Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episdsode 19 Pt.1


سردار حشمت علی خان غصہ سے ماہ نور کے کمرے میں داخل ہونے لگے جب سردار دلاور علی خان نے ان کا ہاتھ پکڑا اور کہا
بھائی صاحب.!!! ایک منٹ مجھے بات کرنے دیں.اور ساتھ ہی سفید پردہ پیچھے کرتے کمرے میں داخل ہو گئے.
آپ لوگ زرا سائیڈ پر ہو جائیں مجھے ماہ نور سے اکیلے میں بات کرنی ہے سردار دلاور نے کہتے ہوئے ماہ نور کی طرف دیکھا.جو گردن جھکائے بیڈ پر بیٹھی تھی.
سب عورتیں کمرے کے کونے میں جا کر کھڑی ہوگئیں.
بیٹا سائیں پہلے میری بات سن لیں پھر جو آپ کہیں گی ویسا ہی ہو گا.سردار دلاور نے ماہ نور کے پاس بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا
…………
حنین نے بڑوں کو جاتے دیکھا تو وہ بھی کھڑا ہو کر لان کی طرف بڑھ گیا اسے جاتا دیکھ کر زریاب بھی اس کے پیچھے لان میں آ گیا.
حنین لان میں پڑے جھولے پر بیٹھ کر قہقہ لگانے لگا جبکہ زریاب اس کے سامنے کھڑا اپنے دونوں ہاتھ پیچھے کمر پر باندھے اسے دیکھنے لگا.
ایسے کیوں دیکھ رہے ہو دولہے میاں نظر لگانی ہے کیا….؟؟؟؟
حنین نے آنکھ مارتے ہوئے زریاب سے کہا
میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ تو کتنی کمینہ چیزز ہے…؟؟؟
زریاب کہتا ہوا حنین کے ساتھ بیٹھ گیا
یار ویسے یہ جو تیری پیرنی ہے یہ اصل میں شیرنی ہے وہ بھی اصلی والی….
ایک دو تھپڑ تو وہ اتنی آسانی سے کھا لیتی ہے جتنی آسانی سے نرمین بنٹیاں بھی نہیں کھاتی…
حنین نے پھر ہنسنا شروع کر دیا
تُو مجھے اس کا جھوٹا پانی ایک بوتل میں ڈال کر دے میں نے نرمین کو پلانا ہے وہ تو زرا زرا سی بات پر دو دو ہفتہ منہ بنا کر بیٹھی رہتی ہے
حنین نے زریاب کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا
مجھے نرمین پر ترس آتا ہے اسے تیرے سوا کوئی اور نہیں ملا تھا.زریاب سر مارتا ہوا کھڑا ہو گیا.
جی بلکل ایسے ہی جیسے تجھے اس بھری دنیا میں پیرنی کے سوا کوئی اور نہیں ملا.
حنین نے بھی زریاب کے انداز میں افسوس کرتے ہوئے کہا
اس سے پہلے کہ زریاب کچھ جواب حنین کو دیتا کمدار بھاگا بھاگا آیا.
چھوٹے خان وہ حویلی کے بڑے گیٹ پر چوہدریوں کی گاڑیاں آئیں ہیں.چوہدری محمد علی بڑے خان سے ملنا چاہتے ہیں.
جیسے ہی زریاب نے یہ سنا وہ پریشان ہو گیا اچھا میں دیکھتا ہوں.حنین تو ادھر ہی رک میں ابھی آتا ہوں.
زریاب نے حنین کو ہاتھ کے اشارے سے اپنے پیچھے آنے سے منع کیا اور خود لاؤنچ کی طرف بڑھ گیا.
زریاب کے جاتے ہی حنین نے نرمین کو کال کی مگر کال اٹینڈ نہیں ہوئی پھر دوسری اور تیسری دفعہ بھی ایسا ہی ہوا.حنین نے ایک نطر موبائل کو دیکھا اور ایک نظر آسمان پر ڈالتے ہوئے کہا
“لڑکی اتنا ہی تنگ کرو جتنا خود برداشت کر سکو.”
