Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5 Part 1

عترت دبیر کو خدا حافظ کہتی یونی میں داخل ہوئی.
وہ آج بہت خوش تھی اس کے خوش ہونے کی دو وجوہات تھیں.
ایک اس کا خواب پورا ہو گیا تھا یعنی وہ اب میڈیکل کی سٹو ڈنٹ ہے.
دوسرا آج دبیر بھائی نے شادی کے لیے ہاں کر دی….
وہ خوشی خوشی یونی میں پھر رہی تھی لوگوں سے پوچھتی وہ میڈیکل ڈیپاٹمنٹ پہنچی……
آج اس کی پہلی کلاس تھی وہ ٹائم پرساری کلاسس اٹینڈ کر رہی تھی…..
ایک بجے وہ تمام کلاسس سے فری ہو کر جب اپنے بیگ میں سے موبائل نکالتے چل رہی تھی تو اچانک اس کی ٹکر کسی سے ہوئی اور موبائل زور سے دور زمین پر جا گرا…..
گرنے کی وجہ سے ٹوٹ گیا.
اوہ … ایم سوری….مین زرا جلدی میں تھی مجھے پتہ نہیں چلا…سوری اگین
ہالہ جو اپنے دیھان میں جلدی جلدی یونی کے exit door کی طرف بڑھ رہی تھی ٹکرانے کی وجہ سے رکی اور معزرت خواہ نظروں سے عترت کو دیکھنے لگی….
اور اس کے موبائل کو جو اب اپنی زندگی کی آخری سانسیس لے رہا تھا
یہ سمارٹ فون بھی بس نازک سے ہوتے ہیں ہاتھ سے گرے نہیں کہ اللہ کو پیارے ہو گئے
ہالہ نے موبائل اٹھا کر عترت کو دیتے ہوئے کہا
کوئی بات نہیں …….
عترت نے معزرت قبول کرتے ہوئے جواب دیا
ساتھ ہی وہ بہت محبت بھری نظروں سے ہالہ ک دیکھ رہی تھی…
آپ بہت پیاری ہیں…
عترت سے رہا نہ گیا تو آخر ہالہ سے کہ دیا.
عترت کی بات پر ہالہ کھلکھلا کر ہنس پڑی….
تم بھی بہت پیاری ہو گڑیا….
جیسے ہی ہالہ نے کہا عترت نے پوری آنکھیں کھول کر ہالہ کو دیکھا..
کیا ہوا اس کی حیرت کو نوٹ کرتے ہوئے ہالہ نے پوچھا…
کچھ نہین…
وہ اصل میں مجھے میرے بھائی بھی گڑیا کہتے ہین.
عترت نے وضاحت دی..
اچھا اچھا…
ہالہ نے اثبات میں سر ہلایا
میرا نام سیدہ عترت حسین ہے
میرا آج پہلا دن تھایونی میں…
میں نے میڈیکل میں داخلہ لیا ہے.
آپ بھی یہیں پڑھتی ہیں…؟؟؟
کیا نام ہے اپ کا…؟؟؟
عترت نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے ہالہ سے پوچھا.
نہیں یارررد میں نے یہین سے ڈاکٹری پاس کی ہے اب تو ہاؤس جاب بھی مکمل ہونے والی ہے…..
میرا نام ہالہ ہے چھوٹا بھائی مجھے پیار سے ہالہ بی بولتا ہے تم بھی چاہو تو بول سکتی ہو..
ہالہ نے مسکرا کر عترت کو جواب دیا…
اور ہاں ہم لوگ بھی سید ہیں بلکل سادات سید ہیں.
تمہیں اگر کبھی بھی کسی بھی قسم کی پڑھائی میں ہیلپ چاہیے ہو تو مجھ سے رابطہ کر سکتی ہو یونی کے ساتھ ہی جو ہسپتال ہے میں وہاں ڈیوٹی دے رہی ہوں
بہت بہت شکریہ ہالہ بی…
عترت نے خوشدلی سے کہا
ادھر آؤ گراؤنڈ میں بیٹھتے ہیں میرا بھائی تھوڑی دیر میں آتا ہو گا پھر میں گھر چلی جاؤں گیتب تک باتیں کرتے ہیں….
تم نے کس کے ساتھ جانا ہے..؟؟؟
ہالہ نے عترت سےپوچھا
بھائی نے کہا تھا جب فری ہو تو کال کر دینا لیکن میرا تو فون ٹوٹ گیا ہے عترت نے منہ بناتے ہوئے کہا
سوری یاررر غلطی سے ہوا ہالہ پھر شرمندہ ہوئی
لیکن مین تمہاری مدد کر سکتی ہوں اگر تمہیں اپنے بھائی کا فون نمبر یاد ہے تو لو کال کر لو ….
ہالہ نے اپنا فون اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
عترت نے موقع کو غنیمت جانا اور دبیر کو کال کرنے لگی …
مگر بار بار بل جا نے کے باوجود جب کال اٹیند نہیں ہوئی تو اس نے رونے والی شکل بنا لی…
میں اب گھر کیسے جاؤں گی؟؟؟
زریاب اور حنین کا نمبر اسے زبانی یاد نہ تھا اور وہ کبھی گھر سے اکیلے کہیں نکلی بھی نہیں تھی
ہالہ کو وہ چھوٹی سے کوئی سکول گرل لگی….
