Hichkiyan Muhabbat Ki Season 1 By Amna Mehmood Readelle50146 Episode 9 Pt.1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 9 Pt.1
دبیر گاڑی میں بیٹھے مسلسل رائحہ کے بارے میں سوچ رہا تھا.
کیا چیز ہو تم ڈاکٹر رائحہ بخاری..؟؟؟؟
دبیر نے موبائل نکال کر حنین کو میسج کیا کہ وہ زریاب کے فلیٹ پر پہنچے.
کچھ نہ کچھ تو کرنا پڑے گا اور میں کچھ نہ کچھ تو کرو گا. ڈاکٹر رائحہ بخاری تمہارا ….
یہ کہتے وہ گاڑی سٹارٹ کرنے لگا
……………………………
نرمین کے میسج نے حنین کا پارہ ہائی کر دیا تھا.وہ اب کمرے میں مسلسل چہل قدمی کر رہا تھا.
بڑی آئی…..
“میری شادی کی بریانی کھانے کے لیے تیار رہو”
نرمین کی بچی تجھے تو بعد میں دیکھتا ہوں اور اچھے سے بتاؤں گا کہ حنین ملک کو دھمکی دیتے کیسے ہیں…؟؟؟
مگر پہلے زرا ڈیڈ کی خبر لے لو..؟؟؟
وہ کیا ہے نااااا……سیانے کہتے ہیں پہلے اپنے گھر سے شروع کرو.
حنین نےدل میں سوچتے ہوئے ملک نزیر کے کمرے کی طرف رخ کیا
جیسے ہی کمرے کا دروازہ کھولاملک صاحب جو بیگم غزالہ ساتھ شطرنج کھیلنے میں مصروف تھے بولے…
آؤ بیٹا آؤ…دیکھو تمہاری ممی کتنی بری طرح ہار رہی ہیں
جبکہ غزالہ بیگم نے شکر کا کلمہ پڑھا کہ اب ان کی جان چھوٹ جائے گی.
آپ جانتے ہیں مجھے شطرنج کھیلنا نہیں آتی پھر بھی آپ مجھے ہرا کر خوش ہوتے ہیں.ہمت ہے تو میرے شہزادے کو ہرا کر دیکھائیں اور ساتھ ہی اپنی جگہ حنین کو بیٹھنے کا اشارہ کیا
مام اب آپ دیکھیں میں کیسے ڈیڈ کو ہراتا ہوں.حنین نے بیگم غزالہ کی جگہ بیٹھتے ہوئے ملک نزیر کی طرف شرارت بھرے انداز میں کہا
بیٹا جی آپ ابھی اتنے بڑے نہیں ہوئے کہ مجھے ہرا سکیں.
ملک نزیر نے ہنستے ہوئے دوبارہ شطرنج کو ترتیب دیا
ٹھیک ہے پھر شرط لگی اگر آپ جیتے تو میں آپ کو MBA کر کے دیکھاؤں گا…
اور اگر میں جیتا تو آپ وہ کریں گے جو میں کہوں گا..؟؟
منظور
ساتھ ہی بیگم غزالہ کی طرف دیکھا جیسے ان کی حمایت چاہ رہا ہو.
ہاں جی اب بولیں منظور ہے میرے بیٹے کی شرط.؟؟؟
غزالہ بیگم کو معلوم تھا کہ حنین ہار جائے گا اور اسی بہانے اس کا MBA کلئیر ہو جائےگا.انھون نے آنکھوں کے اشارے سے ملک صاحب کو ہاں کرنے کے لیے کہا
ٹھیک ہے اگر تم دونوں ماں بیٹے کی ضد یہی ہے تو مجھے منظور ہےملک صاحب نے حمایت کر دی.
پکا ڈیڈ آپ اپنی بات پر قائم رہیں گے؟؟؟
حنین نے تصدیق چاہی
پکا ….میں اپنی بات پر قائم رہوں گاغزالہ بیگم آپ گواہ رہنا.
ملک نزیر نے غزالہ بیگم کو گواہ بنایا.
ٹھیک ہے چلیں پہلی چال میں چلتا ہوں حنین نے کھیل شروع کیا ….
پھر دیکھتے دیکھتے حنین نے بازی مار لی (یہ الگ بات کہ اس نے بھر پور چیٹنگ کی ماں باپ کی نظر مین اپنی باتوں سے دھول جھونک کے)
Yahoooooo i m winner you are looser…
حنین چلایا…
نزیر صاحب نے پیچھے ہارنے والے انداز میں صوفے سے ٹیک لگاتے حنین کو اپنا مطالبہ پیش کرنے کو کہا.جبکہ غزالہ بیگم نے افسوس سے ملک حاحب کو دیکھا
آپ کا بھی بس مجھ پر ہی چلتا ہے حنین کو تو ہرا نہیں سکے غصہ سے کہتی غزالہ بیگم کمرہ سے واک آؤٹ کر گئیں.
