Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17 Pt.2


اس وقت سردار حشمت علی خان کے کمرے میں سردار دلاور علی خان، افراسیاب اور حنین موجود تھا.
جبکہ زریاب باری باری سب کی شکلوں کو حیرانی سے دیکھ رہا تھا.
آپ یہ کیسے کر سکتے ہین…؟؟
یہ کیسے ہو سکتا ہے..؟؟
بیٹی ہے وہ اس گھر کی کوئی جانور نہیں ہے جو آپ جس کو دل چاہیے جب چاہے دے دیں گے
.
اورچوہدریوں کی ہمت کیسے ہوئی ماہ نور کا رشتہ مانگنے کی..؟؟؟ منہ کیوں نہیں توڑا آپ لوگوں نے ان کا….
ہاں کیسے کر دی..؟؟؟ میں تو یہ نکاح نہیں ہونے دوں گا…؟؟
اس وقت زریاب غصہ کی شدت سے چیخ رہا تھا جس کی آواز پورے کمرے میں گونج رہی تھی اور کوئی آگے سے اسے روک نہیں رہا تھا.آج زریاب چھ سال پرانا “سردار زریاب علی خان “لگ رہا تھا جسے چھیڑنے سے سب ڈرتے تھے اکھڑ، بتمیز،ضدی اور غصیلہ……
بابا اور تائے سے بات کرنے کے بعد وہ اب افراسیاب کی طرف پلٹا….
کیا فائدہ تیرے یہاں ہونے کا اگر تو نے کچھ کرنا ہی نہیں بےغیرت تیرے جیسے بھائی ہوتے ہیں.چھوٹا بھائی سمجھتی ہے ماہ نور تجھے اور تُو اس کی حفاظت نہیں کر سکتا یہ کہتے ہوئے زریاب نے ایک زور دار تھپڑ افراسیاب کے منہ پر مارا. وہ بیچارہ اس صورتِ حال کے لیے تیار ہی نہیں تھا سمبھل نہ سکا اور دیوار سے جا لگا اس کے ہونٹ سے خون نکل آیا.
صورتِ حال کافی سنجیدہ ہوتی جا رہی تھی مگر سردار دلاور خاموش تھے اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ سردار حشمت علی خان کسی کو بھی اجازت نہیں دیتے تھے کہ کوئی زریاب کو کچھ کہے اور دوسرا دلاور علی خان خود بھی یہی چاہتے تھے کہ یہ نکاح نہ ہو…
مگر جب صورت حال زیادہ بگڑتے دیکھی تو سردار حشمت علی نے افراسیاب کو کہا
جا اپنی ماں کو بلا کر لا اسے کہہ آ کر اپنے لاڈلے کو سمبھالے
اور خود زریاب سے مخاطب ہوئے
یہ جرگے کا فیصلہ ہے کچھ نہیں ہو سکتا.ویسے بھی وہ میری بیٹی ہے جسے دل چاہے گا دوں گا کوئی مجھ سے پوچھ گچھ نہیں کر سکتا اب اور ڈرامہ نہیں بس ختم کرو اس بحث کو…
میں کسی جرگے کے فیصلے کو نہیں مانتا.
آپ لوگوں کی جہالت کی وجہ سے یہ دن آیا ہے اگر چھ سال پہلے آپ لوگوں نے یہ کیس عدالت میں لڑا ہوتا تو کب کی اس سب سے ہماری جان چھوٹ گئی ہوتی
اور رہی بات کہ وہ آپ کی بیٹی ہے اور اُس کو اِس حویلی میں کسی سے کچھ لینا دینا نہیں تو ٹھیک ہے پھر مجھے کیوں فون کر کے بلایا تھامیں شہر واپس جا رہا ہوں اور یاد رکھنا اب کبھی واپس نہیں آؤں گا.
