Hichkiyan Muhabbat Ki Season 1 By Amna Mehmood Readelle50146 Episode 15 Pt.1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 15 Pt.1
آج نرمین نے ہسپتال سے ڈسچارج ہونا تھا.
حنین گاڑی چلاتے سوچ رہا تھا کہ پہلے ہسپتال جایا جائے یا یونی…
پھر کسی سوچ کے تحت اس نے گاڑی یونی کی طرف موڑ دی.
اپنے ڈیپاٹمنٹ میں داخل ہوتے ہی نوٹس بورڈ پر نظر پڑی جہاں واضح الفاظ میں لکھا تھا
Coming week is co.curriculum activity week so please participate in these avtivities.
اور نیچے مختلف کیٹگری دی گئیں تھیں.حنین کو یہ ویک بہت پسند تھی وہ ہر activity میں حصہ لیتا تھا.ابھی وہ سوچ ہی رہا تھا کہ کس کس activity میں جا کر اپنا نام لکھوائے کہ اسے کونین ڈیپاٹمنٹ میں داخل ہوتا نظر آیا.
حنین نے آواز دے کر کونین کو اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا.
کونین نے مسکراتے ہوئے حنین کی طرف قدم بڑھا دہے.
اسلام علیکم!! کیسے ہیں..؟؟؟
کونین نے خوشدلی سے مصافہ کیا.
ٹھیک تم سناؤ کس کس چیز میں حصہ لے رہے ہو.
حنین نے نوٹس بورڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
نہیں مجھے ان چیزوں کا شوق نہیں بس میں دیکھنے والوں میں ہوتا ہوں.
کونین نے ہاتھ کے اشارے سے نہ کرتے ہوئے کہا
میں تو ہر چیز میں حصہ لیتا ہوں بڑا مزا آتا ہے.
حنین نے اپنی آنکھیں مٹکا کر جواب دیا
آپ کی تو کیا ہی بات ہے اب ہر کوئی حنین تو نہیں ہوتا ناااااا…
کونین نے ستائشی نظر سے حنین کو دیکھا.
اچھا میرے ساتھ چلو میں بیڈ منٹن میں اپنا نام لکھوالوں. مجھے یہ گیم بہت پسند ہے.
حنین اور کونین کوریڈور سے گزرتے related department پہنچے مگر یہاں سٹوڈنٹ کی بہت رش تھی جسے دیکھتے ہوئے حنین نے رش کے ختم ہونے تک ڈیپاٹمنت کی سیڑھیوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا اور خود کونین سے پہلے بیٹھ گیا.حنین کے بیٹھتے ہی کونین نے بھی اس کی تقلید کی.
اور سناؤ کیا کر رہے ہو آج کل….???
مطلب اس ویک کے ختم ہوتے ہی final exams شروع ہو جائیں گے اس کے بعد…
حنین نے آتے جاتے سٹوڈنٹ کو دیکھتے ہوئے پوچھا
کچھ نہیں….امتحان سے فری ہو کر انٹرنشپ کا ارادہ ہے.
کونین نے حنین کو دیکھتے ہوئے جواب دیا.
اچھا کہیں سے آفر ہے ..؟؟؟
یا خود اپلائی کرو گے کہیں..؟؟
اب حنین نے کونین کی طرف اپنا رخ موڑ لیا.
نہیں فلحال تو ایسا کچھ نہیں ہے.
کونین نے کندھے اچکائے.
اچھا….تو پھر میں تمہیں آفر کرتا ہوں.میرے فادر کےادارے میں تمہارے لیے جگہ موجود ہے اب یا پھر کبھی جب بھی تمہارا دل کرے تم آ سکتے ہو.میرا نمبر لے لو…
یہ کہتے حنین نے اپنا نمبر کونین کو نوٹ کرایا.
کونین کچھ حیران ہوا کیونکہ حنین کا رویہ اس کے ساتھ کچھ زیادہ ہی اچھا ہو رہا تھا.
چلو جی اتنا تو ٹھیک ہو گیا اب آگے…..
