Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16 Pt.1


کونین اپنے کمرے میں چکر لگا لگا کر تھک گیا تھا تو بلآخر کمرے سے باہر نکل آیا. برآمدے میں ثریا بیگم ساگ کاٹ رہیں تھیں وہ ان کے پاس تخت پوش پر بیٹھ گیا.
کیا بات ہے آج یونی نہیں گئے..؟؟
ثریا بیگم نے عینک ٹھیک کرتے ہوئے کونین سے پوچھا
امی جان آج کل یونی میں کچھ نہیں ہو رہا سوائے مستیوں کے….
کونین نے ماں کے ہاتھ سے چھری اور ساگ ، پرات میں رکھتے ہوئے کہا
ہائے لڑکےباولا ہو گیا ہے کیا..؟؟؟
سبزی بنانے دے ہالہ اور تیرے ابو آ گئے تو شور کریں گے ساگ وقت پر تیار کرنے دے…..
اور اٹھ میری گود سے کیا بچوں کی طرح لیٹ رہا ہے اب تو بڑا ہو گیا ہے.کونین جو ماں کی گود میں سر رکھ کر لیٹ رہا تھا ان کے آخری جملے پر دوبارہ اٹھ کر بیٹھ گیا اور ماں سے کہنے لگا
امی آپ کو لگتا ہے کہ میں بڑا ہو گیا ہوں.
ہاں نہیں تو اور کیا….چل مجھے پرات پکڑا
ثریا بیگم نے کونین کے اٹھتے ہی دوبارہ ساگ کاٹنے کی تیاری شروع کی
امی وہ میں نے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے.کونین نے ماں کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے عترت کے بارے میں بتا دیا
اور خود ماں کی گود میں پُر سکون ہو کر لیٹ گیا.جیسے اب جو بھی کرنا ہے آپ نے کرنا ہے میرا کوئی لینا دینا نہیں.
ثریا بیگم پہلے تو کافی حیران ہوئیں پھر ان کی پیشانی پر کچھ شکنیں نمودار ہوئیں اور وہ کھوئے ہوئے انداز میں کونین کے چہرے پر ہاتھ پھیرتی ہوئی مسکرانے لگیں.بیٹے تو ویسے ہی ماؤں کو بہت پیارے ہوتے ہیں خاص طور پر جب وہ اکلوتے ہوں پھر تو آنکھ کے تارے ہوتے ہیں.
کیسی ہے..؟؟؟ ثریا بیگم نے کونین کے ماتھے سے بال پیچھے کرتے ہوئے پوچھا
ایکدم بور،انتہائی ڈرپوک ، بےوقوف اور رونے کی ماہر….
کہہ کر کونین نے ایک قہقہ لگایا تصور میں اس کا چہرہ نظر آیا.
تو پھر تجھے کیا اس میں اچھا لگا..؟؟؟
ثریا بیگم اب سنجیدہ تھیں.
مجھے کب وہ پسند آئی؟؟؟
اسے میں پسند آیا.
“ماں نے سوہنا جمیا تے میرا کی قصور اے”
کونین نے گنگناتے ہوئے ماں کو آنکھ ماری
شرم کر کچھ اور کیا نام ہے اس کا…؟؟؟
ثریا بیگم نے کونین کو پیار سے تھپڑ لگاتے ہوئے پوچھا
عترت کہتے ہیں لوگ…..
اور شرارت سے مسکراتا اٹھ کر بیٹھ گیا.
بیٹا مجھے تیری پسند پر کوئی اعتراض نہیں زندگی تو نے گزارنی ہے ہم نے نہیں.اچھا ہے اپنی پسند کی لڑکی سے شادی کر مگر جتنی تُو امیر بتا رہا ہے وہ ہمارے اس چھوٹے سے گھر میں رہ لے گئی..؟؟؟؟
تُو میرا ایک ہی بیٹا ہے ایسا نہ ہو وہ تجھے لے کر کہیں اور چلی جائے اور ہم تجھے اور تیرے بچوں کو دیکھنے کو ترسیں یہ امیر ذادیاں بہت تیز ہوتیں ہیں……؟؟؟
ثریا بیگم نے اپنا خدشہ کونین پر ظاہر کیا.
ثریا بیگم کے آخری جملے پر کونین خوب ہنسا….
تیز اور عترت….