زریاب نے اپنی شہادت کی انگلی باری باری دونوں کی طرف کی اور خود تیزی سے مڑا جانے کے لیے جب سردار حشمت علی خان نے اسے آواز دی
بیٹا سائیں رکیں ناااااا
کہاں جا رہے ہیں..؟؟؟
آپ کو پتہ ہے میں آپ کی ناراضگی برداشت نہیں کر سکتا آپ میں مجھے اپنا آپ نظر آتا ہے.میرا وہ مطلب نہیں تھا جو آپ سمجھے.میں تو یہ کہہ رہا تھا کہ میں اس کا باپ ہوں اس کا برا نہیں چاہتا جو کچھ بھی کیا اس میں اس حویلی کی بہتری ہے
حویلی کی بہتری کس کام کی..؟؟؟تایا سائیں
جب حویلی کی بیٹی ہی برباد ہو جائے.چیزیں انسانوں کی replacement نہیں ہوتیں. انسان اہم ہوتے ہیں چیزیں نہیں…..اب کی بار زریاب نے سمجھانے والے انداز میں کہا اور کمرے سے باہر جانے کے لیے مڑا تو اس کی نظر حنین پر پڑی جو اسے ایسے دیکھ رہا تھا جیسے داد دے رہا ہو کہ کیا ایکٹنگ کی ہے…؟؟؟
نہ چاہتے ہوئے بھی زریاب کے ہونٹوں کو مسکراہٹ نے چھوا اور وہ حنین کا ہاتھ پکڑے کمرے سے باہر لے آ گیا.
شاباش میرا چیتا….
حنین نے زریاب کے کندھے پر تھپکی دی
چیتا جس کے سر پر ہاتھ پھیر دے پھر وہ نہیں جیتا….
زریاب نے قدرے غصہ سے حنین کا ہاتھ سائیڈ پر کیا
کیا مطلب ….؟؟؟حنین نے ناسمجھی سے زریاب کو دیکھا
مطلب یہ کہ جیسا تو نے کہا میں نے ویسا ہی کیا مگر تایا سائیں کی خاموشی سے مجھے ڈر لگ رہا ہے یہ خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ ثابت نہ ہو.
زریاب نے فکر مندی سے اپنا ہونٹ دباتے ہوئے حنین کو کہا
کچھ بھی نہیں ہو گا بس اب تو زنان خانے میں جا اور وہاں کی بھی خبر لے مگر یاد رہے ماہ نور کے آگے اپنی آپ کو ارزاں کرنے کی ضرورت نہیں اس کے پاؤں میں نہ بیٹھ جائیں وہ تیرے بچوں کی جنت ہے تیری نہیں اور اگر ضرورت پڑی تو ایک آدھ اسے بھی لگا دیں جیسے افراسیاب کو لگائی ہے ابھی ہم نے اپنا مقصد پورا کرنا ہے بعد میں بےشک ساری زندگی اس کے پاؤں میں بیٹھ کر چونچلے کرتا رہیں میں تجھے کچھ نہیں کہوں گا.کبھی اپنی مرضی بھی کرنی چاہیے ہر وقت لڑکی کی نہیں سنتے…..رن مرید
یہ کہہ کر حنین نے زریاب کو آنکھ ماری جبکہ زریاب اسے مکا مارتا زنان خانےکی طرف بڑھ گیا
………………
افراسیاب ہونٹ سے خون صاف کرتا لاؤنچ میں پہنچا تو پارو چیخ پڑی کیا ہوا آپ کو ..؟؟؟
ابھی تو بلکل ٹھیک تھے.ماہین جو صوفے پر بیٹھی رو رہے تھی آنکھیں صاف کرتی افراسیاب کو دیکھنے لگی
تھوڑا میرے لیے بھی رو لو تمہاری آپا کی وجہ سے لالا نے مجھے مارا ہے.
افراسیاب ماہین کی طرف دیکھتے دوسرے صوفے پر بیٹھ گیا.
لالا نے مارا ہے…
ماہین اور پارو دونوں نے چیخ کر کہا
ان کی آواز سنتے کوثر بیگم کچن سے اور نسرین بیگم اپنے کمرے سے باہر آگئیں.
