Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 29 Pt.2


ماہ نور سارا دن بیٹھ بیٹھ کر ویسے ہی بہت تھکی ہوئی تھی اوپر سے اس نے کبھی اتنا لمبا سفر نہیں کیا تھا بمشکل گھنٹہ ہی گزرا ہو گا جب ماہ نور نے بادِنخستہ زریاب کی طرف اپنا چہرہ موڑ کر کہا
مجھے الٹی آ رہی ہے..؟؟؟
زریاب جو سیٹ ساتھ ٹیگ لگائے اپنی ہی سوچوں میں گم تھا ماہ نور کی آواز پر چونکا چادر کی وجہ سے ماہ نور کا چہرہ تو دیکھ نہیں سکتا تھا مگر اس کی آواز میں جو لرزش تھی اسے باخوبی محسوس کر سکتا تھا زریاب نے ماہ نور سے کہا
اپنی طرف کا شیشہ کھولو اور چادر بھی منہ کے آگے سے تھوڑی پیچھے کرو تاکہ تمہیں تازہ ہوا لگے.
ماہ نور نے جیسے ہی اپنی طرف کا شیشہ نیچے کیا تو تازہ ہوا کا جھونکا ماہ نور کو چھوتا ہوا زریاب کی طرف بڑھا. ماہ نور کی خوشبو نے زریاب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا. زریاب نے اپنی دائیں طرف بیٹھی ماہ نور کو دیکھا جو اس سے بے نیاز باہر گزرتے مناظر دیکھ کر خوش ہو رہی تھی
ماہ نور زندگی میں پہلی بار گاؤں سے نکلی تھی وہ بڑی بڑی سٹریٹ لائٹس، مارکیٹس، مالز، رنگ برنگی گاڑیوں سے بھرا روڈ، بچوں، عورتوں کا ہجوم ان تمام چیزوں کو ایسے دیکھ رہی تھی جیسے کوئی بچہ اپنے ماں باپ ساتھ پہلی مرتبہ میلے میں آتا وقت حیران اور خوش سے دیکھتا ہے
وہ اچھی خاصی خوش تھی جب اچانک اسے اسدکی بات یاد آگئی کتنے مان سے اس نے ماہ نور کو کہا تھا
“میں تمہاری ساری خواہشیں پوری کروں گا تمہیں دنیا بھر کی سیر کراؤں گا….”
کچھ یادیں بہت تلخ ہوتیں ہیں ماہ نور ایک دم بجھ گئی اس کی آنکھوں میں نمی اترنے لگی تھوڑی دیر پہلے وہ جتنی خوش تھی اب اس سے زیادہ اداس ہو گئی اور ہمیشہ کی طرح سارے غصہ کا نشانہ زریاب بنا. وہ دل ہی دل میں زریاب کو کوسنے لگی
………………..
دو گھنٹے کا سفر تمام ہوا اور بلآخر تینوں گاڑیاں یکے با دیگرے آگے پیچھے زریاب کے فلیٹ کے سامنے رکیں.
سب سے پہلے حنین اپنی گاڑی سے نکلا اور ماہ نور کو گاڑی سے نکالنے کا اشارہ اپنی موم کو کرتا ہوا خود رائحہ کو کال کرنے لگا
ہیلو سویٹ لیڈی کیسی ہو..؟؟؟
میرا کام کر دیا ہے میں بے فکر ہو کر جاؤں…؟؟؟
حنین نے ایک ہی سانس میں سلام کے بعد سب پوچھ لیا
میں ٹھیک ہوں اور آپ کا کام کر کے ابھی ابھی گھر پہنچی ہوں امید کرتی ہوں آپ کو پسند آئے گا
رائحہ نے خوشگوار موڈ میں جوب دیا
اچھا اگر واقعی ہی سب کو پسند آیا تو کل کا لنچ تمہارا میری طرف سے اور وہ بھی تمہارے پسندیدہ ریسٹورنٹ مین…..
