Hichkiyan Muhabbat Ki Season 1 By Amna Mehmood Readelle50146 Episode 33 Pt.2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 33 Pt.2
اماں بی گھر واپس لوٹیں تو بہت دکھی اور پریشان تھیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کریں….؟؟؟؟؟
بس بار بار ماضی کے جھروکوں میں چلی جاتیں دن کا کھانا بھی نہیں کھایا اور سارا دن اپنے کمرے میں گزارا.
عترت یونی سے آکر تھوڑی دیر اماں بی پاس بیٹھی مگر کیونکہ وہ ساری کہانی سے انجان تھی اسی لیے اماں بی کی طبیعت کی خرابی کو موسم کا اثر جانا اور انھیں دودھ ساتھ پین کلر دے کر واپس اپنے کمرے میں آ گئی……
دبیر کا آج آفس میں بہت مصروف دن گزرا تھا کیونکہ زریاب کافی دنوں بعد آفس آیا تھا اس لیے دبیر اسے ساری اب ڈیٹ دیتا رہا…..
گھر آنے کے بعد وہ بھی اپنے کمرے میں آرام کرنے چلا گیا مگر جب اماں بی رات کے کھانے پر موجود نہیں تھیں تو اسے حیرت ہوئی….
اماں بی کہاں ہیں…؟؟؟
دبیر نے ملازم سے پوچھا
وہ تو جی دوپہر سے اپنے کمرے میں ہیں دن کا کھانا بھی نہیں کھایا اور اب بھی منع کر دیا.
ملازم نے تفصیل سے دبیر کو اماں بی کے بارے میں بتایا.
اچھا…………
دبیر کہتا ہوا ڈائینگ ٹیبل سے اٹھ گیا میرا اور اماں بی کا کھانا کچھ دیر بعد اماں بی کے کمرے میں لے آنا اور عترت گڑیا تم کھانا کھا کر سو جانا میں اماں بی کو دیکھتا ہوں پریشان مت ہو…..
عترت جو حیران پریشان سی دبیر اور ملازم کی باتیں سن رہی تھی دبیر کے کہنے پر سر ہلا کر اپنی پلیٹ میں کھانا نکالنے لگی…..
اماں بی بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائی بظاہر سو رہی تھیں جب دبیر کمرے میں داخل ہوا.
کیا بات ہے آپ پریشان ہیں…؟؟؟
دبیر نے ماں کے پاس بیٹھتے ہوئے محبت سے پوچھا
کچھ نہیں، میں ٹھیک ہوں تم پریشان مت ہو…….
اماں بی نے دبیر کے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے جواب دیا
اماں بی اب آپ بیٹے سے بھی جھوٹ بولیں گی..؟؟؟
دبیر نے اماں بی کی گود میں سر رکھتے ہوئے کہا
نہیں وہ اصل میں اُن لوگوں نے انکار کر دیا ہے تو مجھے عترت کی فکر ہوئی ہے….
اماں بی نے دبیر کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بتایا
کیا…؟؟؟؟
دبیر ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا
انھوں نے انکار کر دیا یہی کہا ہے ناااااااا………
دبیر نے بےیقینی سے اماں بی کی طرف دیکھا
ہاں صحیح سنا ہے تم نے …….
اماں بی نے ایک سرد آہ بھرتے ہوئے کہا
مگر کیوں کوئی وجہ تو بتائی ہو گی….؟؟؟؟
دبیر سے برداشت نہیں ہو رہا تھا کہ کوئی اس کو ریجیکٹ بھی کر سکتا ہے
مرضی ان کی…….
اماں بھی نے کھوئے کھوئے لہجے میں جواب دیا
یہ ناممکن ہے میرا دل نہیں مان رہا آپ مجھے پوری بات بتائیں کہ کیا ہوا تھا…؟؟؟
دبیر کے لیے یہ ایک جھٹکا تھا
کیا بتاؤں..؟؟ ان کی بیٹی ہے جسے دل کرے گا دیں گے اس میں ناممکن والی کونسی بات ہے ویسے بھی اس دنیا میں بہت دفعہ ناممکن چیزیں ممکن ہوتے دیکھیں ہیں….
اماں بی نے کھوئے کھوئے لہجہ میں جواب دیا
جبکہ دبیر کے ماتھے پر ابھرنے والی شکنوں میں، مزید اضافہ ہو گیا جو بھی ہے کچھ تو کرنا پڑے گا اور میں اپنی بہن کے لیے کچھ تو کروں گا.
