Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28 Pt.1


عترت آج بہت دنوں بعد یونی گئی تھی اس نے دبیر کی بات مان لی تھی کیونکہ وہ اپنے اتنے پیارے بھائی کو اپنی چند دن کی محبت کے پیچھے ناراض نہیں کر سکتی تھی.مگر یہ بھی سچ تھا کہ وہ اپنی محبت کو بھلا نہیں پا رہی تھی اسی لیے وہ اپنی کلاس کے ختم ہوتے ہی گھر واپس آ جاتی تھی.
جیسے ہی وہ کوریڈور سے گزر کر اپنے ڈیپارٹمنٹ میں جانے لگی تو اسے کونین اپنے دوستوں سے ساتھ کھڑا نظر آیا مگر وہ اپنے جذبات پر قابو کرتی ہوئی نظریں جھکا کر اس کے پاس سے گزر گئی.
عترت کی یہ حرکت کونین نے نوٹ کی مگر برا اس لیے نہیں منایا کیونکہ وہ سمجھا کہ شاید دوستوں کی وجہ سے مجھے عترت نے نہیں بلایا.
مگر جوں جوں دن گزر رہے تھے اسے اس بات کا شدت سے احساس ہو رہا تھا کہ عترت اسے اگنور کر رہی ہے وہ اس سلسلے میں عترت سے بات کرنا چاہتا تھا مگر کیونکہ یونی میں پیپرز ہونے والے تھے اور اس کا یہ فائنل سمسٹر تھا اس لیے وہ اپنا پروجیکٹ جمع کرانے میں لگا ہوا تھا.
عترت اپنی کلاس لیتے ہی فوراً گھر چلی جاتی تھی مگر آج اس کی آخری کلاس سے پہلے ایک فری تھا تو اس نے سوچا کہ یونی کے بیک گراؤنڈ میں جا کر اپنا ٹائم گزار لے وہ کونین کو دیکھنا نہیں چاہتی تھی اس لیے اپنا سامان گراؤنڈ کے ایک کونہ میں رکھ کر خود گھاس پر بیٹھ گئی اور اردگرد دیکھنے لگی….
کہیں کہیں کوئی ایکا دکا سٹوڈنٹ نظر آ رہا تھا جبکہ باقی گراؤنڈ بلکل خالی تھا وہ گھاس پر نظریں جمانے اپنے خیالوں میں گم تھی جب اسی دن والا لڑکوں کا ٹولہ بھی گراؤنڈ میں آگیا اس گروپ کا کام ہی معصوم اور نئی لڑکیوں کو تنگ کرنا تھا عترت کو دیکھ کر ایک لڑکے نے اس کی طرف اشارہ کیا جو اپنے اردگرد کی دنیا سے بے نیاز بیٹھی تھی
وہ چاروں عترت کے قریب آ کر بیٹھ گئے اور ایک لڑکے نے اونچی اونچی آواز میں نظم پڑھنا شروع کی تاکہ عترت کی توجہ حاصل ہو سکے
“ایک لڑکی باغ میں بیٹھی رو رہی ہے اس کا ساتھی کوئی نہیں ہے اٹھ کر اپنا ساتھی ڈھونڈ لو..؟؟؟”
عترت نے فوراً سر اٹھا کر اوپر دیکھا تو وہ چاروں سینے پر ہاتھ باندھے اسی کو دیکھ رہے تھے
عترت نے مشکل سے اپنی گھبراہٹ پر کنٹرول کرتے ہوئے اپنی چیزیں اٹھائیں اور کھڑی ہو گئی
عترت کو کھڑا ہوتا دیکھ کر وہ اس کے اور قریب آگئے اور اسے چاروں طرف سے گھیر کر بولے
پہلا اپنا ساتھی تو چن لو..؟؟
اور پھر خباثت سے ہنسنے لگے
جبکہ عترت کی آنکھوں میں خوف سے نمکین پانی جمع ہونے لگا اس سے پہلے کہ وہ حنین کو کال کرتی ایک لڑکے نے آگے بڑھ کر عترت کے ہاتھ سے اس کا بیگ چھین لیا اور کھول کر اس کی تلاشی لینے لگا
یار یہ موبائل دیکھو..؟؟ قیمتی لگ رہا ہے..؟؟ چلو آج کی دیہاڑی تو لگی
ایک لڑکے نے دوسرے سے کہا
جبکہ اس نے عترت کو دیکھتے ہوئے جواب دیا
لگتا ہے آج تو زبردست دیہاڑی لگے گی..؟؟
اور پھر سب زور زور سے ہنسنے لگے
کونین اپنے دوستوں کے ساتھ پارکنگ کی طرف بڑھ رہا تھا جب اس کے ایک دوست نے کندھے پر ہاتھ مار کر کہا
یار وہ دیکھ بڑے لوگوں کی بگڑی اولادوں کے کام،آج پھر کسی لڑکی کو تنگ کر رہے ہیں.
کونین نے گردن موڑ کر سرسری سا ادھر دیکھا اور پھر پورے کا پورا ہی اپنے قدموں پر گھوم گیا اسے عترت پر سخت غصہ آیا.(پتہ نہیں یہ بےوقوف ہر بار ان کو ہی کیوں ملتی ہے..؟؟؟)
کونین اپنے دوستوں کےساتھ ان لڑکوں کی طرف بڑھا اور قریب آنے پر ان کو مخاطب کر کہ بولا
ہاں جی آج پھر شغل کا ارادہ ہے..؟؟
اور ساتھ ہی اپنی شرٹ کے بازو فولڈ کرنے لگا
کونین کی آواز پر عترت کے آنسوؤں میں روانی آگئی جبکہ اس نے اپنا سر مزید جھکا لیا
اپنے سینئرز جو کہ ان سے تعداد میں بھی زیادہ تھے دیکھ کر وہ چاروں لڑکے کچھ گھبرا کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے
یہ موبائل اور چیزیں واپس کرو اس لڑکی کو، اور ہمارے ساتھ اپنا شغل پورا کر لو یقین مانو تم لوگ بور نہیں ہو گے..؟؟؟
کونین نے شہادت کی انگلی سے عترت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے بس ہم تو جا رہے تھے اس لڑکی نے خود ہی ہمیں بلایا تھا.
