Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23 Pt.2


حویلی میں ایسا سناٹا تھا جیسے یہاں کوئی زی روح نہ رہتی ہو سب لوگوں کہ رو رو کے آنسو خشک ہو گئے تھے آنکھیں سوجھی ہوئیں تھیں نہ کھانے کا ہوش تھا نہ پینے کا……..
مگر دعائیں مسلسل کر رہے تھے.سب کی دیکھ بھال ماہ نور کر رہی تھی.کیونکہ ایک وہی اس وقت نارمل تھی.
سردار حشمت علی کے لیے وہ خود کھانا لائی تھی کیونکہ انھوں نے کل سے کچھ نہیں کھایا تھا.
بابا سائیں اٹھیں تھوڑا سا کھانا کھا لیں.
جیسے ہی ماہ نور نے کہا سردار حشمت نے آنکھیں کھول کر ماہ نور کو دیکھا اور پھر کچھ سوچ کر اٹھ بیٹھے.
تم بھی اِدھر بیٹھو……
ماہ نور کھانا رکھ کر جانے لگی تو انھوں نے کہا
ماہ نور چپ چاپ بیڈ کے کنارے پر بیٹھ گئی.
کھانا کھایا تم نے……؟؟
سردار حشمت کے یہ الفاظ سنتے ہی ماہ نور کی آنکھوں میں آنسو آگئے.
نہیں بابا سائیں …..
ماہ نور نے نم آواز میں جواب دیا
چلو میرے ساتھ کھانا کھاؤ سردار حشمت نے کہتے ہوئے ماہ نور کو آدھی روٹی توڑ کر دی اور باقی آدھی خود کھانے لگے.
ماہ نور کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب حقییقت ہے کیونکہ سردار حشمت کا رویہ ماہ نور ساتھ شروع سے ہی کافی غلط رہا تھا.
جب انھوں نے ماہ نور کو کھوئے ہوئے دیکھا تو پھر ٹوکا…..
ماہ نور کھانا کھاؤ…..
ماہ نور نے بڑی مشکل سے نوالہ توڑ کر منہ میں ڈالا مگر چبا نہ سکی.وہ ہمیشہ ہی باپ کی محبت کے لیے ترسی تھی.اب زرا سی توجہ اس پاگل کر رہی تھی.
سردار حشمت نے روٹی کھا کر ٹرے سائیڈ پر کی اور ماہ نور کو اپنے پاس آنے کا کہا
ماہ نور ڈرتے ڈرتے پاس گئی تو انھوں نے اسے گلے سے لگا لیا. اور کہا
میری بیٹی بہت بہادر ہے مجھے یہ بات معلوم نہیں تھی مگر جس طرح تم نے رات سے سب کا خیال رکھا ہوا ہے حالانکہ تمہارا نقصان ہم سب سے زیادہ ہے مجھے تم پر فخر ہے تم جاہل لڑکیوں کی طرح رو رو کر گھر والوں کو پریشان نہیں کر رہی.
جبکہ ماہ نور کو یہ تو نہیں پتہ چل رہا تھاکہ بابا سائیں کیا کہہ رہے ہیں اسے بس اتنا معلوم تھا کہ جب سے اس نے ہوش سمبھالا ہے آج پہلی دفعہ انھوں نے اسے پیار کیا ہے اور یہ احساس ہی کافی تھا اس کے لیے. وہ اپنے بابا کے سینے سے لگی آنسو بہانے لگی مگر یہ آنسو دکھ کے نہیں بلکہ خوشی کے تھے
……………………..
ہالہ نے کونین کو کمرے میں جاتے دیکھا جو کافی پریشان لگ رہا تھا کچھ دیر وہ بھی کچن کے دروازے میں کھڑی رہی پھر کونین کے کمرے کی طرف بڑھ گئی.
کونین اپنے جوگرز اتار رہا تھا جب دروازے پر دستک ہوئی.
کون ہے آ جائے..؟؟؟
کونین نے اونچی آواز میں کہا اود خود موزے اتارنے لگا
کیا بات ہے.؟؟؟ آج موڈ بہت آف ہے
ہالہ نے ڈریسنگ ٹیبل سے ٹیک لگاتے ہوئے پوچھا
بس پاگلوں کی کمی نہیں دنیا میں…..
کونین نے الماری سے اپنے کپڑے نکالتے ہوئے جواب دیا
یہ تو تم بلکل ٹھیک کہہ رہے ہو مگر ابھی تم کس پاگل سے مل کر آ رہے ہو اس کے بارے میں بتاؤ..؟؟؟
ہالہ نے اپنی ہنسی روکتے ہوئے پوچھا جسے کونین نے محسوس کیا.
