Hichkiyan Muhabbat Ki Season 1 By Amna Mehmood Readelle50146 Episode 12 Pt.2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 12 Pt.2
کونین ڈیپارٹمنٹ سے گیارہ بجے کے قریب نکلا اس کے دوست بھی اس کے ساتھ تھے وہ سب مل کر کینٹن کی طرف جا رہے تھے جب گراؤنڈ کی سیڑھیوں پر عترت بیٹھی ہوئی نطر آئی
او شیٹ… یہ کیا کیا میں نے..؟؟؟ کیسے بھول گیا…؟؟؟
کونین کو اپنی صبح والی حرکت یاد آگئی وہ شرمندگی سے سر مارتا ہوا دوستوں کو خدا حافظ کہتے عترت کی طرف بڑھ گیا.
عترت بظاہر آنے جانے والوں کو دیکھ رہی تھی مگر سوچ حنین کی باتوں کو رہی تھی جب کونین کی آواز پر چونکی
کیسی ہیں؟؟؟
کونین نے دوستانہ مسکراہٹ سے عترت کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا
ٹھیک ہوں،مختصر جواب آیا
ناراض ہیں….؟؟؟
کونین نے عترت کو پیار سے دیکھتے ہوئے کہا
نہیں میں کیوں ناراض ہونے لگی.عترت نے جواب دیا جبکہ لہجے میں ناراضگی صاف ظاہر تھی.
سوری عترت مجھے یاد نہیں رہا.تم نے انتظار کیا ہو گا..؟؟؟
کونین نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا
کوئی بات نہیں مجھے ہی آپ کو سمجھنے میں غلطی ہوئی.
عترت ایک دم بہت اداس ہوگئی
پتہ نہیں کیوں کونین کو اس کا اداس ہونا اچھا نہیں لگا تھوڑی دیر دونوں خاموش رہے پھر کونین نے ہمت کر کے ہالہ بی کے بتائے ہوئے مشورے پر عمل کرنے کا سوچا
عترت میں نے جو کچھ اس دن کہا تھا وہ……
ابھی اتنا ہی کونین بولا تھا کہ عترت بول پڑی
“وہ سب جھوٹ تھا مجھے آپ سے کوئی دلچسپی نہیں.”
یہی کہنا چاہتے ہیں نا آپ مجھے معلوم ہے مگر پلیززز مت کہیں اور جائیں.
بات ختم کرتے عترت کا لہجہ کچھ نم ہو گیا جسے کونین نے محسوس کیا.
کہنا تو وہ یہی چاہتا تھا مگر جس طرح عترت نے کہا اسے برا لگا
نہیں یہ بات نہیں ہے میں تو یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ پھر آپ نے میرے بارے میں کیا سوچا…..؟؟
ایک دفعہ پھر کونین غلط بول گیا اور بولنے کے بعد احساس ہوا اپنی بات کا….
عترت نے مڑ کر کونین کو دیکھا جیسے یقین کرنا چاہ رہی ہو کہ کیا کہا…؟؟؟
کونین خودبخود پھنستا جا رہا تھا اسے خود سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ سوچتا کچھ تھا بولتا کچھ تھا اور ہوتا کچھ تھا.
کیا کہا آپ نے ابھی ابھی….؟؟؟
عترت اب پوری طرح کونین کی طرف مڑ کر بیٹھ گئی.
وہ میں پوچھ رہا تھا کہ آپ نے میرے بارے میں کیا سوچا…؟؟
کونین نے اپنی بات دہرائی
مجھے آپ بہت اچھے لگنے لگے ہیں.عترت کی اداسی ایکدم غائب ہو گئی اور اس کی جگہ مسکراہٹ نے لے لی.
کونین نے عترت کی طرف دیکھتے ہوئے سوچا یہ لڑکی کتنی سادہ اور معصوم ہے اسے تو کوئی بھی بڑی آسانی سے بےوقوف بنا کر اپنا کام نکلوا سکتا ہے اگر میں نے اسے چھوڑ دیا تو کسی غلط لڑکے کے ہاتھ نہ لگ جائے.
کیا ہوا کیا سوچ رہے ہیں…؟؟؟
جب کافی دیر کونین کچھ نہ بولا تو عترت بول پڑی.
عترت تم بہت بےوقوف ہو.کونین نے کہا
جی…..یہ تعریف ہے یا…….
