Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31 Pt.1


دبیر اس وقت بےقراری سے اپنے آفس میں ٹہل رہا تھا اور بار بار گھڑی پر بھی نظر مار رہا تھا.
حنین کہاں رہ گیا ہےتو..؟؟؟
دبیر اپنے آپ سے بڑبڑاتے ہوئے کبھی ٹہلنے لگتا تو کبھی صوفہ پر بیٹھ جاتا.
تقریباً ڈیڑھ بجے کے قریب حنین اور کونین آفس میں داخل ہوئے دبیر نے کڑے تیورے کے ساتھ حنین کو دیکھا جو فوراً کرسی گھیسٹ کر بیٹھ گیا اور میگزین پڑھنے لگا جبکہ کونین سلام کرنے کے بعد حنین کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گیا
جی کونین زرا اپنے بارے میں بتائیں..؟؟؟
دبیر نے پوری کوشش کرتے ہوئے اپنے لہجہ کو نرم رکھا.
میرے والد گورنمنٹ ملازم ہیں والدہ گھریلو خاتون اور ایک بہن جو ڈاکٹر ہے بس یہی میرے چھوٹی سی فیملی ہے.
کونین نے پر اعتماد لہجہ میں جواب دیا.
دیکھو مجھے تم سے کوئی دشمنی نہیں ہے اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی لینا دینا میں نے تمہیں یہاں ایک ڈیل کرنے کے لیے بلایا ہے تم یہ مت سمجھنا کہ میں تمہاری بےعزتی کرنا چاہتا ہوں.بلکہ میں خود اس وقت بہت مجبور ہوں اس لیے یہ قدم اٹھانا پڑ رہا تھا
دبیر نے اپنی دو انگلیوں سے اپنی کنپٹی ملتے ہوئے کہا
مجھے آپ کی بات سمجھ نہیں آ رہی اگر آپ کھل کر بات کریں گے تو ہم دونوں کو آسانی رہے گی بات کرنے میں بھی اور سمجھنے میں بھی….
کونین نےدبیر کوجواب دیا
میری بہن جس کا نام عترت ہے دنیا کی بےوقوف ترین لڑکی ہے اس بات کا احساس مجھے آج صبح ہی ہوا ہے میں چاہتا ہوں تم اسے فون کر کہ کہو کہ دو ماہ بعد تمہاری شادی ہے بدلہ میں تمہیں جو کچھ چاہیے میرا مطلب ہے جاب،گھر، گاڑی وہ میں دینے کو تیار ہوں
دبیر نے کہتے ساتھ پیپر ویٹ ٹیبل پر گھمایا.
اور میں ایسا کیوں کہوں..؟؟
میرا مطلب ہے یہ آپ خود بھی اسے کہہ سکتے ہیں.
کونین نے دبیر کو کہتے ہوئے حنین کو دیکھا جو میگزین پڑھنے میں اتنے مصروف تھا جیسے اسی کام کے لیے آیا ہو.
اگر میں کہوں گا تو وہ میرا یقین نہیں کرے گی لیکن اگر تم کہو گے تو اسے یقین آ جائے گا بس اتنی سی بات ہے اور تمہارا اس میں لاکھوں کا فائدہ ہے..؟؟
دبیر نے جتانے والے انداز میں جواب دیا
بس کہ اور کچھ…؟؟؟
کونین کرسی سے کھڑا ہو گیا اور اپنے دونوں ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈالتے ہوئے پوچھا
نہیں اور کچھ نہیں….
دبیر نے کرسی ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے جواب دیا
ٹھیک ہے میں چلتا ہوں…
کونین ایک نظر حنین پر مارتا باہر نکل گیا
کونین کے جانے کے بعد حنین نے میگزین بند کیا اور دبیر کو تسلی دیتا پارکنگ کی طرف بڑھ گیا جہاں کونین اپنی بائیک ساتھ حسبِ روایت کھپ رہا تھا
ویسے نئی گاڑی لینے کا اچھا چانس ہے اگر تم استعمال کرنا چاہو تو..؟؟
حنین نے کونین کو دیکھتے ہوئے کہا
مجھے افسوس ہے آپ اور آپ کے دوست کی ذہنیت پر….اگر مجھے معلوم ہوتا کہ آپ مجھے اس لیے لائے ہیں تو میں کبھی نہیں آتا. (اتنی دیر میں بائیک سٹارٹ ہو گئی.)وہ جو(عترت) ہر وقت حنین بھائی حنین بھائی کہتی ہے اگر اسے بھی معلوم ہو جائے تو دوبارہ بھائی نہ کہے آپ کو….