جی ڈیڈ تو اب ڈیل کی طرف آتے ہیں.حنین نے دونوں کہنیاں ٹیبل پر رکھتے ہوئے انگلیوں کا کراس بنا کر ملک صاحب سے کہا.
جی بولیں برخوردار میں اپنی بات پر قائم ہون.ملک صاحب نے حنین کو دیکھتے ہوئے کہا
ڈیڈ میں آپ کو دو آپشن دے رہا ہوں ان میں سے ایک پوری کر دیں.
1.مجھ سے اس گھر میں اکلوتے بیٹے والا سلوک نہیں ہوتا تو پھر میں اکلوتا کیوں رہوں…؟؟؟
مجھے ایک بہن یا بھائی لا کر دیں.ساتھ ہی شرارت سے ملک صاحب کو دیکھا
یہ کیا بکواس ہے؟ ؟؟ ملک صاحب غصہ سے سیدھے ہو کر بیٹھ گئے.(حنین آٹھ سال بعد پیدا ہواتھا اور ڈاکٹرز نے انھیں بتا دیا تھا کہ غزالہ بیگم اب ماں نہیں بن سکتیں) فضول بات میں یہ نہیں کر سکتا.دوسری آپشن دو
ٹھیک ہے پھر آپ کو دوسری آپشن پر اعتراز نہیں ہونا چاہیے
2.آپ آج ہی نرمین کے گھر میرا رشتہ لے کر جائیں گے اور نکاح کی تاریخ طے کے کے آئیں گے.
(حنین نے پہلی شرط جان کر رکھی تھی کیونکہ اسے معلوم تھا اگر وہ صرف رشتے کی بات کہے گا تو ملک صاحب نہیں مانے گئے)
کچھ دیر سوچنے کے بعد ملک صاحب نے دوسری آپشن مان لی.
You are great papa i love u.
حنین نے ملک صاحب کو جھپی ڈال کر کہا
اب وہ کمرے سے باہر آتا غزالہ بیگم کو آوازیں لگا رہا تھا .
موم آپ کو ڈیڈ بلا رہے ہیں کوئی ضروری بات کرنی ہیں انھوں نے آپ سے…
ساتھ ہی جیب سے موبائل نکالا
نرمین بی بی اب تمہاری باری دھمکی کیسے دیتے ہیں یہ اب میں بتاتا ہوں……..
………………………………..
دبیر عترت اور اماں بی ہالہ کے گھر کی طرف رواں دواں تھے.عترت اور اماں بی نے بہت سی چیزیں لیں تھی.عترت کی خوشی دیدنی تھی.
دبیر عترت کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا.اللہ اسے ہمیشہ خوش رکھیں.میں نے اسے بہت پیار سے پالا ہے.آمین.وہ دل ہی دل میں اس کے لیے دعائیں کر رہا تھا.
لو بھئی تمہارے بتائے ہوئے ایڈریس پر پہنچ گئے.دبیر نے گلی کے موڑ پر کھمبے کے ساتھ گاڑی روکتے ہوئے کہا…
یہ کیسی جگہ ہے اماں بی کو حیرت ہوئی…؟؟؟
چھوٹی چھوٹی گلیوں کا یہ ایک متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا محلہ تھا جب بندہ ڈیفنس سے نکلتا ہے تو اسے ایسی جگہیں زرا زیادہ ہی عجیب لگتی ہیں.
جو ایڈریس عترت نے دیا تھا اسی پر لایاہوں.دبیر نے کندھے اچکا کر سینٹر مرر میں پیچھے بیٹھی اماں بی کو مخاطب کر کے کہا جو انہایت بیزاری سے ارد گرد کا جائزہ لے رہیں تھیں.
کافی گندا محلہ ہے ویسے عترت کی ہالہ بی کا…….
دبیر نے چڑانے والے انداز میں عترت کو دیکھا.جو آگے ہی اماں بی کی باتوں پر منہ بنائے بیٹھی تھی.
اماں بی بری بات ہے جگہ سے کیا فرق پڑتا ہے.ہالہ بی تو اتنی پڑھی لکھی اور پیاری ہیں.ہالہ کے نام پر عترت کی آنکھوں میں غصہ کی جگہ محبت نے لے لی.
توبہ کرو بی بی.میں اپنے اکلوتے بیٹے کا رشتہ اتنی گندی جگہ کرو گی.جیسی جگہ ہوتی ہے ویسے ہی رہنے والے……..
آپ کو کوئی حق نہیں کسی کی بےعزتی کرنے کا….
نہیں جانا تو نہ جائیں مگر ہالہ بی کو کچھ مت کہیں وہ بھی ہماری طرح سید ہیں.اب عترت کی آنکھوں میں غصہ کے ساتھ ساتھ نمی بھی تھی.