حنین نے کہا
واہ جی کمال ہو گا ٹھیک ہے پھر کل ملتے ہین……
رائحہ نے کہتے ہوئے فون بند کر دیا
تب تک اماں بی، عترت اور بیگم غزالہ ماہ نور کو لے کر لفٹ تک آگئے سارا دن بیٹھنے اور اب گاڑی میں جھٹکے لگنے کی وجہ سے زریاب کے سینے میں سخت درد ہو رہا تھا جس کے آثار اس کے چہرے سے عیاں تھے. وہ ابھی تک گاڑی ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا تھا
زیادہ ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے یہ تیرا اپنا فلیٹ ہے ہمت کر اور باہر آ جا کوئی تجھے کچھ نہیں کہے گا اگر تجھے زیادہ ٹنشن ہے تو میں آج رات تیرے پاس ہی رک جاتا ہوں.
حنین نے شرارت سے کہتے ہوئے زریاب کو گاڑی سے باہر نکلنے میں مدد دی جبکہ دبیر کو حنین پر بہت غصہ آیا.
کبھی تو اپنی بکواس بند کر لیا کر. دیکھ نہیں رہا اس کی حالت خراب ہو رہی ہے
دبیر نے بھی زریاب کا بازو پکڑتے ہوئے حنین سےکہا اور اب یہ لوگ بھی یعنی ملک نزیر،حنین، دبیر، ڈرائیور اور گارڈ لفٹ کی جانب چل پڑے.
ماہ نور آج سے پہلے کبھی لفٹ پر سوار نہیں ہوئی تھی اس لیے جیسے ہی لفٹ چلی ماہ نور نے ڈر کر عترت کا بازو پکڑ لیا.عترت پہلے تو حیران ہوئی اور پھر ہنسنے لگی.
آپی کچھ نہیں ہوتا….
عترت نے ماہ نور کو تسلی دی
زریاب کا فلیٹ تھرڈ فلور پر تھا فلیٹ پر پہنچ کر سب زریاب لوگوں کا انتظار کرنے لگے تھوڑی دیر میں وہ لوگ بھی آگئے.
فلیٹ کے ساتھ ہی سرونٹ کواٹر بھی موجود تھا جہاں زریاب نے ڈرائیور اور گارڈ کو آرام کرنے کا کہا اور حنین کو فلیٹ کھولنے کا اشارہ کیا
جیسے ہی فلیٹ کا دروازہ ان لاک ہوا حنین نے چادر میں لپٹی ماہ نور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنی موم کو کہا کہ اسے کہیں دروازہ کھولے.
غزالہ بیگم نے پیار سے ماہ نور کو کہا
بیٹا اپنا گھر کا دروازہ کھولو یہ تمہارا گھر ہے پہلے تم کھول کے اندر قدم رکھوں پھر ہم رکھیں گے….
جبکہ حنین اپنی جیکٹ کی دونوں جیبوں میں ہاتھ ڈال کر مسکرا رہا تھا اور زریاب ماہ نور کو دیکھ رہا تھا.
جیسے ہی ماہ نور نے ہنڈل گھما کر دروازہ کھولا ایک دم بہت ساری گلاب کی پتیاں سفید بادلوں کی طرح کے ٹکڑے اور بہت ساری رنگ برنگی جھنڈیاں ماہ نور پر گرتیں ہوئیں پورے الاؤنچ میں پھیل گئیں یہ سب دیکھ کر زریاب اور دبیر دونوں نے ایک ساتھ حنین کی طرف مڑ کر ستائشی نظروں سے دیکھا اور آگے سے حنین نے سر کو خم دے کر اندر چلنے کا اشارہ کیا.
پورے فلیٹ کو گلاب اور موتیے کی تازہ پتیوں، کلیوں، پھولوں اور رنگ برنگی جھنڈیوں سے سجایا گیا تھا جو قابلِ تعریف تھا.ہر طرف خوشبو ہی خوشبو بکھری ہوئی تھی
ماہ نور سمیت سب ہی اس خوبصورت منظر میں مبہوث ہو گئے تھے سب کی نظروں میں تعریف نظر آ رہی تھی.