اور ساتھ ہی بائیک کو ریس دے کر نکل گیا
“ہمممم …مطلب تیر نشانے پر لگا ہے……”
حنین نے کونین کو جاتا دیکھ کر کہا اور خود اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا
……………………..
حنین نے گاڑی میں بیٹھتے ہی رائحہ کو کال کی
ہیلو ڈاکٹر رائحہ کیسی ہیں؟؟
فری ہیں؟؟؟؟ تو جلدی سے تیار ہو جائیں؟؟؟؟ کل کی ڈیکوریشن سب نے بہت پسند کی ہے اور اب وعدے کے مطابق میں آپ کو اچھا سا لنچ کروانے لگا ہوں
کونین نے ایک سانس میں ساری باتیں کہہ بھی دیں اور پوچھ بھی لیں.
خیر ہے ..؟؟ کون پیچھے پڑا ہوا ہے..؟؟؟
رائحہ نے ہنستے ہوئے جواب دیا
“کون پیچھے پڑا نہیں” ہوا بلکہ “کون پیچھے پڑی ہوئیں” ہیں..؟؟؟؟
اپنا جملہ درست کر لیں اور جتنی میرے پیچھے پڑیں ہین اگر ابھی بتانے لگا تو کم از کم آج کی تاریخ میں ہم لنچ کرنے سے رہیے..؟؟
حنین نے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے جواب دیا
آجاؤ فری ہی ہوں.
رائحہ نے او کے کا سائن دیا
کلینک یا ہسپتال..؟؟؟
کونین نے لوکیشن پوچھی
کلینک…..رائحہ نے جواب دیا
ہسپتال کیوں نہیں گئی..؟؟؟
حنین نے پوچھتے ہوئے گاڑی کلینک کی طرف موڑی
ہسپتال کام زیادہ کرنا پڑتا ہے جبکہ کلینک سکون ہوتا ہے
رائحہ نے بھی پارکنگ کی طرف آتے ہوئے جواب دیا
کام چور ڈاکٹر…حنین نے ہنستے ہوئے کہا
جی نہیں اب ایسی بھی کوئی بات نہیں..؟؟؟
رائحہ نے برا مناتے ہوئے کہا
ایسی نہیں تو پھر کیسی بات ہے..؟؟
حنین شرارت پر اترا
حنین انسان بنو…رائحہ نے خفگی سے کہا اور اب اسے پارکنگ ایریے میں حنین کی گاڑی انٹر ہوتی نظر آئی
دن میں مجھے کئی بار سب باری باری انسان بناتے ہیں دیکھ لو میں پھر بھی نہیں بنتا…..
حنین نے ہنستے ہوئے رائحہ کے آگے گاڑی روکی اور کال بند کر دی
…………………….
عترت اپنے کمرے میں بیٹھی بظاہر ٹی وی کو دیکھ رہی تھی مگر حقیقت میں کہیں اور ہی گم تھی. کافی دیر سے اس کا موبائل چیخ چیخ کر اسے بلا رہا تھامگر اس کا دل نہیں کر رہا تھا کسی سے بات کرنے کو، اسلیے وہ کال اٹینڈ نہیں کر رہی تھی مگر جب مسلسل ایک کے بعد دوسری کال آنے لگی تو عترت نے غصہ سے کال کاٹ دی ابھی وہ کال کاٹ کر ہٹی ہی تھی کہ دوبارہ اس کا فون بجنے لگا
کیا مصیبت ہے..؟؟؟
عترت نے تنگ ہوتے ہوئے کال اٹینڈ کی…..
مگر دوسری طرف کی آواز سنتے ہی سارا غصہ اور تنگی ایک سیکنڈ میں دور ہو گئی.
آپ..؟؟ عترت نے حیرت سے پوچھا
کیوں تمہیں کال کرنے پر پابندی ہے..؟؟؟
کونین نے پوچھا
نہیں وہ میرا نمبر آپ کے پاس نہیں تھا تو اس لیے حیرت ہوئی…
عترت نے اپنی بات کی وضاحت پیش کی.
اچھاااااااا …. چلو یہ بتاؤ یونی کیوں نہیں آ رہی ہو..؟؟
کونین نے سیدھا مطلب کی بات پر آتے ہوئے ہوچھا
میں نے یونی چھوڑ دی ہے آپ نے سہی کہا تھا مجھ جیسی لڑکیوں کو یونی میں نہیں پڑھنا چاہیے..
