Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10 Pt.2


حویلی کے تمام افراد اس وقت کھانے کی میز پر موجود تھے.عموماً جمعہ کے دن کھانا اکٹھا ہی کھایا جاتا تھا.سردار حشمت علی خان نے سردار دلاور علی خان کی طرف دیکھ کر پوچھا.
اب تو زریاب سیٹ ہو گیا ہے بزنس بھی اس کا ترقی کر رہا ہے.آگے کیا سوچا ہے اس کے بارے میں….
کیا سوچنا ہے اس کا بھائی صاحب…..؟؟؟
اب شہر ہی رہے گا. گاؤں تو رہ نہیں سکتا ویسے بھی میں نہیں چاہتا کہ وہ گاؤں رہے آپ جانتے تو ہیں سارے مسائل کو….
افراسیاب ہے ہمارے پاس یہ کہتے ہوئے انھوں نے پاس بیٹھے افراسیاب کو فخر سے دیکھا.
ہممم….
ٹھیک کہتے ہو تم.مگر میں سوچ رہا تھا کہ زریاب کی اب شادی کر دینی چاہیے.گاؤں میں اس کا کوئی مستقبل نہیں.وہیں شہر کی کوئی لڑکی دیکھ لو اب اس نے ساری زندگی وہیں رہنا ہے.
ہماری حویلی اب افراسیاب آباد کرے گا.سردار حشمت علی خان نے قدرے دکھ سے افراسیاب کو دیکھتے ہوئے کہا
کوثر بیگم اور نسرین بیگم نے زریاب کی شادی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا
ہم شہر کیسے لڑکی تلاش کریں گے…؟؟؟ کسی کو جانتے ہی نہیں.
ان کی بات پر سب ہنس پڑے
میرے ایک دوست کی بیٹی ہے بہت خوبصورت اور پڑھی لکھی میرا خیال ہے زریاب کے لیے ٹھیک رہے گی.
سردار حشمت علی خان نے کہا
ٹھیک ہے بھائی صاحب جیسے آپ کی مرضی…ویسے بھی وہ آپ کاہی بیٹا ہے.سردار دلاور علی خان نے کہا
لیکن بابا سائیں لالا سے پوچھ لیں شاید انھیں شہر میں کوئی لڑکی پسند ہو؟؟؟
افراسیاب نے گفتگو میں حصہ لیا
ٹھیک ہے اس سے بھی پوچھ لو…
سردار حشمت علی خان نے کہا
ماہین اور ماہ پارہ نے خوشی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا.اور سرگوشی کی بہت مزا آئے گا
سب کچھ نہ کچھ بول رہے تھے سوائے ماہ نور کے وہ چپ چاپ کھانا کھا کر اٹھ گئی
………..
نرمین اپنے کمرے میں بیٹھی اسائمنٹ بنا رہی تھی جب دینو بابا نے آ کر کہا کہ نیچے حنین صاحب آئے ہیں.
کیا..؟؟؟
کون آیا ہے..؟حنین
نرمین نے حیرت سے پوچھا
جی حنین صاحب آئے ہیں اور آپ کو بلا رہے ہیں.
اچھا میں آتی ہوں بابا اپ چائے کے ساتھ کچھ لے کر آئیں.
نرمین نے ڈوپٹہ گلے میں ڈالا اور ہاتھ میں پن پکڑے جلدی سے ڈرائنگ روم کی طرف بڑھ گئی
حنین ڈرائنگ روم کی الماری کے سامنے کھڑا تھا جس میں بےشمار ٹرافیاں اور شیلڈز پڑی تھیں.آہٹ ہر پلٹا.بلیک شرٹ اور کیمل کلر کی پینٹ میں غضب کا لگ رہا تھا.
توبہ کتنا لوہا جمع کیا ہوا ہے تم لوگوں نے….
حنین نے نرمین کی طرف دیکھ کر کہا
نرمین نے گلاسس اتار کر ہاتھ میں پکڑے اور جواب دیا.
مسٹر حنین یہ لوہا نہیں ہے بلکہ آپا بھائی بابا اور میری ٹرافیان اور انعامات ہین تمہاری طرح نالائق نہیں. یہ پڑھے لکھے لوگوں کا گھر ہے سمجھے
یہ کہتی وہ اب حنین نے بلکل سامنے تھی.