…………………
عترت آج یونی میں اپنے پرانے نوٹس جمع کر رہی تھی وہ زیادہ دیر یونی میں رکنا نہیں چاہتی تھی کوریڈور سے جلدی میں نکلتے ہوئے اسے خیال ہی نہیں رہا کہ وہ اپنا بیگ کلاس میں ہی چھوڑ آئی ہے اتنے میں اس کی ایک کلاس فیلو نے اسے آواز دی.
عترت یار تمہارا بیگ…؟؟؟
اوہو..سوری میں جلدی میں بھول گئی خیر شکریہ
عترت اپنا بیگ لیتی پارکنگ کی طرف بڑھ گئی مگر اس سے پہلے وہ یونی کا گیٹ کراس کرتی کونین نے اسے روکا.
مس عترت ایک منٹ….مجھے کچھ بات کرنی ہے….
عترت نے کونین کی طرف مڑ کر دیکھا
جی کہیں……
عترت نے دونوں ہاتھوں سے نوٹس سمبھالتے ہوئے کہا
آپ کی امی ہمارے گھر کیوں آئیں تھیں…؟؟؟؟
کونین کے سوال پر عترت حیران ہو گئی اور کہا
میری امی…..نہیں تو وہ تو آپ کے گھر نہیں آئیں وہ کیوں آنے لگیں….؟؟؟؟
اچھا….کونین نے جانچتی نظروں سے عترت کو سر سے پاؤں تک دیکھا
اس کا مطلب ہے آپ کے گھر والے آپ کو کچھ بتاتے نہیں شاید چھوٹی سمجھتے ہیں یا اس قابل ہی نہیں سمجھتے…..
کونین نے ہلکے سے شانے اچکائے
اچھا پھر آپ ہی بتا دیں کہ میری امی آپ کے گھر کیوں آئیں تھیں…؟؟؟
ہالہ بی کا رشتہ لے کر…..
کونین نے عترت کے تاثرات نوٹ کرتے ہوئے جواب دیا
یہ ناممکن ہے آپ کو ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے …
عترت کو یقین تھا کہ اماں بی کبھی بھی ہالہ بی کا رشتہ دبیر بھائی ساتھ نہیں کریں گی…
اس سے پہلے کہ کونین مزید کچھ کہتا دبیر یونی کے گیٹ سے اندر آتا ہوا نظر آیا. عترت کی کمر تھی وہ تو نہیں دیکھ سکی مگر کونین نے دیکھ لیا.
پتہ ابھی یہاں ڈرامہ ہونے لگا ہے…؟؟؟
کونین نے مزید عترت کے قریب ہوتے ہوئے مسکرا کر کہا
عترت کو کونین کی بات کا مطلب سمجھ نہیں آیا اس سے پہلے کہ وہ مطلب پوچھتی دبیر کی آواز اس کے کانوں میں پڑی.
گڑیا تم گاڑی میں بیٹھو میں ابھی آتا ہون.
عترت سر ہلاتی ہوئی پارکنگ کی طرف بڑھ گئی
کتنی بار منع کیا ہے تمہیں سمجھ کیوں نہیں آتی…..
دبیر اب کونین سے مخاطب تھا
مجھے تو سمجھ آتی ہے مگر آپ کی بہن کو نہیں آتی…..
کونین نے دونوں ہاتھ جینز کی پاکٹ میں ڈالتے ہوئے کہا
تم کیوں چاہتے ہو کہ تمہارا باپ جوان بیٹے کے جنازے کو کندھا دے جبکہ میں ایسا نہیں چاہتا میری نرمی کا ناجائز فائدہ مت اٹھاؤ……
دبیر نے دبے دبے لہجے میں کہا
آپ مجھے قتل کی دھمکی دے رہے ہیں…؟؟؟؟
کونین نے دبیر کو دیکھتے ہوئے پوچھا
بیٹا میں صرف دھکمی نہیں دیتا……
دبیر نے کہتے ہوئے کونین کے گال کو تھپکا
باز آ جاؤ تمہارے اور ہمارے حق میں یہی بہتر ہے……
دبیر کہتے ہوئے واپس اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا
ماں رشتہ لے کر گھر آتی ہے، بھائی قتل کی دھمکی دیتا ہے، اور بہن کو میں بہت اچھا لگتا ہوں. کیا فیملی ہے یارررر…؟؟؟
کونین پیچھے بڑبڑاتا ہوا سر نفی میں ہلاتا وہاں سے چل پڑا.