اس سے پہلے کہ وہ افراسیاب سے کچھ پوچھتیں افراسیاب بول پڑا
لالا کو غصہ کا دورہ پڑا ہوا ہے اور تایا سائیں نے آپ کو بلایا ہے
کہاں ہے زریاب..؟؟؟بیگم کوثر نے پوچھا
اتنی دیر میں زریاب بھی الاؤنچ میں داخل ہو گیا
کس قسم کی ماں ہیں آپ..؟؟
اپنے ہاتھوں سے بیٹی کو کنواں میں دھکا دے رہی ہیں.مجھے تو لگتا ماہ نور آپ دونوں کی سگی اولاد ہے ہی نہیں جو سلوک آپ ماہین اور پارو ساتھ کرتے ہیں ویسا ماہ نور ساتھ کیون نہیں کرتے..؟؟؟ اس سے تو اچھا تھا آپ اسے پیدا ہوتے ہی مار دیتے
زریاب نے تائی کو دیکھتے ہی سارا غصہ ان پر اتار دیا.
بیگم کوثر جو آگے ہی ماہ نور کی وجہ سے دکھی تھیں زریاب کے طعنے سن کر رونے لگیں. جبکہ بیگم نسرین انھیں پکڑ کر کرسی پر بیٹھایا اور زریاب کو کہا
اس خاندان میں عورتوں کی کوئی اہمیت نہیں مردوں نے کبھی ان سے کسی بارے میں نہ کچھ پوچھاہے اور نہ کبھی رائے لی ہے بس حکم سنا دیتے اور ہم چپ چاپ عمل کرتے ہین یہی ہوتا رہا ہے ہم کیا کر سکتیں تھیں بولو…..؟؟؟
اماں سائیں اس خاندان کے مردوں کو خراب کرنے میں بھی آپ لوگوں کا ہی ہاتھ ہے نہ آپ ان کی جائز، ناجائز باتیں مانتی اور نہ وہ اتنا شیر ہوتے…
خیر میں یہ بتانے آیا ہوں کہ ماہ نور کا نکاح میں اس بڈھے سے نہیں ہونے دوں گا چاہے کچھ بھی ہو جائے
زریاب کی اس بات پر سب کھل اٹھے پارو تو فوراً زریاب کے گلے لگ گئی اور اونچی آواز میں کہا “لالا آپ بہت اچھے ہیں.”
………………….
ماہ نور غسل کر کے واش روم سے نکلی تو سیدھا ڈرائسنگ ٹیبل کے سامنے آ کر رکی اس نے آج چھ سال بعد کلر کپڑے پہنے تھے.میرون کلر کی سادی شلوار قمیض اور ہلکا گولڑن کامدار دوپٹہ….جو اس نے سلیقہ سے شانے پر لیا ہوا تھا.
اس نے ایک نظر اپنے آپ پر ڈالی اور پھر کچھ سوچ کر آنکھوں میں کاجل لگایا اور ہلکا سا لپ گلو اپنے نازک گلاب جیسے ہونٹوں پر…..
دودھیا سفید رنگت، کاجل سے لبریز آنکھیں اور شربتی ہونٹ اس وقت وہ کسی کو بھی ہوش سے بیگانہ کر سکتی تھی.
ابھی وہ تیار ہو کر اپنا جائزہ لے ہی رہی تھی جب ماہین اور پارو ایکدم دروازہ کھولتی کمرے میں داخل ہوئیں.خوشی ان کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی.کل تک جن چہروں پر دکھ کے سائے منڈلا رہے تھے اب وہ کہیں بھی دیکھائی نہیں دے رہے تھے.ماہ نور نے ان کو اس طرح خوش ہوتا دیکھ کر حیران ہوئی. جبکہ وہ دونوں آکر ماہ نور ساتھ لپٹ گئیں.
آپا اپ بے فکر رہیں اب سب اچھا اچھا ہو گا آپ کہیں نہیں جا رہیں ہمارے پاس رہیں گی پتہ زریاب لالا آئے ہین اور انھوں نے بابا سائیں کو منع کر دیا ہے کہ ماہ نور کا نکاح کسی بھی صورت اس بڈھے سے نہیں ہو گا.
