Hichkiyan Muhabbat Ki Season 1 By Amna Mehmood Readelle50146 Episode 24 Pt.2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 24 Pt.2
دبیر تقریباً سارا دن ہسپتال میں گزار کر اب گھر کے لیے نکلا تھا کیونکہ اب زریاب اور حنین بہتر تھے پارکنگ میں اپنی گاڑی تک جاتے ہوئے اس کی نظر رائحہ پر پڑی جو شاید کسی کا انتظار کر رہی تھی دبیر نے گاڑی کی طرف قدم بڑھانے کی بجائے رائحہ کی طرف بڑھا دیے.
کیسی ہیں آپ..؟؟؟
دبیر نے بڑے دوستانہ انداز میں بات شروع کی
جی میں ٹھیک ہوں مجھے کیاہونا ہے ….؟؟؟؟
نا چاہتے ہوئے بھی رائحہ تلخ ہوئی
سوری وہ اصل میں آپ بعض دفعہ عجیب سی مثال دے دیتی ہیں.
دبیر نے ہونٹوں تک آتی ہنسی کو روکا
میں خود بھی بہت عجیب ہوں.
رائحہ کا لہجہ ہنوز برقرار تھا
نہیں میں نے ایسا تو کچھ نہیں کہا آپ تو مجھے بہت اچھی لگتی ہیں.(دبیر تیزی سے بول گیا بعد میں اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اس نے بات بدلی) مطلب آپ بہت اچھی ڈاکٹر ہیں.
شکریہ…..رائحہ کے ہونٹوں پر بھی ہلکی سی مسکراہٹ ابھری
آپ شاید کسی کا انتظار کر رہیں ہیں..؟؟؟؟
دبیر نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے پوچھا
جی …رائحہ نے نیچے منہ کر کے جواب دیا
اگر آپ کو برا نہ لگے تو میں آپ کو ڈراپ کر دیتا ہوں…
دبیر نے ڈرتے ڈرتے آفر ماری
مجھے ابھی کلینک جانا ہے آپ کو زحمت ہو گی..؟؟؟
رائحہ نے دبیر کی گاڑی کے مخالف سمت کی طرف اشارہ کیا
کوئی بات نہیں مجھے خوشی ہو گی ..
دبیر نے مسکرا کر کہا
رائحہ نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے ایک نظر گاڑی پر ڈالی اور کہا
آپ نے گاڑی تبدیل نہیں کی…؟؟؟
دبیر نے ہنستے ہوئے گاڑی سٹارٹ کی اور کہا
کونسی لوں آپ ہی بتا دیں..؟؟
مجھے تو آج کل Audi A6 پسند ہے آگے آپ کی مرضی …
رائحہ نے آخر میں ہلکا سا کندھا ہلایا
چلیں done اگلی دفعہ جب ہم ملیں گے تو Audi A6 ہی میرے پاس ہو گی.ویسے میں نے کبھی ایسی لڑکی نہیں دیکھی جو اتنی گاڑیوں کی دیوانی ہو یہ شوق لڑکوں والے ہیں….؟؟؟
اور ہنسنے لگا
مجھے گاڑیوں سے جنون کی حد تک لگاؤ ہے..
رائحہ نے ایکسائیٹڈ ہوتے ہوئے کہا
(اور مجھے آپ سے) دبیر نے اس کی طرف دیکھ کر سوچا مگر کہا نہیں
……………
دن گزرتے جا رہے تھے آج حنین کو ہسپتال میں ساتواں دن تھا وہ بہت بہتر ہو گیا تھا ویسے بھی اس کا زخم چھوٹا تھا مگر بقول رائحہ کہ اگر آپ نے احتیاط نہ کی تو یہ بگڑ جائے گا اسی لیے ملک صاحب نے فیصلہ کیا تھا کہ حنین تب تک یہیں رہے گا جب تک ڈاکٹرز اسے خود چھٹی نہیں دےدیتے. انھوں نے گھر میں غزالہ بیگم کو بتایا تھا کہ حنین ابھی تک گاؤں میں ہی ہے.
حنین آج مسلسل ڈاکٹرز کے کان کھا رہا تھا کہ اسے ہسپتال سے چھٹی مل جائے.جبکہ ڈاکٹرز چاہتے تھے کہ وہ ابھی کچھ دن اور یہاں رہے.حنین سارا دن اپنے اور زریاب کے کمرے میں گھمتا رہتا.نرس اور وارڈ بوائے اس سے بہت تنگ تھے. مگر حنین کو ان باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا. زریاب کی حالت بھی اب بہت بہتر تھی.
