Hichkiyan Muhabbat Ki Season 1 By Amna Mehmood Readelle50146 Episode 14 Pt.1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 14 Pt.1
دبیر ،عترت اور اماں بی تینوں ٹیبل پر بیٹھے کھانا کھا رہے تھے.جب اماں بی نے دبیر سے پوچھا.
کیسی طبیعت ہے بچی کی…؟؟؟
ٹھیک ہے آج شاید ڈسچارج ہو جائے…
دبیر نے کھیرے کی قتلی منہ میں ڈالتے ہوئے کہا پھر ایک نظر عترت پر ڈالی جو کھانا کم کھا رہی تھی اور اسے گھور زیادہ رہی تھی.
گڑیا خیریت ہے میں نوٹ کر رہا ہوں تم کچھ دنوں سے کھوئی کھوئی لگ رہی ہو…
دبیر نے ہلکا سا مسکرا کر عترت سے پوچھا.جبکہ عترت دبیر کے سوال پر گھبرا گئی…
نہیں بھائی ایسی کوئی بات نہیں ہے بس ویسے ہی…..
عترت نے نظریں چرا کر جواب دیا.
اچھا تم کہتی ہو تو میں مان لیتا ہوں ورنہ میرا دل اس وقت کچھ اور کہہ رہا ہے.
دبیر نے عترت کا بغور جائزہ لیتے ہوئے کہا
عترت کو لگا اگر وہ کچھ دیر اور یہاں بیٹھی تو بھائی اس کی چوری پکڑ لیں گے اس لیے ٹشو سے ہاتھ صاف کرتی کھڑی ہو گئی.
عترت کو کھڑا ہوتا دیکھ کر اماں بی بول پڑیں
ارے لڑکی کہاں چل دی..؟؟؟ پہلے کھانا تو سہی طرح کھا لو.
بس اماں بی میرا پیٹ بھر گیا ہے.عترت نے ماں کو جھک کر پیار کیا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھنے لگی مگر دبیر کی آواز پر جاتے جاتے رکی.
گڑیا کتنے دن ہو گئے تم نے مجھے اپنے ہاتھ سے کافی بنا کر نہیں پلائی. کیا آج ایک کپ مل سکتا ہے….؟؟؟
دبیر نے کھانا ختم کرتے ہوئے عترت کی طرف پیار بھرے لہجہ سے کہا
کیوں نہیں میں ابھی لائی..
عترت خوشی سے کہتی کچن کی طرف بڑھ گئی.
اماں عترت سے کہنا میں کمرے میں ہوں وہیں کافی لے آئے.
دبیر اماں کو کہتا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا.
دبیر نے کمرے میں آ کر الیکٹرک ہیٹر آن کیا اور خود ایزی چیئر پر اس کے قریب ہو کر بیٹھ گیا.
دبیر مسلسل عترت کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ اسے کیا ہوا ہے یا اسے کیا ہو سکتا ہے…؟؟؟
ہالہ والی بات سے اب تک یہ اپ سیٹ نہیں ہو سکتی کیونکہ ایک تو میں نے اس سے معافی مانگ لی تھی اور دوسرا یہ بات اب کافی پرانی ہو گئی ہے.
پھر کیا بات ہو سکتی ہے..؟؟؟
دبیر مسلسل سوچوں میں گم تھا جب دروازے پر دستک کے ساتھ عترت ہاتھ میں کافی کا مگ لیے اندر داخل ہوئی.عترت کو دیکھتے ہی دبیر مسکرانے لگا
یہ لیں بھائی گرما گرم مزےدار کافی…عترت نے دبیر کو کافی کا مگ تھماتے ہوئے کہا
دبیر نے مگ پکڑتے ہوئے عترت کو اپنے سامنے والی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا.جس پر عترت فوراً بیٹھ گئی مگر اندر سے پریشان ہو گئی.
دبیر نے عترت کو دیکھ کر کافی کا سیپ لیا
زبردست…عترت تم سے اچھی کافی کوئی نہیں بنا سکتا.
تعریف سن کر عترت کھل اٹھی اور ڈر کہیں بھاگ گیا.عترت کو نارمل ہوتا دیکھ کر دبیر نے کہنا شروع کیا….
عترت تم ابھی تک ایک غیر لڑکی کی وجہ سے بھائی سے ناراض ہو.اگر تمہیں وہ اتنی پسند ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں تم اسے اپنی بھابی بنا کر لا سکتی ہو.میں بس تمہیں خوش دیکھنا چاہتا ہوں.مگر مجھے یہ بات بری لگی ہے کہ تم ایک لڑکی کی وجہ سے مجھے اگنور کر رہی ہو اور مجھ سے بدگمان ہو گئی ہو.تمہارا رویہ اس واقعہ کے بعد سے میرے ساتھ ٹھیک نہیں جسے میں نے بہت محسوس کیا ہے.
عترت ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا میرے لیے تم سے اہم اس دنیا میں کچھ نہیں.مگر مجھ سے کبھی جھوٹ مت بولنا
آخر میں دبیر نے تقریباً وارن کرتے ہوئے کافی کا سیپ لیا
بھائی میں آپ سے ناراض نہیں.
ہالہ بی والی بات میں کب کی بھول گئی اور رہی بات جھوٹ کی تو میں کیوں اپ سے جھوٹ بولنے لگی..؟؟
عترت نے دبیر کو دیکھتے ہوئے جواب دیا
Dabeer: sure..??
Atret: 100% sure
Dabeer: ok & thanks for coffee.
Atret : Alwaz wellcome
………………………
ماہ نور اپنے بیڈ پر بیٹھی عروسی ملبوسات کو دیکھ رہی تھی جو ابھی ابھی بیگم کوثر دے کر گئیں تھیں. بہت ہی خوبصورت کپڑے تھے. چھ سال بعد ماہ نور نے دوبارہ رنگین کپڑے پہننے تھے یہ سوچ کر اسے خوشی ہو رہی تھی چلو جو بھی ہے کم از کم سزا سے جان چھوٹے گی میں آزادی سے ہر جگہ آ جا سکوں گی. اس نے ایک سوٹ کے ساتھ کا ڈوپٹہ جو پرپل کلر کا تھا اور اس پر گولڈن موتیوں کا کام ہواہوا تھا اٹھا کر اپنے سر پر رکھا اور آئینے میں اپنے عکس دیکھنے لگی.کچھ دیر خود کو آئینے میں دیکھنے کے بعد اس نے پھینکنے کے انداز میں ڈوپٹہ بیڈ پر رکھا اور اپنے آپ سے مخاطب ہوئی.
“ماہ نور بی بی کب تک خود کو ان چیزوں سے بہلاؤ گی.مان کیوں نہیں لیتی کے دکھ ہے تمہیں …تم خوش نہیں”
یہ سوچتے ہی وہ یکدم رونے والی ہو گئی.
“نہیں نہیں ایسا کچھ نہیں میں خوش ہوں بہت خوش”
خود ہی اپنی سوچ کی نفی کی.بابا سائیں کہہ رہے تھے وہ اچھے انسان ہیں.میرے ساتھ اچھا سلوک کریں گے.
ایک دفعہ پھر خود کو تسلی دی.
“نہیں ماہ نور یہ لوگ تمہارے ساتھ زیادتی کر رہے ہین اپنے لاڈلے کو بچانے کے لیے…”
دل نے پھر بغاوت پر اکسایا.
پچھلے دو دن سے ماہ نور کے دل و دماغ میں سخت جنگ جاری تھی کبھی وہ اس شادی کے فائدے سوچنے لگتی تو کبھی گھر والوں کے ظلم کبھی زریاب کو کوستی تو کبھی چوہدریوں کو…..
یہ مجھے کیا ہو رہا ہے پاگل ہو جاؤں گی میں…..
یا اللہ رحم کر میرے پر…
مدد فرما میری..
