Hichkiyan Muhabbat Ki Season 1 By Amna Mehmood Readelle50146 Episode 25 Pt.1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 25 Pt.1
حنین کو دس دن بعد ہسپتال والوں نے چھٹی دے دی تھی. ملک صاحب نے اب غزالہ بیگم کو بھی سب سچ سچ بتا دیا تھا کیونکہ اب حنین بلکل ٹھیک تھا اس لیے وہ زیادہ افسردہ نہیں تھی بس دونوں باپ بیٹے سے خفا ضرور تھی کہ انھوں نے مجھے اندھیرے میں رکھا.
غزالہ بیگم نے حنین کی صحت یابی کی خوشی میں ایک بہت بڑی دعوت رکھی تھی جس میں کالونی والے، رشتےدار،کاروباری لوگوں کے علاوہ اپنے اور حنین کے دوستوں کو بھی بلایا گیا تھا اور خاص طور پر نرمین کی فیملی کو مدعو کیا گیا تھا اس کی دو وجوہات تھیں ایک یہ کہ نرمین ہمارا گھر دیکھ لے اور دوسرا حنین اور نرمین کے نکاح کی تاریخ طے کرنا تھی.
احمد صاحب نکاح کی تاریخ کے لیے تو مان گئے تھے مگر انھوں نے یہ شرط رکھی تھی کہ جب تک حنین MBA نہیں کر لیتا میں نرمین کو رخصت نہیں کروں گا اور یہ بات ملک نزیر اور بیگم غزالہ نزید نے مان بھی لی تھی
زریاب کیونکہ ابھی ہسپتال ہی تھا اس وجہ سے وہ نہیں آیا تھا جبکہ دبیر کی پوری فیملی اور ڈاکٹر رائحہ بھی آئیں تھی حننن کے علاوہ ملک نزیر نے خود بھی اسے دعوت دی تھی کیونکہ ملک صاحب کو اعتراف تھا کہ اس ڈاکٹر نے میرے بچے کا بہت خیال رکھا ہے
ملک ویلاز میں آج بہت گہما گہمی تھی.ہر طرف خوشیاں کی خوشیاں بکھری ہوئیں تھیں.لوگ گپ شپ لگانے میں مصروف تھے. اکثر لوگ تو حنین سے ملنے کے بعد یہ ضرور پوچھ رہے تھے کہ میاں تم ہی بیمار تھے لگتا نہیں ہے…جس پر حنین ہنسنے لگتا
آج حنین نے بلیک تھری پیس سویٹ پہنا ہوا تھا بالوں کے سپائیکس بنائے ہوئے تھے گورا چٹا رنگ چمک رہا تھا اس پر اس کی گول مٹول بڑی بڑی آنکھیں….
کیا کہنے تھے حنین کے…..جو دیکھتا تھا ماشاءاللہ ضرور کہتا
جیسے ہی دبیر کی بلیک مرسڈیز اندر داخل ہوئی حنین جو اس وقت کسی سے لان میں مل رہا تھا معزرت کرتا ہوا دبیر کی جانب بڑھ گیا.
دبیر کو گلے لگاتے ہوئے حنین نے کان میں سرگوشی کی
“میں نے styloo کو بھی بلایا ہے تاکہ تیری فیملی بھی اسے دیکھ لے اور تو بھی بور نہ ہو.”
پھر باری باری اماں بی اور عترت سے ملا.
دبیر کو لان کی طرف بھیجتے ہوئے وہ عترت اور اماں بی کو لے کر اندر کی طرف بڑھنے لگا تب عترت نے کہا
حنین بھائی میں آپ سے بہت سخت ناراض ہوں
عترت کی بات سنتے ہی حنین نے اماں بی کو اندر موجود غزالہ بیگم سے ملوایا اور خود عترت کاہاتھ پکڑ کر اسے سائیڈ پر لے گیا.