میرے خیالات اس پڑھے لکھے خاندان کے بارے میں کچھ مختلف ہیں…
حنین نے کہتے ہوئے اپنی گول مٹول آنکھوں سے گلاسس اتار کر شرٹ مین لگا دیے.
مطلب…؟؟
نرمین نے الجھ کر دیکھا
میرے نزدیک PHD کا مطلب پھرا ہوا دماغ ہے.اس طرح تمہارا باپ اور بھائی میرے حساب سے فارغ ہین اور وہ تمہاری میجر بہن اسے تو آرمی نے سہی جگہ رکھا ہوا ہے یعنی ہنگو….
پیچھے بچی تم…
اگر تم نے بھی PHD کر لی تو پورا خاندان پاگل خانے کے لیے پرفیکٹ ہے.
دوسرے لفظوں میں یہ پڑھا لکھا خاندان اصل میں پاگلوں کا ٹبر ہے.
حنین اب تپا دینے والی مسکراہٹ سے نرمین کو دیکھ رہا تبا.شرم آنی چاہیے تمہیں بکواس کرتے ہوئےنرمین کو اب غصہ آگیا تھا
تم اپنے آنے کا مطلب بتاؤ اور رفو چکر ہو.ماما بابا گھر پر نہیں ہیں.شکر کرو ورنہ بابا تمہیں بتاتے…
نرمین نے دھمکانے والے انداز میں کہا
یار تجھے دیکھنے آیا تھا تیری یاد آ رہی تھی اور ساتھ ہی نرمین کی طرف حنین نے قدم بڑھایا.
حنین تم ٹھیک تو ہو؟؟
نرمین نے حنین کو سر سے پاؤں تک دیکھتے ہوئے کہا
اس سے پہلے کے نرمین پیچھے ہٹتی حنین نے نرمین کا ہاتھ جس میں گلاسس پکڑی ہوئی تھی پر زور سے اپنا ہاتھ مارا اور گاسس زمین پر گر گئی.
یہ کیا بتمیزی ہے …
نرمین جلدی سے گلاسس اٹھانے لگی تو حنین نے اوپر پاؤں مار دیا جس کی وجہ سے گلاسس ٹوٹ گئی.
اوہ………….سوری نرمین
وہ اب معصوم شکل بنا کر کہہ رہا تھا.
یو ایڈیٹ اب میں اپنی اسائمنٹ کیسے بناؤں گی..؟؟نرمین چلائی
یار میں بنوا دیتا ہوں چلو میرے ساتھ……..حنین نے آفر ماری
میں نہیں جا رہی تمہارے ساتھ بابا ناراض ہوتے ہیں.وہ آنے والے ہونگے.نرمین نے سچ سے کام لیتے ہوئے کہا
ہممممم…..
تو اب اسائیمنٹ کیسے لکھوں گی…؟؟؟
حنین نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے پریشانی سے نرمین کو دیکھا جو بہت پریشان نظر آ رہی تھی.میں باہر جا رہا ہوں تم جلدی سے آ جاؤں اگر گلاسس لینے ہیں تو….
اور میں جانتا ہوں تم اپنی پڑھائی پر کمپرومائز نہیں کرتی.
وہ اب شانے اچکاتا گلاسس لگانے لگا
گھر پر کوئی نہیں ہے بابا جب آئیں گے تو گلاسس لا کر دیں گے پر پھر تو بہت دیر ہو جائے گی کیا کروں نرمین شش و پنج میں مبتلا تھی جب اسے حنین کی آواز آئی.
میرا تمہیں اغوا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے.آگے تمہاری مرضی ہے میں جا رہا ہوں
اچھا میں آتی ہوں مگر تم مجھے جلدی ڈراپ کر دینا پلیزز؟؟؟
نرمین نے انگلی سے وارن کرتے ہوئے کہا
حنین نے سینے پر دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے تھوڑا سا جھک کر کہا
جو حکم بندہ حاضر ہر….
(اور دل میں کہا تم چلو تو سہی آگے میری مرضی) اور مسکرانے لگا
نرمین گاڑی میں آکر بیٹھی تو حنین نے گاڑی سٹارٹ کر دی.تھوڑی دور جا کر نرمین کو احساس ہوا کہ یہ راستہ مارکیٹ کی طرف نہیں جاتا.