پریشان نہ ہو میرا بھائی ابھی آتا ہوگا تم ہمارے ساتھ چلو ہم تمہیں گھر چھوڑ دیں گے
عترت نے حامی بھر لی..
………………………………….
زریاب اس وقت بابا سائیں اور تایا سائیں سے گلے مل کر اپنی گاڑی میں بیٹھ رہا تھا.
یہ افراسیاب جیپ میں کیوں بیٹھا ہوا ہے؟؟؟؟
زریاب نے جیپ پر نظر ڈال کر پوچھا
جہاں افراسیاب شکاری کتوں اور تین مسلح افراد ساتھ موجود تھا
پتر سائیں جب تک تمہاری گاڑی گاؤں سے نکل نہیں جاتی یہ تمہاری نگرانی کریں گے آج کل چوہدریوں ساتھ پھر گڑ بڑ چل رہی ہے….
تایا سائیں نے جواب دیا
بس کر دیں یہ دشمنیاں اب…..زریاب نے چڑ کر کہا
اچھا اچھا اب تو جا اور پہنچ کر اطلاع کر دیں.اس کے ساتھ ہی گاڑی کا دروازہ بند کر دیا
………………………………….
دبیر آفس میں بیٹھا کافی دیر سے اپنے موبائل کو ٹیبل پر رکھ کر گھور رہا تھا….
کیا مجھے اسے بدل لینا چاہیے؟؟؟
مگر کیوں.؟؟؟؟
ہاں مجھے بدل لینا چاہیے …
اتنا پیسہ ہے میرے پاس کیا فرق پڑتا ہےاگر میں تین چار لاکھ کا فون کرید لوں.آخر کماتا کس لیے ہوں وہ خاہمخواہ اپنے آپ کو نیا موبائل خریدنے کے لیے دلائل دے رہا تھا…….؟؟؟
ہممممم
کچھ سوچتے ہوئے دبیر نے انٹر کام اٹھا کر سیکٹریری کو اندر آنے کا کہا..
اور دروازے کو دیکھنے لگا…
جی سر آپ نے بلایا…عاصم نے اندر داخل ہوتے ہی مودبانہ لہجے میں کہا…
عاصم جاؤ مارکیٹ سے iphone-8 -plus لے کر آؤ….
مجھے اپنا فون تبدیل کرنا ہے
جی سر….
مگر ابھی تین مہینے تو ہوئے ہیں اپ نے فون منگوایا تھا…
سیکٹریری کچھ الجھی نظروں سے دبیر کو دیکھ رہا تھا
ہاں مگر اس وقت مجھے اندازہ نہیں تھا کہ 8 -plus مارکیٹ میں آچکا ہے…
دبیر نے اپنی انگلی نچلے ہونٹ پر پھیرتے ہوئے پر سوچ انداز میں جواب دیا…
سر میری info کے مطابق iphone 8 -plus ابھی ہماری مارکیٹ میں نہیں پہنچا اور اگر پہنچا ہے تو شاید کراچی سے ملے…….
عاصم نے دبیر سے کہا
ہمممم…..
ایسا کرو تم جاؤ…
دبیر نے عاصم کو جانے کا اشارہ کیا
جی بہتر…اور عاصم حیران ہوتا چلا گیا.
اگر فون ابھی پاکستانی مارکیٹ میں نہیں آیا تو اس نے مجھےفون بدلنے کا مشورہ کیون دیا….؟؟؟
دبیر کچھ الھج گیا
………………………………….
عترت اور ہالہ جب یونی کی پارکنگ میں پہنچے تو کونین پہلے سے وہاں موجود تھا ہالہ نے عترت اور کونین کا تعارف کرایا.
سب سے پہلے جس بات کا جھٹکا عترت کو لگا وہ کونین کی بائیک تھی
ہالہ بی آپ بائیک پر گھر جائیں گی…
عترت نے حیرانگی سے پوچھا…
وہ آج تک بائیک پر نہیں بیٹھی تھی گھر میں گاڑیاں موجود تھیںجب سے اس نے ہوش سمبھالا تھا
دوسرا جھٹکا اس بات کا لگا جب ہالہ نے کہا چلو عترت تمہیں گھر چھوڑ دیں…..
تو اس کی پوری آنکھیں کھل گئی…
بائیک پر ہم تینوں کیسے بیٹھیں گے…
بے ساختہ اس کے منہ سے نکلا
جیسے ساری دنیا بیٹھتی ہے ہم تو صرف تین ہیں لوگ تو پوری فیملی بیٹھا لیتے ہیں. اب کی بار جواب کونین کی طرف سے آیا
پہلے کونین بیٹھا پھر ہالہ اور آخر میں عترت…..
عترت بری طرح کانپ رہی تھی ایک تو وہ کبھی بائیک پر بیٹھی نہیں تھی دوسرا جس طرح وہ بیٹھی تھی اسے لگتا تھا وہ بیچ سڑک میں گر جائے گی….
عترت کو اب افسوس ہو رہا تھا کہ اسے ہالہ ساتھ نہیں بیٹھنا چاہے تھا اس کی آنکھیں بند تھی اور آنکھوں سے آنسو جاری تھے….
کونین نے بیک مرر میں دیکھا تو اس کی ہنسی نکل گئی..
ہالہ بی اپنی ہمسائی کی خبر لو اور اسے زور سے پکڑو یہ نہ ہو کے راستہ میں ہی رہ جائے…اور زور سے قہقہ لگایا
ہالہ نے پیار سے عترت کو اپنے ساتھ لگایا ہوا تھا.تم نہیں گرتی بے فکر رہو اور کونین کی بات کا برا نہ مناؤ…..
اس کی عادت ہے بکواس کرنے کی…
میں تمہارے ساتھ ہوں آنکھیں کھولو شاباش….
عترت نے جیسے ہی آنکھیں کھولیں اسے اپنے پیچھے بس گاڑیاں وینیں اور تیزی سے چلتے بائیک نظر آئے….
اس نے پھر آنکھیں بند کر لیں…
تقریباً ایک گھنٹے بعد وہ عترت کے گھر کے سامنے کھڑے تھے
یہی ایڈریس بتایا تھا …
کونین نے تصدیق چاہی …..
عترت نے آہستہ آہستہ آنکھیں اور اپنے گھر کا گیٹ پہچانتے ہی شور مچا دیا
میرا گھر آ گیا
میں گھر پہنچ گئی
مجھے لگتا نہیں تھا میں زندہ پہنچو گی….
ہالہ بی اسے منع کرو یہ نا ہو کہ لوگ ہمیں کڈ نیپر سمجھین.اور نیکی گلے پڑ جائے….
کونین نے عترت کی حالت دیکھتے ہوئے ہالہ سے کہا..
ہالہ بھی عجیب نظرون سے عترت کو دیکھ رہی تھی
جو اب گیٹ کی بل بجا رہی تھی اور ساتھ ساتھ آونچا اونچا رو بھی رہی تھی…
میرے خیال سے ہمیں یہاں سے واپس چلے جانا چاہیے اسی میں ہماری بہتری ہے…….
کونین نے ہالہ کی طرف دیکھ کر آنکھ کے اشارے سے پوچھا
ہالہ نے بائیک پر بیٹھتے ہوئے کہا چلو….
ویسے عجیب لڑکی ہے….
نہ شکریہ ادا کیا نہ اندر آنے کو کہا…
ہالہ کو بھی اس کے رویہ سے حیرت ہوئی…..
………………………………….
دبیر میٹنگ سے فارغ ہو کر اپنے روم میں آیا….
جیب سے موبائل نکالا تو اس پر پانچ مسڈ کالز تھیں کسی unknown number سے…
یہ کون ہے؟؟؟ کہتے ہوئے کال بیک کی….
ہالہ ابھی واش روم میں فریش ہونے جا رہی تھی جب اس کا موبائل بجا…
اب کون ہے؟ ؟؟ ہالہ بڑ بڑاتی کال اٹینڈ کرنے لگی . لیکن un known number دیکھ کر رک گئی…
یہ کس کا نمبر ہے؟؟؟
کال اٹینڈ کروں یا رہنے دوں ابھی وہ یہ سوچ ہی رہی تھی کہ کال end ہو گئی…
ہالہ کندھے اچکاتے دوبارہ واش روم کی طرف بڑھی اس سے پہلے کہ وہ واش روم کا ڈور بند کرتی موبائل دوبارہ بجنے لگا….
اففففف…
کون ہے..؟؟؟
ہالہ نے کال اتینڈ کی…
ہیلو…. دبیر کے موبائل سپیکر سے نسوانی آواز ابھری
جی آپ کون؟؟؟ دبیر نے پوچھا
کال آپ نے کی ہے میں نے نہیں؟؟؟ ہالہ نے شائستگی سے جواب دیا
وہ دراصل محترمہ آپ کے نمبر سے پانج مسڈ کالز مجھے موصول ہوئیں ہیں.دبیر نے وضاحت دی
کیااااااااا میں نے؟؟؟ کتنے بجے؟؟؟
ہالہ کے لہجہ میں حیرت تھی جسے دبیر نے بھی محسوس کیا
یہی کوئی ایک ڈیڑھ بجے…
ہالہ نے ذہن پر زور دیا کہ وہ ایک ڈیڑھ بجے کہاں تھی تو عترت یاد آگئی
جی وہ میں نے نہیں ایک لڑکی نے کی تھی یونی میں اس کے بھائی نے لینے آنا تھا مگر ….
ابھی اتنا ہی بول پائی تھی کہ دبیر کی نظر گھڑی پر پڑی جو تین کا ہندسہ کراس کر رہی تھی اور منہ سے نکلا عترت…
جی بلکل یہی نام تھا ان کا..ہالہ نے تصدیق کی
کہاں ہے عترت میری بات کرائیں…دبیر بے چین ہو کر کرسی سے کھڑا ہو گیا
اسے تو ہم گھر ابھی ابھی ڈراپ کر کے آئے ہیں…ہالہ ابھی کچھ بتانا چاہ رہی تھی مگر فون بند ہو گیا
اتنا سننا تھا کہ دبیر ویلٹ اور چابیاں ٹیبل سے اٹھاتا آفس سے باہر نکل آیا
عجیب بہن بھائی ہیں نہ شکریہ نہ کچھ اسے عترت کا رویہ بھی یاد آگیا…
موبائل ڈریسنگ ٹیبل پر رکھتے وہ واش روم کی طرف بڑھ گئی
………………………………….