………………….
آپ کچھ دنوں سے بہت اداس ہیں مجھے تو وہ لوگ اچھے لگے ایک بار آپ لڑکے سے مل تو لیتے…..
ثریا بیگم نے بخاری صاحب کو چائے دیتے ہوئے کہا
مجھے معلوم ہے کہ لڑکا بہت اچھا ہے میرے سے زیادہ اس لڑکے کو کوئی نہیں جانتا……
بخاری صاحب نے بے خیالی میں کیا کہا ثریا بیگم سمجھ نہ سکیں بس اپنے شوہر کو دیکھنے لگیں….
ایسے کیوں دیکھ رہی ہو…؟؟؟
جب بخاری صاحب نے ثریا بیگم کو الجھا ہوا دیکھا تو چائے کا کب میز پر رکھ کر پوچھا
اگر تم وعدہ کرو کہ کونین اور ہالہ کو کچھ نہیں بتاؤ گی تو میں تمہیں کچھ بتانا چاہتا ہوں اپنے ماضی کے بارے میں….
ثریا بیگم منہ سے تو کچھ نہیں بولیں مگر سر ہلا دیا
………………
نرمین ٹیرس پر بیٹھی چائے پی رہی تھی اور ساتھ ساتھ ٹھنڈی ہوا کے مزے بھی لے رہی تھی.جب اس کا موبائل بجا وہ بغیر دیکھے بتا سکتی تھی کہ فون کس کا ہے..؟؟؟
چہرہ پر ایک خوبصورت مسکراہٹ خودبخود نمودار ہوئی
میں تمہیں یاد آ رہی تھی…؟؟؟
نرمین نے کال اٹینڈ کرتے ہوئے کہا
“ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﺎ ![]()
![]()
تمہیں ﮨﭽﮑﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺩﻭﺭﮦ ﭘﮍﮮﮔﺎ ![]()
“
نرمین بی بی کیا تم جان سے جانا چاہتی ہو…؟؟؟
حنین نے اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے پوچھا
تم میری جان نہیں لے سکتے بھلا کبھی انسان نے اپنی جان خود بھی لی ہے..؟؟
نرمین بہت خوش تھی اس لیے وہ حنین سے آج لڑنا نہیں چاہتی تھی.
اچھااااااااا جو لوگ خودکشی کرتے ہیں ان کے بارے میں کیا خیال ہے…؟؟؟
حنین نے گاڑی موڑتے ہوئے پوچھا
خدا کا خوف کرو کیسی باتیں کر رہے ہو…؟؟؟ اتنے اچھے موسم میں…..
نرمین نےسنجیدہ ہوتے ہوئے کہا تھوڑی دیر پہلے رومنس کا پڑا دورہ اب ختم ہو رہا تھا
میں نے تو بس پوچھا ہے اور تم سیریس ہو گئی……..
حنین ہنس رہا تھا
مجھے ایسی باتوں سے ڈر لگتا ہے……..
نرمین نے شائستگی سے جواب دیا
کیسی باتوں سے……
حنین نے پوچھا
یہی مرنے اور مارنے والی باتوں سے…….
نرمین نے کہا
اچھا چھوڑو زیادہ سیریس مت ہو موم نے تمہیں لینے بھیجا ہے شاپنگ کے لیے……
حنین نے اس کوبتایا
ٹھیک ہے آ جاؤ……
نرمین پھر سے مسکرانے لگی
چلو پھر جلدی سے نیچے آؤ میں آ گیا ہوں…..
حنین نے گاڑی نرمین کی گلی میں موڑتے ہوئے کہا
اتنی جلدی….نرمین نے حنین کی گاڑی دیکھتے ہوئے پوچھا
مجھے کسی سیانے نے کہا تھا بیٹا افسر اور لڑکی کی “ہاں” کو فوراً قبول کر لو اس سے پہلے کہ وہ “مکر” جائیں…..
حنین نے شرارت سے جواب دیا
تم اور تمہارے سیانے……
نرمیں نے ہنستے ہوئے فون بند کیا .
بےشک اللہ اپنے بندوں پر مہربان ہے اور پھر ایک تشکر بھری نظر پہلے آسمان پر اور پھر نیچے کھڑے حنین پر ڈالی.