یہ کہاں جا رہے ہو..؟؟
نرمین نے حنین کی طرف دیکھ کر پوچھا
ہسپتال…؟؟ حنین نے بغیر دیکھے مسکرا کر کہا
مگر کیون…؟؟؟نرمین کو حیرانگی ہوئی
میں نے گائیناکالوسٹ سے ٹائم لیا ہے حنین نے بہت سیریس انداز میں جواب دیا
کیاااااااا ….؟؟؟ مگر کس کے لیے؟؟؟
نرمین کو جھٹکا لگا وہ اب پورا حنین کی طرف گھوم گئی تھی.
ماما کے لیے……
حنین نے نرمین کی حیرانگی کو انجوائے کرتے ہوئے کہا
بے شرم انسان کم از کم ماں باپ کو تو معاف کر دیا کرو.مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی.نرمین اب بگڑ چکی تھی
کول ڈاؤن یارررر….
اب اگر بابا کو ماما کی فکر نہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں بھی ان کی فکر چھوڑ دوں.اتنا بڑا گھر ہے اور کوئی رونق نہیں تمہارے بابا نے میری شادی ہونے نہیں دینی کہ گھر میں کچھ رونق لگے تو میں نے سوچا کہ میں خود ہی رونق کا بندوبست کر لوں.اچھا آئیڈیا ہے نااا…
آخر میں حنین نے داد طلب نظروں سے نرمین کو دیکھا جو اسے انتہائی غصے سے دیکھ رہی تھی.
شٹ اپ …..اور نرمین نے ڈیش بورڈ پر پڑا ٹشو کا ڈبہ حنین کے منہ پر مارا
اوچچچچچچ…..
کتنی ظالم ہو تم کتنا تشدد کرتی ہو مجھ پر پھر بھی سب تمہیں مظلوم سمجھتے ہیں
اور اتنی پڑھی لکھی ہو پر صرف ایک ہی گالی آتی ہے shutup اور گالیاں نہیں آتیں مثلاً
1.Bullshut
2.fuck of ur ass
3.fuck of ur mother
اس سے پہلے حنین اور کچھ بولتا نرمین بول پڑی.
کتنی گندی گالیاں دے رہے ہو شرم کرو کچھ اگر لوگ سنے گے تو کیا کہیں گے؟؟؟
نرمین نے افسوس سے حنین کو دیکھا
لوگوں کو سمجھ آئیں گی تب نااا……..حنین نے قہقہ لگایا
مگر مجھے تو سمجھ آ رہی ہیں.نرمین نے جواب دیا
تو کس نے کہا تھا اتنا پڑھنے لکھنے کو پتہ چلا کتنا نقصان ہوتا زیادہ پڑھے لکھے ہونے کا بندہ ہر بات سمجھ جاتا ہے اور پھر پریشان رہتا ہےمیں اسی لیے لڑکیوں کی زیادہ پڑھائی کے خلاف ہوں جب یہ بیویاں بنتی ہیں تو بہت تنگ کرتیں ہیں حنین نے تبصرہ کیا
میرے خیال سے تمہیں اپنا جملہ ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے تم صرف لڑکیوں کی نہیں بلکہ لڑکوں کی پڑھائی کے خلاف ہو.تبھی پڑھتے نہیں ہو…
نومین نے چڑ کر جواب دیا.اور گاڑی میں حنین کا قہقہ گونجا.
تم مجھے کتنے اچھے سے جانتی ہو قسم سے نرمین
I lovvee uuu😍😍😍
ساتھ ہی ہسپتال کی پارکنگ میں گاڑی رکی.
چلو شاباش نیچے اترو.حنین نے نرمین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
میں کیوں اتروں تم جاؤ.تمہارا مسئلہ ہے.
نرمین نے جواب دیا
پاگل…….گائنی کی وارڈ میں عورتوں کو مسئلہ ہوتا ہے مردوں کو نہیں نیچے اترو حنین نے نرمین کی طرف کا دروازہ کھولتے ہوئے کہا
نرمین نے دکھ سے حنین کو دیکھا جیسے کہہ رہی ہو تمہارا کچھ نہیں ہو سکتا.
حنین گاڑی لاک کرتا ریسپشن کی طرف نرمین ساتھ بڑھ گیا
مجھے آج تمہاری باتوں سے بہت جھٹکا لگا ہے.نرمین نے حنین کے ساتھ چلتے ہوئے کہا.