حنین نے ابرو اچکا کر کونین سے پوچھا.
آگے مطلب…؟؟
کونین نے ناسمجھی سے پوچھا
مطلب اب شادی کے بارے میں بتاؤ..؟؟؟ کب کرنی ہے اور کس سے….
حنین اب سیدھا اپنے پوائنٹ پر آیا تھا.
شادی اور میری…….کونین ہنسا
اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے..؟؟
جب تم پڑھائی سے فارغ ہو جاؤ گے جاب مل جائے گی تو پھر شادی نہیں کرو گے تو اور کیا کرو گے..؟؟؟
کونین نے سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا
نہیں یار پہلے بہن کی شادی کرنی ہے اس کے بعد اپنی…..
اب کونین بھی سیریس تھا.
اور کس سے..؟؟
حنین نے پوچھا
جس سے والدین کریں گے..؟؟
کونین نے مسکرا کر جواب دیا.
گڈ……
تم نے سچ بولا اور مجھے بہت اچھا لگا.
اب میری بات غور سے سنو.تم مجھے بہت اچھے سے جانتے ہو گے.بلکہ پوری یونی ہی جانتی ہے کہ میں کس کا بیٹا ہوں اور کیا کچھ کر سکتا ہوں.آج کے بعد مجھے تم عترت کے آس پاس دیکھائی نہ دو.ورنہ پھر کسی کو دیکھائی نہیں دو گے.
شہادت کی انگلی سے حنین نے وارنگ دیتے ہوئے کہا
اب کی بار حنین بہت سیریس تھا
تب کونین کو یاد آیا کہ عترت نے حنین سے ملنے کو کہا تھا.مطلب یہ عترت کا کچھ لگتا ہے.بیٹا کونین گڑ بڑ ہو گئی.کونین نے پر سوچ انداز میں حنین نے پوچھا
آپ عترت کے کیا لگتے ہیں..؟؟
میں اس احمق لڑکی کا کچھ نہیں لگتا. نہ خون کا رشتہ ہے، نہ زبان کا،نہ وہ میرے علاقے کی ہے،نہ میری کاسٹ کی ہے اور نہ ہی ہم محلےدار ہیں
یہ کہتے ہوئے حنین سیڑھیوں سے کھڑا ہو گا اور اپنے ہاتھ جھاڑنے لگا
حنین کو کھڑا ہوتا دیکھ کر کونین بھی کھڑا ہو گیا اور کہا
تو پھر….؟؟؟
تو پھر یہ کہ تم اس کے بھائی کو نہیں جانتے اور میری خواہش ہے کہ جانوں بھی نہ…..
اس لیے عترت سے دور رہو.ویسے بھی تم نے ابھی کہا کہ تم شادی والدین کی مرضی سے کروں گے..؟؟؟
تو پھر اس بےوقوف کو مزید بےوقوف بنانے کا فائدے…؟؟؟
حنین نے ابرو اٹھا کر کہا
میں نے کہا والدین کی مرضی سے کروں گا مگر یہ تو نہیں کہا کہ عترت سے نہیں کروں گا میں اپنے ماں باپ کو منا لوں گا.
کونین کو حنین کی بات پر سخت غصہ آیا.
اچھا تو یہ بات ہے.چلو فرض کرتے تمہارے والدین مان گے ہیں مگر عترت کا بھائی کبھی نہیں مانے گا.اسے سٹیٹس complex ہے.بیٹا جی سوچ ہے آپ کی جتنا وہ امیر ہے کھڑے کھڑے لاکھوں کی چیز خرید لیتا ہے اور جوؤ تک نہیں رینگتی اس کے کان پر…
اول توباپ دادا کی کڑوڑوں میں جائیداد ہے اوپر سے جو کسر رہ گئی تھی وہ اس نے اپنے بزنس سے پوری کر لی ہے اور عترت میں اس کی جان ہے اور جان تو سب کو پیاری ہے
حنین نے جانچتی نظروں سے کونین کو دیکھا جو اس وقت اپنے جوتے سے زمین رگڑ رہا تھا.
