Hichkiyan Muhabbat Ki Season 1 By Amna Mehmood Readelle50146 Episode 30 Pt.1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 30 Pt.1
ماہ نور فریش ہو کر جب واش روم سے نکلی تو زریاب کو سوتا دیکھ کر پہلے تو بہت حیران ہوئی پھر شکر ادا کیا کہ آج کی بحث سے جان چُھوٹی….
وہ کمرے کا جائزہ لے کر باہر جانے لگی تو نظریں دوبارہ زریاب پر رک گئیں.کچھ دیر کھڑی ہو کر اسے دیکھتی رہی پھر کسی خیال کے تحت آگے بڑھ کر کمبل اس پر اوڑھا دیا اور خود کمرے سے باہر نکل گئی.
یہ فلیٹ دو کمروں ایک کچن اور ایک الاؤنچ پر مشتمل تھا.
ساتھ والا کمرہ زریاب کے کمرے کی نسبت سادہ اور چھوٹا تھا. باقی ترتیب ایک جیسی ہی تھی یعنی ایک باتھ اور ایک سٹور کمرے ساتھ اٹیچ تھا ایک دیوار پر لکڑی کی کبڈ بنی ہوئی تھی کارپٹ کے ہم رنگ پردے کمرے کی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہے تھے وہ اس کمرے سے ہوتی ہوئی کچن میں داخل ہوئی امریکن طرز کا یہ کچن استعمال کرنے والے کی نفاست کا منہ بولتا ثبوت تھا. کبڈ اور فرج کا اچھا طرح جائزہ لیا اور آخر میں الاؤنچ میں پڑے صوفے پر پاؤں اوپر کر کے بیٹھ گئی.
فلیٹ تو اچھا ہے مگر کافی چھوٹا ہے…….
ماہ نور نے دل میں سوچا.( جتنی بڑی حویلی سے وہ آئی تھی یہ فلیٹ اس کے آگے کچھ بھی نہیں تھا)
اور اس فلیٹ میں صحن کیوں نہیں ہے..؟؟؟
اس خیال کہ آتے ہی وہ پھر کھڑی ہوئی اور الاؤنچ کا جائزہ لینے لگی اب کی بار اسے ٹیرس کا دروازہ نظر آیا وہ اس طرف بڑھ گئی.
دروازہ کھولتے ہی ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ماہ نور سے ٹکرایا اور اس کے پورے جسم میں سردی کی لہر دوڑ گئی مگر آسمان اور منی پلانٹ کے پودے نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا اور وہ انھیں دیکھنے کے لیے ٹیرس میں داخل ہو گئی پر سردی کی وجہ سے بمشکل دو منٹ ہی رک پائی پھر دوبارہ الاؤنچ میں صوفے پر آ کر بیٹھ گئی. اور سجاوٹ دیکھنے لگی ماہ نور کو سجاوٹ بہت پسند آئی تھی
مگر اب مسئلہ یہ تھا کہ اسے نیند آرہی تھی اور اس نے سونا کہاں ہے یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی..؟؟؟
کافی دیر سوچنے کے بعد وہ اٹھی گھر والوں کی نصیحتوں کا اثر تھا یا اماں بی اور بیگم غزالہ کی باتوں کا……خیر جو بھی تھا وہ زریاب کے کمرے میں داخل ہوئی دروازہ بند کر کہ آہستہ آہستہ بیڈ کی طرف بڑھی تاکہ زریاب اٹھ نہ جائے آرام سے بیڈ پر بیٹھ کر کمبل اپنے اوپر لے کر لیٹ گئی مگر اتنی تھکن کے باوجود اسے نیند نہیں آ رہی تھی ایک تو جگہ کی تبدیلی اور دوسرا زریاب کا ساتھ وہ دونوں باتوں سے ہی پریشان تھی
ابھی وہ انہی سوچوں میں گم تھی جب زریاب نے کروٹ لی ماہ نور نے جلدی سے اپنی آنکھیں بند کر لیں جیسے وہ بہت دیر سے سو رہی ہو.
