Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14 Pt.2


حنین صبح تیار ہو کر کمرے سے باہر آیا تو نیچے ٹیبل پر مسٹر اینڈ مسز نزیر ملک کو ناشتا کرتے دیکھا وہ سیڑھیاں اترتے اپنی شرٹ کے کف فولڈ کر رہا تھا ساتھ ساتھ شرارت سے دونوں کو دیکھ کر مسکرا بھی رہا تھا.
گڈ مارنگ مام …..
حنین نے ماں کے ساتھ لگتے ہوئے کہا اور خود کرسی گھیسٹ کر بیٹھ گیا.
برخردار کل کہاں گزارا سارا دن…؟؟؟
ملک نزیر نے اسے اطمینان سے ٹوس پر جیم لگاتے ہوئے دیکھ کر کہا
کہاں تھا کیا مطلب….؟؟؟
حنین نے انکھیں گھما کر دیکھا اور مام کو چائے ڈالنے کا کہا
میں نے تمہیں کہا تھا کہ فوراً ہسپتال آؤ مگر تم نہیں آئے پتہ کتنی شرمندگی ہوئی ہم دونوں میاں بیوی کو تمہاری وجہ سے….
ملک نزیر نے غصہ سے حنین کو کہا
پہلی بات تو یہ کہ شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں وہ میری فلحال کچھ نہیں لگتی کہ میں اسے دیکھنے جاتا اور آپ مجھے ہوٹل میرے ولیمے پر نہیں بلا رہے تھے کہ میں دوڑا دوڑا آتا.ہسپتال ایک فضول جگہ ہے مجھے وہاں جانے کا کوئی شوق نہیں
اور دوسری بات آپ کو اپنی شرمندگی نظر آتی ہے میری نہین آتی میں کتنا شرمندہ ہوتا ہوں صبح صبح آپ دونوں کو یوں ایک دوسرے سے لاڈ کرتا دیکھ کر میرا دل نہیں کرتا میری بھی بیگم ہو مجھے بھی اسی طرح لاڈ سے ناشتہ کرائے……
اب وہ شرارت سے مسکرا کر دونوں کو دیکھ رہا تھا ساتھ ساتھ ناشتے ساتھ بھی انصاف جاری تھا.
حیا تو ہے ہی نہیں اس لڑکے میں…..
ملک نزیر نے دکھ سے بیگم غزالہ کو دیکھ
حیا کی بات نہ کریں ڈیڈ آپ کی وجہ سے ہی میں بے شرم ہوا ہوں جب ہم دونوں میں ڈیل ہوئی تھی کہ صرف رشتہ نہیں مانگنا بلکہ نکاح کی تاریخ بھی لے کر آنی ہے تو آپ لوگوں نے پتہ نہیں کیا کھچڑی پکائی کہ لڑکی کو ہسپتال پہنچا دیا.
اب میری بات غور سے سنیں میں آپ کو اس دفعہ MBA کلیئر کر کے دے رہا ہوں مگر میری دو شرائط اپ کو پوری کرنا ہوں گی.اب وہ ٹشو سے ہاتھ ساف کرتا انگلی سے دونوں کو اشارے کر رہا تھا
ایک پیپرز سے پہلے نکاح اور دوسرا رزلٹ کے ساتھ رخصتی…
اگر اب آپ دونوں نے کچھ بھی گڑ بڑ کی تو میری بات غور سے سنیں میں اسے اغوا کر لوں گا.
یہ کہتے وہ اپنی چیزیں سمیٹتا باہر کے دروازے کی طرف بڑھ گیا.جبکہ ملک نزیر اور بیگم غزالہ اسے دیکھتے رہ گیا.
دروازے پر جا کر وہ مڑا اور شرارت سے بولا
زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے میں نرمین کو اغوا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا.مگر اس کے باپ کو تو اغوا کر سکتا ہوں.ایسی کی تیسی پریشان کر کے رکھا ہوا ہے.وہ گلاسس لگاتے چلا گیا.
جبکہ دونوں میاں بیوی پہلے حیرت سے اور پھر مسکرا کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے.
چلیں اب ڈرامہ ختم کریں اس نے MBA کے لیے حامی بھر لی ہے
بیگم غزالہ نے چائے کا کپ ملک نزیر کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
……………………….
زریاب کافون مسلسل بج رہا تھا کبھی افراسیاب کی کال آ رہی تھی تو کبھی ماہین کی ….
اسے معلوم تھا کہ یہ سب کیوں کال کر رہیں ہیں…؟؟؟
زریاب نے بےدلی سے فون کو دیکھا کہ اب وہ پاور آف کر دے نہ فون آن ہو گا اور نہ ہی بجے گا.مگر جیسے ہی اس نے فون بند کرنے کے لے ہاتھ بڑھایا تو….
Paroo calling.. …
فون سکرین پر جگمگا رہا تھا.
زریاب نے ایک لمبا سانس خارج کر کے خود کو نارمل کیا اور فون اٹینڈ کیا.
اسلام و علیکم !! لالا آپ کہاں ہیں..؟؟؟
اس سے پہلے کہ زریاب کچھ بولتا دوسری طرف سے بے صبری سے ماہ پارا نے اسلام کیا اور ساتھ ہی سوال بھی….
گڑیا ادھر ہی ہوں کچھ بزی تھا فون silent پر تھا مجھے پتہ نہیں چلا.
زریاب نے سلام کا جواب دیتے ہی صفائی سے جھوٹ بولا
لالا آپ کب تک گاؤں آئے گے..؟؟
پلیزززز جلدی سے آ جائیں..؟؟
پارو نے لاڈ سے تقریباً ضد کرتے ہوئے کہا
گڑیا ایک دو دن تک آجاؤں گا. تم پرشان مت ہو مجھے یاد ہے کہ میں نے اپنی گڑیا کے لیے ٹیبلٹ لے کر آنا ہے.
