Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11 Pt.1


حنین نرمین کو چھوڑ کر گاڑی ریورس کرنے لگا جب سامنے سے ملک نزیر اور بیگم غزالہ کی گاڑی آتے ہوئے نظر آئی….
او شٹ کس ٹائم پر آئے ہیں.چنگیز خان تو آگے ہی گرم ہوا ہوا ہے.
حنین نے گاڑی ملک نزیر کی گاڑی کے برابر کر کے روکی اب دونوں باپ بیٹے آمنے سامنے تھے مگر گاڑیوں کا رخ مخالف طرف تھا
بیٹا جی اگر خود ہی رشتہ لینے آنا تھا تو ہمیں زحمت دینے کی وجہ…..
ملک صاحب نے مسکرا کر رہا مطلب صاف ظاہر تھا کہ تم یہاں کیا کر رہے ہو؟؟؟
آپ کو تو پتہ ہی ہو گا ڈیڈ کہ سسرال میں بڑی کشش ہوتی ہے بندہ بھاگا بھاگا آتا ہے میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہے.حنین نے آنکھ مارتے ہوئے کہا
حنین …..بیگم غزالہ نے مصنوعی غصہ کا اظہار کیا
ٹھیک ہے ٹھیک ہے آپ جائیں اور نکاح کی تاریخ لے کر آنا.میں اس گلی کے چکر لگا لگا تھک گیا ہوں بندے تو بندے مجھے تو اس گلی کے کتے بھی پہچاننے لگے ہیں اور گاڑی آگے بڑھا دی
نرمین ٹی وی لاؤنچ سے گزر رہی تھی جب احمد مراد نے آواز دی
نرمین بیٹا ادھر آؤ…
جی بابا وہ کہتی ہوئی ان کی طرف بڑھ گئی
کہاں گئی تھیں..؟؟؟
انھوں نے پاس بیٹھتی ہوئی نرمین نے پوچھا
بابا وہ مجھ سے گلاسس ٹوٹ گئے تھے میں نے اسائمنٹ بنانی تھی.اس لیے….
ابھی نرمین نے پورے الفاظ ادا نہیں کیے تھے کہ دینو بابا نے آ کر بتایا کہ مسٹر اینڈ مسسز نزیر ملک آئے ہیں.
نرمین کے ساتھ ساتھ احمد مراد بھی حیران ہوگئے.
اچھا انھیں ڈرائنگ روم میں بیٹھائیں اور نرمین سے مخاطب ہو کر کہا اپنی امی کو بھیجوں اور چائے پانی کا انتظام کرو.
نرمین ماں کو پیغام دیتی کچن میں آگئی.مگر اسے مسلسل بےچینی تھی ابھی وہ حنین کے ساتھ واپس آئی تھی مگر حنین نے اسے اس بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا.
ڈرائنگ روم میں اس وقت مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی.ملک نزیر اپنی بات کہہ کر جواب کے منتظر تھے.جب کافی دیر تک احمد مراد اور ان کی بیگم نے کچھ نا کہا تو بیگم نزیر بول پڑیں.
بھائی صاحب ہم نرمین کو اپنی بیٹی بنا کر رکھیں گے میرے گھر میں اللہ کا دیا ہوا سب کچھ ہے بس ایک بیٹی کی کمی ہے وہ آپ پوری کر دیں.میں وعدہ کرتی ہوں آپ سے کہ نرمین کو ہم بہت خوش رکھیں گے.ہم سائل بن کر آئے ہیں ہماری جھولی بھر دیں ہمیں خالی ہاتھ نہ لوٹائیں.ہمیں آپ کی تمام شرطیں بغیر سنے منظور ہیں.
مگر پلیز حنین کے MBA والی بات رہنے دیں.وہ اس کے بس کی بات نہیں.
جیسے ہی بیگم نزیر نے یہ کہا احمد مراد بول پڑے.