یہ دونوں الفاظ متضاد ہیں.
میں کچھ دنوں تک اسے آپ سے ملوانے لاؤں گا آپ اس سے مل لینا دیکھ لینا اور وہ بھی میرا گھر میری فیملی دیکھ لے گی.اگر پھر بھی وہ میرے ساتھ رہنا چاہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ورنہ اس کی اپنی راہ……..اور میری اپنی…
میں آپ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گا چاہے کچھ بھی ہو جائے اور ماں کے گلے لگ گیا.
چل پیچھے ہٹ مجھے ساگ بنانا ہے میں تو خود چاہتی ہوں تیری بیوی جلدی آئے اور میرے ساتھ کام میں ہاتھ بٹایا کرے.
ثریا بیگم نے کونین کو پیچھے کرتے ہوئے ساگ کی پرات اپنے آگے رکھی.
کام…. اور….. عترت…؟؟
یہ تو نہیں ہو سکتا بلکہ وہ تو آپ کو بھی کام نہیں کرنے دے گی.سارا دن اسے آپ چپ کراتی رہیں گی.دورے پڑتے اسے رونے کے…..
کونین ہنستا ہوا سلیپر پہننے لگا جبکہ ثریا بیگم اسے گھور کر رہ گئی.
…………………………..
زریاب کے لاکھ منع کرنے کے باوجود حنین گاؤں جانے کی ضد کر رہا تھا.
یار ہماری دشمنی ہے تو سمجھتا کیوں نہیں اللہ نہ کرے تجھے کچھ ہو گیا تو میں انکل اینٹی کو کیا منہ دکھاؤں گا…؟؟؟
زریاب نے ایک دفعہ پھرحنین کو روکنے کی کوشش کی.
کچھ نہیں ہوتا مجھے اور اگر کچھ ہو گیا تو میں تجھے اپنا خون معاف کر دوں گا.اب ٹھیک ہے.رہی بات کہ تو کیا منہ دکھائے گا میرے ماں باپ کو تو ، تُو اس کی فکر نہ کر تجھے میرے باپ سے منہ دکھائی میں کچھ نہیں ملنے والا تو منہ دیکھائی دینے والوں میں سے ہے لینے والی پارٹی دوسری ہوتی ہے.
یہ کہہ کر حنین نے قہقہ لگایا
میں بھی یہی کہوں گا کہ حنین تو نہ جا پتہ نہیں کیوں مجھے کافی عجیب سا لگ رہا ہے.
دبیر نے بھی بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے پریشانی سے کہا
کیا ہو گیا ہے تم دونوں کو ..؟؟؟؟
کیوں مجھے بھی کنفیوژ کر رہے ہو ….؟؟؟
گاؤں جانے میں کتنا ٹائم لگتا ہے.؟؟؟
حنین نے پہلے دبیر کو اور پھر زریاب کو دیکھ کر کہا
یہی کوئی دو گھنٹے…؟؟؟
زریاب نے جواب دیا
ٹھیک ہے ابھی دس بجنے والے ہیں مطلب ہم بارہ سوا بارہ بجے تک پہنچ جائیں گی.
حنین نے سوچتے ہوئے کہا
جی بلکل اگر ابھی چلے تو..؟؟
زریاب نے جواب دیا
ٹھیک ہے پھر اب ہم چلتے ہیں حنین نے دبیر کو گلے ملتے ہوئے کہا.
یار پلیززز حنین نہ جا یار آگے زریاب کے جانے سے میں اداس ہو جاتا ہوں اور اس دفعہ تو،تُو بھی جا رہا ہے پیچھے میں کیا کروں گا ؟؟؟
پھر میں بھی چلتا ہوں.دبیر نے حنین کو بازؤں سے پکڑتے ہوئے کہا
زیادہ جزباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے دیکھ ابھی صبح کے دس بجے ہیں اور ہم انشاءاللہ رات کے دس بجے تیرے پاس ہوں گے.
حنین نے دبیر کے بازو پر تھپکی دی اور ایک دفعہ پھر گلے ملا
زریاب بھی دبیرسے بغل گیر ہوا یار اپنا خیال رکھیں.دبیر نے زریاب کو کہا
دبیر تیری یہی باتیں اسے ڈرپوک بنا رہیں ہیں کیا لڑکیوں کی طرح اسے ٹریٹ کر رہا ہے وہ رخصت نہیں ہورہا.بلکہ کسی کو رخصت کرانے جا رہا ہے مگر تو،تُو اسے بیٹی والی feeling دے رہا ہے. اور ہاں مجھے یاد کرائی واپسی پر عترت کے بارے میں مجھے تجھ سے کوئی بات کرنی ہے.
