Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7 Pt.2


دبیر نے ساری بات بتا کر ایک گہرا سانس لیا.اب وہ چھت کو گھورنے کے ساتھ ساتھ ٹانگ پر دوسری ٹانگ رکھ کر مسلسل ہلا رہا تھا.
ہمممم…….
تو یہ ہے جناب کی خاص بات……
زریاب نے مسکرا کر کہا
اگر تو نے حنین جیسی بے غیرتیاں کرنی ہیں تو بتا دے میں آئندہ تجھ سے بھی کوئی بات نہیں کروں گا.
دبیر نے مصنوعی غصہ سے مکا مارتے زریاب کو کہا
نہیں یار تو،تُو سیریس ہو گیا ہے.میرا مطلب ہے مجھے ان سب باتوں میں کچھ خاص نہیں لگا…..
سوائے اس کے کہ لڑکی ذہین ہے.
No dout l m lmpressed with her Intelligence….
زریاب نے رائحہ کو سراہتے ہوئے کہا
دبیر نے زیرلب مسکرا کر رہا.
اس کی تعریف کرنے کو نہیں کہا.میری بات سمجھ..؟؟؟
حالانکہ اسے تعریف اچھی لگی تھی.
کیا سمجھو…؟؟؟
تو کچھ بتائے تب ناااااا.
تیری باتوں سے جو میں نے محسوس کیا کہہ دیا.زریاب اب بغور دبیر کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھ رہا تھا.
یاررر..؟؟؟
دبیر نے ہاتھ بالوں میں پھیرتے ہوئے زریاب کی طرف پریشانی سے دیکھ کر کہا میں خود confuse ہوں.میرے ساتھ یہ پہلی بار ایسا ہوا ہے مجھے رہ رہ کی کا خیال اور باتیں یاد آ جاتیں ہیں.بتا اب کیا کرون..؟؟؟
اچھا تو یہ بات ہےزریاب ذومعنی انداز میں مسکرایا
لگتا ہے تجھے پہلا مکا ٹھیک نہین لگا……
دبیر نے خفگی سے زریاب کو دیکھا.
اس سے پہلے کہ زریاب کچھ کہنے کے لیے اپنا منہ کھولتا.
دھماکے سے آفس کا دروازہ کھلا اور حنین برق رفتاری سے زریاب اور دبیر کے درمیان پھنس کر بیٹھ گیا.
کتنی دفعہ منع کیا ہے تجھے اس حرکت سے…..
زریاب غصہ سے کہتا اٹھ کر کرسی پر بیٹھ گیا.
حنین کا یہ فیورٹ کام تھا یونی میں بھی جب وہ دو لوگوں کو اکٹھا بیٹھا دیکھتا بیچ میں گھس جاتا.دبیر تو کچھ نہیں کہتا تھا مگر زریاب اس حرکت سے سخت چڑتا.
کیا ہو رہا تھا یہاں…؟؟؟
حنین نے اپنی گول مٹول آنکھوں سے باری باری دبیر اور زریاب کو دیکھا کر کہا
بیٹا تیرا رشتہ طے کر رہے تھے.دبیر نے حنین کے بال ٹھیک کرتے مسکرا کر کہا.
کتنی دفعہ منع کیا ہے میرے بالوں کا سٹائل خراب نہ کیا کر…….
اب وہ اپنے بال ٹھیک کر رہا تھا.
یار یہ جو تو مرغے کی طرح اوپر بال بناتا ہے مجھے اچھے نہیں لگتے اس طرح تو لڑاکا مرغا لگتا ہے
دبیر نے حنین کے سپائکس کی طرف اشارہ کیا.جس پر زریاب اور دبیر ہنسے لگے
حنین بال ٹھیک کرتا اب کمرہ کے اندر چکر کاٹ رہا تھا
بس کر دے…اب اور کتنے چکر کاٹے گا….؟؟؟
دبیر نے کہا
یاررررر…….