بات دراصل یہ ہے کہ MBAحنین کے لیے کوئی مسئلہ نہیں.مجھے خود یہ مسٹری سمجھ نہیں آ رہی.ہر سال حنین MBA کے پیپرز دیتا ہے اور زبردست نمبروں سے پاس ہوتا ہے لیکن وہ اپنے پیپرز نہیں دیا.کبھی کسی ایسے لڑکے کے پیپرز دیتا ہے جو اچانک پیپرز کے نزدیک بیمار ہو جاتا ہے،کبھی کسی غریب لڑکے کے جو کسی وجہ سے فیس جمع نہیں کرا سکتا اور یونی چھوڑ جاتا ہے وہ ہر سال کسی نا کسی لڑکے کے پیپرز دے کر ان کا مستقبل محفوظ بناتا ہے.جس پر مجھے فخر ہے چھپا کر کرنے والی نیکی اللہ کے نزدیک پسندیدہ ہے.مگر مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ وہ اپنی ڈگری کیوں حاصل نہیں کر رہا.
آپ کو یقین ہے کہ حنین ایسا کرتا ہے.؟؟؟
ملک نزیر نے کچھ بےیقینی سے پوچھا..؟؟
جی میں اس کی رائیٹنگ پہچانتا ہوں وہ ببل سٹائل میں لکھتا ہے اور ایسا ہمارے ڈیپاٹمنٹ میں اور کوئی نہیں لکھ سکتا.
پہلی دفعہ ملک نذیر کو اپنے بیٹے حنین پر فخر محسوس ہوا.اور ان کی آنکھیں نم ہو گئیں.
لیکن مجھے یہ مسٹری سمجھ آ گئی ہے.وہ MBA کرے یا نا کرے اسے اس سے فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ میری جائیداد اور کاروبار کا اکلوتا وارث ہے.
مگر وہ دوسروں کے پیپرز اس لیے دیتا ہے تاکہ ان کے مستقبل خراب نہ ہوں.مجھے اپنے بیٹے پر فخر ہے
ملک نزیر نے بیگم غزالہ کی طرف دیکھ کر کہا
لیکن پھر بھی میں چاہتا ہوں کہ وہ MBA کرے میں لوگوں کو کیا بتاؤں گا کہ میرا داماد صرف گریجویٹ ہے…؟؟؟
احمد مراد نے کہا
آپ بےفکر رہیں اب میری زمیداری ہے اسے MBA کرانا بس آپ نرمین کو ہماری بیٹی بنا دیں
ملک صاحب نے کہا
ٹھیک ہے تو پھر نرمین آج سے آپ کی ہوئی. احمد مراد نے کہتے ہوئے ملک صاحب کو جھپی کی دعوت دی جسیے ملک صاحب نے خوشی خوشی قبول کیا اور ڈرائنگ روم میں مبارک باد کی صدائیں گونجی
…………………….
ماہ نور چپ چاپ اپنے کمرے میں بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر لیٹ گئی.اس کی آنکھیں بند تھیں.مگر وہ بند آنکھوں سے اپنا ماضی دیکھ رہی تھی.وہ جتنا ماضی کو بھولنے کی کوشش کرتی اتنا ہی کچھ ایسا ہوتا کہ اسے شدت سے پھر ماضی یاد آ جاتا.ابھی بھی یہی ہوا تھا زریاب کی شادی کی باتیں سن کر اس کے اپنے زخم ہرے ہو گئے.کیا دن تھا وہ………
(ماہ نور کا ماضی)
آج ماہ نور کی بارات تھی.ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں تھیں.ماہ نور نے ایک نظر خود کو آئینہ میں دیکھا.پھر عجیب سا غرور محسوس کیا. ڈریسنگ ٹیبل سے گجرے پکڑ کر پہنتے ہوئے اس نے سوچا کہ میں کتنی خوبصورت اور خوش نصیب ہوں.اللہ مہربان ہے مجھ پر….
وہ سرخ اور گولڑن کلر کے لہنگے میں ملبوس تھی.اگر دنیا میں حور کو دیکھنا ہے تو مجھے دیکھ لو مجھ سے زیادہ حسین نہیں ہو گی.ماہ نور نے اپنے سراپے پر نظر ڈال سوچا اور پھر ہنسنے لگی…
کیا ہو گیا ہے مجھے…؟؟؟
کہ اتنے میں ماہین بھاگی بھاگی آئی….