………………………..
حنین اس وقت کوریڈور میں ٹہل رہا تھا جب اس کا فون بجا وہ جیب سے فون نکال کر مسکرایا اور کال اٹینڈ کرنے لگا
ہائے سویٹ لیڈی! کیسی ہیں آپ..؟؟؟
حنین تجھے کچھ احساس ہے میں کیسے تیرے بغیر دن گزار رہی ہوں.جلدی سے واپس آ جا،میری آنکھیں ترس گئی ہیں تجھے دیکھنے کو…
دوسری طرف سے غزالہ بیگم نے بےقراری سے کہا
موم پلیزززز آپ اس طرح مجھ سے بات نہ کیا کریں وہ جو گھر میں ایک گنجا سا آدمی پھرتا ہے ناااا….. جسے آپ ملک صاحب، ملک صاحب کہتے نہیں تھکتی ہیں اس سے کیا کریں خامخواہ میرے جزبات سے کھیلتی ہیں آپ…….؟؟؟؟؟
حنین نے ماں کی توجہ اپنے اوپر سے ہٹاتے ہوئے ہنس کر کہا
حنین تو اتنا بے غیرت کیوں ہے..؟؟؟
شرم کیا کر ملک صاحب تیرے ڈیڈ ہیں
غزالہ بیگم نے غصہ سے کہا
کیا کروں مجھے غصہ آتا ہے ملک صاحب پر، عام سی شکل ہے اور اتنی پیاری حور جیسی، پریوں جیسی لڑکی مل گئی اور مجھے دیکھیں کتنا پیارا ہوں میں،مگر مجھے کوئی آپ جیسی لڑکی نہیں مل رہی……بس قسمت ہے اپنی اپنی…ویسے گنجے ملک صاحب کی قسمت بہت اچھی ہے بیوی اور بیٹا دونوں ہی بےمثال ہیں… کیا خیال ہے آپ کا….؟؟؟؟؟
حنین نے ماں کی دلجوئی کی.
کیونکہ ملک صاحب نے بتایا تھا وہ بہت اداس ہیں.
اچھا اچھا زیادہ باتیں نہ بنا یہ بتا واپس کب آ رہا ہے…؟؟
غزالہ بیگم واقع ہی بیٹے کی باتوں سے بہل گئیں تھیں.
انشاءاللہ ایک دو دنوں میں….
حنین خود بھی ہسپتال رہ رہ کر بور ہو گیا تھا اسی لیے آواز میں اداسی آگئی جسے غز الہ بیگم نے محسوس کیا.
اچھا اداس نہ ہو اور جلدی سے گھر آ جا تاکہ ہم نرمین کے گھر جا کر نکاح کی تاریخ لے آئیں.
سچی موم…….حنین نے خوش ہوتے ہوئے کہا
جی بلکل سچی…..غزالہ بیگم نے جواب دیا
………………………….
“وہ جسے نہیں آنا مجھے اُس سے مطلب ہے..
اُوروں سے کیا آتے ہیں آتے ہوں گے…..”
آج پندرہ دن ہو گئے وہ نہیں آئی تھی سب لوگ آئے مگر وہ نہیں آئی….
زریاب نے چھت کو گھورتے ہوئے سوچا….
لوگ سمجھتے ہیں میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ ذرا خود آ کر بتاؤ ان سب کو کہ، میں تم سے محبت نہیں کرتا، میں بلکل پرواہ نہیں کرتا تمہاری۔ تم خوش هو یا اداس، مجھے فرق نہیں پڑتا۔ تم آؤ یا جاؤ میں ذرا بھر محسوس نہیں کرتا۔ تم مجھ سے بات کرو یا نہ کرو میں سوچتا تک نہیں اس بات کو..! تم آؤ اور بتاؤ ایک بار، جتنی دیر تم لوگوں کو یہ سب باتیں بتاؤ گی نا، صرف اتنی دیر، میں تمہیں دیکھنا چاہتا ہوں۔ تم آؤ ناں اور بتاؤ سب کو کہ میں تمہارے لئے کچھ بھی نہیں ہوں۔ اور میں تمہیں بتاؤں گا کہ،
“تم میری محبت نہیں عشق ہو میرا۔۔۔۔۔۔۔!!!😥
سوچ سوچ کر اب اس کا سر پھٹ رہا تھا…..