پھر اس نے غزالہ بیگم کا نمبر ملایا جو فوراً دوسری بل پر اٹھا لیا گیا
حنین میرے بچے کہاں ہے تو…؟؟؟
صبح سے تیری شکل نہیں دیکھی.کب سے گیا ہوا ہے..؟؟؟
تجھے پتہ ہے میں تجھے نہ دیکھو تو میرے دل کو کچھ ہوتا ہے.
تیرے ڈیڈ مجھے غصے ہو رہیں ہیں کہ تجھے کیوں جانے دیا.
بیگم غزالہ نے کال اٹینڈ کرتے ہوئے بےقراری سے کہا
جبکہ حنین غزالہ بیگم کی بات سن کر قہقے لگانے لگا
پتہ موم آپ مجھ سے ایسی باتیں کرتیں ہیں جیسے آپ میری ماں نہیں بلکہ معشوق ہیں .ایسی باتیں تو نرمین بھی مجھ سے نہیں کرتی .کبھی کبھی میں سوچتا ہوں ڈیڈ کتنے لکی ہیں انھیں اتنی رومنٹک لڑکی ملی سچی موم آپ جوانی میں غضب کی ہونگی.پر مجھے یہ سمجھ نہیں آتی آپ کو ڈیڈ ہی ملے تھے شادی کرنے کی لیے….؟؟؟ موم آپ کی چوائس بلکل اچھی نہیں…..
حنین نے پہلے شرارت سے پھر افسوس سے ماں کو کہا
تیرے ڈیڈ صحیح کہتے ہیں تجھے زرا شرم نہیں آتی ایسی باتیں کرتے ہیں ماں سے….
بےغیرت اولاد
غزالہ بیگم نے حنین کو ڈانٹتے ہوئے کہا
ہاں اب لگ رہا ہے کہ ماں بات کر رہی ہے پہلے تو مجھے شک ہو رہا تھا کہ کہیں کوئی میری معشوق تو نہیں بول رہی…..
حنین مستقل ماں کو تنگ کر رہا تھا.
حنین اپنی بکواس بند کر اور جلدی گھر واپس آ…..
شام میں نرمین کے گھر جانا ہے.سمجھے
غزالہ بیگم نے حکم دیتے ہوئے کہا…….
سچی موم آپ نرمین کو اپنے گھر لانے کی لیے جا رہی ہیں.
حنین اب مکمل طور پر فریش ہو چکا تھا
تو اور کس لیا جانا ہے.شاید اس بچی کے گھر آ جانے سے ہمیں بھی تمہاری شکل دیکھنا نصیب ہو جایا کرے گی.
غزالہ بیگم نے جواب دیا.
دیکھا پھر وہی مشکوک باتیں ،
موم آپ نرمین کو بھی وہ سب باتیں سیکھا دینا جو آپ ڈیڈ سے کرتیں ہیں.نرمین کو ویسی باتیں نہیں آتیں پلیزززز موم میرا دل بھی کرتا وہ میرے ساتھ ویسا ہی سلوک کرے جیسا آپ ڈیڈ ساتھ کرتیں ہیں.کتنی لاڈیاں کرتیں ہیں ناشتہ پر،لنچ پر، ڈنر پر ……….
حنین نے سرد آہ بھرتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی اونچے اونچے قہقہ مارنے لگا
حنین تیرا کچھ نہیں ہو سکتا.
کہتے ہوئے بیگم غزالہ نے فون بند کر دیا.جبکہ حنین کافی دیر ہنستا رہا پھر دوبارہ نرمین کا نمبر ڈائل کرنے لگا
اب کی بار کال تیسری بل پر اٹینڈ ہو گئی
کہاں ہو تم کب تک آؤں گے ..؟؟؟
حنین کبھی سچ بھی بول دیا کرو…
ابھی تک زریاب کانکاح نہیں ہوا …؟؟؟
نرمین کی روٹھی روٹھی آواز سپیکر میں ابھری
نہ سلام ، نہ دعا ،فون اٹھاتے ہی شروع ہو گئی ہو. کیا ہو گیا ہے تمہیں..؟؟؟
تم تو اتنی بتمیزز کبھی نہیں تھی..؟؟حنین نے گلہ کیا
اچھا سوری نرمین نے فوراً شرمندہ ہوتے ہوئے جواب دیا
خیر سوری سے گزارہ نہیں ہو گا مگر فلحال میں یہی قبول کر لیتا ہوں.حنین نے مسکرا کر جواب دیا.