ہینگر ہوئی شرٹ نکال کر کونین نے بازو پر ڈالی اور ہالہ کی طرف مڑ کر کہا
مس عترت حسین…….
اس بیچاری نے کیا کہا تمہیں..؟؟؟ اور وہ کب سے پاھل ہو گئی.
ہالہ نے کونین کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
وہ نارمل ہی کب تھی..؟؟؟ یاد نہیں ہالہ بی جب ہم اسے گھر چھوڑنے گئے تھے تو کیسی حرکتیں کی تھی اس نے…..
کونین نے ہالہ کے سامنے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا
اچھا بات بتاؤ اتنا سسپنس create مت کرو.
ہالہ نے بات سمیٹی
ہونا کیا تھا میں نے محترمہ سے کہا کہ آج میرے ساتھ میرے گھر چلو تاکہ تم میرا گھر دیکھ لو اور میرے گھر والے تمہیں….
کونین نے اتنی بات کر کے بیڈ سے تکیہ کھینچ کر اپنے سر کے نیچے رکھا اور ٹانگیں لٹکا کر لیٹ گیا.
اچھا پھررررررر….ہالہ نے زور سے کہا
پھر یہ کہ محترمہ نے صاف انکار کر دیا. انکار ہی نہیں کیا بلکہ (اب پھر جوش سے کونین دوبارہ بیڈ پر بیٹھ گیا اور تکیہ گود میں رکھ لیا) مجھ پر اعتبار نہیں یہ بھی کہہ دیا.بھلا میں کوئی لچا لفنگا ہوں…..اور پھر ہالہ کی طرف دیکھا
نہیں میرا بھائی لچا لفنگا کیسے ہو سکتا ہے مگر….
ہالہ نے کونین کے ساتھ بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا
مگر کیا..؟؟؟ کونین نے پوچھا
مگر میرے خیال سے تمہیں ابھی اسے یہ آفر مارنی نہیں چاہیے تھی.غلطی تمہاری ہے اس کی نہیں.تم صبر کرتے پھر جب وہ کہتی تو لے آتے.
ہالہ نے کچھ سوچ کر کہا
خیر جو بھی ہے مجھے اس پر غصہ ہے…
کونین نے پھر لیٹتے ہوئے کہا
اگر سونا ہی تھا تو یہ دھلی استری ہوئی شرٹ نکال کر خراب کرنے کا مقصد…؟؟؟
ہالہ نے شرٹ کو پکڑ کر پوچھا
سوری ہالہ بی ٹینشن سے نکال لی آپ پلیززز واپس ہینگ کر دیں اور جاتے ہوئے کمرے کی لائٹ اور دروازہ بند کر دینا
کونین نے کہا اور الٹا ہو کر لیٹ گیا
…………………
حنین اور دبیر شیشے کی کھڑکی سے زریاب کو دیکھ رہے تھے. اس کے منہ پر آکسیجن ماسک تھا ہاتھ میں کینولا اور بازو میں ڈرپ لگی ہوئی تھی.سینے اور دائیں بازو پر سفید پٹیاں لپٹیں تھی.اور ان کے اوپر واضح خون کے دھبے لگے تھے.کچھ دیر وہ دونوں وہاں کھڑے رہے اور اپنے اپنے آنسو ایک دوسرے سے چھپاتے رہے.پھر دبیر کو حنین کا خیال آیا تو اس نے حنین کو واپس چلنے کا کہا
دونوں ہی کوریڈور میں آرام سے چل رہے تھے جب دبیر کی نظر سیڑھیاں چڑھتی نرمین پر پڑی.
حنین وہ دیکھ یار نرمین…
دبیر نے حنین کو ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
جیسے ہی حنین کی نظر نرمین پر پڑی وہ فوراً زریاب کے خیالوں سے باہر آیا اور دبیر سے کہا
یار مجھے اپنی جیکٹ پہنا دی اور خود جلدی سے بازو کو گلے میں لٹکی پٹی سے نکالا.دبیر نے حنین کو ابھی جیکٹ پہنائی ہی تھی کہ نرمین ان پاس پہنچ گئی.
اب کیسا ہے زریاب….
ہمیشہ کی طرح نرم شائستہ لہجہ میں نرمین نے پوچھا
ویسا ہی ہے ابھی کوئی خاص فرق نہیں ہے.
دبیر نے جواب دیا.