ہاں اب بولو کیا بات ہے..؟؟
حنین نے عترت کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
ایک کام کہا تھا آپ کو میں نے وہ بھی ابھی تک نہیں کیا..؟؟؟
عترت نے ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے پوچھا
دبیر کی گڑیا ! ویسے تم بہت تیز ہو میں اتنا بیمار رہا اور تم پوچھنے بھی نہیں آئی اوپر سے بجائے یہ کہ تم مجھ سے شرمندہ ہو الٹا مجھے شرمندہ کر رہی ہو.
پھر عترت کا سر سے لے کر پاؤں تک جائزہ لیتے ہوئے کہا
تمہیں کیسے پتہ..؟؟؟ کہ آج یہاں کونین نے بھی آنا ہے.
جیسے ہی حنین نے یہ بتایا عترت نے حیرت سے اردگرد دیکھا.
ابھی نہیں آیا…..حنین نے عترت کی بےچینی نوٹ کرتے ہوئے مسکرا کر جواب دیا جس پر عترت کچھ شرمندہ سی ہو گئی.
آپ نے کونین کو کیوں بلوایا ہے..؟؟؟عترت نے پوچھا
اپنی موم سے ملوانے کے لیے کیونکہ میں نے اس سے شادی کرنی ہے پاگل…….
آخر میں حنین نےعترت کی عقل پر ماتم کرتے ہوئے کہا
جی……عترت کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا
اففففف میرا مطلب ہے کہ دبیر سے ملوانے کے لیے بلایا ہے آئی سمجھ اور ساتھ ہی ہلکا سا ہاتھ عترت کے سر پر مارا
پہلے دبیر ، کونین سے مل لے پھر بات کرتا ہوں تم پریشان نہ ہو میں دیکھ لوں گا مجھے یاد ہے تمہارا کام …..اب تم جاؤ اور پارٹی انجوائے کرو اور مجھے بھی کرنے دو
عترت سے بات کرنے کے بعد حنین نے ڈاکٹر رائحہ کو فون کیا کہ ابھی تک تم کیوں نہیں آئی…؟؟؟
سوری میں نہیں آ سکوں گی.
رائحہ نے معزرت کی
دیکھو رائحہ بی بی مجھے آج بہت ضروری کام ہے تم سے اگر تم شرافت سے نہیں آئی تو میں تمہیں اٹھواں لوں گا سمجھی…
حنین نے دھمکی دیتے ہوئے کہا
میں گاڑی بھیج رہا ہوں تم دس منٹ میں تیار ہو جاؤ میں نے شاہ صاحب(رائحہ کے والد)سے بات کر لی ہے.اس لیے کوئی بہانہ نہیں دس منٹ کا مطلب دس منٹ ہی ہے ok
رائحہ نے مجبور ہو کر ہاں کر دی.
حنین نے ابھی موبائل پاکٹ میں نہیں رکھا تھا کہ اسے سامنے سے نرمین،اس کی والدہ اور احمد مراد آتے ہوئے نظر آئے. نرمین پر نظر پڑتے ہی حنین کے چہرے پر ایک دلفریب مسکراہٹ سمٹ آئی.
نرمین نے آج بلیک کلر کی چوڑی دار پاجامے کے ساتھ فراک پہنی ہوئی تھی.جیولری کے نام پر صرف کانوں میں گولڈن ٹاپس اور ہلکا سا میک اپ تھا……
حنین نے سر احمد مراد کو سلام کرنے کے بعد مسز احمد مراد اور نرمین کو اندر کی طرف جانے کا اشارہ کیا.
بیگم غزالہ نے بہت پیار سے نرمین کو گلے لگایا اور پیار کیا
ماشاءاللہ بہت پیاری لگ رہی ہو….جس پر نرمین نے اپنی نظریں جھکا لیں اور اس کی گالیں سرخ ہو گئیں.