زریاب کو اپنے علاوہ بھی بیڈ پر کوئی دوسرا وجود محسوس ہوا . آنکھیں کھولنے پر پہلے تو اتنی مدھم لائٹ میں اسے کچھ سمجھ نہیں آئی مگر جب دماغ اور آنکھوں نے ساتھ دیا اور سامنے کا منطر کلئیر ہوا تو زریاب کے ہونٹوں کو مسکراہٹ نے چھوا.اس کا خیال تھا کہ ماہ نور دوسرے کمرے یا صوفے پر سوئے گی ..؟؟ اس کے ساتھ بستر پر کبھی نہیں..؟؟
تم مجھے ہمیشہ حیران کر دیتی ہو…؟؟؟
زریاب نے ماہ نور کو دیکھتے ہوئے سوچا
پھر اللہ کا شکر ادا کیا کہ میں ان خوش نصیبوں میں سے ایک ہوں جنھیں ان کی محبت جائز طریقے سے مل جاتی ہے اور وہ ایک مطمئن اور پر سکون زندگی گزارتے ہین ورنہ جو لوگ اپنی محبت حاصل نہیں کر پاتے وہ چاہے دنیا کی تمام نعمتیں حاصل کر لیں مگر پھر بھی ایک “کسک” ان کے دل میں باقی رہ جاتی ہے اور یہ جو “کسک” نام کی چیز ہوتی ہے یہ بندے کو ساری زندگی چین سے بیٹھنے نہیں دیتی.
پھر زریاب کو حنین کی باتیں یاد آگئیں “تو ایک شیطان چیز ہے مگر ہے کمال کی….؟؟؟
زریاب نے حنین کے بارے میں سوچتے ہوئے دل میں کہا پھر آہستہ سا ماہ نور کے بالوں کو کان کے پیچھے کیا.
زریاب کا لمس محسوس کرتے ہی ماہ نور نے ناگواری سے آنکھیں کھول کر زریاب کو دیکھا.
مجھے امید نہیں تھی کہ تم میرے ساتھ سوؤں گی..؟؟؟
زریاب نے ماہ نور کو اپنی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
یہ کوئی فم ،ڈرامہ یا ناول کا سین نہیں ہے جس میں ہیروئن سارا سال صوفے پر گزار دیتی ہے یہ اصل زندگی ہے اس میں ایسا کچھ نہیں ہوتا دوسرا مجھے تمہاری خدمت کے لیے بھیجا گیا ہے اور تم بےفکر رہو میں اپنی ڈیوٹی پوری ایمانتداری سے ادا کروں گی کیونکہ مجھے اپنے رب سے بہت ڈر لگتا ہے مجھے اپنے فرائض کا اچھی طرح علم ہے اب تم میرا دماغ نہ چاٹو اور سو جاؤ…..
ماہ نور نے کہتے ہوئے دوسری طرف کروٹ لے لی.
❤اُلجھن کیا بتاؤں؟؟؟؟ میں تُمہیں اپنے دل کی…. !!❤
❤تیرے ہی گلے لگ کر… !!! تیری ہی شکایت کرنے کو جی چاہتا ہے…❤
تم ہر وقت اتنی بدگمان کیوں رہتی ہو…؟؟؟؟
زریاب کو ماہ نور پر پھر افسوس ہوا.
زریاب میں اس وقت بحث کے موڈ میں نہیں….
ماہ نور نے بغیر مڑے جواب دیا
ابھی تو تم نے کہا تمہیں اپنے فرائض کا پتہ ہے…؟؟؟
زریاب نے ذومعنی انداز میں ماہ نور کی چٹیا پکڑتے ہوئے پوچھا
اپنے زخم دیکھو اور اپنی حرکتیں……ڈاکٹرز نے آرام کا مشورہ دیا ہے
ماہ نور نے غصہ سے کہتے ہوئے اپنی چٹیا زریاب کے ہاتھ سے لیتے ہوئے اپنے آگے کی …..
ماہ نور کو سوتا دیکھ کر زریاب کو شرارت سوجھی اس کا دل ماہ نور سے باتیں کرنے کو کر رہا تھا
ماہ نور مجھے بھوک لگی ہے…؟؟؟
زریاب نے پھر ماہ نور کہا
کیا مصیبت ہے زریاب…..؟؟؟
ماہ نور اب اٹھ کر بیٹھ گئی تھی.جبکہ زریاب اسے مسکرا کر دیکھ رہا تھا
پہلے ماہ نور کے تاثرات سخت ہوئے پھر کچھ سوچ کے ڈھیلے پڑ گئے.
ہماری شادی کا کھانا کیا تھا..؟؟؟
ماہ نور نے خود سے سوچتے ہوئے زریاب سے پوچھا
پتہ نہیں میں نے نہیں کھایا…
زریاب نے کندھے اچکائے پھر ساتھ ہی ماہ نور سے پوچھا
تم نے بھی نہیں کھایا..؟؟ او مائی گارڈ….امیزنگ
اب زریاب ہنس رہا تھا
جبکہ ماہ نور غصہ سے اسے نظر انداز کرتی کچن کی طرف بڑھ گئی
………………….
حنین کے کمرہ کا دروازہ حسبِ روایت ملک صاحب نے تیسری بار توڑا تھا مگر وہ “بس ابھی آیا” کا نعرہ لگا کر دوبارہ سو جاتا تھا.