ان چاروں میں سے ایک نے وضاحت دیتے ہوئے عترت کا بیگ سامان سمیت عترت کو واپس کر دیا
اچھااااا خود بلایا تھا..؟؟
کونین کہتا ہوا اس لڑکے کی طرف بڑھا مگر اس کے دوست نے اسے روک دیا
یار جانے دے دفع کر خامخواہ ہنگامہ کرنے کا فائدہ….
اور وہ لڑکے بھی دو منٹ میں گراؤنڈ سے آؤٹ ہو گئے
پھر کونین نے دوستوں کو بھی جانے کا اشارہ کیا جبکہ خود عترت کی طرف قدم بڑھا دیے
اتنے بڑے بزنس ٹیکون کی بہن ہو اور وہ تمہارے لیے دو گارڈز afford نہیں کر سکتا…؟؟؟افسوس کی بات ہے
کونین نے عترت پر طنز کرتے ہوئے کہا
عترت کو کونین کے منہ سے دبیر کے لیے یہ الفاظ استعمال کرنا اتنے ہی برے لگے جتنے دبیر کے منہ سے کونین کے لیے لگے تھے مگر وہ کچھ بولی نہیں.اپنے ڈوپٹے سے اپنا منہ صاف کرنے لگی.
جب تم لڑکوں ساتھ پڑھ نہیں سکتی تو کس گدھے نے مشورہ دیا تھا اس یونی میں داخلے کا…؟؟؟ وویمن یونی میں داخلہ کیوں نہیں لیا..؟؟؟
کونین کو عترت پر غصہ کے ساتھ ساتھ ہمدردی بھی ہو رہی تھی
آپ کا شکریہ….عترت نم آواز سے کہتی پارکنگ کی طرف جانے لگی کیونکہ اب اس کا کلاس لینے کا کوئی ارادہ نہین تھا.عترت کو جاتا دیکھ کر کونین بھی اس کے ساتھ چل پڑا اور کہا
آپ نے فون کیوں نہیں کیا میں انتظار کر رہا تھا..؟؟
وہ آپ کا نمبر مجھ سے گم ہو گیا ہے..؟؟ سوری
عترت نے جھوٹ بولا
اچھاااااا ….
کونین نے عترت کے چہرے پر دیکھتے ہوئے کہا جیسے یقین کرنا چاہ رہا ہو کہ وہ سچ بول رہی ہے…
مجھے اپنا نمبر دو..؟؟؟
کونین نے اپنا موبائل عترت کے آگے کرتے ہوئے کہا
عترت کچھ دیر کونین کے موبائل کو دیکھتی رہی پھر نم آواز میں بولی
اب اس سب کی ضرورت نہیں…؟؟؟
اور خود جلدی سے اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئی جبکہ کونین اس کی بات پر الجھ گیا
……………………
حنین رات کو بیڈ پر لیٹنے لگا تو نرمین کا خیال آیا کافی دنوں سے اسے تنگ نہیں کیا تھا کچھ سوچ کر اس کا نمبر ڈائل کیا
نرمین کی آوازسنتے ہی حنین نے چہک کر پوچھا
کیسی ہو مس معصومہ..؟؟؟؟
ویسے جیسی تمہاری حرکتیں ہیں مجھے کیسا ہونا چاہیے..؟؟؟
نرمین نے جواب دینے کی بجائے الٹا سوال کیا
نرمین تمہیں کیا ہوتا جا رہا ہے تم تو بڑی معصوم سی مخلوق تھی..؟؟؟
حنین نے حیران ہونے کی ایکٹنگ کی….
تم بہت بتمیز ہو ہمیشہ میرا مزاق اڑاتے ہوئے…
نرمین نے شکوہ کیا
بھئی اپنا تو ایک ہی اصول ہے
‏ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺑﻨﻨﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ
ﮈﮬﯿﭧ ﺑﻦ ﺟﺎﻭٗ😏
سارے مسئلے حل ہو جائیں گے😂
حنین نے ہنستے ہوئے جواب دیا
ایسا نہ کیا کرو پلیززززز
نرمین نے پیار سے کہا
اچھا ٹھیک ہے زیادہ سیریس مت ہو اور ہاں میں تمہیں بتانا ہی بھول گیا کہ میری اور دبیر کی پوری فیملی زریاب کی شادی میں شرکت کے لیے گاؤں جا رہی ہے تم چلو گی ساتھ..؟؟؟
حنین نے نرمین سے پوچھا
حنین تم گاؤں کیوں جا رہے ہو پلیزز مت جاؤ ناااااا وہاں خطرہ ہے..؟؟؟
نرمین اب سچ مچ پریشان ہو گئی تھی
ارے پاگل کچھ نہیں ہوتا اب وہاں کوئی خطرہ نہیں ہے سب ٹھیک ہے اور تم پریشان مت ہوتی رہنا ہم سب زریاب اور اس کی بیگم سمیت اتوار کو واپس آ جائیں گے. ٹھیک ہے
حنین نے تسلی دیتے ہوئے کال بند کر دی