مسز احمد مراد اور غزالہ بیگم آپس میں باتیں کرنے لگیں تو نرمیں سائیڈ پر پڑی کرسی پر بیٹھنے لگی جب حنین نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا
یہ کیا بتمیزی ہے..؟؟؟
نرمین نے بمشکل سمبھلتے ہوئے کہا
یہی تو میں پوچھ رہا ہوں کہ یہ کیا بتمیزی ہے..؟؟؟
حنین نے اسے سر سے لے کر پاؤں تک دیکھتے ہوئے پوچھا
مطلب…؟؟؟ اب کی بار نرمین نے اپنے اوپر نظر مارتے ہوئے کہا
تم نے میری چیٹنگ کرتے ہوئے بلیک کلر کیوں پہنا (حالانکہ وہ بہت خوش تھا کہ ہم دونوں کے ڈریسز ایک کلر کے ہیں اور نرمین پیاری بھی بہت لگ رہی تھی)حنین نے پوچھا
ویسے ہی میں نے پہن لیا تھا اب مجھے کیا معلوم کے تم بھی یہی کلر پہنو گے ورنہ نہ پہنتی…اور چیٹنگ میں تمہاری نہیں کرتی بلکہ تم میری کرتے ہو…
اب کی بار نرمین نے اپنا بازو حنین کے ہاتھ سے چھڑاتے ہوئے کہا
میں تمہاری چیٹنگ کرتا ہوں..؟؟؟
دماغ ٹھیک ہے تمہارا….؟؟؟
حنین نے اپنی دو انگلیاں اس کی کنپٹی پر لگاتے ہوئے کہا
جی بلکل آپ جناب…پہلے میں بیمار ہو کر دو دن ہسپتال رہی اور پھر تم نے میری چیٹنگ کرتے ہوئے پورے دس دن ہسپتال میں گزارے….
آخر میں نرمین مصنوعی مسکرائی…
جیسے حساب برابر کر رہی ہو
اوہ رئیلی…حنین نے اپنے ہونٹ گول کرتےہوئے اور اپنی گول مٹول آنکھوں سے نرمین کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
مجھے اپنی آنکھوں سے زیادہ کنفیوژ کرنے کی ضرورت نہیں ہے….
نرمین نے حنین کی آنکھیں اپنے اندر پیوست ہوتی دیکھ کر کہا
اچھا چھوڑو یہ سب فضول باتیں ہیں آؤ میں تمہیں اپنا کمرہ دیکھاؤں….
حنین نے کہتے ہوئے دوبارہ نرمین کا ہاتھ پکڑا اور سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا
حنین میرا ہاتھ تو چھوڑو اس طرح میں گر جاؤ گی….نرمین نے اپنی ہیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا
تم کب سے یہ فضول چیزیں پہننے لگی ہو..؟؟؟
حنین نے نرمین کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے خفگی سے کہا
تمہیں میرا گھر کیسا لگا ..؟؟؟
حنین نے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے پوچھا
اچھا ہے……نرمین نے جواب دیا
بس اچھا…؟؟ حنین نے حیرت سے اپنے بنگلے پر نظر دوڑاتے ہوئے کہا
بہت اچھا ہے…..نرمین نے حنین کی حیرت دیکھتے ہوئی اپنی رائے بہتر کی
بہت اچھا..؟؟؟
حنین نے پھر سوالیہ نظروں سے دیکھا
بہت زیادہ اچھا ہے….اب کی بار نرمین نے مزید جملے کو بہتر بنایا.
