Hichkiyan Muhabbat Ki Season 1 By Amna Mehmood Readelle50146 Episode 34 Pt.2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 34 Pt.2
ماہ نور واپسی پر بھی اتنی ہی خاموش تھی جتنی نکاح پر جاتے ہوئے تھی زریاب گاڑی چلاتے ہوئے گردن موڑ کر اسے تھوری تھوڑی دیر بعد دیکھ رہا تھا. مگر وہ بلکل چپ چاپ تھی دو دن سے وہ زیادہ ہی خاموش ہو گئی تھی اب وہ زریاب پر غصہ بھی نہیں کرتی تھی خاموشی تھی مکمل خاموشی……
تمہیں نرمین کیسی لگی…؟؟؟
زریاب نے ہلکے پھلکے انداز میں گفتگو کا آغاز کیا.
اچھی ہے……
ماہ نور نے باہر دیکھتے ہوئے جواب دیا
مزا آیا تمہیں فنکشن میں…؟؟
زریاب نے ماہ نور کے مختصر جواب کو نظر انداز کرتے ہوئے پھر پوچھا
زریاب میرا فلحال بات کرنے کو دل نہیں کر رہا پلیززز چپ کر جاؤ….
ماہ نور نے اداس سے لہجہ میں کہا جس پر زریاب اسے تاسف سے دیکھتا رہ گیا.
ایسا کب تک چلے گا میں جتنی بھی کوشش کر لوں لگتا حالات معمول پر نہیں آئیں گے دل تو نہیں کر رہا پر تمہیں صبح گاؤں چھوڑ آؤں گا……
زریاب دل میں سوچتا ہوا گاڑی چلا رہا تھا.
…………….
دبیر مسلسل کونین کے بارے میں سوچ سوچ کر تھک گیا تھا آخر کار اس نے فیصلہ کیا کہ وہ آج کونین کے گھر جائے گا اور اس کے والدین سے بات کرے گا شاید کوئی صورتِ حال بہتر ہو جائے اسی سوچ کے تحت اس نے زریاب کو فون کر کے اپنے پاس بلایا…..
جی جناب کیا حکم ہے…؟؟؟
زریاب نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے پوچھا
تُو نے میرے لیے ایک بندہ اغواء کرنا ہے اور اسے کچھ دن اپنی حویلی میں چھپا کر رکھنا ہے اگر ضرورت پڑی تو تھوڑی بہت پھینٹی بھی کرنی پڑ سکتی ہے بول میرا یہ کام کرے گا….؟؟؟
دبیر نے پیپر ویٹ ٹیبل پر گھماتے ہوئے زریاب سے پوچھا
تُو نے کہا تو سمجھ لے ہو گیا ہم لوگوں کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں. بس بندے اور وقت کی نشاندہی تجھے کرنی ہو گی باقی میرا کام ہے…..
زریاب نے جواب دیا
فلحال ضرورت نہیں آج میں کونین کی طرف جا رہا ہوں اگر اس کے ماں باپ کو بھی میری بات سمجھ نہ آئی تو پھر…..
دبیر نے کہتے ہوئے گاڑی کی چابی اٹھائی اور زریاب کے کندھے پر تھپکی دیتا ہوا باہر نکل گیا.
دبیر کے جاتے ہی زریاب نے حنین کو کال کر کے صورتِ حال سے آگاہ کیا.
………………..
ماہ نور گم سم سی بیڈ پر بیٹھی تھی اور اپنی انگلیوں سے بیڈ پر پتہ نہیں کیا لکھ رہی تھی……..
زریاب جو ابھی ابھی آفس سے واپس آیا تھا اسے اس حالت میں دیکھ کر اداس ہو گیا.
اس طرح تُو یہ پاگل ہو جائے گی…؟؟؟
زریاب نے خود سے سوچتے ہوئے ماہ نور کو مخاطب کیا
سوری یار آج بہت دیر ہو گئی آتے آتے…وہ اصل میں دبیر آگس میں نہیں تھا تو اس کے حصے کا کام بھی مجھے ہی کرنا پڑا (زریاب ہمیشہ ماہ نور سے ایسے بات کرتا جیسے ان دونوں میں بہت محبت اور انڈسٹنڈنگ ہو)
ماہ نور کھانا ملے گا…..؟؟؟
ماہ نور نے جواب نہیں دیا مگر اٹھ کر کچن میں چلی گئی جب تک زریاب فریش ہو کر باتھ روم سے نکلا کھانا بیڈ پر لگا ہوا تھا.
زریاب روز کھانا کھانے سے پہلے ماہ نور سے پوچھتا تھا کہ تم نے کھانا کھایا؟؟ چلو آؤ میرے ساتھ بھی تھوڑا سا کھا لو…
مگر ماہ نور ہمیشہ کہہ دیتی میں نے کھا لیا ہے.
اس سوچ کے تحت کہ ماہ نور نے آج بھی کھا لیا ہو گا زریاب نے چپ چاپ اپنا کھانا ختم کیا اور ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی.
ماہ نور نے کھانا نہیں کھایا تھا اس کا خیال تھا زریاب اسے پوچھے گا تو وہ تب کھا لے گی مگر کبھی کبھی امیدوں کے برخلاف بھی ہوتا ہے ……
ماہ نور نے زریاب کو اکیلے کھانا کھاتے دیکھا تو ناجانےکیوں مگر آنکھوں میں آنسو آگئے.
مجھے پوچھ تو سکتا تھا..؟؟؟
ماہ نور کو اپنے دل میں درد محسوس ہوا….
