جب ہمارا کوئی عزیز بیمار ہوتا ہے تو اس کی عیادت کے لیے جانا سنت بھی ہے اور روایت بھی….وہ تو پھر تمہارا شوہر ہے
کوثر بیگم کو ماہ نور کے سوال پر غصہ آیا
آپ لوگوں نے اسے میرا زبردستی شوہر بنا دیا ہے مجھے کوئی شوق نہیں تھا اس سے شادی کرنے کا ویسے بھی مجھے چچا سائیں نے کہا تھا کہ……
ابھی ماہ نور کے منہ میں یہ الفاظ آئے ہی تھے کہ آگے بولنے سے وہ رک گئی اسے یوں رکتا دیکھ کر کوثر بیگم بولیں.
مجھے نہیں پتہ تم چچا بھتیجی نے اس دن کیا کھچڑی پکائی تھی تم نے نہیں جانا تو نہ جاؤ میں تو اپنے بیٹے کو دیکھنے ضرور جاؤں گی.
کوثر بیگم غصہ سے کہتی ہوئیں کمرے سے باہر نکل گئیں.
…………………………….
حنین اور دبیر اس وقت زریاب پاس کھڑے تھے جبکہ زریاب نے ہلکا سا مسکرا کر حنین نے پوچھا
کیسی طبیعت ہے تیری…؟؟؟
دبیر اسے کہہ کہ مجھے مسکرا کر نہ دیکھے ورنہ میں نے اس کا منہ توڑ دینا ہے اول تو یہ مجھے ویسے ہی اچھا نہیں لگتا اوپر سے اس طرح تو بلکل بیکار لگ رہا ہے….
حنین نے منہ بناتے ہوئے زریاب کی طرف اشارہ کیا
مگر مجھے تو تُو ہر حال میں اچھا لگتا ہے..؟؟؟
زریاب نے نقاہہت بھری آواز میں جواب دیا
جب تجھے بڑوں نے منع کیا تھا تو پھر کیا ضرورت تھی میرے ساتھ آنے کی…..پتہ کتنی تکلیف اٹھانی پڑی دبیر بیچارہ کو ہم دونوں کی وجہ سے ….وہ تو بھلا ہو styloo کا جو ہمارے اور دبیر کے کام آئی ورنہ تو نے گولیوں سے اور دبیر نے بھوک سے مر جانا تھا ہاں البتہ جیسے تیسے میں جی ہی لیتا…..
آخر میں حنین نے مسکرا کر دبیر کو دیکھا
زریاب دفع کر تجھے تو پتہ ہے اسے تجھے دیکھتے ہی بکواسیات کے دورے پڑتے ہیں
دبیر نے اپنا حساب حنین ساتھ برابر کیا
“دفع کر”وہ بھی مجھے یعنی حنین ملک کو…
حنین نے اپنی گول مٹول آنکھیں گھما کر پوچھا
یار بس کر کیا ہو گیا ہے تجھے..؟؟؟
ڈاکٹرز نے منع کیا ہے کہ زریاب پاس شور نہیں کرنا اور نہ ہی اس سے زیادہ باتیں کرنی ہیں.
دبیر نے حنین کو بحث سے روکا
یار ڈاکٹرز کی ایسی کی تیسی زریاب توبتا میں جاؤں…؟؟؟
حنین نے معصومیت سے پوچھا
زریاب نے تھوڑا سا سر کو نفی میں ہلایا.
دیکھا زریاب نہیں چاہتا کہ میں یہاں سے جاؤں.ہاں البتہ تو جا اور جا کر “اسے”منع لے.
حنین نے دبیر سے کہا جبکہ زریاب نے انکھوں کے اشارے سے پوچھا کسے..؟؟؟
اُسے یار جس سے یہ سینڈوچ اور چائے کھاتا پیتا رہا ہے یعنی اپنی styloo …….
اب کی بار زریاب نے دبیر کی طرف دیکھا اور کہا
کیا بنا تیرا…؟؟؟
کچھ نہیں …بننا کیا تھا یہ تیرا ہی بھائی ہے وہ کیا کہا ہے کسی شاعر نے
“ہم نے یک طرفہ محبت میں جلا دی کشتی
جناب کی سمت سے نہ ہاں ہے، نہ ہُوں ہے، یوں ہے”
دبیر کی بجائے حنین نے جواب دیا
لگتا ہے تو نہیں چاہتا کہ تیرا زخم صحیح ہو…؟؟؟
دبیر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا