Hichkiyan Muhabbat Ki Season 1 By Amna Mehmood Readelle50146 Episode 23 Pt.1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 23 Pt.1
حنین کی طبیعت کافی بہتر تھی یا وہ یہ ظاہر کر رہا تھا مگر جو کچھ بھی تھا وہ فریش لگ رہا تھا.اسے ایسا دیکھ کر دبیر بھی اب اچھا محسوس کر رہا تھا.اور مسلسل اسے ہی دیکھ رہا تھا
کیا دیکھ رہا ہے..؟؟؟
حنین نے سوپ پیتے ہوئے دبیر سے پوچھا
کچھ نہیں بس یہ سوچ رہا تھا کہ تو بکواس کرتا ہوا زیادہ اچھا لگتا ہے.
دبیر نے مسکرا کر جواب دیا
اچھااااااا……..
ویسے میرے بیمار ہونے سے تیری تو لاٹری نکل آئی.
حنین نے سوپ کا چمچ منہ میں ڈالتے ہوئے کہا
وہ کیسے…؟؟؟؟ دبیر نے حیرانگی سے پوچھا
وہ ایسے کہ کہاں تُو stylooسے بات کرنے کو ترستا تھا اور کہاں وہ ساری رات تیرے پاس بیٹھی تیری بکواس سنتی رہی شان ہے اللہ کی(حنین نے اوپر کی طرف منہ کر کے کہا)
ویسے تُو کتنی کمینی چیز ہے لیٹا ہوا تو بستر پر تھا اور خبر تیرے پاس کوریڈور کی ہے..؟؟؟
دبیر نے مصنوعی غصہ سے کہا اور کرسی سے اٹھ کر بیڈ پر حنین کے پاس بیٹھ گیا.
گولی میرے بازو میں لگی ہے سر میں نہیں……..دماغ کام کر رہا ہے میرا ……یہ جو تو ساری رات جاگتا رہا ہے اور پھر بھی اتنا فریش نظر آ رہا ہے صاف ظاہر ہے کہ رات میں تو اکیلا نہیں تھا تیرے ساتھ “وہ ” بھی تھی.میں اور زریاب مر رہے تھےاور تو اپنی سیٹنگ کر رہا تھا.شرم نہیں آتی تجھے……
حنین نے ہنستے ہوئے دبیر کو سوپ کا پیالہ واپس کر دیا
بہت افسوس ہوا تیرے خیالات سن کر……
میں ساری رات تم دونوں کی وجہ سے اتنا پریشان رہا اور تُو …..
اگر بیمار نہ ہوتا تو میں تیرا سر توڑ دیتا
دبیر نے سچ مچ دکھ کا اظہار کیا
اچھا بس زیادہ سیریس شکلیں نہ بنایا کر پرانی فلموں کے “وحید مراد” میرا مطب یہ تھا کہ تو رات میں اکیلا نہیں تھا اور بس……
حنین نے اپنی آنکھیں گھما کر لاپرواہی سے کہا
حنین وہ میرے پاس خود آئی تھی میں نہیں گیا تھاسمجھا
دبیر نے تپتے ہوئے جواب دیا
وہ تو مجھے معلوم ہے تُو اور زریاب اسی (رن مرید)کیٹیگری میں آتے ہو……ڈرپوک
حنین نے چھیڑتے ہوئے دبیر سے کہا
حنین کے بچے تجھے عزت راس نہیں آتی جیسے ہی دبیر نے حنین کی طرف اپنے ہاتھ بڑھا
ویسے ہی رائحہ نے روم میں قدم رکھا دونوں نے مڑ کر اسے دیکھا حنین کے چہرے پر شرارتی مسکراہٹ جبکہ دبیر سیریس ہوتا ہوا کرسی پر جا بیٹھا
یہ کیا ہوا رہا تھا..؟؟؟؟
رائحہ نے تفتیشی نظروں سے دونوں کو دیکھتے ہوئے کہا
یہ دبیر مجھے مار رہا تھا
دبیر کے لاکھ اشارہ کرنے کے باوجود حنین شرارت سے باز نہ آیا…
مگر کیوں…؟؟؟
رائحہ نے دبیر کی طرف دیکھا
آپ اس کی بات پر یقین مت کریں یہ جھوٹ بول رہا ہے دبیر نے پھیکی سے مسکراہٹ سے جواب دیا جبکہ رائحہ نے آنکھیں پھیلا کر دونوں کو دیکھا
آپ کو اندازہ ہونا چاہیے کہ گولی لگی ہے گاڑی کا ٹائر پنچر نہیں ہوا
جیسے ہی سمجھانے کے انداز میں رائحہ نے یہ الفاظ ادا کیے حنین اور دبیر نیچے منہ کر کے ہنسنے لگے
دونوں کو ہنستا دیکھ کر رائحہ کچھ شرمندہ سی ہو گئی
میرا مطلب یہ تھا کہ آپ دونوں اس بات کو سیریس لیں اور ایک دوسرے سے فلحال شرارت نہ کریں.
کل رات دبیر کی باتوں سے رائحہ کو اچھی طرح اندازہ ہو گیا تھا کہ ان کی دوستی کیسی ہے.
زیادہ دیر بیٹھیں نہیں آرام کریں ٹھیک ہے.رائحہ نے حنین کا چاٹ ایک نظر پڑھا اور کہتی ہوئی روم سے باہر چلی گئی.
یار تو نے اچھا نہیں کیا styloo ساتھ…..
حنین نے معصومیت سے دبیر کو بولا
کیا مطلب..؟؟ میں نے اچھا نہیں کیا..؟؟ تُو بھی تو ہنس رہا تھا. اور اس محترمہ کو دیکھو مثال بھی گاڑی کی دی ہے.
دبیر اور حنین دوبارہ ہنسنے لگے.
بری بات …ہمیں یوں ہنسنا نہیں چاہیے تھا.پتہ اس نے میری بہت مدد کی تھی اور زریاب بھی اسی کی وجہ سے آپریشن ٹھیٹر پہنچا. بہت اچھی لڑکی ہے میرے ایک فون کرنے پر ہسپتال آ گئی تھی……..
حنین نے احسان مندانہ لہجے میں کہا
ہاں یار اچھی نہیں بہت اچھی ہے پتہ کل رات تم دونوں کی پریشانی کی وجہ سے میں کچھ کھا پی نہیں سکا اور مجھے چکر آ رہے تھے.اسے پتہ نہیں کیسے معلوم ہوا میرے لیے چائے اور سینڈوچ لے آئی اور پھر میرے پاس ہی بیٹھی رہی.
بقول تیرے میری بکواس سنتی رہی.
یہ کہہ کر دبیر ہنسنے لگا جبکہ حنین انکھیں گھما کر اسے شرارتی انداز میں دیکھ رہا تھا
اس بکواس کا تھوڑا سا حصہ مجھے بھی سنا…..
حنین نے دبیر کو آنکھ مارتےہوئے کہا
(نرمین آج صبح سے ہی بہت پریشان تھی بار بار دھیان موبائل کی طرف جا رہا تھا.مگر وہاں کوئی میسج یا مس کال نہ تھی جبکہ حنین نے اسے کل بار بار کہا تھا کہ وہ سیدھا اس کے پاس آئے گا آگے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا اوپر سے اس کا نمبر بھی رسپانس نہیں کر رہا تھا کچھ سوچ کر نرمین نے دبیر کا نمبر ڈائل کیا)
دبیر نے غصہ سے حنین کی طرف گلوکوز کا ڈبہ پھینکا جب اس کا فون بجا
اوہ نرمین کی کال ہے.جیسے ہی دبیر نے کہا حنین بول پڑا یار اسے کچھ مت بتانا.
اسلام علیکم دبیر نے کال اٹینڈ کرتے ہوئے کہا
یہ حنین کا نمبر کیوں نہیں چل رہا نرمین نے سلام کا جواب دیتے ہی فکری مندی سے پوچھا
یہ لو اس سے خود ہی پوچھ لو.دبیر نے موبائل حنین کو دیتے ہوئے کہا اور خود اس کے لیے مالٹا چھیلنے لگ گیا
تمہارا نمبر کیوں نہیں چل رہا..؟؟؟؟
نرمین نے حنین کی آواز سنتے ہی بے قراری سے پوچھا
اس لیے کہ وہ چلتا ہی نہیں ہے.حنین نے شرارت سے جواب دیا
مطلب..؟؟؟ نرمین نے ناسمجھی سے پوچھا
مطلب یہ پڑھاکو کہ وہ چل نہیں سکتا..حنین نے مزید نرمین کو تنگ کیا
حنین میں تمہارے فون کی بات کر رہی ہوں.