ماہ نور چپ چاپ ٹرے اٹھا کر کچن میں لے آئی. بھوک تو اسے لگی ہوئی تھی مگر رونا بھی آ رہا تھا ….
زریاب نے مجھے پوچھا کیوں نہین…؟؟؟ بس ایک بات پر سوئی اٹک گئی تھی پھر اس نے اپنے لیے کھانا پلیٹ میں نکالا اور کھانے لگی ایک نوالہ ہی بڑی مشکل سے کھا پائی وہ بھی گلے میں پھنسنے لگا تو پانی کی مدد سے حلق سے نیچے اتارا.
میں کیوں اس کو بار بار سوچ رہی ہوں…..
ماہ نور نے خود کو ڈانٹا
زریاب جو ماہ نور کی چپ کی وجہ سے بہت پریشان تھا اس نے فیصلہ کیا کہ آج ماہ نور کو گاؤں واپس چھوڑ آئے گا محبت میں زبردستی نہیں ہوتی. جہاں ماہ نور خوش، وہاں میں خوش…..
وہ اس ارادہ سے کچن کی طرف بڑھا کہ مسہ نور سے کہے اپنا سامان پیک کر لے ….مگر ماہ نور کو کھانا کھاتا دیکھ کر ٹھٹک گیا…
تم نے ابھی تک کھانا نہیں کھایا..؟؟؟
زریاب کی آواز میں بےچینی اور فکر دونوں نمایاں تھی.
زریاب کے پوچھنے کی دیر تھی ماہ نور کی آنکھوں سے آنسو نکلنے کو بےتاب ہو گئے جنھیں چھپانے کی لیے وہ جلدی سے اٹھ کے سنک میں ہاتھ دھونے لگی.
روٹی سے صرف ایک نوالہ ٹوٹا ہوا تھا زریاب کو سمجھنے میں ایک سیکنڈ لگا کہ ماہ نور نے ابھی کھانا شروع کیا ہے.
تم مجھے بتا سکتی تھی..؟؟ ہم اکٹھےکھانا کھا لیتے ….میں سمجھا تم کھا چکی ہو….سوری یار مجھ سے غلطی ہو گئی….
جیسے ہی زریاب نے کہتے ہوئے ماہ نور کا رخ اپنی طرف کیا ماہ نور زریاب کے سینے ساتھ لگ کہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اتنے دونوں کے رکے آنسو خودبخود راستہ بناتے ہوئے باہر آگئے…..
کیا ہوا ہے…؟؟؟؟؟؟
ماہ نور کو یوں روتا دیکھ کر زریاب کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اس نے ہمیشہ ماہ نور کو چیختے چلاتے دیکھا تھا روتے نہیں…..
پلیززز کچھ بتاؤ بھی نااااا..؟؟؟
گاؤں سے فون آیا تھا وہاں سب ٹھیک ہے نااااااا…؟؟؟
زریاب کا دھیان گاؤں کی طرف گیا.ماہ نور نے سر ہلا کر کہا سب ٹھیک ہے.
پھر کیوں رو رہی ہو…..؟؟؟
زریاب ماہ نور کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے لاؤنچ میں پڑے صوفے پر بیٹھ گیا.
دیکھو تم یہاں اداس ہو مجھے پتہ ہے ہم ابھی گاؤں جا رہے ہیں بس پہلے تھوڑا کھانا کھا لو پھر…..
اور پلیززز رو مت اس طرح تو تم بیمار پڑ جاؤ گی….
زریاب نے اپنے ہاتھوں سے ماہ نور کے آنسو صاف کیے اور کچن سے ماہ نور کا کھانا اٹھا لایا
رونے کی وجہ سے ماہ نور کی ناک اور ہونٹ سرخ ہوگے جو اس کے حسن میں مزید اضافہ کا باعث بنے…..
زریاب نے نوالہ بنا کر ماہ نور کی طرف ڈرتے ڈرتے بڑھایا کیا پتہ پلیٹ سمیت کھانا میرے منہ پر مار دے مگر اس کی حیرت سے پوری آنکھیں کھل گئیں جب ماہ نور نے وہ نوالہ کھا لیا…..
زریاب کبھی اپنے ہاتھ کو دیکھتا تو کبھی ماہ نور کو، جو اب نوالہ کھا رہی تھی.پھر زریاب نے خوشی خوشی ماہ نور کو ساری روٹی کھلائی. یہ اس کی زندگی کا ایک یادگار دن تھا.
چلو اب اچھے بچوں کی طرح تیار ہو جاؤ ہم تھوڑی دیر تک گاؤں کے لیے نکل رہے ہیں.
زریاب نے کہتے ہوئے کچن کی راہ لی جبکہ ماہ نور نے ہاں میں گردن ہلا دی
……………..
دبیر نے دروازے پر لگی گھنٹی دبائی تھوڑی دیر بعد کونین نے دروازہ کھولا اور حیرت سے دبیر کو دیکھا اس سے پہلے وہ کچھ کہتا پیچھے سے سید سبطین الحسن بخاری کی آواز آئی…
کونین کون ہے…؟؟؟؟
کونین پیچھے پلٹا اب دبیر بخاری صاحب کو اور بخاری صاحب دروازے میں کھڑے دبیر کو بآسانی دیکھ سکتے تھے.
صرف پانچ سیکنڈ لگے دبیر کو پہچاننے میں”صرف پانچ سیکنڈ”
بابا آپ….دبیر کہ منہ سے بےساختہ نکلا