اب کی بار بیگم غزالہ نے آواز لگائی
اگر تم نے زریاب کو ناشتہ دینے نہیں جانا تو میں خود ہی چلی جاؤں…؟؟؟؟
بیگم غزالہ کے الفاظ کان میں پڑتے ہی حنین کے سوئے ہوئے سارے سسٹم کام کرنے لگے
نہیں میں خود لے کر جاؤں گا
حنین نے کمبل سے منہ نکالتے ہوئے آواز لگائی
اچھا پھر دس منٹ تک نیچے آجاؤ
حنین نے ایک نظر گھڑی پر دوڑائی جہاں صبح کے نو بج رہے تھے پھر اپنا موبائل پکڑ کر زریاب کو کال کی جو کہ اٹینڈ نہیں ہوئی
لو جی وہ مزے سے سو رہا ہے اور ادھر سب نے میرا سونا حرام کیا ہوا ہے حنین بڑبڑاتا ہوا دوبارہ کمبل میں گھس گیا
بیگم غزالہ نے ناشتہ تیار کروا کر ملک صاحب سے کہا
آپ ہی اسے اٹھا کر لائیں ناشتہ ٹھنڈا ہو رہا ہے بچے(ماہ نور اور زریاب) انتظار کر رہے ہوں گے.
وہ آج تک شرافت سے اٹھا ہے جو آج اٹھے گا…؟؟؟
ملک صاحب کہتے ہوئے سیڑھیاں چڑھنے لگے
جیسے ہی سیڑھیوں میں ملک صاحب کے بولنے کی آواز آئی حنین چھلانگ لگا کر واش روم میں گھس گیا
ملک صاحب نے واش روم کے باہر کھڑے ہو کر اونچی آواز میں کہا
میں اور تمہاری موم زریاب کی طرف جا رہے ہیں تمہارا ناشتہ نیچے ٹیبل پر لگا ہے کھا لینا اور مسکراتے ہوئے واپس نیچے آگئے
حنین کہاں ہے…؟؟؟
بیگم نزیر نے انھیں اکیلے آتا دیکھ کر پوچھا
صبر کرو ابھی دو منٹ میں تمہارے پاس ہو گا اور ساتھ ہی ملازم کو آواز دی کہ ناشتہ گاڑی میں رکھے اور گاڑی سٹارٹ کرے
ملازم نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ایسا ہی کیا جیسے ہی گاڑی سٹارت ہونے کی آواز آئی حنین بلیک شرٹ کے ساتھ کیمل کلر کی پینٹ پہنے اپنی تمام چیزیں ہاتھوں میں پکڑے دو دو سیڑھیاں پھلانگتا نیچے پہنچا
ویسے موم یہ ناانصافی ہے مجھ کنوارے ساتھ…؟؟؟
حنین نے کرسی پر گرنے والے انداز سے پوچھا
حنین صبح صبح بکواس نہیں کر…….
بیگم غزالہ نے حنین کے آگے جوس کا گلاس کرتے ہوئے کہا
موم میری بات تو سنیں…؟؟؟
حنین نے احتجاج کیا اور جوس کا گلاس پکڑ لیا اتنی دیر میں ملک نزیر نے گاڑی کا ہارن دیا
مجھے آپ کے ملک صاحب بلکل پسند نہیں…؟؟؟؟
حنین نے خالی گلاس ٹیبل پر رکھتے ہوئے ماں کا ماتھا چوما اور جلدی سے باہر کی طرف بڑھ گیا.
…………..
ماہ نور کو جلدی اٹھنے کی عادت تھی اس لیے فجر کی نماز پڑھنے کے بعد اس نے ڈرائیور اور گارڈ کو بھی ناشتہ بنوا کر بھیج دیا تھا اور زریاب کو ناشتہ دینے کے ساتھ اس کی دوائیاں بھی دے دیں تھیں اس وقت وہ فون پر گھر بات کر رہی تھی پہلے پارو سے، پھر ماہین سے اور آخر میں کوثر بیگم سے بات کر کے اس نے فون رکھا.
سب نے زریاب کا پوچھا کہ وہ ٹھیک ہے سفر میں اسے زیادہ تکلیف تو نہیں ہوئی..؟؟ تم اس کا خیال رکھنا..؟؟؟ آخر وہ تمہارا شوہر ہے…؟؟؟
ماہ نور نے دکھ سے سامنے دیوار پر دیکھتے ہوئے سوچا
ان لوگوں کو کبھی میری پرواہ نہیں ہو سکتی…؟؟
ماہ نور الاؤنچ میں بیٹھی ابھی انھیں سوچوں میں گم تھی جب ڈور بل بجی…..