یار پڑھاکو تو بہت کنجوس ہے بندہ کم از کم تعریف تو کھل کر کرتا ہے اتنا زبردست بنگلا شاید ہی ہماری کالونی میں دوسرا ہو لوگ باقاعدہ دیکھنے آتے ہیں کئی ڈراموں کی لوکیشن میں بھی استعمال ہوا ہے اور تجھے بس ٹھیک لگا ہے میرے خیال سے تیری نظر مزید کمزور ہو گئی ہے تیرا چشمہ بنوانے والا ہو گیا ہے.حنین نے قہقہ لگاتے ہوئے اپنے کمرے کا دروازہ کھولا
جیسے ہی نرمین نے کمرے کے اندر پاؤں رکھا تو ایک نظر حنین کی طرف دیکھ کر کہا
یہ کمرہ ہے…؟؟؟؟یا سٹور.؟؟
حنین نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے قدرے شرمندگی سے جواب دیا
اصل میں ابھی ابھی میں تیار ہو کر نکلا ہوں صفائی نہیں ہوئی ورنہ یہ اس سے بہتر حالت میں ہوتا ہےاور ساتھ ساتھ بکھری ہوئی چیزیں سمیٹنیں لگا
مگر نرمین کو ایسا لگ رہا تھا کہ حنین نیچے پڑیں چیزوں کو اوپر اور اوپر پڑی چیزوں کو نیچے رکھ رہا ہے مطلب ٹھیک کرنے کی بجائے مزید گند پھیل رہا تھا بیڈ پر کپڑے بےترتیب پڑے تھے کمبل آدھا اوپر اور آدھا نیچے تھا.
جب حنین کو کچھ خاص سمجھ نہیں آئی تو بیڈ پر سارے کپڑے سائیڈ پر کرتا ہوا نرمین سے بولا
یار تم ادھر بیٹھ جاؤ تمہارے لیے اتنی جگہ کافی ہے اور خود تھکنے والے انداز میں بیڈ پر آدھا لیٹ گیا.
نرمیں حنین کی صاف کردہ جگہ پر بیٹھ کر کمرے کا جائزہ لینے لگی پورے کمرے میں پرفیوم کی شدید خوشبو پھیلی ہوئی تھی.جس کی وجہ سے نرمین کا سر دکھنے لگا
حنین تم نے پرفیوم لگایا ہے یا اس سے نہایا ہے…؟؟؟
حنین جو بڑی فرصت سے نرمین کے تاثرات نوٹ کر رہا تھا اس کی بات پر چونکا اور اٹھ بیٹھا
میں نے کبھی غور نہیں کیا نرمین تم پرفیوم استعمال کرتی ہو کہ نہیں….؟؟؟
حنین نے تنگ کرنے کی نیت سے پوچھا
کرتی تو ہوں مگر نہاتی نہیں ہوں.
نرمین نے منہ بنا کر جواب دیا
مگر مجھے تو تمہارے پاس سے کبھی خوشبو نہیں آئی…..
حنین کو شرارت سوجھی
حنین تم بہت برے ہو کبھی تعریف بھی کر دیا کرو….
نرمین نے منہ بناتے اپنا رخ موڑ لیا
تعریف کی کیا بات کرتی ہو اگر تم کہو تو میں تمہاری شان میں پوری غزل کہہ سکتا ہوں …
حنین نے نرمین کو ناراض ہوتے دیکھا تو کہا
سچی نرمین نے خوشی سے دوبارہ حنین کی طرف مڑتے ہوئے جواب دیا
اور نہیں تو کیا ساتھ ہی حنین نے تکیہ گود میں رکھ کر دونوں ہاتھ سینے پر باندھتے ہوئے بڑا شاعرانہ پوز بنایا اور غزل سنانا شروع کی..
“اسپیشل غزل نرمین تمہارے لیے لیے…..
خوشیاں ملیں تمھیں قدم بہ قدم
اس کے ساتھ ہی غزل ختم !!! 😂
اچھا دوسری غزل
چاہیں گے تمھیں دل و جان سے ہم
تیری قسم
یہ غزل بھی ختم!!! 😝😝
اچھا لاسٹ ٹائم 😂😂
پلیز
پلیز
پلیز
تمھارے ہیں اور سدا تمھارے ہی رہیں گے صنم
تو نے جو کرنا ہے کر لے یہ غزل بھی ختم.!!!! 😜😜”
دیکھو میں نے تمہیں تین غزلیں سنائیں ہیں اور خود زور زور سے قہقے لگانے لگا.
جبکہ نرمین غصہ سے اٹھ کر جانے لگی تو حنین نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا جس کی وجہ سے اس کا بیلس نہیں رہا اور وہ سیدھا حنین پر جاگری
………