زریاب کو پارو کی یہ بےچینی ٹیبلٹ کی وجہ سے محسوس ہوئی.
نہیں لالا چھوڑے ٹیبلٹ کو آپ پلیزز خود آجائیں اور جلدی سے آئیں…
یہ کہتے ہی وہ رونے لگی
پارو کیوں رو رہی ہو کیا ہوا ہے کسی نے تمہیں کچھ کہا ہے بتاؤ مجھے…..؟؟؟؟؟
زریاب نے فکرمندی سے پوچھا
پارو نے روتے ہوئے کہا
لالا !!! بابا سائیں نے آپا کا رشتہ طے کر دیا ہے وہ اب اس گھر سے چلی جائیں گی ہمیشہ کے لیے پلیزز آپ انھیں مت جانے دیں ان کے جانے حویلی خالی ہو جائے گی اور ہم سب اداس……
پارو نے جو کچھ کہا وہ سیدھا زریاب کے دل میں اترا کیوں حالت اس کی بھی یہی تھی.وہ بھی یہی چاہتا تھا کہ ماہ نور اس کی آنکھوں سے دور نہ جائے مگر اس نے ہمت کر کے پارو کو حوصلہ دیا.
پاگل لڑکی تمہیں خوش ہونا چاہیے کہ تمہاری آپا کی شادی ہو رہی ہے وہ اپنے گھر جا رہی ہے جان چھوٹے گی اس کی فضول شرائط سے اور بجائے یہ کہ تم اس کی خوشیوں کے لیے دعا کرو تم رو رہی ہو مجھے تم سے ایسی بےوقوفی کی امید نہیں تھی.
آخر میں زریاب نے ڈانٹنے والے انداز میں کہا
لالا یہ بات نہیں ہے جو آپ سمجھ رہے ہیں.
پارو کی آواز میں بے بسی تھی جسے زریاب نے محسوس کیا.
اچھا پھر کیا بات ہے تم مجھے کھل کر بتاؤ…؟؟؟
زریاب نے اپنا لہجہ نرم رکھتے ہوئے کہا
لالا میں آپ کو فون پر نہیں بتا سکتی اگر کسی نے سن لیا تو میری خیر نہیں. بابا سائیں نے سب کو سختی سے منع کیا ہے کہ آپ کو کچھ نہ بتائیں.میں اپ کو چوری فون کر رہی ہوں.
اب کی بار پارو نے سرگوشی میں جواب دیا.
پارو تم مجھے پریشان کر رہی ہو.
زریاب نے پیشانی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا
لالا آپ کب تک آئیں گے صبح منگل ہے…؟؟؟
پارو نے پوچھنے کے ساتھ ساتھ دن بھی بتا دیا
پارو میں بدھ یا جمعرات کو آؤں گا یہاں بہت کام ہے..؟؟؟
زریاب نے ٹالا
نہیں لالا پھر تو بہت دیر ہو جائے گی اپ پلیززز صبح ہی آ جائیں…..
اب پارو منتوں پر اتر آئی تھی.
اچھا میں کوشش کرتا ہوں اور سنو پارو میرا موبائل خراب ہو گیا ہے خودبخود بند ہو جاتا ہے کبھی ایسا ہو کہ تم کال کرو اور میرا نمبر بند ہو تو پریشان نہ ہونا میں ٹھیک ہوں گا.
ٹھیک ہے لالا خدا حافظ مگر جلدی آنے کی کوشش کرنا.یہ کہہ کر پارو نے کال بند کر دی.
زریاب ہاتھ میں موبائل پکڑ کر کافی دیر سوچتا رہا کہ کیا مسئلہ ہو سکتا ہے؟؟؟؟
تایا سائیں میرے سے کیا چھپائیں گے..؟؟؟
پتہ نہیں پارو کیا کہہ رہی تھی..؟؟؟
پھر دیھان دنوں کیطرف چلا گیا تین دن رہ گئے وہ ہمیشہ کے لیے کسی اور کی ہو جائے گی.زریاب کو یہ سوچتے ہوئے شدید تکلیف کا احساس ہوا.دل میں ایکدم خواہش بیدار ہوئی کہ جا کر اسی آخری بار دیکھ لے. مگر دوسرے پل ہی دماغ نے سختی سے منع کر دیا کہ خبردار جو اس دفعہ تو نے اس کی خوشیاں برباد کیں.دل اور دماغ کی جنگ سے زریاب تھک سا گیا اور سر اٹھا کہ آسمان کی طرف دیکھنے لگا جہاں آج چاند بہت روشن اور واضح نظر آ رہا تھا اسے یاد آیا کہ آج پاکستان میں” سپر مون نائٹ” ہے چاند کتنا خوبصورت لگ رہا ہے پھر آنکھوں کے آگے وہ چاند چہرہ بھی آگیا زریاب نے خیالوں میں ماہ نور کو مخاطب کر کے کہا
“تجھ کو دیکھا تو پھر اس کو نہ دیکھا …….
چاند کہتا ہی رہا، میں چاند ہوں میں چاند ہوں…”
اس نے فیصلہ کیا کہ وہ گاؤں نہیں جائے گا اور کچھ دنوں کے لیے موبائل بھی بند رکھے گا تاکہ کوئی اسی گاؤں آنے کے لیے دباؤ نہ ڈال سکے.یہ ٹھیک رہے گا وہ خود ہی اپنے فیصلہ پر سر ہلاتا ٹیرس سے اٹھ کر کمرے کی طرف بڑھ گیا
…………………..