مطلب….؟؟؟؟؟
نرمین نے ناسمجھی سے پوچھا
مطلب تو میں آ کر بتاؤں گا فلحال تم اپنے ننھے ذہن پر زور مت ڈالو.حنین نے کہا
کب تک آؤں گے یہی تو پوچھ رہی ہوں..؟؟؟
یار کیا بتاؤں تجھے..؟؟؟ نرمین میں تو خود پھنس گیا ہوں قسم سے نکاح ہونے کا نام نہیں لے رہا.زریاب کا نکاح نہ ہو گیا “مولا جٹ”کی فلم ہو گئی ہر تھوڑی دیر بعد ایک دھماکہ ہوتا ہے وہ بھی زوردار…..
کبھی لڑکی کا ابا نہیں مانتا،کبھی مولوی نہیں ملتا،کبھی زریاب سلپ ہو جاتا ہے،پھر لڑکی مُکر جاتی ہے اور جب سب ٹھیک ہونے لگتا ہے تو بدمعاش (چوہدری)آ جاتے ہیں.
حنین نے پہلے تھکے تھکے لہجے میں سٹوری سنائی مگر آخر مین قہقہ لگانے لگا
حنین کی باتیں نرمین کے سر کے اوپر سے گزر رہیں تھی.مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ تم کیا کہہ رہے ہو سچ میں…؟؟؟
بس جلدی سے واپس آ جاؤں…
نرمین نے کسی چھوٹے بچے کی طرح ضد کی…
اچھا اچھا پڑاکو تم ٹنشن نہ لو میں آج ہی واپس آؤں گا چاہے جتنی مرضی دیر ہو جائے اور تم سے ملے بغیر گھر نہیں جاؤں گا اب خوش…..
حنین نے نرمین کو تسلی دیتے ہوئے کہا
ٹھیک ہے میں انتظار کروں گی…
نرمین نے جواب دیا
انتظار تو اب تم میرا کیا کرو گی…؟؟؟
حنین نے مسکرا کر کہا
حنین…….نرمین نے حنین کی بات سمجھتے ہوئے زور سے پکارا
کیوں کان کے پردے پھاڑ رہی ہو مجھے اپنا نام معلوم ہے.
حنین نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ لاؤنچ میں کھڑے زریاب نے ہاتھ کے اشارے سے حنین کو بلایا.
نرمین میں بعد میں بات کرتا ہوں لگتا ہے آخر کار نکاح ہونے لگا ہے.
حنین نے کہتے ہوئے فون بند کر کے لاؤنچ کی طرف اپنے قدم بڑھا دیے
……………..
سردار دلاور علی خان نے ماہ نور کو کیا کہا تھا یہ بات کوئی نہیں جانتا تھا.مگر اس کے بعد ماہ نور نے نکاح کے لیے حامی بھر دی تھی.جس پر سبھی بہت خوش تھے مولوی صاحب نے نکاح پڑھوایا اور مبارک باد کی صدائیں بلند ہوئیں باری باری سب آپس میں گلے ملے زریاب بے انتہا خوش تھا مگر ایک تجسس اسے اندر ہی اندر کھا رہا تھا کہ ایسا بابا سائیں نے کیا کہا ماہ نور کو کہ وہ مان گئی …….؟؟؟
زریاب اپنی سوچ میں گم تھا جب حنین کی بات پر چونکا
یار تمہارے ہاں نکاح پر چھوارے نہیں بانٹتے…..
زریاب سے پہلے سردار دلاور بول پڑے کیوں نہیں بانٹتے…؟؟؟
اور ایک نوکر کو اشارے کرتے ہوئے حنین کو دیکھا جس کے ہاتھ میں ایک ٹوکری تھی جو چھوٹی چھوٹی پوٹلیوں سے بھری پڑی تھی.
میں موم، ڈیڈ،نرمین اور دبیر سب کے حصوں کی لوں گا….
حنین نے اپنی گول مٹول آنکھیں گھما کر پہلے ٹوکری اور پھر زریاب کو دیکھا.جس پر زریاب اور سردار دلاور ہنس پڑے