وہ دونوں اپنی خوشی میں بول رہیں تھیں جب کہ ماہ نور کے چہرے پر خفگی کے آثار نمایاں تھے دونوں کو اپنے آپ سے الگ کرتی وہ ڈریسنگ ٹیبل کی چئیر پر بیٹھ گئی.
اسے کس نے بلایا ہے..؟؟
کیوں آیا ہے وہ..؟؟
مجھے نہیں ضرورت اس کی ہمدردیوں کی…
میں دوبارہ وہ کفن نہیں پہنوں گی…..
کیا مسئلہ ہے اس کے ساتھ جب بھی میں آزاد ہونے لگتی ہوں وہ پتہ نہیں کہاں سے آجاتا ہے….
وہ اس گھر کا بڑا ہے یا بابا سائیں…
وہ کون ہوتا ہے فیصلہ کرنے والا…..
ماہ نور بولے جا رہی تھی اس بات سے بے خبر کہ وہ کیا بول رہی ہے.جبکہ ماہین اور پارو دونوں ماہ نور کی بات پر سکتہ کی حالت میں تھیں.
آپا کیا مسئلہ ہے آپ ساتھ..؟؟ کیوں لالا کے پیچھے پڑیں رہتی ہیں..؟؟
اتنے اچھے ہیں وہ….
اتنا پیار کرتے آپ سے…
پارو نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ ماہ نور نے اسے چپ ہونے کا اشارہ کیا اور پوچھا
کہاں ہے تمہارا لالا..؟؟؟
باہر لاؤنچ میں ،ماہین نے جواب دیا
………………….
زریاب کے زنان خانے جانے کے بعد حنین نے نرمین کو کال کی.جو تیسری بل پر ریسو ہو گیا.
کہاں ہو..؟؟حنین نے پوچھا
ہسپتال میں تمہیں نہیں پتہ،نرمین نے مصنوعی غصہ سے جواب دیا
کیسی ہو..؟؟؟ حنین نے سوال کیس
ٹھیک ہوں یاد آگئی تمہیں میری، نرمین نے فوراً شکوہ کیا
“کیسے ممکن ہے ،بھول جائیں تمہیں؟؟؟
قصّہِ زندگی نہیں،حصّہ زندگی ہو تم….”
حنین نے شعر میں جواب دیا
اچھا،ویسے تمہارے رویے سے لگتا تو نہیں ہے.
نرمین نے جواب دیا
جب میں نے تمہیں سمجھایا تھا کہ ٹنشن نہیں لینا میں سب ٹھیک کر دوں گا تو کیا ضرورت تھی اتنی ٹنشن لینے کی..
حنین نے بات بدلی
میں نے جتنی ٹنشن لینی تھی لے لی ہے اب تمہاری باری حنین ملک. جب میری شادی ہو جائے گی پھر تم مسئلہ حل کرنا
نرمین نے حنین کو غصہ دلایا جس میں وہ کامیاب بھی رہی
“نرمین بچہ” زیادہ شوخ ہونے کی ضرورت نہیں ہے میں زرا زریاب کے نکاح سے فارغ ہو جاؤں پھر سیدھا تمہارے پاس ہی آؤں گا.
اسی کے انداز میں حنین نے جواب دیا
ہائے سچی آج زریاب کا نکاح ہے.مگر اتنی خاموشی سے کیوں کر رہا ہے.نرمین نے پہلے پُر جوش اور پھر حیرت سے کہا
خاموشی سے کہاں..؟؟؟ وہ تو بہت دھوم دھڑکے سے کر رہا ہے بلکہ تم یوں سمجھو کہ ایک دھماکے دار نکاح ہے.
حنین کے ذہن میں تھوری دیر پہلے والی کاروائی گھوم گئی
مطلب…؟؟؟نرمین نے ناسمجھی سے پوچھا
تم ان سب باتوں کو چھوڑو یہ بتاؤ گفٹ کیسا لگا.