گارڈ نے گیٹ کھولا تو عترت بھاگتی ہوئی لاؤنچ میں پہنچی…
اماں بی اماں بی….وہ روتے ہوئے پکار رہی تھی..
اللہ رحم عالیہ بیگم عترت کی آواز پر جلدی سے کمرے سے باہر نکلی..
ماں کو دیکھتے ہی عترت ان سے لپٹ گئی اور رونا شروع کر دیا
عالیہ بیگم کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا آج تک عترت نے کبھی ایسا نہیں کیا تھا
دبیر کہاں ہے؟؟؟ اچانک عالیہ بیگم کو خیال آیا کہ عترت کیسے آئی ہے؟؟؟
وہ بھائی مجھے لینے نہیں آئے…روتے روتے عترت نے ساری بات اماں بی کو بتا دی….
اچھا…..وہ لمبا سانس کھینچ کر
جبکہ عترت ابھی تک رو رہی تھی
تم رو کیوں رہی ہو؟؟ بس کرو اب …
اللہ بھلا کرے ان کا…
جیسے ہی اماں بی نے کہا…
عترت کو ہالہ کا خیال آیا وہ چپ ہو کر اماں بی کو دیکھنے لگی..
اب کیا ہوا؟؟؟ عالیہ بیگم نے عترت کو یوں ایکدم چپ ہوتے دیکھ کر کہا
اماں میں نے ان لوگوں کا شکریہ بھی ادا نہیں کیا نہ ہی اندر بلوایا کھانے کا وقت ہو رہا تھا…
عترت کو سخت افسوس ہو
………………………………….
جیسے ہی بلیک مرسڈیز گیٹ پر رکی …
عترت بھاگی بھاگی باہر آئی
دبیر نے گاڑی وہی روک کر چابیاں گارڈ کو دی جس کا مطلب تھا تم پارک کر دو
اور جلدی سے عترت کو اپنے ساتھ لگا لیا…
بھائی کے گلے لگتے وہ پھررونے لگی…
ایم سوری میری گڑیا…
دبیر عترت کو مسلسل سوری بول رہا تھا اور ساتھ ساتھ اس کے سر کے بوسہ بھی لے رہا تھا.
دونوں بہن بھائی ایک ساتھ الاؤنچ میں داخل ہوئے…
عالیہ بیگم کی نظر ان پر پڑی تو برسنے لگیں..
اگر تم دونوں بہن بھائی کا رومنس ختم ہو گیا ہو تو کھانا کھا لیتے ہیں…
دبیر نے عترت کی طرف دیکھا اور پھر اماں بی کی…
ابھی تک کھانا نہیں کھایا چار بج رہے ہیں…
اسی حیرت ہوئی
پہلے آپ کی لاڈلی کو چپ کرانے میں اتنا وقت لگا پھر مہارانی فرماتی ہیں بھائی ساتھ کھانا کھاؤں گی…
اب بولو میں کیا کروں…
مجھ بوڑھی کو بھی بھوکا رہنا پڑا…
اماں بی نے دبیر کو عترت کی شکایت لگائی
چلو اٹھو شاباش میں خود تمہیں کھانا کھلاتا ہوں
دائینگ ٹیبل پر تینوں کھانا کھا رہے تھے.
پتہ بھائی میں کیوں اتنا رو رہی تھی…؟؟؟؟
عترت نے معصوم شکل بنا کر کہا…
کیون…..؟؟؟دبیر نے چاول کا چمچہ منہ میں ڈالتے ہوئے پوچھا
ایک تو بھائی میرا موبائل ٹوٹ گیا تھا مجھ سے…….
عترت نے جان بوجھ کر ہالہ کا نام نہیں لیا…
دوسرا مجھے ڈر لگ رہا تھا کہ اگر میں بائیک سے گر گئی تو مجھے چوٹ بھی لگے گی اور لوگ میرا مزاق بھی بنائے گے…
عترت نے سچ بولتے ہوئے کہا
کوئی بات نہیں تم میرا فون لے لو….
جیسے ہی دبیر نے یہ الفاظ کہے…
ہالہ کو جھٹکا لگا…
بھائی آپ والا فون…اتنا مہنگا
اسے یقین نہیں آ رہا تھا…
تم رکھ لو میں نے ویسے ہی اور لینا ہے..
دبیر نے مسکرا کر جواب دیا.اس کے ذہن میں رائحہ کی آواز گونج رہی تھی.
“آپ کو نہیں لگتا کہ آپ کو اپنا فون تبدیل کر لینا چاہیے”
عترت کی آواز نے دبیر کو ہوش میں لایا..
پتہ بھائی ہالہ بی بہت اچھی ہیں اور پیاری بھی…
ہالہ کا ذکر کرتے ہوئے عترت کی آنکھوں میں عجیب چمک تھی جسے اماں بی اور دبیر دونوں نے ہی نوٹ کیا
پیاری کا تو پتہ نہیں لیکن اچھی تو وہ ہیں دبیر نے اپنی فون کال کے بارے میں بتا…
اسے افسوس ہواکہ شکریہ بھی ادا نہیں کیا لیکن وہ یہ بات عترت کو بتا کر مزید شرمندہ نہیں کرنا چاہتا تھا آگے ہی وہ گلٹی فیل کر رہی تھی.
عترت ہالہ کے بارے میں دبیر کو ایک ایک بات بتا رہی تھی جو دبیر دلچسپی سے سن رہا تھا.
مگر اماں بی بظاہر ان دونوں کو دیکھتے ہوئے کچھ اور سوچ رہیں تھی
………………………………….
ہچکیاں محبت کی…
از
آمنہ محمود
قسط نمبر ۵ (حصہ دوم)
نرمین جب بھی اداس ہوتی تو شاعری پڑھتی یا لکھتی…
اب بھی وہ اپنا پسندیدہ کام کر رہی تھی.یعنی اپنی ڈائری میں نظم لکھ رہی تھی
ﺁﺝ ﺑﺎﺭﺵ ﮨﻮﺋﯽ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﮭﺎﻣﺎ ﻗﻠﻢ
ﭨﮭﻨڈﯼ ﭨﮭﻨڈﯼ ﮨﻮﺍ
ﺳﻠﮕﺎ ﺳﻠﮕﺎ ﺳﺎ ﻣﻦ
ﻟﮑﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﺎ ﻣﮕﺮ
ﻟﻔﻆ ﻣﺎﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ
ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻤﻨﺸﯿﮟ
ﺳﻮﭺ ﮐﯽ ﺳﺮﺯﻣﯿﮟ
ﺗﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﺍﯾﺴﯽ
ﭼﻠﯽ ﭘﮭﺮ ﮨﻮﺍ
ﻟﻔﻆ ﻣﻠﻨﮯ ﻟﮕﮯ
ﮨﺎﺗﮫ ﮨﻠﻨﮯ ﻟﮕﮯ
ﯾﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺗﯿﺮﯼ
ﺩﻝ ﮐﯽ ﺳﻮﮐﮭﯽ ﺯﻣﯿﮟ
ﮐﭽﮫ ﺍﯾﺴﮯ ﺗﺮ ﮨﻮﮔﺌﯽ
ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺴﻠﻨﮯ ﻟﮕﯽ
ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ﮐﮯ ﭘﮭﺮ ﺗﺠﮭﮯ
ﻣﻦ ﻣﭽﻠﻨﮯ ﻟﮕﺎ
تیری دید کے لیے
ﺁﻧﮑﮫ ﺭﻭﺗﯽ ﺭﮨﯽ
ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﭘﮭﺮ ﺟﺎﻥ ﺟﺎﮞ
ﺑﺎﺭﺵ ﮨﻮﺗﯽ ﺭﮨﯽ ۔ ۔ ۔
ﺑﺎﺭﺵ ﮨﻮﺗﯽ ﺭﮨﯽ ۔
دروازے پر دستک ہوئی…
چھوٹی بی بی یہ انویلپ کوئی صاحب دے کر گئے ہیں کہتے ہیں . اپنی بی بی کو دے دیں.
دینو بابا لفافہ نرمین کو دے کر چلے گئے
نرمین نے انویلپ کھولا
پیپر پر تحریر واضح الفاظ میں لکھی تھی اور جسکی لکھائی میں تھی نرمین وہ اندھیرے میں بھی پہچان سکتی تھی
“ان پندرہ دنوں میں تم نے میرا جتنا دماغ خراب کرنا تھا کر دیا ہے.اب میری بات غور سے سنو…عشق کا آٹھواں مقام بھی ہوتا ہے اور وہ ہے
کڈ نیپ
اگر تم چاہتی ہو میں اس مقام پر نہ پہنچوں تو تیس سیکنڈ کے اندر اندر مجھے unblock کرو ورنہ میں اگلے تیس سیکنڈ لگاؤ گا عشق کے آٹھویں مقام پر پہنچنے میں…..”
تحریر پڑھتے ہی نرمین کے منہ سے بے ساختہ نکلا…
“حنین”
نرمین فطرتاً ڈرپوک لڑکی تھی وہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے ڈر جاتی تھی.حنین کو یہ بات معلوم تھی اور وہ اکثر اپنی بات منوانے کے لیے اس کی اس کمزوری کا فائدہ اٹھاتا…
نرمین نے جیسے ہی حنین کو unblock کیا میسج ٹون بجی
اب جلدی سے اچھے بچوں کی طرح مجھے اپنی شکل دیکھاؤں؟؟؟(حنین)
میں کل یونی آؤں گی.(نرمین)
میں ابھی کی بات کر رہا ہوں سمجھ نہیں آ رہی. جلدی سے باہر آؤ…..(حنین)
اتنی تیز بارش ہے مجھے سردی لگ جائے گی
پلیزززز حنین تمہیں معلوم ہے مجھے فلو ہو جاتا ہے نرمین نے مسکین سی شکل بنا کر میسج ٹائپ کیا
چلو ٹھیک ہے.تمہاری مرضی
Choose the one option

Flue

Kidnap
حنین کا میسج موبائل سکرین پر جگمگایا اس کی آنکھوں کی طرح…
نرمین بیچاری مرتی کیا نہ کرتی اٹھ کر نیچے گیٹ کی طرف چل پڑی.
لاؤنچ میں سے گزرتے ہوئے میڈ کو چائے اور انڈے ابالنے کا کہا
باہر شدید بارش ہو رہی تھی.اور حنین سوئیٹر کہنیوں تک اوپر کیے بڑے مزے سے گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا تھا جیسے ہی نرمین کی نظر حنین پر پڑی وہ چیخ پڑی…..