ہائے میری جان ابھی تو بہت جھٹکے رہتے ہیں اور زیر لب مسکرایا
ریسپشنلسٹ نے مسکرا کر پیشنٹ کا نام پوچھا.تاکہ پرچی بنا کر ڈاکٹر پاس بھیج سکے
حنین نے اپنے ساتھ کھڑی نرمین کو مسکرا کردیکھا پھر ریسپشنلسٹ کو نرمین ملک نام بتایا.جس پر نرمین کو دوسرا جھٹکا لگا
کیا بکواس ہے میرا نام نرمین احمد ہے نرمین ملک نہیں اور میں پیشنٹ نہیں
نرمین کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا
پر میرا دل کرتا ہے کہ ساری دنیا تمہیں نرمین ملک کے نام سے جانے.بلکہ مجھے ابھی ابھی ایک آئیڈیا آیا ہے میں صبح کے اخبار میں ایک اطلاع عام دیتا ہوں کہ آئندہ نرمین احمد کو نرمین ملک کے نام سے پکارااور لکھا جائے.کیسا آخر میں نرمین کو دیکھا جو غصہ سے سرخ پڑ رہی تھی.اس سے پہلے نرمین کچھ کہتی ریسپشنلسٹ نے حنین کو مخاطب کیا
سر یہ آپ کی پرچی ہے آپ پلیززز کمرہ نمبر نو میں تشریف لے جائیں اور ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے راہنمائی بھی کی.
حنین نے شکریہ کے ساتھ پرچی لی اور نرمین کو کمرہ کی طرف اشارہ کیا
جیسے ہی نرمین اور حنین کمرے میں داخل ہوئے سامنے ڈاکٹر رائحہ بخاری اور ایک سینئر ڈاکٹر نے مسکرا کر انھیں بیٹھنے کا اشارہ کیا.
(اچھا تو یہ ہے ڈاکٹر رائحہ دیکھنے میں تو عام سی ہے.اسی لیے کہتے ہیں سیانے بندہ کی جب عقل ماری جائے پھر اسے کچھ سمجھ نہیں آتی.دبیر مجھے افسوس ہے تیری چوائس پر….حنین دل میں سوچتا کرسی پر بیٹھ گیا).
سینئر ڈاکٹر نے نرمین کی طرف دیکھ کر پوچھا کتنا عرصہ ہو گیا شادی کو…؟؟
کیاااا…نرمین نے بے یقینی سے حنین کو دیکھا.
جی چھ سال ہو گئے ہیں مگر اولاد نہیں ہے مجھے تو کوئی فکر نہیں ہے مگر یہ پریشان رہتی ہے حنین نے پریشان نرمین کی طرف دیکھ کر ڈاکٹر کو جواب دیا
حنین کے جواب پر نرمین کی آنکھوں میں آنسو آگئے.
ڈاکٹر نے نرمین کو دیکھا تو حوصلہ دینے والے انداز میں کہا اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتے دیکھے کتنے اچھے ہسبنڈ ہیں آپ کے جب وہ پریشان نہیں تو آپ کیوں پریشان ہوتیں ہیں اور ساتھ ہی حنین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہم کچھ ٹیسٹ لکھ دیتے ہیں آپ پہلے وہ کروا لیں اور ڈاکٹر رائحہ کو مخاطب کر کے کہا آپ انھین ٹیسٹ لکھ دیں.
حنین یہی چاہتا تھا اس کے بعد حنین نے بےشمار سوال ڈاکٹر رائحہ سے کیے یہاں تک کہ رائحہ کا صبر جواب دے گیا.
مہربانی فرماکر اب آپ جاسکتے ہیں.رائحہ نے اپنی جان چھڑائی
حنین سے پہلے نرمین کھڑی ہوگی.دونوں آگے پیچھے کمرے سے باہر نکلے.
میں تمہیں جتنا گھٹیا سمجھتی تھی تم اس سے زیادہ گھٹیا ہو نرمین نے باہر آتے ہی غصہ سے کہا
آہستہ یہ ہسپتال ہے یونی نہیں
حنین نے جواب دیا
پارکنگ میں آ کر دونوں گاری میں بیٹھے نرمین مسلسل رو رہی تھی.اسے بہت دکھ ہوا حنین کی حرکت کا……
کیا ہے رو کیوں رہی ہو …؟؟؟
حنین نے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے کہا
Will u plzz shutup
نرمین نے باہر دیکھتے ہوئے جواب دیا.
