Hichkiyan Muhabbat Ki Season 1 By Amna Mehmood Readelle50146 Episoded 2 Pt.2
No Download Link
Rate this Novel
Episoded 2 Pt.2
سرداروں کی اس حویلی میں دو خاندان اباد تھے ایک سردار دلاور علی کان کا جس کے دو بیٹے زریاب علی خان اور افراسیاب علی خان تھے
جبکہ ان کے بڑے بھائی سردار حشمت علی خان کی تین صاھبزادیاں تھی ماہ نور جو زریاب سے دو سال بڑی تھی.ماہین جو افراسیاب کی ہم عمر تھی اور سب سے چھوٹی مہ پارہ تھی…..
مہ پارہ کو پیار سے پارو بلاتے تھے گھر کا آخری بچہ ہونے کی وجہ سے سب کی لاڈلی تھی خاص طور پر زریاب کی….کیونکہ اس کی اپنی کوئی بہن نہیں تھی اس لیے وہ اسے اپنی بہن کہتا تھا….ماہ نور نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا بہت اثر لیا.اس نے اپنے آپ کو سارے گھر والوں سے الگ تھلگ کر لیا وہ ایک کمرہ میں گوشہ نشین ہوگئی تھی سفید کپڑوں کے علاوہ کوئی رنگ نہیں پہنتی تھی نہ ہی کسی قسم کا زیور،میک اپ کرتی.بس جب کبھی خوش ہوتی تو اپنے نرم ملائم سفید موتیا اور گلاب کی پنکھڑیوں جیسے ہاتھ پاؤں پر مہندی لگا لیتی.اسے مہندی بہت پسند تھی. اس کا معمول اب صرف نمازیں، تسبیحات، وظا ئف اور نفلی روزے تھے گاؤن کی عورتیں اس سے دم درود کروانے آتیں یہی وجہ تھی کہ اب سارا گاؤں حتٰی کہ گھر والے بھی اسے نور بی بی بلاتے تھے صرف ایک شخص تھا جو اسے ماہ نور کہتا تھا….
ماہ نور کی زریاب سے نفرت دن بدن بڑھتی جارہی تھی وہ سب کی ہمدرد تھی گاؤں کی عورتوں کے مسائل سنتی ان کے لیے دعائیں کرتی کسی کا برا نہ چاہتی زیادتی برداشت کرتی مگر زریاب کو نہ بخشتی تھی ہر وقت اس کے مرنے کی دعائیں مانگتی کیونکہ اس کے نذدیک وہ ایک منحوس انسان تھا جس کی وجہ سے آج اس کی یہ حالت تھی اگر وہ مر جائے تو سب پہلے کی طرح ہو جائے گا(مگر یہ صرف اس کی سوچ تھی اس کے مرنے سے جتنا نقصان ماہ نور کا ہونا تھا یہ اسے وقت نے بتانا تھا)
زریاب نےجیسے ہی اپنے کمرے میں قدم رکھا اسے تھکاوٹ کا شدید احساس ہوا ایک دو ڈرائیو کرکے گاؤں آیا سفر کی تھکاوٹ پھر سارا دن اپنے بابا دلاور علی خان اور تایا حشمت علی خان کے ساتھ مل کر گاؤں کے مسائل سنے اور ان کے حل بھی تلاش کیے.اب وہ صرف سونا چاہتا تھا مگر……
وہ ابھی سو نہیں سکتا تھا کیونکہ ابھی تک وہ دشمن جان نظر نہیں آئی تھی.ویسے بھی جتنے دن وہ حویلی رہتا وہ اپنے کمرہ سے باہر نہیں نکلتی تھی
زریاب خود ہی ملتا تھا جا کر اسے…..زریاب نے گھڑی کی طرف نظر دوڑائی ابھی نو ہوئے تھے کچھ سوچتے ہوئے اس نے بالوں میں ہاتھ پھیرا مطلب ابھی وہ نماز پڑھ کر تسبیحات پڑھے گی دس بجے فری ہو گئی…..چلو زریاب صاحب زنان خانے کی طرف…..
سرداروں کی حویلی بہت بڑی تھی اس حویلی کی ایک سائیڈ پر ڈیرہ تھا جہاں جیپ گاڑیاں اعلٰی نسل کے کتے شکاری کتے گھوڑے بھینسیں بکریاں مرغیاں اور کالے شیروں کی نایاب جوڑی کے ساتھ ساتھ زریاب کے پسندیدہ ہرن بھی تھے.
ڈیرے کے ساتھ ہی مہمان خانہ تھا.
دورسری طرف مردان خانہ اور اس کے بلکل ساتھ زنان خانہ تھا.مردان خانے سے زنان خانے کا فاصلہ تقریباً پندرہ منٹ تھا…..
………………………………….
دبیر، زریاب اور حنین بہت اچھے دوست تھے زریاب اور دبیر نے ایم بی اے کے بعد بزنس شروع کر دیا تھا جبکہ حنین مستقل یونی میں تھا حنین اور دبیر کے گھر اسلام آباد میں تھے لیکن زریاب نے یہاں اپاٹمنٹ لیا ہوا تھا.شام میں حنین اور دبیر اسی کے فلیٹ پر پائے جاتے………
………………………………….