پاگل ہو…؟؟؟
بیمار ہونا ہے..؟؟
اندر آؤ….
کہتی ہوئی واپس مڑی پیچھے پیچھے حنین بھی اندر داخل ہو گیا.مگر لاؤنچ میں پہچنے سے پہلے ہی نرمین کو آواز دے کر روکا…. ..
نرمین میں تو تمہیں دیکھ کر چلا جاتا
میرا مسئلہ اتنا ہی تھا کہ تم مجھے unblock کر دو
پر مام نے کہا ہے کہ تمہاری نظر بھی اتارنی ہے
وہ اپنی گول مٹول آنکھیں مٹکا کر کہہ رہا تھا
نرمین نے ناسمجھی کے انداز میں مڑ کے حنین کو دیکھا …..
جو ہاتھ پیچھے باندھے کھڑا تھا
تو پھر اتار لوں تمہاری نظر …….
اور ساتھ ساتھ مسکرا بھی رہا تھا
نرمین حنین کو نہ تو کہہ نہیں سکتی تھی……
بس ہلکا سا سر ہلا دیا
مگر اگلے ہی پل اس کی روح فنا ہو گئی
.حنین نے پیچھے سے اپنا ہاتھ آگے کیا تو اس کے ہاتھ میں کالے بیل کا کٹا ہوا “سر ” تھا.گردن پر خون تھا بارش کے قطرے پڑنے کی وجہ سے وہ ٹپک رہا تھا اتنی موٹی موٹی آنکھیں، بڑے بڑے سینگ اور زبان منہ سے لٹک رہی تھی
حنین نرمین کی طرف بڑھا….
مام نے کہا تھا سات چکر نرمین کے گرد اس سر کے کاٹنے ہیں.
اور ہر چکر میں یہ سر نرمین کے سر ساتھ ٹچ بھی کرنا ہے.
پھر کبھی اسے نظر نہیں لگے گی اور تمہیں تو پتہ ہے میں اپنی مام کا کتنا فرمابردار ہوں…….
وہ دل جلانے والی مسکراہٹ سے نرمین کی طرف دیکھ رہا تھا جو خوف سے زرد پڑ چکی تھی
حنین پلیزززز ایک سردی دوسرا ڈر وہ بری طرح کانپ رہی تھی
تم کیا چاہتی ہو …؟؟؟
میں تمہاری خاطر اپنی مام کی نافرمانی کروں….؟؟؟
وہ اپنی گول مٹول آنکھوں میں بلا کی معصومیت لے کر پوچھ رہا تھا
جب کہ نرمین کی حالت قابل رحم تھی.
تب حنین نے محسوس کیا کہ اگر مزید نرمین کو ڈرا تو یہ بےہوش بھی ہو سکتی ہے اور لینے کے دینے بھی پڑ سکتے ہیں.
اس لیے اس نے ہمدردانہ نظروں سے نرمین کو دیکھتے ہوئے کہا
چلو ٹھیک ہے میں مام کی بات تمہاری خاطر نہیں مانتا مگر میری ایک شرط ہے…
نرمین کانپتے ہوئی بولی
کی.کی.کی.کیااااااااا؟؟؟
تم مجھے دو منٹ میں سو بار پیپر پر لکھ کر دو کہ آئندہ مجھے بلاک نہیں کرو گی …..
مگر اتنے تھوڑے ٹائم میں کیسے..؟؟؟ نرمین کو شرط عجیب لگی
تھیک ہے پھر میں تمہاری نظر اتار لوں…حنین نے کہتے ساتھ ہی بیل کا سر اوپر اٹھایا……..
نہیں رکو…….
میں لکھتی ہوں نرمین کہتے ساتھ ہی جلدی سے اندر گئی اور ٹیلی فون سٹینڈ پر پڑی ڈائری اور پن اٹھا لائی.
چلو تمہارا ٹائم شروع ہوا.حنین نے گھڑی کی طرف دیکھ کر کہا
بارش میں اور تیزی آگئی تھی تھنڈی ہوا بھی چلنے لگی تھی
نرمین نیچے لاؤنچ کی سیڑھیون پر بیٹھی جلدی جلدی کانپتے ہاتھوں سے لکھ رہی تھی
جبکہ حنین اسے مسکراتا ہوا دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ ڈرپوک لڑکی بھی اللہ کی ایک رحمت ہوتی ہے جیسے یہ بارش…..
چلو ٹاتم اوور ہوا تمہارا….
بتاؤ کتنی دفعہ لکھا……..
حنین نے انگلی کے اشارے سے اسے لکھنے سے روکا…
نرمین نے بیچارگی سے منہ بنایا…
حنین میں نے بہت کوشش کی ہے مگر صرف تیس بار لکھا گیا…سوری
وہ تقریباً رو دینے کو تھی سردی سے اس کے ہاتھ پاؤں اور ہونٹ نیلے ہو رہے تھے
اچھا چلو ٹھیک ہے حنین نے احسان کرنے والے انداز میں کہا..
نرمین نے سکھ کا سانس لیا
چلو اب اندر آجاؤ….