پھر وہی ایک گالی……
حنین بڑبڑایا اور گاڑی چلانے لگا.
گاڑی میں مکمل خاموشی تھی صرف نرمین رو رہی تھی جس کی ہلکی ہلکی آواز آ رہی تھی حنین نے اسے چپ کرانے کی زحمت نہیں کی تھی.
تھوڑی دیر بعد نرمین خودبخود چپ کر گئی.
حنین نے ایک آپٹیکل لنز شاپ پر گاڑی روکی اور خود اندر جا کر تھوڑی دیر میں نرمین کے لیے پنک فریم والی انتہائی خوبصورت Ray.ban والوں کی گلاسس لے آیا.
یہ لو اپنے گلاسس تمہارے باپ نے جو لے کر دیےتھےاس سے زیادہ اچھے اور مہنگے ہیں.ساتھ ہی گاڑی سٹارٹ کر دی.
نرمین کو گلاسس پسند تو بہت آئے مگر اس نے تعریف نہیں کی اود پکڑ کر لگا لیے.اگر تمہیں میرے گلاسس کا نمبر معلوم تھا تو مجھے ساتھ لانے کی کیا ضرورت تھی..؟؟؟
کتنی پیاری لگ رہی ہو اب حنین نے مسکرا کر نرمین کے سوال کو اگنور کیا.
حنین تمہیں پتہ ہے کہ تم انتہائی گھٹیا انسان ہو..؟؟؟
نرمین نے سوالیہ انداز میں کہا
جی ہان ابھی ابھی آپ نے ہی بتایا ہے.حنین نے سامنے دیکھتے ہوئے جواب دیا.
کم از کم انسان میں اتنی انسانیت ہونی چاہیے کہ اگر ایک بندہ رو رہا ہے تو اسے چپ ہی کرا دو.نرمین نے گلہ کرتے ہوئے باہر دیکھا
اگر بندہ رو رہا ہو تو اسے چپ کروانا چاہیے.لیکن اگر لڑکی رو رہی ہو تو یہ غلطی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ میری جان اگر روتی لڑکی کو چپ کراؤںتو جہاں اس نے دس منٹ رونا ہے وہان وہ آدھا گھنٹہ روئے گی.لیکن اگر اسے چپ نہ کرایا جائے تو وہ خودبخود تھوڑی دیر میں چپ کر جائے گی یہ میرا تجربہ ہے جیسے ابھی تم نے خودملاحظہ کیا……
اشارہ نرمین کی طرف تھا.
بھاڑ میں جاؤ تم اور تمہارے تجربے بس مجھے گھر چھوڑ دو میرا سر گھوم رہا ہے.اب تک تو بابا بھی آگئے ہونگی.
نرمین نے پریشانی سے کہا.
کچھ کھاؤں گی..؟؟
چلو تمہیں کچھ کھلاتا ہوں.
حنین نے فاسٹ فورڈ کی طرف گاڑی موڑتے ہوئے کہا.
نہیں مجھے کچھ نہیں کھانا بابا آ گئے ہونگے بس مجھے گھر چھوڑ دو.
نرمین نے حنین کی طرف دیکھ کرکہا
چلو جیسے تمہاری مرضی….
حنین نے گاڑی ریورس کی اور نرمین نے گھر کے سامنے آ کر روکی.
اوہ شٹ بابا آگئے نرمین نے گیٹ سے گیراج میں کھڑی گاڑی دیکھ کر کہا.
نرمین بی بی تمہارا تو آج برا دن ہے اب جاؤ اور اپنے چنگیز خان کے سوالوں کا جواب دو اسی لیے کہا تھا کہ کچھ کھالو تاکہ انرجی آ جائے ڈانٹ کھانے کے لیے مگر تم میری بات مانتی ہی نہیں ہو.
اب حنین ہمدردی سے نرمین کو دیکھ رہا تھا.
دفع ہو جاؤ یہاں سے سب تمہاری وجہ سے یوتا ہے نرمین گاڑی سے اتری اور زور سے دروازہ بند کرتی اندر کی طرف بڑھ گئی