حنین نے کافی ناگواری سے گاڑی کا دروازہ کھولا اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا.جبکہ زریاب اسے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا دیکھ کر چونک پڑا اور کہا
“گاڑی تُو چلائے گا…؟؟”
جی بلکل کیونکہ مجھے اپنی زندگی پیاری ہے ایک تو، تُو ویسے ہی پیرنی کی وجہ سے اپنے حواسوں میں نہیں اور دوسرا دبیر کی نصیحتیں …..
حنین نے ایک جھجھری لی
مطلب میری نصیحتیں….؟؟؟
دبیر اب کی بار بول پڑا.
مطلب یہی کہ بجائے تو اسے ہلہ شیری دے کہ مرد بن کچھ نہیں ہوتا جا اور پھڈا ڈال دے.مگر نہیں تو اسے مزید جزباتی کر رہا ہے شکل دیکھ اس کی (ساتھ ہی زریاب کی طرف ہاتھ سے اشارہ کیا) جیسے آج ماہ نور نے نہیں اس نے رخصت ہونا ہے آج کل تو لڑکیاں بھی رخصتی کے وقت ایسی شکلیں نہیں بناتیں جیسی یہ بنا رہا ہے.میری ساری محنت پر تُو نے پانی پھیر دیا ہے دبیر مجھے تجھ پر سخت غصہ آ رہا ہے.اتنی مشکل سے اس کے اندر “سردار زریاب علی خان “کی روح بیدار کی تھی مگر تو نے پھر اسے ٹھنڈا کر دیا حالانکہ زریاب کو ٹھندا کر نے کی ضرورت نہیں اس نے تو آگے ہی دھنیا پیا ہوا ہے مجال ہے جو غصہ آجائے.جبکہ آج اس کے غصہ کی کتنی ضرورت ہے.
حنین نے سر نفی میں ہلاتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کی..
زریاب بھی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا جبکہ دبیر نے حنین والی سائیڈ سے اندر ہاتھ کر کے حنین کے بال ٹھیک کیے اور کہا
گاؤں جانے سے پہلے ہسپتال سے ہوتا جائیں.آج نرمین نے ڈسچارج ہونا ہے.
وہ شام تک ڈسچارج ہو گی تب تک میں واپس آ جاؤں گا.تجھے جو کہا ہے بس تو وہ کرنا اور جانے سے پہلے تو نے ہی میرا دماغ خراب کر دیا ہے اب اس کے پاس جاؤں تاکہ رہتی سہتی کسر وہ نکال دے حنین نے جواب دیا
مگر میں نے جانے سے پہلے نرمین سے ملنا ہے.زریاب نے حنین کو دیکھ کر کہا
زریاب کی بات پر حنین نے پہلے زریاب کو اور پھر دبیر کو دیکھا اور گاڑی سے باہر نکل آیا.
تم دونوں کے جب تماشے ختم ہوں گے تو مجھے بتا دینا پھر میں آجاؤں گا اور اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا.حنین کو یوں جاتا دیکھ کر دبیر اور زریاب جلدی سے اس کی طرف بڑھے.
یار کیا ہے؟؟ کیوں ناراض ہو رہا ہے.زریاب اور دبیر دونوں نے اسے واپس گاڑی میں لا کر بیٹھایا.
تم سمجھ کیوں نہیں رہے اس وقت ہمارا گاؤں پہنچنا زیادہ ضروری ہے.
حنین نے اپنی گول مٹول آنکھوں سے دونوں کو باری باری دیکھا.
اگر میں نے ابھی اُس بیمار، نکمی نرمین کو دیکھ لیا تو پھر میں کہیں نہیں جاؤں گا. کیونکہ میں جا نہیں پاؤ گا مجھے اپنا پتہ ہے اور اس چکر میں عصر ہو جائے گی پھر گاؤں جانے کا مقصد ختم …..
حنین نے اپنی بات کے آخر میں دونوں کو دیکھا جن کی شکلوں سے لگ رہا تھا کہ بات سمجھ آ گئی.