میں نے تمہارے لیے چائے اور انڈے بوائل کروائے ہیں تم بارش میں پوری طرح بھیگ چکے ہو…
نرمین نے نرمی سے کہاجو اس کی شخصیت کا خاصا تھا
نہیں شکریہ مجھے دیر ہو رہی ہے
اور ہاں اب تم نے یہ کاغذ اپنے کمرے لی کبڈ پر چسپاں کرنا ہے اور دن میں تین بار اس کاغذ کو پڑھنا ہے.تاکہ تمہیں یاد رہیے کہ آئیندہ حنین ملک کو بلاک نہیں کرنا
ٹھیک ہے
نرمین نے صرف اثبات میں سر ہلایا
اور ہاں یہ لو…حنین نے پینٹ کی جیب سے کچھ دوائیاں نکال کر نرمین کو دیں.دوائیاں اچھی طرح پیک ہونے کی وجہ سے گیلی ہونے سے بچ گئیں
یہ کس کی دوائی ہے…نرمین نے پوچھا
تمہاری…حنین نے سنجیدگی سے کہا
مگر مجھے کیا ہوا ہے ….؟؟؟نرمین کو حیرت ہوئی
ہوا نہیں …مگر ابھی تھوڑی دیر میں ہو جائے گا
اب کی بار حنین کے الفاظ میں شرارت تھی
کیا….؟؟؟ نرمین ابھی بھی ناسمجھی سے بولی
نزلہ،زکام،اور بخار
مسکرا کر جواب دیتے حنین پلٹا اور گیٹ سے باہر نکل گیا
………………………………….
زریاب کی گاڑی اسلام آباد ٹول پلازہ پر کھڑی تھی جب حنین کی کال آئی…
ہیلو…زریاب نے کال اٹینڈ کی
کہاں ہے تو نکمے……حنین کی شرارتی آواز آئی
اسلام آباد ٹول پلازہ…زریاب نے جواب دیا
شکر ہے تو آگیا…اجازت دے دی تھی پیرنی نے…..بدعاؤں کے ساتھ…حنین مزے لے کر کہہ رہا تھا
چل بکواس نہ کر مطلب کی بات بول…زریاب کو ماہ نور کے لیے برا لگا حنین کا یہ کہنا…
اچھا تو اپاٹمنٹ پہنچ کر میرے لیے چائے بنا اور اگر ساتھ میں انڈے بھی ابال دے تو مزا آ جائے گا…
حنین نے کہا
خیریت…..انکل نے گھر سے نکال دیا اس موسم میں..؟؟؟؟
کیا کارنامہ اب کی بار سر انجام دیا ہے..؟؟؟؟ زریاب نے ہنستے ہوئے کہا
کارنامہ تو سر انجام دیا ہے….
حنین کے ذہن میں نرمین کا چہرہ آگیا ….
مگر آ کر بتاؤں گا میں آدھے گھنٹے تک پہنچ رہا ہوں…
یہ کہتے ہی حنین نے فون بند کر دیا
زریاب نے حیرت سے فون دیکھتے ہوئے ڈیش بورڈ پر رکھ دیا.پتہ نہیں اب کس کی شامت آئی ہے حنین کے ہاتھوں …..
اور وہ ٹول پلازہ کراس کر کے اسلام آباد میں داخل ہو گیا
……………………………….
دبیر کسی کام سے مارکیٹ آیا تھا پھر کسی سوچ کے تحت خود فون کی تلاش کرنے لگا کافی گھومنے پھرنے کے بعد آخر کار اسے اپنی مطلوبہ چیز یعنی iphone-8 -plus مل گیا…..
وہ خوشی خوشی اپنی گاڑی میں بیٹھا سم تبدیل کر کے فون کے فیچر چیک کر رہا تھا اور دل میں رائحہ کی چوائس کو داد دے رہا تھا فون مہنگا ضرور تھا مگر تھا زبردست….
اتنے میں کسی نے گاڑی کا شیشہ بجایا…دبیر نے سرسری سی نظر سے شیشہ کو دیکھا اور پھر موبائل کی طرف متوجہ ہوا…..
یہ کیا وہ چونکا….
مجھے اب وہ نظر بھی آنے لگ گئی ہے …..
اسے لگا گاڑی کا شیشہ رائحہ بجا رہی ہے….
اتنے میں پھر شیشہ بجنے کی آواز آئی ..دبیر نے گاڑی کا ڈور کھولا تاکہ اس کی اپنی بھی تصیح ہو جائے کیونکہ گاڑی آٹو لاک تھی اس لیے باہر سے دروازہ نہیں کھولا جا سکتا تھا
مگر دروازہ کھلتے ہی دبیر حیران رہ گیا…
وہ واقعی ہی ڈاکٹر رائحہ تھی
کیسے ہیں ….؟؟؟؟؟؟
رائحہ نے فرینٹ پر بیٹھے ہی بڑے دوستانہ لہجہ میں پوچھا…
دبیر اس کی اچانک آمد پر حیران تھا اوپر سے اس کا رویہ اسے کچھ سمجھ نہیں آئی…..
جواب دینے کی بجائے الٹا سوال پوچھا…
آپ ڈاکٹر رائحہ ہی ہیں نا..؟؟؟
جی بلکل….رائحہ نے جواب دیا
دبیر نے محسوس کیا کہ ہسپتال کی نسبت رائحہ کا رویہ آج کافی دوستانہ ہے جو کسی خطرے کی گھنٹی ہے.لیکن اب وہ پہلے سے نارمل تھا.