دبیر گاڑی موڑو ہمیں نہیں جانا یہ کوئی جگہ ہے گاڑی تک گلیوں میں نہیں جاتی.جگہ جگہ کوڑے کے ڈھیر اور گٹر ابل رہے ہیں.مجھے تو حیرت ہے ایسی جگہ رہتے ہوئے وہ اتنی مہنگی یونیورسٹی میں کیسے پڑھی.
اماں بی نے دبیر کو حکم دیتے ہوئے کہا
دبیر جو کافی دیر سے اماں بی اور عترت کی تکرار سن کر مسکرا رہا تھا.بلآخر بول پڑا.
اماں بی میں بھی یہی سوچ رہا تھا کہ اتنی مہنگی یونیورسٹی میں وہ پڑھی کیسے.. ؟؟؟؟
دبیر اب گاڑی موڑنے کی کوشش کر رہا تھا.مگر سڑک کی چوڑائی کم ہونے کی وجہ سے مشکل پیش آ رہی تھی
جبکہ عترت کا موڈ بری طرح آف ہو چکا تھا.جسے دبیر اور اماں بی نے نوٹ کیا مگر اسے چھیڑا نہیں.
واپسی پر سارے راستے عترت خاموش رہی اماں بی اور دبیر نے ہلکی پھلکی باتیں کیں مگر عترت نے کسی بات میں حصہ نہیں لیا.
جب گاڑی پورچ میں پہنچی تو عترت سیدھی لان کی طرف آگئی جبکہ اماں بھی اندر چلی گئیں.
دبیر گاڑی پارک کر کے سیدھا عترت پاس آگیا وہ جھولے پر بیٹھی پھولوں کو دیکھ رہی تھی.دبیر بھی اس کے ساتھ بیٹھ گیا.اب دونوں بہن بھائی جھولا جھول رہے تھے مگر خاموشی سے…
جب کافی دیر تک عترت نہیں بولی تو دبیر نے اپنا بازو عترت کے گرد حائل کرتے ہوئے لاڈ سے کہا
گڑیا مجھ سے کیوں ناراض ہو؟؟ میں نے کیا کیا ہے؟؟ میں تو لے کر گیا تھا نا تمہیں؟؟؟
اب اماں بی نہیں مانی تو میرا کیا قصور…؟؟؟؟
عترت پھر بھی کچھ نہیں بولی
گڑیا ادھر دیکھو..؟؟؟
میری طرف….پلیزززززز.
دبیر نے منت بھرے لہجے میں کہا…..
مجھے آج بہت دکھ پہنچا ہے.میں نے کبھی آپ کو یا اماں بی کو غریبوں سے نفرت کرتے نہیں دیکھا.بلکہ آپ دونوں گھر کے نوکروں سے بھی اتنی عزت سے بات کرتے ہیں.مجھے بھی آپ لوگوں نے ہمیشہ یہی سیکھایا ہے کہ انسان کی قدر کرو پیسے کی نہیں.مگر آج میں نے آپ دونوں کے قول وفعل میں تضاد دیکھا ہے.
ہالہ بھی ہماری طرح سید ہیں ان کے والد گورنمنٹ ملازمت کرتے ہیں اچھے گریڈ کے افسر ہیں ان کا بھائی اسی یونیورسٹی میں آپ کی طرح MBA کر رہا ہے.وہ جب چاہیں اچھی جگہ گھر لے سکتے ہیں.مگر پتہ کیوں نہیں لیتے…؟؟؟
عترت نے رک کر دبیر کو دیکھا جو اسے بہت غور سے فیکھ رہا تھا.اور پھر بولی
اس لیے کہ وہ لوگوں کی قدر کرتے ہیں پیسے کی نہیں محلے کے سب لوگ ان کی عزت کرتے ہیں ان کے دکھ سکھ میں کام آتے ہین.وہ محلہ ان کی فیملی ہے اور سب کو اپنی فیملی عزیز ہوتی ہے.
رہی بات رشتے کی تو ایک دفعہ مل تو لیتے ہالہ بی سے، بغیر دیکھے آپ نے ان کو ریجیکٹ کر دیا محلے کی وجہ سے حالانکہ ہم نے ہالہ بی کو اپنے گھر لانا ہے ان کے محلے کو نہیں.مگر…
عترت کچھ دیر چپ کر کے بولی.
مگر بھائی آپ deserve ہی نہیں کرتے ہالہ بی کو…
اتنا کہتی وہ آنکھوں میں آنسو لیے اندر کی طرف بھاگ گئی.
دبیر عترت کے جانے کے بعد کچھ دیر سوچتا رہا پھر اماں بی کے کمرے کی طرف بڑھ گیا