میرا مشورہ ہے اس لڑکی سے دور رہو.یہ کہتے حنین نے کونین کے کندھے پر تھپکی دی اور سیڑھیاں پھلانگتا اندر کی طرف بڑھ گیا
حنین اب پارکنگ کی طرف بڑھ رہا تھا جب سامنے سے عترت آتی ہوئی نظر آئی.
اوئے دبیر کی گڑیا اتنی لیٹ….؟؟؟
ویسے تم آج چھٹی کر لیتی یونی میں فلحال اگلے ایک ہفتہ تک کوئی کام نہیں ہو گا
اب وہ عترت کے قریب آتے ہوئے بولا.
جی مجھے معلوم ہے مگر گھر میں بور ہونے سے بچنے کے لیے یونی آ گئی.عترت نے جواب دیا
بور ہونے سے پچنے کے لیے یا کونین سے ملنے کے لیے…؟؟
حنین نے مسکراتے ہوئے دنوں ہاتھ سینے پر باندھ لیے.
عترت اپنی چوری پکڑے جانے پر شرمندہ سی مسکرائی اور پھر کہاآپ بھائی سے بات کریں ناااا
فلحال تو میں نے کونین سے کی ہے آج میں نے اس کی کلاس لی ہے اب دیکھتے ہیں کہ وہ کیا کرتا ہے؟؟؟
مطلب تمہارے ساتھ کتنا مخلص ہے؟؟
اس کے بعد دبیر سے بات کروں گا.مگر پہلے مجھے یقین ہو جائے کہ وہ تمہارے لیے ٹھیک ہے.
اچلیں جیسے آپ کی مرضی…
عترت کچھ افسردہ سی ہو کر جانے لگی جب حنین نے مخاطب کیا
دیکھو اگر وہ تمہارے ساتھ مخلص ہوا تو کہیں نہیں جائے گا.اور اگر ٹائم پاس کر رہا ہوا تو آج کے بعد تمہیں نظر نہیں آئے گا.مگر میرا دل کہتا ہے وہ کہیں نہیں جائے گا.
حنین کے آخری جملے نےعترت کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیر دی.
عترت چپ چاپ یونی کے کوریڈور میں چل رہی تھی جب اسے کونین نے پکارا.
تم زرا ادھر ادھر دیکھ کر چلا کرو میں کب سے تمہارے ساتھ چل رہا ہوں مگر تمہیں احساس نہیں.
اچھا مجھے پتہ نہیں چلا.
عترت نے رک کر جواب دیا.
سنو ادھر آؤ گراؤنڈ میں کچھ دیر بیٹھتے ہیں دیکھو کتنی اچھی دھوپ نکلی ہوئی ہے. کونین نے عترت کو گراؤنڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
نہیں میں نے کلاس میں جانا ہے
عترت نے تھوڑا ہچکچا کر جواب دیا
آج پوری یونی میں سوائے ویک celebration کے کچھ بھی نہیں ہو رہا.
کونین نے عترت کو روکتے ہوئے کہا
اچھا…….
عترت چپ چاپ کونین ساتھ چلتی ہوئی گراؤنڈ میں آ کر بیٹھ گئ.
عترت سر جھکائےگھاس توڑنے میں مصروف تھی جبکہ کونین اسے مسلسل دیکھ رہا تھاکچھ دیر دونوں خاموش رہے پھر کونین نے عترت کو دیکھ کر کہا
کیا بات ہے گھر میں سب خیریت ہے..؟؟؟
جی سب ٹھیک ہے عترت نے سر اٹھا کر کہا
اچھا لگ تو نہیں رہا تمہارے چہرے سے….؟؟؟
کونین کی نظروں نے عترت کے بجھے ہوئے چہرے کو دیکھ کر کہا
نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں.
عترت زبردستی مسکرائی
حنین تمہارا کیا لگتا ہے……؟؟؟
عترت اس سوال کے لیے تیار نہیں تھا فوراً گھبرا گئی
مطلب…؟؟؟ بھائی ہیں میرے
ساتھ ہی وضاحت دی.
تم نے حنین کو میرے بارے میں بتایا تھا کونین نے جانچتی نظروں سے عترت کو دیکھا
پتہ نہیں حنین بھائی نے کیا کہا ہو گا جویہ اس طرح سوال کر رہے ہیں.عترت نے دل میں سوچا
جی بتایا تھا انگلیوں سے گراؤنڈ کی گھاس اکھاڑتے ہوئے عترت نے جواب دیا
تمہیں میں لفنگا لگتا ہوں یا ایساجو ہر کسی لڑکی سے پیار محبت کے جھوٹے وعدے کرتا ہے یا کبھی مجھے رنگ بھرنگی لڑکیوں کی کمپنی میں بیٹھے دیکھا ہے …؟؟؟؟
کونین کا لہجہ کافی تیز تھا اور آنکھیں غصے سے لال ہو رہیں تھیں.
ایسا میں نے کب کہا…؟؟
عترت کو کونین سے ڈر لگ رہا تھا
دیکھو اگر تمہیں کوئی مسئلہ ہے تو مجھے بتاؤ یہ دوسروں سے کیوں دھمکیاں دلوا رہی ہو.
کیا…؟؟؟ دھمکیاں
عترت نے بمشکل اپنی آواز آہستہ رکھتے ہوئے کہا
جی وہ حنین صاحب نے فرمایا ہے کہ تمہارے ساتھ نظر نہ آؤں ورنہ پھر کسی کو نظر نہیں آؤں گا.
کونین نے حنین کا غصہ عترت پر نکال دیا.
ایسا کہا بھائی نے…عترت کو بہت دکھ ہوا.
اور یہ کیا بھائی بھائی لگا رکھی ہے وہ تمہیں اپنی بہن نہیں مانتا.میں نے آگے بھی پوچھا تھا کیا لگتا ہے تمہارا..؟؟؟
بھائی لگتے ہیں……
عترت سے کبھی کسی نے یوں بات نہیں کی تھی اب اس کی آنکھیں چھلکنے کو تیار تھی.
میں نے تمہیں ڈانٹا نہیں صرف پوچھا ہے رو مت آنکھیں صاف کرو….
کونین کو عترت پر ترس آ گیا.اس نے اسے غور سے دیکھتے ہوئے سوچا شادی تو پکا اب اسی سے کروں گا.بڑا آیا عترت ساتھ نظر نہیں آنا.یہ اب میرے بغیر نظر ہی نہیں آئے گی. پھر عترت کی معصومیت پر پیار بھی آگیا.
“جی چاھتا ہے اسے مفت میں دل دے دوں
اتنے معصوم خریدار سے کیا لینا دینا”
کونین عترت کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا.جب عترت نے اپنی آنکھیں صاف کر کے اسے دیکھا.
کیوں ہنس رہے ہیں ؟؟؟عترت کو لگا کونین اس پر ہنس رہا ہے
تم بھی ہنسوں میں نے منع کیا ہے؟؟؟ کونین نے پیچھے گھاس پر ہاتھ رکھتے ہوئے اب کی بار پیار سے کہا
……………………..
دبیر ایک فلاور شاپ میں داخل ہوا اور ریسپشن پر جا کر ایک فریش فلاور بکے کا آڈر دیا.آڈر کرنے کے بعد وہ خود شاپ کا جائزہ لینے لگا.ابھی وہ مختلف پھولوں کو دیکھ رہا تھا جب رائحہ انٹرس سے داخل ہوتی نظر آئی.
ایک فریش فلاور بکے چاہیے اس نے ریسپشن پر کھڑے لڑکے سے کہا
میم مل جائے گا مگر کچھ دیر انتظار کرنا ہو گا.لڑکے نے جواب دیا
رائحہ جیسے ہی ریسپشن سے مڑی اس کی نظر دبیر کی نظروں سے ٹکرائی.دبیر کو دیکھتے ہی رائحہ کے چہرہ پر مسکراہٹ چھا گئی اور وہ دبیر کی طرف بڑھی
رائحہ کی مسکراہٹ تیرے لیے صحیح ثابت نہیں ہوتی”سید دبیر حسین شاہ” دبیر نے خود سے مخاطب ہو کر کہا اتنے میں رائحہ بلکل دبیر کے مدمقابل آ کر کھڑی ہو گئی.
اسلام علیکم کیسے ہیں آپ..؟؟؟
رائحہ نے دوستانہ لہجہ میں پوچھا
اگر کوئی آپ کو دن دھاڑے لوٹ لے تو اپ کیسے ہوں گے..؟؟
دبیر نے رائحہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جبکہ اشارہ 40000 کی طرف تھا.
ارے میں تو آپ کو بہت امیر سمجھتی تھی مگر آپ تو تھوڑے سے پیسوں پر ابھی تک دکھی ہیں.
رائحہ نے افسوس سے کہا
پہلی بات یہ کہ وہ کوئی تھوڑے سے پیسے نہیں تھے اور دوسرا(اب دبیر دونوں ہاتھ سینے پر باندھ چکا تھا )امیر ہونے کا مطلب یہ تو نہیں کہ بندہ اب ایسے ویسوں پر راہ چلتے پیسے لٹاتا پھرے.
دبیر نے رائحہ کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے جواب دیا
اچھا تو یہ بات ہے رائحہ نے مسکرا کر دو قدم آگے بڑھائے اور جیسے ہی رائحہ نے قدم آگے بڑھائے دبیر نے ایکدم پیچھے کی طرف قدم اٹھائے اس سے پہلے دبیر کچھ کہتا وہ پیچھے پڑے vase سے جا ٹکرایا اور وہ نیچے گرنے کی وجہ سے ٹوٹ گیا کیونکہ وہ کریسٹل کا تھا.دبیر خود گرتے گرتے بچا.
اتنے میں سیل بوائے ان کی طرف بھاگا آیا اور ادب سے بولا
سر آپ کو چوٹ تو نہیں لگی اور پھر vase کو دیکھتا ہوئے کہنے لگا سر آپ اس کا بل بھی دیں گے..؟؟
اس سے پہلے دبیر کچھ کہتا رائحہ بول پڑی.
کیوں نہیں ضرور دیں گے یہ ایسے ویسوں پر پیسے کرچ نہیں کرتے مگر خود پر تو کرتے ہیں اور ہنستے ہوئے ایک نظر دبیر پر ڈالی جو غصہ سے اسے ہی دیکھ رہا تھا
جی آپ بل بنا دیں…
دبیر نے اپنے بازو کو دیکھتے ہوئے کہا جس سے خون نکل رہا تھا شاید vase کی کوئی ٹکڑی چب گئی تھی.
رائحہ اپنا بکے لیتی جیسے ہی کاؤنٹر سے پلٹی اس کی نظر دبیر کے بازو پر پڑی اور وہ چونکی
آپ کے بازو سے خون نکل رہا ہے اگر آپ چاہیں تو میں آپ کی ڈریسنگ کر سکتی ہوں
نہیں شکریہ مجھے ہمیشہ آپ کی سروسز بہت مہنگی پڑتی ہیں
دبیر ناراضگی سے بولتا ہوا کاؤنٹر پر اپنا بل ادا کر کے شاپ سے باہر نکلنے لگامگر پھر کچھ سوچ کر پلٹا.ڈاکٹر رائحہ آپ میرے لیے انتہائی منحوس ثابت ہوتیں ہیں.مجھے آپ کی شکل بہت بری لگنے لگی ہے آپ تو میرے لیے کالی بلی کی طرح ہیں جب بھی میرے راستہ میں آتیں ہیں گڑ بڑ ہو جاتی ہے
دبیر کو رائحہ پر سخت غصہ آ رہا تھا.اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیسے اپنا غصہ نکالے زور سے ہاتھ شو کیس پر مارتا وہ پلٹا.
جبکہ رائحہ کو اس سے اس رویہ کی امید نہ تھی سب لوگ انھیں ہی دیکھ رہے تھے دکھ اور بےعزتی کے احساس سے رائحہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے وہ آنکھیں صاف کرتی شاپ سے نکلی اور فٹ پاتھ پر چلنے لگی.
دبیر نے گاڑی کے اندر سامان رکھا اور واپس پلٹا.رائحہ فٹ پاتھ پر آہستہ آہستہ چل رہی جب قدموں کی تیز چاپ پر رکی.
سوری مجھے بہت غصہ آ گیا تھا.پلیززز آپ روئیں مت.
دبیر نے معزرت کرتے ہوئے کہا
کوئی بات نہیں ….
رائحہ نے بمشکل جواب دیا
سوری ڈاکٹر رائحہ میرا یہ مقصد نہیں تھا اصل میں آپ جب بھی ملتی ہیں کچھ غلط ہو جاتا ہے اب وہ نارمل چال سے رائحہ کے ساتھ چل رہا تھا.
میں پوری کوشش کروں گی کہ آئندہ آپ کو نہ ملوں.رائحہ نے نظریں جھکائے جواب دیا.
نہیں پلیززز یوں مت کہیں میں تو چاہتا ہوں کہ آپ مجھے بار بار ملیں مگر…؟؟
دبیر کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اپنی بات کیسے سمجھائے اس وقت اسے حنین کی یاد آ رہی تھی
جی …رائحہ نے دبیر کے جملے پر اسے مڑ کر دیکھا
رائحہ کے یوں دیکھنے پر دبیر بات بدل گیا میرا بازو….اب خون زخم پر جم گیا تھا.
میں کیا کر سکتی ہوں آپ کو میری سروسز کی ضرورت نہیں..
رائحہ کندھے اچکاتی چل پڑی
سوری اگین…مجھے بہت پین ہے
دبیر کی آواز پر اس نے رک کر پہلے بازو اور پھر دبیر کی طرف دیکھا جو معزرت خواہ انداز میں اسے دیکھ رہا تھا.
یہاں کسی میڈیکل سٹور سے پائیوڈین ،کاٹن اور پٹیاں لے لیں میں ڈریسنگ کر دیتی ہوں.
رائحہ نے پیشہ ورانہ انداز میں کہا
مجھے تو یاد نہیں رہے گا آپ چلے ساتھ……دبیر نے کندھے اچکا کر جواب دیا.
چلیں….اور پھر دونوں نے میڈیکل سٹور سے سامان خریدا. رائحہ نے گاڑی میں بیٹھ کر دبیر کی ڈریسنگ شروع کی جبکہ دبیر نے رائحہ کے چہرے کو دیکھتے ہوئے سوچا جو اس کے بہت قریب تھا.
“پہلی نظر میں محبت ہوجانا ایک ایسا عمل ہے جو کسی کسی کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ جب ایسا کچھ ہوتا ہے تو انسان کے رگ و پئے میں ایک عجیب سی سنسنی سی دوڑ جاتی ہے جو کہ ایک وارننگ سگنل ہوتا ہے کہ اب عقل و خرد، سوچنے سمجھنے کی ساری صلاحیتیں تمھارےجسم کو یکلخت چھوڑ کر باہر جارہی ہیں۔ اس کے بعد جو کچھ باقی رہ جاتا ہے وہ عرف عام میں عاشق کہلاتاہے۔”
ڈریسنگ مکمل کر کے رائحہ نے دبیر سے کہا
اگر پین زیادہ ہو یا کسی بھی قسم کی بازو میں سوجھ ہو جائےتو میں انجکشن لکھ دہتی ہوں سونے سے پہلے لگوا لینا.
اوع اپنے پرس سے ایک پیپر نکال کر کچھ لکھا اور دبیر کو دے دیا.
دبیر جو کافی دیر سے رائحہ کو دیکھ رہا تھا اس کے مخاطب کرنے پر چونکا.
سوری ڈاکٹر رائحہ میں اپنے الفاظوں پر شرمندہ ہوں.
دبیر نے پھر معزرت کی….
کوئی بات نہیں یہ کہہ کر رائحہ گاڑی سے نیچے اتر گئی جبکہ دبیر اسے جاتا دیکھنے لگ