وہ یہ بھول گیا تھا کہ رائحہ کے ساتھ نارمل رہنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے
آپ یہاں کیسے..؟؟؟ دبیر نے پوچھا
جیسے آپ..؟؟ مسکرا کےجواب دیا
نہیں میرا مطلب ہے میں تو یہاں شاپنگ کے لیے آیا تھا اور آپ..؟؟؟
دبیر نے بات آگے بڑھائی اس مزا آ رہا تھا بات کرنے میں….
میں بھی اسی لیے آئی ہوں کیونکہ یہاں کوئی فری میڈیکل کیمپ تو لگا نہیں ہوا…..
مسکراہٹ ہنوز برقرار تھی
دبیر کو حنین کی بات یاد آگئی
“اگر لڑکی بغیر کسی وجہ کے مسکرائے تو سمجھو گڑ بڑ ہے “
گاڑی میں اب تھوڑا باتوں کا وقفہ آیا.جسے رائحہ نے توڑا
ہم ڈاکٹر بھی انسان ہی ہوتے ہیں ہماری بھی سوشل لائف ہوتی ہے جیسے ایک عام انسان کی..
دبیر نے نوٹ کیا کہ جب سے رائحہ گاڑی میں بیٹھی ہے وہ وقفہ وقفہ سے بیک مرر میں دیکھ رہی ہے….
اتنے مین ایک red colour
کی sports car قریب سے گزری جس میں دو لڑکے بیٹھے تھے.جنہوں نے دبیر کو کافی گھور کر دیکھا…..
اچھا تو یہ بات تھی….دبیر کے چہرے پر مسکراہٹ پہلی بار آئی
اچھا آپ ان لڑکوں سے بچنے کے لیے میری گاری میں بیٹھین؟؟؟
دبیر نے رائحہ کو دیکھتے ہوئے کہا
جی بلکل….خلاف تواقع سچ جواب آیا جس کی دبیر کو امید نہین تھی.
آپ کو مجھ سے ڈر نہیں لگا…..
اگر میں اب آپ کو جانے نہ دو تو..
ابھی دبیر کا جملہ پورا نہیں ہوا تھا کہ رائحہ دبیر کی طرف بڑھی اور اس کے بلکل قریب ہو گئی.دبیر رائحہ کی ایسی حرکت کے لیے تیار نہیں تھا اس لیے ایک دم پیچھے سیٹ ساتھ لگ گیا.
رائحہ نے سٹیرنگ کے نیچے سے گاڑی کا door unlock کیا اور جلدی سے نیچے اتر گئی یہ سب اتنا اچانک تھا کہ دبیر کو سمبھلنے کا موقع نہ ملا
اب رائحہ گاڑی کے door ساتھ لگی سیریس کھڑی تھی
وہ اپنی پہلی والی ٹون میں واپس آ چکی تھی
مسکراہٹ کا دور دور تک نام و نشان نہیں تھا.
دیکھو مسٹر پہلی بات یہ کہ دو کی نسبت ایک کا مقابلہ کرنا آسان ہوتا ہے اس لیے مجھے تم سے ڈر نہین لگا
دوسرا تم اپنی گاڑی بدلو اس پر بہت سکریچ پڑے ہوئے ہیں مجھے تو اس کا انجن بھی اوریجنل نہیں لگ رہا ابھی بیچ دو ورنہ اچھی قیمت نہین ملے گی.
رائحہ نے ناقدرانہ سی نظر دبیر کی بلیک مرسدیز پر ڈالی…
جو کے دبیر کو سخت ناگوار گزری
ابھی وہ کچھ کہنے کے لی منہ کھول ہی رہا تھا کہ گاڑی کا دروازہ زور سے بند ہوا اور رائحہ کا آخری جملہ دبیر کے کانوں میں گونجا
“آپ کو نہیں لگتا آپ کو اپنا پرفیوم بھی تبدیل کرنا چاہیے”
اسکیوز می……..
دبیر نے گاڑی کا شیشہ نیچے کرتے رائحہ کو روکا
جی ….رائحہ مڑی
مجھے latest perfeume کے بارے میں اتنی معلومات نہیں
پلیززز آپ کچھ برینڈ کے نام بتا دیں تاکہ مجھے تبدیل کرنے میں آسانی ہو..
دبیر نے رائحہ کو شرمندہ کرنے کی کوشش کی …
کیونکہ وہ جانتا تھا ایک لڑکی کو men پرفیومز کے بارے میں کچھ زیادہ پتہ نہین ہو گا
مگر رائحہ کے جواب نے ایک دفعہ پھر دبیر کے طوطے اڑا دیے
میں اپ کو پانچ مشہور men برینڈز بتا دیتی ہوں آپ ان میں سے چیک کر لیں.

Calvin Klein
2.Yves Saint Laurent
3.Dolce & Gabbana
4.Giorgio Armani
5.Burberry
ویسے مجھے ان ٹاپ فائف فرفیومز میں تیسری اور پانچویں brands بہت پسند ہیں آگے آپ کی مرضی….
ڈاکٹروں کے انداز میں مشورہ دیتی اب وہ جا چکی تھی
………………………………….