Hichkiyan Muhabbat Ki Season 1 By Amna Mehmood Readelle50146 Episode 18 Pt.1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 18 Pt.1
ملک نزیرجمعہ پڑھ کر آئے تو بیگم غزالہ سے پوچھا
آج آپ کا صاحبزادہ نظر نہیں آ رہا..؟؟
زریاب کے ساتھ گاؤں گیا ہوا ہے.کہہ رہا تھا رات تک آجاؤں گا
بیگم غزالہ نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے جواب دیا
اچھا…ملک نزیر نے جواب دے کر جیب سے اپنا موبائل نکالا
آپ کے ساتھ میں نے ایک بات کرنی تھی
بیگم غزالہ نے ملک صاحب کو مصروف ہوتا دیکھ کر کہا
جی فرمائیں میں سن رہا ہوں.
ملک صاحب نے ہنوز موبائل پر دیکھتے ہوئے کہا
ادھر دیکھیں ناااا میری طرف اس کو تھوڑی دیر سائیڈ پر رکھ دیں.
بیگم غزالہ نے موبائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
ملک نزیر نے سائیڈ پر موبائل رکھتے ہوئے کہا رکھ دیا اب بتائیں…..
میں سوچ رہی تھی کہ آج نرمین ہسپتال سے ڈسچارج ہو کر گھر چلی جائے گی کیوں نااا ہم بھی رات اسے دیکھنے احمد صاحب کے گھر جائیں اور نکاح کی بات کریں.اس طرح فیملی میں ایک فنکشن بھی ہو جائے گا اور میرا بچہ بھی خوش ہو جائے گا.
حنین کا سوچتے ہی غزالہ بیگم کے لفظوں سے ممتا کا پیار جھلکنا شروع کر دیا.
بچہ تو آپ کا ویسے ہی ہر وقت خوش رہتا ہے.نہ کام کا نہ کاج کا دشمن اناج کا…….
ہاں البتہ نرمین کے ہمارے گھر آ جانے سے ہم خوش ہو جائیں.اس لیے اپنی خوشی کی بات کرتے ہیں.
ملک صاحب نے حنین کو لتاڑتے ہوئے کہا
ہر وقت اُس کے پیچھے نہ پڑا رہا کریں… ..معصوم ہے میرا بچہ اللہ نے ایک ہی اولاد دی ہے وہ بھی اتنے عرصے بعد مگر آپ کو تو پتہ نہیں کیا دشمنی ہےمیرے بچہ سے ..اتنا پیارا ہے میرا تو دیکھ دیکھ کر دل ہی نہیں بھرتا
غزالہ بیگم نے ناراضگی سے ملک صاحب کو دیکھ کر کہا
آپ کی انھیں باتوں نے اس کا دماغ خراب کیاہوا ہے. اکلوتا ہونے کا یہ مطلب نہیں جو دل چاہے کرتا پھرے اور میں پوچھو بھی نہ اُس کو.میں اس کا باپ ہوں وہ میرا باپ نہیں سوچا تھا بزنس سمبھالے گا مگر نہیں اسے تو اچھل کود سے ہی فرصت نہیں.زندگی کو مزاق سمجھا ہوا ہے. اب دیکھو مجھے تم سے پتہ چل رہا ہے کہ نوابزادہ شہر میں ہی نہیں.
ملک نزیر نے غصہ سے کہا
اسی لیے تو کہہ رہی ہوں شادی کر دیتے ہیں اس کی ٹھیک ہو جائے گا چھوڑ دے گا سب اچھل کود جب ذمہ داری پڑے گی تو.اور آپ فکر نہ کریں آ جائے گا رات تک پریشان مت ہوں.مجھے تو بتا کر گیا ہے نا.بس میری بات کا جواب دیں جو میں نے پوچھی ہے.
غزالہ بیگم نے ملک نزیر کو دیکھتے ہوئے کہا
ٹھیک ہے رات کو چلتےہیں اور نکاح کی تاریخ لے اتے ہیں یہ کہتے ہوئے ملک صاحب نےدوبارہ سائیڈ پر پڑا ہوا موبائل اٹھا لیا
…………………..
کونین گھر میں داخل ہوا تو پورے گھر میں پکوڑوں کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی.وہ بائیک روک کر سیدھا کچن میں گیا جہاں ہالہ پکوڑے اور فرائز بنا رہی تھی.
کیا بات ہے ہالہ بی تمہارے سسرال والے آئے ہیں.؟؟؟ جو اتنے اہتمام سے چیزیں بنا رہیں ہیں.کونین نے شلف پر بیٹھتے ہوئے کہا
میرے تو نہیں آئے پر لگتا تمہارے جلدی آنے والے ہیں.
ہالہ نے پکوڑے نکالتے ہوئے کونین کی طرف مسکرا کر کہا
آپ کو کیسے پتہ..؟؟؟
کونین نے پکوڑا پکڑتے ہوئے پوچھا
وہ اماں بی آج بابا کو عترت کے بارے میں بتا رہی تھی.
ہالہ نے کونین کوبتایا اور ساتھ ہی اپنے موبائل کی طرف دیکھا جو فرج پر پڑا بج رہا تھا.
کونین زرا میرا فون اٹینڈ کرنا میں کڑاھی سے پکوڑے نکال لوں ورنہ جل جائیں گے.