نرمین نے الجھ کر کہا
میں بھی اُسی کی بات کر رہا ہوں.حنین کی شرارتی حس پوری طرح بیدار ہو چکی تھی.
حنین تم مجھے پریشان مت کرو.پتہ آگے ہی میرے سر میں درد ہو رہا ہے
نرمین نے زچ ہوتے ہوئے کہا
اچھا سوری تم پریشان مت ہو تمہیں ڈاکٹرز نے ٹینشن لینے سے منع کیا تھا یاد ہے نااااا
اب حنین نے فکری مندی سے کہا
تمہارا فون کہاں ہے..؟؟ اور تم کل رات آئے کیوں نہیں..؟؟
نرمین نے پوچھا
یار وہ پتہ کل کیا ہوا…
پھر مختصراً نرمین کو رات کے حادثے کے بارے میں بتایا مگر حنین اپنی چوٹ کو چھپا گیا
اب زریاب کیسا ہے..؟؟
نرمین اس کے لیے فکر مند ہوئی
پتہ نہیں ابھی تک اسے ہوش نہیں آیا اس کے لیے دعا کرو.
حنین اب مکمل سیریس تھا
اچھا میں اسے دیکھنے آتی ہوں.جیسے ہی نرمین نے یہ کہا حنین پریشان ہو گیا.
نہیں پلیززز تم مت آنا.تمہیں تو خود آرام کی ضرورت ہے.اس کی خیریت میں تمہیں بتاتا رہوں گا حنین نے جلدی سے جواب دیا
اچھا اپنا فون تو آن کرو.
نرمین نے بات مانتے ہوئے کہا
کرتا ہوں مگر تم ہسپتال مت آنا اچھا.
حنین نے پھر اسے ہسپتال آنے سے منع کیا
ٹھیک ہے نہیں آتی مگر تمہاری آواز کو کیا ہوا ہے..؟؟؟ کیوں اتنی بھاری ہو رہی ہے..؟؟
نرمین کو محسوس ہوا اس کی آواز کچھ بدلی بدلی سی ہو رہی ہے
تو تم ہلکی کر دو……
حنین نے جواب دیا
کیسے..؟؟؟؟ نرمین نے پوچھا
“بنی تمہارے ہاتھ کی ہو اور ہو صبح اتوار کی،
میں اب پینا چاہتا ہوں ایسی چائے پیار کی..”
ایسے….؟؟؟ مطلب چائے پلا دو سر میں درد ہے
تمہارا کچھ نہیں ہو سکتا …..
نرمین نے کہتے ہوئے فون بند کر دیا
حنین نے فون دبیر کی طرف بڑھا دیا جو مالٹا کھانے میں مصروف تھا
تُو نے اُسے بتایا کیوں نہیں کہ تجھے گولی لگی ہے
دبیر نے مالٹے والی پلیٹ حنین کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
تو چاہتا ہے کہ میں اس کی چڑیا جتنی جان اپنے ہاتھوں سے لے لوں.
حنین نے منہ بناتے ہوئے پلیٹ پکڑ لی
تجھے خود بھی نہیں پتہ کہ تو اس سے کتنی محبت کرتا ہے..؟؟؟
حالانکہ تجھے اس وقت نرمین سے زیادہ آرام کی ضرورت ہے مگر تو اسے مشورہ دے رہا تھا
دبیر نے فون لیتے ہوئے حنین سے کہا
اپنی فکر کر میری چھوڑ. تجھے خود بھی پتہ نہیں کہ styloo تجھ سے ناراض ہو کر گئی ہے..؟؟؟
حنین نے دبیر کی نقل اتاری
اچھا…واقعی ہی.یار تجھے کیسے پتہ چل جاتا ہے.
دبیر نے حیران ہوتے ہوئے کہا
بس پتہ چل جاتا ہے اب اسے جلدی سے منا لینا.
حنین نے مالٹا کھاتے ہوئے کہا
کیسے مناؤں اسے.؟؟؟
دبیر نے سوچتے ہوئے کہا
ٹائر کو پنچر لگا کر…..
جیسے ہی حنین نے یہ کہا دبیر اور حنین دونوں ہی ہنسنے لگے
چل اب منہ بند کر اور میرا موبائل آن کر کے چارجنگ پر لگا دے تاکہ میں اپنی موم سے بھی بات کر لوں.پتہ نہیں ڈیڈ نے انھیں کیسے سمبھالا ہو گا..؟؟؟؟؟
حنین نے کچھ سوچتے ہوئے کہا