عترت نے ہمیشہ کی طرح بلکل سچ سچ کونین کو وجہ بتا دی
مگر میں نے یہ بھی تو کہا تھا کہ وومن یونی میں پڑھ لو …
کونین کو دکھ ہوا اسکی وجہ سے عترت نے یونی چھوڑ دی
نہیں بس میرا اب پڑھنے کو دل نہیں کرتا میں ڈاکٹر نہیں بن سکتی….
عترت کی آواز میں دکھ اور نمی دونوں چیزیں شامل تھیں جسے کونین نے واضح محسوس کیا
یہ تو غلط بات ہے اتنی جلدی ہمت نہیں ہارنی چاہیے اگر تم نے سوچا تھا کہ تم ڈاکٹر بنو گی تو اب بن کر دیکھاؤ…؟؟؟
کونین نے اسے حوصلہ دیتے ہوئے کہا
نہیں بس میرا دل اب پڑھنے کو نہیں کرتا…
عترت نے ہار مانتے ہوئے بات ختم کی.
اگر تمہارا پڑھنے کو دل نہیں کرتا تو پھر کیا کرنے کو دل کرتا ہے..؟؟؟ کیونکہ بندہ فارغ کو بیٹھ نہیں سکتا
کونین نے پوچھا
(میرا آپ ساتھ شادی کرنے کو دل کرتا ہے پھر اپنی سوچ پر وہ خود ہی ہنسی)
فلحال تو کچھ سوچا نہیں….
عترت نے بمشکل ہنسی کنٹرول کرتے ہوئے جواب دیا
آج تمہارے بھائی نے مجھے آفس بلوایا تھا.
کونین نے گویا عترت کے سر پر بم پھوڑا
کیا..؟؟؟ مگر کیوں..؟؟؟
عترت کی ہنسی کو یکدم بریک لگی
وہ چاہتے ہیں کہ میں تم شادی کر لوں…؟؟؟
کونین نے مزے لیتے ہوئے کہا
ناممکن بھائی ایسا کبھی کہہ ہی نہیں سکتے…؟؟؟
عترت نے سر نفی میں ہلاتے ہوئے جواب دیا جیسے کونین بلکل سامنے بیٹھا ہو.
مگر مجھے تو انھوں نے ایسے ہی کہا ہے.
کونین نے سنجیدہ لہجہ میں کہا
حیرت ہے مجھے تو بھائی نے کہا کہ میں آپ کا نام تک نہ لوں ورنہ آپ زمین کے اوپر نظر نہیں آؤ گے یہ کہتے ساتھ ہی عترت نے فوراً اپنی زبان دانتوں تلے دبائی کیونکہ اسے اپنی غلطی کا احساس شدت سے ہو گیا.
اچھا تو تمہیں دھمکیاں دیتے ہیں میرے مرنے کی…..
کونین کو سچ مچ مزا آ رہا تھا
سوری میرے منہ سے نکل گیا..
عترت اپنے کہے الفاظوں پر شرمندہ تھی.
سوری کہنے کی ضرورت نہیں مجھے تمہاری صاف گوئی پسند ہے.خیر شادی تو میں تمہیں سے کروں گا پہلے تو میرا کچا پکا ارادہ تھا مگر آج تمہارے بھائی کی میٹنگ کے بعد میرا ارادہ مضبوط ہو گیا ہے اگر تم میرے سے شادی کرنا چاہتی ہو تو تمہیں میری ایک شرط ماننا ہو گی…؟؟؟اور وہ یہ کہ تم فوراً یونی جوائن کرو کیونکہ ہالہ بی شادی کہ بعد اپنے گھر چلی جائیں گی پھر مجھے اپنے اور اپنے ماں باپ کے لیے ایک ڈاکٹر کی سخت ضرورت ہو گی اور میں چاہتا ہوں وہ ڈاکٹر تم ہو.
کونین کی بات سن کر عترت کے چہرے پر حیا اور خوشی کے رنگ بکھر گئے.
اچھا دیکھتی ہوں…..عترت نے مدھم آواز میں جواب دیا
دیکھتی ہوں نہیں تم صبح مجھے یونی میں نظر آؤ…سمجھی
کونین نے پکا کرتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی فون بند کر دیا
جبکہ عترت کا خوشی سے برے حال تھا.