آپا بارات آگئی.قسم سے اتنے پیارے لگ رہے ہیں اسد بھائی…
ماہین نے ماہ نور کی طرف دیکھ کر پر جوش انداز میں کہا
حیا کے مارے ماہ نور کا چہرہ سرخ پڑ گیا اور اس نے نظریں جھکا کر دھیمی آواز میں پوچھا
نرمیں مجھ سے بھی زیادہ….
جواب اس کی امید کے عین مطابق ملا.
نہیں آپا……
آپ کی تو بات ہی کچھ اور ہے دیکھ لینا اسد بھائی دیکھتے ہی ہوش کھو بیٹھے گے…
ماہین نے پہلے حیرت سے اور پھر شرارت سے بات ختم کی.
اتنے میں ماہ نور کے سسرال کی عورتیں بھی کمرے میں کوثر بیگم اور نسرین بیگم ساتھ داخل ہوئیں.
ہر کوئی ماہ نور کی بلائیں لے رہا تھا.ماہ نور کی ساس اس کے صدقے جا رہیں تھیں کہ اللہ نے اسے چاند جیسی بہو دی ہے.سب عورتیں باری باری ماہ نور کو پیار کرتیں اور دعائیں دیتیں مل رہیں تھیں.
زریاب اپنے کمرے میں تھا سب کے کہنے کے باوجود وہ بارات کا استقبال کرنے باہر نہیں گیا تھا.کیونکہ وہ چاہتا تھا کہ سب کو اپنی غلطی کا احساس ہو اور آئندہ کبھی وہ مجھ سے کوئی بات نہ چھپائیں.
بارات جیسے ہی حویلی پہنچی چوہدریوں کا شاندار استقبال کیا گیا.ساتھ ہی ہوائی فائرنگ کا بھی سلسلہ شروع ہوا دونوں طرف کے لوگ فائرنگ کر رہے تھے.خوشی میں کسی کو کسی کی ہوش نہیں تھی کہ کون کیا کیا کر رہا ہے.
اسد بیحد خوش تھا.اس نے جسے چاہا تھا آج وہ اس کی ہو جانی تھی ہمیشہ کی لیے مگر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا.
زریاب اپنے کمرے میں ٹہل رہا تھا جب ہاہر شور مچا کہ دولہے کو گولی لگ گئی وہ فوراً کمرے سے باہر نکلا.
ادھر عورتوں میں بھی شور برپا ہو گیا کچھ عورتیں زور زور سےرونے لگیں کچھ ماہ نور کو کوسنے لگیں کہ دلہن ہی منحوس ہے.ماہ نور کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ اچانک کیا ہو گیا ہے.پوری حویلی میں کھبلی مچ گئی تھی.اس سے پہلے کہ ماہ نور کسی سے کچھ پوچھتی ماہین بھاگی بھاگی آئی …
آپا اسد بھائی کو گولی لگ گئی ہے.
ماہ نور کے ذہن میں زریاب کی بات گردش کرنے لگی.
“تو میں اسے گولی مار دون گا”
ماہ نور اپنے حواس کھونے لگی اود پاگلوں کی طرح چیخنے چلانے لگی…
زریاب نے مارا ہے
زریاب نے مارا ہے
مجھے پتہ ہے یہ زریاب نے کیا ہے….
وہ روتی جا رہی تھی اور کہتی جا رہی تھی.اسے معلوم نہیں تھا کہ اس کے یہ الفاظ اسی کے لیے موت کا پھندا ثابت ہونگے.
وہان پر موجود اسد کی رشتےدار عورتوں نے بھی سب سنا اور دیکھا.
چند منٹ میں شادی کا گھر موت کدہ بن گیا.
یہاں سے سرداروں اور چوہدریوں کی نہ ختم ہونے والی دشمنی اور ماہ نور کی بد نصیبی کا آغاز ہوا.
(چالیس دن بعد)
اسد کے کفن دفن کے بعد نے علاقے کے معززین کا جرگہ بلوایا.کیونکہ چوہدری اور سردار دونوں ہی پولیس اور عدالت کے چکر میں پڑنا نہیں چاہتے تھے.
سب سے پہلے جرگہ نے جو ڈیمانڈ کی وہ پہلے سے سردار دلاور علی خان اور حشمت علی خان کو معلوم تھی.
چوہدریوں کی طرف سے مطالبہ آیا.
خون کا بدلہ خون
یعنی اسد کے بدلہ زریاب
یہ بات کسی بھی صورت دونوں بھائیوں کو یعنی سردار دلاور اورحشمت علی خان کو منطور نہیں تھی.کیونکہ وہ زریاب کو بے گناہ سمجھتے تھے.زریاب نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر سب لوگوں کے سامنے قسم کھائج تھی کہ میں نے گولی نہیں چلائی.اور افراسیاب نے گواہی بھی دی تھی.مگر چوہدری ماننے کو تیار نہ تھا.ان کا کہنا تھا کہ ماہ نور کو زریاب نے اس قتل کے بارے میں پہلے ہی بتا رکھا تھا اور سرداروں نے ہمیں دھوکے سے بلا کر ہمارے اکلوتے بیٹے کا قتل کیا ہے تاکہ علاقے میں ان کے برابر کا کوئی نہ ہو.
زریاب کی قسم کھانے کے بعد سرداروں کی حویلی میں سب اسے بےگناہ سمجھتے تھے سوائے ماہ نور کے…..
ہم معزرت خواہ ہیں آپ کا یہ مطالبہ پورا نہیں کر سکتے کیونکہ ہمارا بچہ بے گناہ ہے آپ اس مطالبے کے علاوہ جو بھی مطالبہ کریں گے ہم وہ من و عن قبول کریں گے.
سردار حشمت علی خان نے جرگہ سے کہا
زریاب اگر گنہگار ہوتا تب بھی سردار حشمت علی خان نے ایسا نہ ہونے دیتے اب تو پھر وہ بے گناہ تھا
چوہدری اسی مطالبے پر اڑے ہوئے تھے.مگر مزید خون خرابے سے بچنے کے لیے باقی معززین نے انھیں ایک اور بات پر راضی کر لیا.
سردار دلاور تو ماننے کے لیے تیار نہ تھے مگر سردار حشمت علی خان نے انھیں یہ کہہ کر چپ کروا دیا کہ ماہ نور میری بیٹی ہے اور میں اپنی بیٹی کو زریاب پر قربان کرتا ہوں.
ہمیشہ کی طرح بیٹے کو بچانے کے لیے پھول جیسی بیٹی کو زندہ درگور کر دیا گیا.
جرگہ نے زریاب کی جان ان شرائط پر بخشی…
1.ماہ نور ساری زندگی اسد کے نام پر بیٹھی رہی گی یعنی وہ اسد کی بیوہ بن کر زندگی گزارے گی اس کی اب کسی سے شادی نہیں ہو سکتی جیسے ہی چوہدری خاندان میں کوئی لڑکا شادی کے قابل ہوا ہم ماہ نور کو بیاہ کر لے جائیں گے.کیونکہ ہماری زمینیں اس کے نام ہیں اور ہم اپنی جائیداد غیروں میں نہیں جانے دیں گے
2.ماہ نورسفید رنگ کے علاوہ کسی بھی رنگ کا کپڑا نہیں پہنے گی.
3.ماہ نور کسی شادی، میلہ میں یا گاؤں سے باہر نہیں جا سکتی. صرف حویلی میں رہے گی

جب تک ماہ نور ان باتوں پر عمل کرے گی چوہدری کسی قسم کا نقصان زریاب کو نہیں پہنچائے گے.

زریاب گاؤں میں مستقل نہیں رہے گا صرف ملنے آ سکتا ہے.
جب تک سردار ان شرائط پر عمل کرتے رہیں گے زریاب کو چوہدریوں کی طرف سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا.
مگر جیسے ہی دونوں فریقوں میں سے کسی ایک نے بھی معاہدے کی خلاف ورزی کی تو دوسرا فرق خودبخود آزاد ہو جائے گا.