پتہ آج مجھ سے ایک کام الٹا ہو گیا؟؟؟
حنین نے رک کر دونوں کی طرف دیکھتے افسوس سے کہا
یار تو ” آج ” کی جگہ ” ہمیشہ ” کا لفظ استعمال کر تو زیادہ مناسب رہیے گا
زریاب نے ہنستے ہوئے کہا
حنین اب دبیر ساتھ دوبارہ بیٹھ گیا تھا.یار میں خود الٹ کام نہیں کرتا.وہ میرے الٹ کام ہو جاتا ہے
.مجھے تو لگتا ہے تو الٹا پیدا ہوا تھا بلکہ تیری اولاد بھی الٹی پیدا ہو گئی.زریاب نے کہا اور دبیر نے اس کے ساتھ مل کر قہقہ لگایا.
کیااااااا…؟؟؟
میری اولاد الٹی..
حنین نے اپنی گول مٹول آنکھیں گھمائیں.اور کہا
میں نرمین کو فون کر کے بتاتا ہوں کہ زریاب تجھے بدعائیں دے رہا ہے.
زریاب چیخ پڑا
میں کیوں اس معصوم کو بدعائیں دوں گا…؟؟؟
پہلی بات یہ کہ آپ کی معصوم نے آج مجھ پر تشدد کیا ہے.اور دوسرا یہ کہ تم نے پیرنی سے بدعائیں دینا سیکھ لیں ہیں ابھی تو تم نے کہا میری اولاد الٹی ہو گئی….؟؟؟ تو انڈریکٹ نرمین کو بدعا دی.
ایسا بہت کم ہوتا تھاکہ حنین دبیر اور زریاب کے قابو آئے.زیادہ تر انہیں دونوں کی سختی آتی تھی اس کے ہاتھوں..مگر اب وہ قابو آیا ہوا تھا.
تم جیسے دوستوں سے بندہ اکیلا اچھا کہتے ساتھ حنین نے باہر کی طرف قدم بڑھایا.اس سے پہلے وہ باہر نکلتا دبیر نے اسے پکڑ کر صوفے پر بیٹھا دیا.چل بتا کیا ہوا کیوں پریشان ہے
پہلے کچھ کھانے کو منگوا بہت بھوک لگی ہے…حنین نے دبیر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
دبیر نے انٹرکام کی طرف ہاتھ بڑھایا.جب حنین نے بولنا شروع کیا.
یار میں نرمین نے آج یونی ملنے گیا تھا……
………………………..
زریاب کافی کا مگ لے کر ٹیرس پر آگیا.اسے پودے کوئی خاص پسند نہیں تھے.بس ایک پودا Moneyplant لگا ہوا تھا جس کی بیلیں پورے ٹیرس میں پھیلی ہوئیں تھین.یہ پودا بھی اس لیے لگایا تھا کیونکہ ماہ نور کا کہنا تھا یہ جس گھر میں ہوتا ہے وہاں دولت کی ریل پیل ہوتی ہے.کاروبار خوب پھلتا پھولتا ہے
زریاب نے ایک ہاتھ میں کافی کا مگ پکڑا ہوا تھا جبکہ دوسرے ہاتھ میں موبائل ……
کافی دیر سوچنے کے بعد اس نے ماہ نور کا نمبر ڈائل کیا.ہمیشہ کی طرح بل بجتی رہی مگر کال اٹینڈ نہیں ہوئی.وہ دن میں دو تین بار اس کا نمبر ضرور ڈائل کرتا تھا.
جب تجھے پتہ ہے کہ وہ تجھ سے بات کرنا پسند نہیں کرتی تو کیوں کال کرتا ہے…؟؟؟
زریاب نے اپنے آپ سے مخاطب ہو کر کہا
“بڑی عجیب ہے اس دل کی خواہش……..
ایک شخص میرا ہونا نہیں چاہتا
اور دل اسے کھونا نہین چاہتا”
اس نے کچھ دیر سوچنے کہ بعد یہ میسج ٹائپ کر کے ماہ نور کو سینڈ کر دیا
……………………..