یا میرا دل اس رشتے پر مطمئن کر دے یا میری جان اس رشتے سے چھڑا دے.
یہ کہتی وہ دونوں ہاتھ منہ پر رکھ کر رونے لگی.
پھر خود ہی کچھ سوچ کر ہنسنے لگی..
یا اللہ تیری کیسی قدرت ہے. سرخ جوڑا اتارا تو یہ سفید کپڑے پہنے…
اب سفید کپڑے اتاروں گی تو دوبارہ سرخ کپڑے پہن لوں گی ..
وہ ابھی ہنس رہی تھی آنکھوں میں واضح آنسو چمک رہے تھے جب ماہ پارہ اور ماہین کمرے میں داخل ہوئیں.انھیں دیکھ کر ماہ نور نے مسکرا کر کہا
آؤ دیکھو کتنے اچھے کپڑے ہیں.میں تو بہت خوش ہون جان چھوٹی اس کفن سے…
اس نے اپنے سفید کپڑوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
جبکہ ماہین اور ماہ پارہ اس کے ساتھ دائیں بائیں بیٹھ کر رونے لگیں.
ارے یہ کیا کیوں رو رہی ہو..؟؟؟
ماہ نور نے دونوں کو اپنے ساتھ لگا لیا.
آپا یہ زیادتی ہے وہ اتنا بوڑھا ادمی ہے اور اپ…ماہین اتناکہہ کر پھر رونے لگی
میں کون سی بچی ہوں. اور بوڑھا ہونے سے فرق نہیں پڑتا. انسان اچھا ہونا چاہیے تم نے سنا نہیں تھا بابا سائیں ان کی کتنی تعریف کر رہے.
ابھی ماہ نور ان دونوں کو چپ کرا رہی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی تینوں ہی سیدھی ہو کر بیٹھ گئیں.
کون ہے اندر آ جائے….ماہ نور نے اونچی آواز میں کہا
جیسے ہی سردار دلاور علی خان اندر داخل ہوئے ماہین اور ماہ پارہ ادب سے کھڑی ہو گئیں اور سلام کیا.جبکہ ماہ نور کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا.
بیٹا سائیں آپ دونوں باہر جائیں مجھے اپنی بیٹی سے کچھ باتیں کرنی ہیں.
ماہین اور ماہ پارہ سر ہلاتی باہر چلی گئیں.
سردار دلاور علی خان ماہ نور پاس آ کر بیٹھ گئے اور دونوں ہاتھ جوڑ کر بولے
“مجھے معاف کر دو میں چاہ کر بھی تمہاری مدد نہیں کر سکتا.مجھے تم اپنے دونوں بیٹوں سے زیادہ عزیز ہو. مگر میں بہت مجبور ہون.”
ماہ نور نے ان کے جوڑے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیے اور جو آنسو وہ کئی دن سے چھپا رہی تھی وہ بہنے لگے.
چچا سائیں پلیززز ایسا مت کریں.مجھے کل بھی آپ سے پیار تھا اور آج بھی اتنا ہی پیار ہے میں جانتی ہوں آپ بابا سائیں کے سامنے نہیں بول سکتے.
یہ کہہ کر ماہ نور سردار دلاور علی خان ساتھ لگ گئی.اب دونوں باپ بیٹی رو رہے تھے.کافی دیر رونے کے بعد جب دونوں کا دل ہلکا ہو گیا تو ماہ نور نے چچا کی گود میں سر رکھتے ہوئے فرمائش کی
چچا سائیں میں بچپن میں کیسی تھی مجھے میرے بارے میں بتائیں شاید پھر کبھی وقت نہ مل سکے مجھے اپ ساتھ یوں بیٹھنے کا….؟؟
جبکہ سردار دلاور خوش ہو گئے.اور اسے پیار سے اس کے بچپن کے قصے سنانے لگے.
اب کمرے میں سردار دلاور کی آواز اور ماہ نور کی ہنسی گونج رہی تھی.