اس معاہدے کے ساتھ ہی یہ فیصلہ کیا گیا کہ زریاب کو مستقل شہر شفٹ کر دیا جائے. زریاب وہیں یونی میں پڑھا اور پھر وہیں بزنس کرنے لگا.سردار دلاور علی خان نے اسے وہاں ایک پر آسائش فلیٹ لے دیا تھا.
جبکہ اس فیصلہ کے بعد زریاب بلکل بدل گیا.اس نے کچھ نہیں کیا تھا.مگر پھر بھی اس کی وجہ سے ماہ نور کو سزا ملی.یہ بات اسے چین نہیں لینے دیتی تھی.اس کے دل میں ماہ نور کی نفرت نے ہمدردی کی جگہ لے لی اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ یہ ہمدردی محبت میں بدل گئی.وہ ماہ نور کی محرومیوں کا ازالاں کرنا چاہتا تھا.مگر کر نہیں پاتا تھا.اسے اس سارے واقعے نے یہ سبق سیکھایا تھا کہ
“‏زبان سے معاف کرنے میں وقت نہیں لگتا مگر دل سے معاف کرنے میں عمریں بیت جاتی ہیں اس لیے سوچ سمجھ کر زبان کا استمعال کیا کریں کہ دل کی عدالت سے ہر کوئ اتنی جلدی بری نہیں ہوتا۔ ۔ ۔”
اس فیصلے نے جہاں زریاب کو بدلا وہیں ماہ نور پر بھی ان مٹ نقوش چھوڑے.وہ ہر دم خوش رہنے والی زریاب سے لڑنے جھگڑنے والی ہنستی مسکراتی لڑکی ایک دم چپ کر گئی. دنیا کی ہر چیز سے منہ موڑ لیا اسے اپنے برے لگنے لگے محبت کی جگہ دل میں نفرت نے ڈیرے ڈال لیے.خاص طور پر اپنے بابا اور زریاب کو اپنا دشمن سمجھنے لگی.زریاب کی قسمیں کھانے اور گھر والوں کے یقین دلانے کے باوجود وہ زریاب کو مجرم سمجھتے ہوئے اس کے مرنے کی دعائیں مانگنیں لگی.وہ چاہتی تھی کہ زریاب مر جائے اس طرح اس کے خاوند کا بدلہ بھی پورا ہو جائے گا اور وہ بھی پابندیوں سے آزاد ہو جائے گی.گھومے پھرے گی.رنگین کپڑے پہنےگی.مگر فلحال اس کی دعائیں قبول نہیں ہو رہیں تھیں.
اب بھی وہ ماضی اور حال کے تانے بانے بن رہی تھی جب موبائل کی گھنٹی بجی.اور وہ ہوش کی دنیا میں واپس آگئی.
ڈریسنگ ٹیبل سے فون اٹھایا تو زریاب کا میسج چمک رہا تھا
“ﺗُﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﮨﯿﮟ ﺷﮑﺎﯾﺘﯿﮟ،
ﮐﺒﮭﯽ ﺳُﻦ ﻟﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺣﮑﺎﯾﺘﯿﮟ۔
ﺗُﺠﮭﮯ ﮔﺮ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻼﻝ ﮬﻮ،
ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺗُﺠﮫ ﺳﮯ ﮔﻠﮧ ﮐﺮﻭﮞ؟
ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐُﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﺟﻮﺍﺏ ﺍﺏ
ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺗﯿﺮﮮ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺎ۔
ﺗُﻮ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ ﮐﯿﺴﮯ ﯾﻘﯿﮟ ﻣﯿﺮﺍ،
ﻣُﺠﮭﮯ ﺗﻮ ﺑﺘﺎ ﺩﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭﮞ؟”
زریاب دن میں دو تین بار کالز اور میسجز ضرور کرتا تھا.
اللہ کرے زریاب تو مر جائے.میری سزا ختم ہو. تو مرتا کیوں نہیں.اللہ جی آپ پلیززز میری دعا قبول کر لیں. میں جینا چاہتی ہوں اس طرح نہ میں زندوں میں ہوں نہ مردوں میں…..
یہ کہہ کر ماہ نور نے اپنے دونوں ہاتھ منہ پر رکھے اور رونے لگی