تو خود کال کر لے محبت میں انا کیسی….؟؟؟زریاب نے خودہی اپنا مسئلہ حل کیا…
ماہ نور صوفے پر بیٹھی باہر لان کو دیکھ رہی تھی جب اس کا موبائل بجا…
Zaryaab calling……
ماہ نور کو یقین نہیں آیا…
یہ کیا وہ تو ہسپتال میں ہے ٹھیک بھی نہیں ہے پھر اس کے نمبر سے کال…..
وہ خود کر رہا ہے….
مگر کیوں….؟؟
شاید لڑنے کے لیے میں دیکھنے نہیں گئی…
ابھی وہ انھیں سوچو میں گم تھی کہ کال بند ہو گئی
“اپنی آواز کی بھی خیرات نہیں کی اس نے..
میں نے چاہا بھی مگر بات نہیں کی اس نے.”
نہیں اٹینڈ کرے گی پتہ ہے پھر بھی کیوں کرتا ہوں کال اسے….
حنین صحیح کہتا ہے جادو کیا ہوا ہے اس نے میرے پہ…..
ابھی زریاب یہ سوچ ہی رہا تھا کہ موبائل بجنے لگا…
Think about devil, devil is here..
زریاب کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی حنین کو یاد کرو فوراً آ جاتا ہے جن کہیں کا…..
مگر فون دیکھتے ہی مسکراہٹ حیرت میں بدل گئی
Mahnoor calling…..
یہ کیسے ہو سکتا ہے؟؟
وہم ہے میرا..؟؟
وہ مجھے کال نہیں کر سکتی..؟؟
ناممکن…..؟؟؟
مگر جب کال بند نہیں ہوئی تو زریاب نے دھڑکتے دل سے اٹینڈ کی..
یہ جو لوگ کہتے ہیں نا….یاررر مجھے اپنے دل کی دھڑکن سنائی دینے لگی…
آج اس بات کا مطلب زریاب کو سمجھ آیا.وہ اس وقت اپنی دھڑکن گن سکتا تھا..
اسلام علیکم
ماہ نور کی دھیمی آواز نے زریاب کو سحر سے نکالا…
جواب دینے کی بجائے زریاب نے کہا…
ماہ نور یہ میرا نمبر ہے….دل کہہ رہا تھا اس نے مجھے غلطی سے کال کی سو وضاحت دی..
مجھے معلوم ہے آپ ہی کو کال کی ہے…ماہ نور نے تحمل سے کہا….
مجھے کال کی ہے…. زریاب کو حیرانگی ہوئی
مجھے کال کی ہے…اب کی بار الفاظ میں خوشی نمایاں تھی..
وہ اصل میں ایک بات کہنی تھی…
ماہ نور نے ڈرتے ڈرتے کہا
ہاں ہاں بولو..میں سن رہا ہوں
بابا سائیں اور سارے گھر والے چاہتے ہیں جب تم ہسپتال سے ڈسچارچ ہو کر شہر جاؤ تو میں بھی تمہارے ساتھ جاؤں……
ماہ نور نے ایک لمبا سانس لیا
مگر میں تمہارے ساتھ جانا نہیں چاہتی…..
زریاب ہنسا …بس اتنی سی بات
تم پریشان نہ ہو میں سب کو دیکھ لو گا…..
اپنا خیال رکھو….
ماہ نور کو کچھ عجیب لگا یہ لفظ اسے کہنے چاہیے تھے مگر وہ کہہ رہا تھا…
ابھی وہ یہ سوچ ہی رہی تھی کہہ زریاب کی آواز سپیکر سے ابھرئی….
I m sorry mahnoor
سوری…مگر کیوں
ماہ نور نے پوچھا
میں تمہاری منت پوری نہیں کر سکا…
اس کے ساتھ ہی زریاب نے کال کاٹ دی….
وہ بہت ہرٹ ہوا ماہ نور نے کال کی بھی تو اپنے لیے….وہ مجھ سے صرف نفرت کر سکتی ہے یہ بات مجھے اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے…
ادھر ماہ نور موبائل گود میں رکھے بیٹھی تھی……
میں اب منت پوری نہیں کرنا چاہتی…….
“سردار زریاب علی خان”
مگر یہ بات تمہیں بتانا بھی نہیں چاہتی……
وہ یہ سوچ کر باہر لان کو دیکھنے لگی
زندگی میں کچھ چیزیں ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتیں، کچھ غلطیاں جو ہم بھول نہیں پاتے، کچھ تکلیفیں جو ٹھہر جاتی ہیں اور کچھ لوگ جو یاد رہ جاتے ہیں..
…………………