عترت نے حیران ہوتے ہوئے کہا
دونوں……
اور کونین ہنس پڑا
اچھا تم نے صبح کونسی بات کرنی تھی.کونین نے عترت سے پوچھا
وہ آپ حنین ملک کو جانتے ہین..؟؟؟عترت نے کہا
اسے کون نہین جانتا میں کئی بار ملا ہوں اس سے، سینئر ہے ہمارا……
کونین نے جواب دیا
آپ ان سے ایک دفعہ مل لیں پلیززززز…
عترت نے جیسے ہی یہ کہا کونین کو شدید حیرت ہوئی یہ بات کرنی تھی..؟؟؟
وہ پوچھے بنا نہ رہ سکا
عترت نے نظریں جھکا کر جواب دیا.جی یہی کہنا تھا.
……………………..
آج حویلج میں کافی خاموشی تھی دن کو چوہدریوں کے کچھ لوگ آئے تھے نہ جانے کیا بات ہوئی تھی مگر ان لوگوں کے جانے کے بعد سردار دلاور اور سردار حشمت ڈیرے پر پریشان بیٹھے تھے کہ….
سردار دلاور علی خان نے کہا
بھائی پھر کیاسوچا ہے مجھے تو یہ ٹھیک نہیں لگ رہا میرا دل مطمئن نہیں….
سردار حشمت علی خان نے دکھ سے ایک گہرا سانس لیتے ہوئے سردار دلاور علی خان کو دیکھ کر کہا
کیا کر سکتے ہیں…؟؟؟
مجبوری ہے اب اس کے نصیب ہی ایسے ہیں میں کیا کروں..؟؟؟
تم ایسا کرو زریاب کو فون کر کے بلا لو پچھلی دفعہ ہی بہت ناراض ہوا تھا یہ کہہ کر وہ زنان خانے کی طرف چل پڑے.جبکہ سردار دلاور زریاب کو کال کرنے لگے
ماہ نور اپنے کمرے میں صوفے پر بیٹھی تھی جب ماہین نے آ کر کہا
آپا آپ کو بابا سائیں بلا رہے ہیں.
ماہ نور نے ماہین کی طرف حیرت سے دیکھا اور پوچھا
مجھے…..؟؟
جی آپ کو بلانے کے لیے مجھے بھیجا ہے
ویسے آپا کوئی خاص بات ہے سب ہی موجود ہیں بابا سائیں کے کمرے میں..،ماہین نے اپنے طور پر خبر دی
چلو دیکھتے ہیں پھر کیا بات ہے؟؟ماہ نور ماہین کر ساتھ چلتی ہوئی سردار حشمت علی خان کے کمرے کے باہر پہنچی.جہاں ماہ پارہ اور افراسیاب پہلے سے موجود تھے.
تم لوگ یہاں کیا کر رہے ہو؟؟
ماہ نور نے مصنوعی غصہ سے پوچھا
آپا ہمیں بھی تو پتہ چلے کیا خاص بات ہے..؟؟؟
افراسیاب نے جواب دیا
اچھا ٹھیک ہے پھر کھڑے رہو.یہ کہتی ہوئی ماہ نور کمرے میں داخل ہو گئی.
سردار حشمت علی خان ماہ نور سے بات نہیں کرتے تھے بہت کم بلاتے وہ بھی کسی کام کی صورت میں یہی وجہ تھی کہ ماہ نور کو اپنے باپ سے نفرت اور ڈر لگتا تھا.ابھی بھی جیسے ہی اس کی نظر اپنے بابا پر پڑی وہ کانپنے لگی
جی بابا سائیں آپ نے بلوایا سلام کرنے کے بعد ماہ نور نے نظرین جھکا کر کیا
ہاں بیٹھو……
انھوں نے اپنے پاؤں کی طرف بیڈ پر بیٹھنے کا کہا جبکہ سردار دلاور علی اور بیگم نسرین دونوں صوفے پر براجمال تھے اور ماہ نور کی ماں سردار حشمت علی خان کی دائیں جانب بیٹھی تھی.
ماہ نور نے ایک نظر سب پر ڈالی اور بیٹھ گئی.سب کی آنکھیں سرخ تھیں سوائے سردار حشمت علی خان کے…..
تمہیں یہ بتانے کے لیے بلایا تھا کہ ہم نے ماہین کا رشتہ افراسیاب سے کر دیا ہے گھر کا بچہ ہے دیکھا بھالا اور زریاب کے لیے میں نے اپنے دوست کی بیٹی پسند کی ہے آ رہا ہے جمعہ کو پھر افراسیاب اور زریاب کی اکٹھی رسم کریں گے
(ماہ نور کے اندر خطرے کی گھنٹیان بج رہیں تھیں مگر جو باتیں بابا نے بتائیں ان سب کا میرے سے کیا لینا دینا.یہ تو سب خوشی کی باتیں ہیں.وہ ذہن میں سوچنے لگی )
مبارک ہو بابا سائیں….ماہ نور نے مبارک دی
خیر مبارک خیر مبارک…
سردار حشمت نے جواب دیتے ہوئے کہا
اور ہاں آج چوہدری محمد علی(اسد کا باپ) آیا تھاتمہارے لیے رشتہ لے کر ….