کونین نے فون اٹینڈ کیا تو دوسری طرف سے مکمل خاموشی تھی دو تین بار ہیلو ہیلو کر کے اس نے فون بند کرتے ہوئے ہالہ کو دیا شاید میری آواز پسند نہیں آئی……
کونین نے کہتے ہوئے ہالہ کے ہاتھ سے پکوڑوں والی پلیٹ لی اور کچن سے باہر جانے لگا.
(عترت جو ٹیرس پر بیٹھی ہالہ کو کال کر رہی تھی دوسرے ہی پل اچھل پڑی کیونکہ دوسری طرف سے کسی لڑکے کی آ واز سنائی دی اس نے جلدی جلدی فون بند کر دیا.پھر دوبارہ ہمت کر کے کال ملائی)
جب دوبارہ کال آئی تو ہالہ نے رسیو کی ہالہ کے منہ سے عترت کا لفظ سنتے ہی کونین جو کچن سے باہر جا رہا تھا واپس پلٹا اور ہالہ کے ہاتھ سے فون لے لیا.
ویسے اخلاقیات نام کی کوئی چیز ہے تم میں کہ نہیں…؟؟؟
کونین نے لاوئچ میں پڑے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا
کیا…کیا مطلب.. کون..؟؟
دوسری طرف سے عترت نے ڈرتے ہوئے جواب دیا
یہ کس طرح بول رہی ہو سہی طرح بولو میں ہوں کونین…
کونین نے پکوڑا منہ میں ڈالتے ہوئے کہا
اچھا آپ ہیں میں سمجھی کہ پتہ نہیں کون ہے..؟؟
عترت کو سمجھ نہیں آئی کے کیا جواب دے یہی دے دیا.پر اس کا دل عجیب طرح دھڑک رہا تھا.شاید محبت میں ایسا ہی ہوتا ہے اس نے سوچا
ہالہ بی کا فون میرے علاوہ کوئی اور نہیں اٹھا سکتا.اور تمہیں کیا کام پڑ گیا ہالہ بی سے…؟؟؟
کونین نے حیرت سے پوچھا اب ہالہ بھی اس کے قریب آ کر بیٹھ گئی تھی.
ویسے ہی کال کی تھی میرا دل کر رہا تھا ان سے بات کرنے کو…
عترت نےجھوٹ بولا کیونکہ وہ سچ نہیں بول سکتی تھی.
میرے سے بات کرنے کو دل نہیں کر رہا تھا حالانکہ میرے سے بات کرنے کو تمہارا دل کرنا چاہیے.
کونین نے مسکرا کر کہا
عترت کی گالیں اتنی سی بات پر بلش ہو گئیں اسے سمجھ نہیں آیا کہ کیا جواب دے اس لیے چپ ہو گئی جب کافی دیر عترت کچھ نہیں بولی تو کونین نے فون ہالہ کی طرف بڑھا دیا
پھر ہلکی پھلکی گفتگو کہ بعد ہالہ نے فون بند کر دیا
…………………..
سردار حشمت علی خان نے سردار دلاور سے کہا کہ وہ چوہدریوں کو فون کر کے نکاح کے لیے منع کر دیں.ان سے کہہ دیں کہ ہمارا بچہ نہیں مانتا اس رشتے کے لیے….
مگر بھائی صاحب…….
سردار دلاور نے ہچکچاتے ہوئے کہا
جو اتنے مہمان ہم لوگوں نے بلوائے ہیں ان کا کیا ہو گا…؟؟؟
گاؤں والوں کی طور خیر ہےمگر جو باہر سے آئیں گے اور مولوی صاحب کو کیا کہنا ہے انھیں تو میں نے ابھی جمعہ کی نماز کے بعد دوبارہ یاد کرایا تھا.اور جو کھانا پکایا ہے وہ سب ضائع ہو جائے گا.
سردار دلاور واقعی پریشان تھے.
ایسا کرو کہ افراسیاب اور ماہین کا نکاح پڑھوا دو.رہی بات کھانے کی تو جو بچے گا وہ گاؤں میں تقسیم کر دینا.
سردار حشمت علی خان نے جواب دیا
جی بہتر جیسا آپ کہیں بھائی صاحب…..
جب سردار دلاور علی خان کمرے سے باہر جانے لگے تو سردار حشمت نے انھیں کہا
ڈیرے پر جیپیں اور گاڑیاں تیار رکھو.اپنے آدمیوں کو کہو کہ اسلحہ اور شکاری کتے تیار رکھیں. زریاب مجھے ڈیرے،لان،مہمان خانے اور حویلی کے بیرونی دروازے کے پاس بلکل نظر نہ آئے.مجھے اس کی شدید فکر ہو رہی ہے اسے کہہ دو کہ آج واپسی کا خیال دل سے نکال دے کل میں خود اپنی نگرانی میں اسے گاؤں سے باہر چھوڑ کر آؤں گا.چوہدریوں نے انکار کا سن کر زریاب کو نہیں چھوڑنا.دلاور غلطی ہو گئی ہم سے ہمیں اسے بلانا ہی نہیں چاہیے تھا.جوان خون ہے، وہ بھی گرم……..جوش مارتا ہے.
اور ہاں یہ ایس پی کو فون ملا کر دو بلکہ خود ہی بات کر لو اسے کہو کہ ہمیں کچھ پولیس کے سپاہی چاہیے
جی اچھا…سردار دلاور کہتے ہوئے کمرے سے نکل گئے