زریاب، دبیر، ملک نذیر اور حنین الاؤنچ میں ہی بیٹھ گئے جبکہ ماہ نور کو لے کر بیگم غزالہ، عترت اور اماں بی اس کے کمرے میں آگئے.
کمرہ بھی بہت زیادہ خوبصورت سجایا گیا تھا ڈریسنگ ٹیبل سائیڈ ٹیبل اور بیڈ پر گلاب کی پتیاں جبکہ بیڈ کہ وال اور چھت پر جال بنایا گیا تھا.
ماہ نور نے اپنی چادر اتار کر بیڈ کے کنارے رکھ دی اور پورے کمرے کو دیکھنے لگی.
ماشااللہ جیسی پیاری دلہن ہے ویسا ہی کمرہ سجایا ہے.
اماں بی نے تعریف کرتے ہوئے کہا اور پھر کمرے میں ہلکی پھلکی باتوں کا سلسلہ شروع ہوا جس میں کمرے اور ماہ نور کی تعریفوں کے ساتھ ساتھ اماں بی اور بیگم غزالہ نے شوہر کے حقوق پر روشنی بھی ڈالی اور ماہ نور کو اچھی بیوی کی خصوصیات بھی بتائیں
…………………..
دبیر نے سراہتے ہوئے کہا
حنین تو نے تو یار کمال ہی کر دیا زبردست…..
زریاب نے بھی دونوں ہاتھ کھول کر ارد گرد اشارہ کرتے ہوئے کہا
لگ ہی نہیں رہا کہ یہ میرا فلیٹ ہے….
بیٹا اب یہ تیرا فلیٹ ہے بھی نہیں……
حنین کے اتنا کہنے کی دیر تھی کہ تینوں زور زور سے ہنسنے لگے
ویسے یہ سب میں نے نہیں کیا اس کا کریڈٹ styloo کو جاتا ہے کیونکہ اگر یہ سب میں کر کے جاتا تو دو دن میں پھولوں نے مرجھا جانا تھا اس ڈر سے میں یہ کام styloo کےسپرد کر گیا تھا
حنین نے سب کو سچ بتاتے ہوئے کہا میں بھی اپنا کمرہ اسی سے ڈیکوریٹ کراؤںگا البتہ دبیر تو کسی اور کا بندوبست کر لے مجھے نہیں لگتا وہ تیرا کمرہ سجائے گی…….
پھر باتوں کا ایسا سلسلہ نکلا کہ رات کے گیارہ بج گئے ملک نزیر نے گھڑی دیکھتے ہوئے چلنے کا اشارہ کیا ان کے ساتھ ہی دبیر بھی کھڑا ہو گیا.
چل تجھے تیرے کمرے میں چھوڑ دیں وہ تو تجھے نہیں بلائے گی اور تو شرافت کا مارا جائے گا نہیں…..
حنین سے رہا نہ گیا تو زریاب کو دیکھتے پھر شروع ہو گیا جبکہ دبیر نے اس کے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے چپ رہنے کا اشارہ کیا پھر دونوں نے زریاب کو کمرے میں بیڈ پر بیٹھا کر اجازت چاہی.
بیگم غزالہ اور اماں بی نے بہت دعائیں دی اور ساتھ ہی صبح کا ناشتہ ہماری طرف سے ہو گا بتاتیں ہوئیں چل پڑیں.
فلیٹ کا دروازہ آٹو لاک تھا اس لیے سب کے جاتے ہی خود بخود لاک ہو گیا
زریاب نے بیڈ پر لیٹتے ہوئے کمرے کا جائزہ لیا ماہ نور اس وقت واش روم میں تھی زریاب پھولوں کو دیکھتے دیکھتے کب نیند کی وادی میں اترا اسے خود بھی پتہ نہیں چلا
……………………….