حنین کو ایکدم باسکٹ یاد آ گئی
کون سا گفٹ…؟؟؟نرمین نے حنین کو تنگ کرنے کے لیے ہنسی دبا کر پوچھا
کیا مطلب کونسا گفٹ..؟؟
میں نے گاؤں آنا تھا دیر ہو رہی تھی اس لیے دبیر کے ہاتھوں تمہارے لیے ایک باسکٹ اور ایک کارڈ بھیجا تھا.حنین نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا
اچھا مگر مجھے تو کوئی باسکٹ نہیں ملی..
نرمین کو اسے تنگ کرنے میں مزا آ رہا تھا.
یہ کیسے ہو سکتا ہے دبیر نے خود تمہارے روم میں رکھی ہے.
حنین نے زچ ہوتے ہوئے کہا
تمہارا کیا مطلب ہے میں تم سے جھوٹ بول رہی ہوں….
نرمین نے جواب دیا جبکہ ابھی بھی وہ باسکٹ میں سے بنٹیاں نکال نکال کر کھا رہی تھی
میں نے یہ کب کہا مگر دبیر مجھ سے جھوٹ نہیں بول سکتا کبھی نہیں…….ھنین نے الجھتے ہوئے کہا
اچھا چھوڑو یہ بتاؤ کارڈ کس چیز کا تھا
نرمین نے پوچھا اس کا دل کر رہا تھا کہ حنین اسے خود کارڈ کی عبارت پڑھ کر سنائے
رہنے دو جب ملا ہی نہیں تمہیں. تو…؟؟؟
حنین کا لہجہ کچھ بجھ سا گیا
اچھا یہ بتاؤ کب تک واپس آؤں گے..؟؟
نرمین اب سنجیدہ تھی حنین کو مزید تنگ کرنے کا ارادہ اس نے ترک کر دیا تھا.
انشاءاللہ رات کو پہنچ جاوں گا اور پہلے تمہیں ہی دیکھنے آؤں گا اپنا خیال رکھو دبیر بتا رہا تھا بہت کمزور ہو گئی ہو.
اب کی بار حنین کے لہجہ میں نرمین کے لیے فکر نمایاں تھی
تھیک ہے جلدی سے واپس آ جاؤ ویسے مجھے چاکلیٹ کی نسبت بنٹیاں زیادہ پسند آئیں ہیں
نرمین نے ہنستے ہوئے کال کاٹ دی
نرمین کی بچی……
آخری جملے نے حنین کو مسکرانے پر مجبور کر دیا پنگے وہ بھی مجھ سے کتنا بار سمجھایا ہے مگر سمجھ ہی نہیں آتا پھر اس نے نرمین کو میسج کیا
“میرے ساتھ رہتے رہتے تم کافی سمجھدار ہو گئی ہو.نرمین ملک”
اور سینڈ کر دیا.حنین کو پتہ تھا اب جو جواب آنا ہے نرمین کو تنگ کرنے کے لیے اتنا ہی کافی تھا
میں نرمین احمد ہوں، نرمین ملک نہین.سمجھے
نرمین نے غصہ کی ایموجی ساتھ ریپلائے کیا
تو کتنی دیر لگتی ہے نرمین احمد کو نرمین ملک بننے میں
حنین نے فوراً میسج کا جواب دیا
چھ سال سے تو ایسا کچھ ہوا نہیں…اور مستقبل قریب میں بھی آثار موجود نہیں
نرمین نے اپنی ہنسی دباتے ہوئے حنین کو اور تپانے والا جواب دیا
میسج پڑھ کر حنین پہلے حیران ہوا پھر ہنسنے لگا
“نرمین بچہ اپنے استاد سے چالاکیاں نہیں کرتے میں اس وقت شہر سے تھوڑا دور ہوں ورنہ بتایا کتنی دیر لگنی ہے نرمین احمد کو نرمین ملک بننے میں…..
اور میسج سینڈ کر دیا
جیسے ہی حنین نے پاکٹ میں موبائل رکھا اسے زنان خانے سے زریاب آتا ہوا نظر آیا
……………….