چلو آؤ اندر چل کے بات کرتے ہیں.
حنین نے نرمین سے کہا اور وہ تینوں حنین کے کمرے میں پہنچ گئے.
تمہیں کیا ہوا ہے …؟؟؟؟
نرمین نے حنین کا بغور معائنہ کرتے ہوئے پوچھا.
اس سے پہلے کہ حنین کچھ کہتا نرس نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے حنین کو کہا
بازو میں گولی لگی ہے مگر چین نہیں ہے آرام سے بیٹھتے کیوں نہیں…؟؟؟
کسے گولی لگی ہے…؟؟؟
نرمین نے پریشانی سے پوچھا
کسی کو نہیں تم یہاں بیٹھو
حنین نے کرسی کی طرف نرمین کو اشارہ کیا.مگر نرس پھر بول پڑی.
اس نمونے کو اور کس کو میں نے اپنی زندگی میں اتنا ڈھیٹ مریض نہین دیکھا.
نرس حنین کی طرف منہ کر کے بولی. جبکہ دبیر نیچے منہ کر کے ہنس رہا تھا.
حنین تمہیں گولی لگی ہے اور تم نے مجھے بتایا نہیں…؟؟؟ یہ سب کیسے ہوا…؟؟؟؟ تم ٹھیک تو ہو…؟؟؟؟ میرا آگے ہی دل گھبرا رہا تھا…؟؟؟
یہ کہتے ہی نرمین نے اپنا سر پکڑ لیا.جبکہ حنین نے اس کی طبیعت خراب ہونے کے ڈر سے اسے ایک ہاتھ سے پکڑ کر بیڈ پر بیٹھایا.جبکہ نرمین نے غصہ سے چیخ کر کہا
چھوڑو مجھے……
جیسے ہی نرمین کے منہ سے یہ الفاظ نکلے ڈاکٹر رائحہ کمرے میں داخل ہوئیں اور نرمین کی آواز پر چونکی.کیونکہ سچویشن ہی ایسی تھی حنین اور دبیر بیڈ ساتھ کھڑے تھے اور نرمین کو زبردستی بیڈ پر بیٹھا رہے تھے
یہ کیا ہو رہا ہے…؟؟؟؟
رائحہ کی آواز پر تینوں پلٹے اور دبیر اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے دیوار ساتھ جالگا اور نیچے منہ کر کے ہنسنے لگا جبکہ حنین کبھی رائحہ کو اور کبھی نرمین کو اپنی گول مٹول آنکھوں سے دیکھ رہا تھا پھر کچھ سوچ کر رائحہ سے مخاطب ہوا.
یہ میری کلاس فیلو ہے بلکہ ہماری کلاس فیلو ہے….
حنین نے پہلے اپنی طرف پھر دبیر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
جھوٹ بولا تم نے مجھ سے …شرم نہیں آتی تمہیں….
نرمین نے غصہ سے کہتے ہوئے پٹیوں کا رول اٹھا کر حنین کے گولی والے بازو پر مارا.جس کی وجہ سے حنین کی چیخ نکل گئی.
پاگل لڑکی یہ کیا کر رہی ہو…..
حنین کے چیخنے پر دبیر اور رائحہ ایکدم اس کی طرف بڑھے
اب سچویشن یہ تھی کہ نرمین بیڈ پر بیٹھی تھی حنین اس کے بلکل سامنے تھا جبکہ رائحہ، نرمین اور حنین کے درمیان دروازے کی طرف اور دبیر، رائحہ اور حنین کے درمیان دیوار والی سائیڈ پر…..
یہ کیا ہو رہا ہے…؟؟؟
افراسیاب نے دروازہ کھولتے ہوئے پوچھا
چاروں نے مڑ کر دیکھا جبکہ حنین تپ گیا.
کیا مصیبت ہے جو آ رہا ہے ایک ہی سوال پوچھ رہا ہے.مجھے بھی بتاؤ کیا ہو رہا ہے…؟؟؟
حنین کے غصہ کو دیکھتے ہوئے افراسیاب نے کہا کچھ نہیں…..
بھائی میرے منہ سے ویسے ہی نکل گیا تھا جبکہ رائحہ اور دبیر دونوں ہی نیچے منہ کر کے ہنسنے لگے اور نرمین معصومیت سے سب کے چہرے دیکھنے لگی جیسے بات سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو
میں تو یہ بتانے آیا تھا ک لالہ کو ہوش آ گیا ہے….
یہ کہتے ساتھ ہی افراسیاب دروازے سے پلٹ گیا
……………..