دبیر آفس میں بیٹھا کچھ فائلیں دیکھ رہا تھا جب اس کا سیکرٹری اندر داخل ہوا…..دبیر نے ایک نظر اس پر ڈالی اور کہا بولو کیا بات ہے؟؟؟؟
سر وہ حنین صاحب آئےہیں….
کتنی بار کہا ہے انھیں باہر نہ روکا کرو اندر بھیج دو ساتھ ہی دبیر نے فائل بند کر دی اور مسکرا کے دروازہ کی طرف دیکھنے لگا پتہ تھا ابھی کیا ہونے والا ہے….
بہت ہی بے شرمی ہے قسم سے دروازہ کھولتے ہوئے وہ اونچا ونچا بول رہا تھا. ہر دفعہ تمہارا سیکرٹری مجھے باہر انتظار کرواتا ہے کیا فائدہ دوست کے آفس میں آ کر بھی بندہ یہی محسوس کرے کہ پاپا کے آفس میں آیا ہے یعنی کوئی عزت ہی نہیں….
.دبیر نے مسکراتے ہوئے کرسی کی طرف اشارہ کیا…
شکریہ میں یہاں بیٹھنے نہیں آیا.جب سے زریاب گاؤں گیا ہے ملاقات ہی نہیں ہو رہی چلو شاباش شرافت سے میرے ساتھ چلو…مگر کہاں ….؟؟؟؟
حنین نے اپنی گول مٹول آنکھیں نکالی(حنین کی آنکھیں تھیں تو کالی مگر ون الو کی طرح بلکل گول تھیں یہی وجہ تھی کہ اگر سو لوگ بھی ایک جگہ بیٹھیں ہوں تو حنین واضح ہوتا تھا اوپر سے اس کی شرارتی مسکراہٹ بھی اس کو نمایاں کرنے میں اہم کردار ادا کرتیں.دوستوں کی جان تھا یہ حنین)
اچھا اچھا بابا چلو اپنی آنکھوں کے سحر میں مبتلا نہ کرو….
دبیر نے چانیاں اور ویلٹ موبائل اٹھایا اور دونوں پارکنگ میں آگئے…….
…………………………………..
ڈاکٹر رائحہ بخاری اپنی ڈیوٹی دے رہی تھیں جب اس کی نظر گھڑی پر پڑی…افففففف اتنی دیر کر دی ابھی تک مجھے کوئی لینے کیوں نہیں آیا…
یہ کہتی ہوئی وہ اپنا سامان سمیٹ کر exit door کی طرف چل پڑی پارکنگ میں آ کر اس نے کوئی نمبر ڈائل کرتے ہوئے موبائل کان ساتھ لگایا….
آ رہے ہو چلو ٹھیک ہے
یہ ڈاکٹر رائحہ بخاری ہے جن کو برنڈڈ گاڑیوں کا عشق کی حد تک شوق ہے بس نام کی ڈاکٹر ہیں والد کے اصرار پر ڈاکٹری کی…….
ورنہ بننا تو انٹینئر ڈیزائن چاہتی تھیں.اب ان کے پاس اس وقت فیشن کی فل اب ڈیٹ ہے فرینڈز اور ریلیٹوز سب انہی سے مشورہ لیتے ہیں.چاہے کپڑوں کے بارے میں ہو، میک اپ کے، جوتوں کے، جیولری، گھر کی ڈیکوریشن ہو یا کسی فنکش کی تیاری ….
پوچھا رائحہ سے جاتا تھا کیونکہ وہ صرف چیز کے بارے میں نہیں بتاتی تھی بلکہ وہ کہاں سے ملے گی جگہ بھی بتاتی تھی.جس سے اگلے بندے کا تائم بچ جاتا تھا…
اور گاڑیوں کے بارے میں کمال انفارمیشن تھی.پارکنگ میں کھڑی گاڑی کا یوں ایکسرے کرتی کہ بندہ حیرت کے سمندر میں غرق ہو جاتا…
کتنے سال پرانی ہے.؟..کون کون سے پارٹس اریجنل ہے؟ انجن کی کیا حالت ہے؟ اصل قیمت کتنی ہو گئی؟ اب یہ کتنے میں بکے گی؟ وغیرہ
اس لیے فرینڈز اور فیملیز کے لوگ اسی کے مشورے سے گاڑی خریدتے….
گاڑیاں اس کا پہلا عشق ہیں اگر کبھی میرے پاس بہت سا پیسہ ہوا تو میں پاکستان کا سب سے بڑا گاڑیوں کا شو روم بناؤں گی…یہ الفاظ ڈاکٹر رائحہ کے اپنے ہیں..
اب آپ خود اندازہ کریں وہ ڈاکٹر کیسی ہیں؟؟؟
یہ الفاظ ان کے کولیگیز کے ہیں.
………………………………….