ماہ نور کو اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا
وہ اس کے بھائی(اسد کا چچا) کی بیوی فوت ہو گئی ہے بیچارہ بےاولاد ہے کڑوڑوں کی جائیداد ہے مگر وارث نہیں وہ چاہتے ہیں کہ ہم تمہارا نکاح اس سے کر دیں اس طرح جرگہ کی شرط بھی پوری ہو جائے گی اور دونوں خاندانوں میں دوبارہ رشتہ کی وجہ سے دشمنی بھی نہیں رہے گی.اور بیچارے کو وارث بھی مل جائے گا.
مجھے تو اس رشتے پرکوئی اعتراض نہیں لڑکے کی عمر بس کچھ زیادہ ہےیہی کوئی پچاس سال کا ہو گا مگر لگتا نہیں ہے.
اب کی بار سردار حشمت علی خان کی آواز تھوڑی لڑکھڑائی….
جمعہ کو زریاب اود افراسیاب کی دعائے خیر کے بعد تمہارا نکاح ہے اور اتوار کو رخصتی…..
اپنا سامان پیک کر لو ہم تمہیں دھوم دھام سے رخصت کریں گے آخر تم ہماری بیٹی ہو.
پھر انھوں نے ایک سانس خارج کرتے ہوئے ماہ نور سے سرسری سا پوچھا تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں ہے…..؟؟؟؟
یہ کہہ کر انھوں نے ماہ نور کی طرف دیکھا جو سر جھکائے بات سن رہی تھی
ماہ نور نے اپنا سانس بحال کیا اور ایک شکوہ کناہ نظر اپنے چچا پر ڈالی جنہوں نے ماہ نور کو اپنی طرف دیکھتا پا کر نظر پھیر لی (چچا سائیں اچھا نہیں کیا آپ نے میرے ساتھ مجھے آپ سے بہت سی امیدیں تھیں آپ تو مجھے بہت پیار کرتے تھے بیٹی کہتے تھے.تو فیصلہ ہوا میں آپ کی بیٹی نہیں آپ کو بھی اپنا بیٹا عزیز ہے ماہ نور نے دل میں سوچا) اور کہا
مجھے آپ کا ہر فیصلہ منظور ہے جیسا آپ کہیں گے میں ویسا ہی کروں گی بابا سائیں میں آپ کی حکم عدولی کا سوچ بھی نہیں سکتی اور ساتھ ہی اٹھ کھڑی ہوئی.
بابا سائیں اجازت
ہاں ٹھیک ہے اللہ خوش رکھے جاؤ آرام کرو.اسی میں ہم سب کی بہتری ہے اپنا دل برا نہ کرنا
بندہ بہت شریف اور اچھا ہے خیال رکھے گا تمہارا…
سردار حشمت علی خان نے ماہ نور کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا
ماہ نور جیسے ہی کمرے سے نکلی باہر ماہین اور ماہ پارہ منہ پر ہاتھ رکھ کر رو رہیں تھی.ماہ نور کو دیکھ کر اس سے لپٹ گئیں.
کیا ہوا کیوں رو رہی ہو مبارک ہو تمہیں ماہ نور نے پہلے ماہین کو اور پھر افراسیاب کو دیکھ کر کہا
افراسیاب نے منہ پھیر لیا جبکہ ماہین اور زیادہ رونے لگی.
آپا یہ غلط ہے ظلم ہے…..
ماہین نے روتے ہوئے کہا
اچھا چپ کرو کچھ نہیں ہوا میں خوش ہوں تم کیوں اداس ہو چلو ہٹو مجھے جانے دو.ماہ نور دونوں کو خود سے الگ کرتی اپنے کمرے میں آگئ.
اسے رونا نہیں آ رہا تھا نہ ہی غصہ آ رہا تھا.عجیب سی حالت تھی.وہ بیڈ پر بیٹھ گئ اور سوچنے لگی یہ میرے اپنے ماں باپ ہیں…….؟؟؟
اور آنکھوں کے پورے بھیگنے لگے
“جینے والے نے ہی ہمت سے گُزاری ہو گی
زندگی تُو نے رعایت تو نہیں کی ہو گی”
……………………
