Hichkiyan Muhabbat Ki Season 1 By Amna Mehmood Readelle50146 Episode 33 Pt.1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 33 Pt.1
حنین کبھی اپنے ڈیڈ کے آفس کا چکر بھی لگا لیا کر….
بیگم غزالہ نے حنین کو اندر آتا دیکھ کر کہا
جب میں ڈیڈ بن جاؤں گا تو میں بھی آفس جایا کروں گا مگر فلحال مجھ سے یہ امید رکھنا سوائے آپ کی معصومیت کے اور کچھ نہیں…..
بیگم غزالہ کے پاس بیٹھتے ہوئے حنین نے جواب دیا
اب مہربانی کر کہ گھر پر ہی رہنا میں نرمین ساتھ نکاح کا جوڑا لینے جا رہی ہوں سوچا بچی کی پسند کا لے لوں
بیگم غزالہ نے گھور کر حنین کو دیکھا اور کہا
کیا…؟؟؟ آپ نرمین کی پسند کا جوڑا لیں گی..؟؟؟ موم آپ کو کیا ہو گیا ہے..؟؟ اسے کیا پتہ کیسے کپڑے لینے ہے..؟؟؟ وہ فیشن سے بلکل ناواقف ہے
حنین نے سیدھے ہوتے ہوئے اپنی گول مٹول آنکھیں گھما کر کہا
حنین میں نے تجھے بتایا ہے تجھ سے پوچھا نہیں…
بیگم غزالہ نے ناراض لہجہ میں جواب دیا
موم میں آپ کو اس طرح پیسہ ضائع نہیں کرنے دوں گا..؟؟؟
عجیب وغریب ڈریس خرید لے گی وہ…؟؟؟
حنین کے چہرے پر پریشانی کے واضح آثار تھے.
ُاُس کا بھی نکاح ہے اس کو بھی حق ہے کہ وہ اپنی پسند کے کپڑے خریدے…..
بیگم غزالہ نے پیار سے حنین کو سمجھانے کی کوشش کی.
موم آپ میری بات کیوں نہیں سمجھ رہی اسے کچھ پتہ نہیں ہے فیشن کے بارے میں….میں نے آج تک اسے ڈھنگ کے کپڑوں میں نہیں دیکھا….ایک گرمیوں میں اس نے سارے فیروزی کلر کے کپڑے خرید لیے…دوسری گرمیوں میں اورنج…اور تیسری گرمیوں میں گرین…….
وہ بازار جاتی ہے جو کلر زیادہ نطر آئے بس اسی رنگ کے سارے کپڑے خرید کر فارغ ہو جاتی ہے
میں اپنے نکاح پر کوئی رزق نہیں لینا چاہتا…ساری زندگی تصویریں دیکھ دیکھ کر مجھے غصہ آتا رہے گا…
حنین نے اپنی بات ختم کر کہ موم کی طرف دیکھا
تیرا ڈیڈ ٹھیک کہتا ہے جب ہر کام تو نے خود ہی اپنی مرضی سے کرنا ہے تو ہماری کیا ضرورت ہے…؟؟؟
بیگم غزالہ اب سچ مچ ناراض ہو گئی تھی.
اوہو موم جزباتی بلیک میلنگ نہ کیا کریں مڈل کلاس ماؤں کی طرح…ویسے آپ ناراض ہو کر اور بھی حسین لگتی ہیں.
حنین نے بیگم غزالہ کو آنکھ مارتے ہوئے ان کا رخ اپنی طرف کیا
حنینننننننننننن………….
بیگم غزالہ نے مصنوعی غصہ سے اس کا نام لیا
چلیں اب ہماری دوستی ہو گئی ہے ہم دونوں لینے چلتے ہیں جوڑے…..میرا بھی اور اس پڑھاکو کا بھی….
حنین نے ماں کو اپنی بانہوں میں لیتے ہوئے کہا
مگر وہ بچی کیا سوچے گی میں نے اسے کہا تھا کہ تمہیں ساتھ لے کر جاؤں گی…؟؟
بیگم غزالہ ابھی تک نرمین کا افسوس کر رہیں تھیں.
موم ایک تو آپ اسے “بچی”نہ کہا کریں جب بھی آپ اسے” بچی “کہتی ہیں میرے ذہن میں ایک چھوٹی سی بچی پنک فراق پہنے ہوئے پرائم میں لیٹی چوسنی چوستے ہوئے نظر آتی ہے بہت کوفت ہوتی ہے مجھے(حنین نے جھرجھری لی)اور دوسری بات اسے بھی ساتھ لے جاتے ہیں مگر جوڑا میں اپنی پسند کا لوں گا…
حنین نے موم کو جواب دیا جس پر وہ چپ کر گئیں اب مزید بحث کی گنجائش باقی نہیں تھی.
اللہ کرے تیرا نکاح خیریت سے ہو جائے جو کہ مجھے نظر نہیں آ رہا…
بیگم غزالہ نے حنین کو دیکھ کر کہا جس پر وہ ہنسنے لگا
موم کیا ہے ایسے کیوں دیکھ رہیں ہیں مجھے…؟؟؟ نظر لگانے کا ارادہ ہے…..
حنین نے مسکرا کر پوچھا
یہ بال بھی اپنے سیٹ کروا یہ جو تیرا ہیئر سٹائل ہے مجھے بلکل پسند نہیں….
بیگم غزالہ نے حنین کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا
موم آپ چاہتی ہیں کہ میں وحید مراد جیسا ہئیر سٹائل بنا لوں 1980کی دہائی کا…..
حنین نے منہ بنا کر پوچھا
ہائے کیا بات تھی ..؟؟ وحید مراد کی…
بیگم غزالہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
پسند وحید مراد تھا اور شادی کرلی گنجے ملک صاحب سے….
حنین نے شرارت کی…..
جس پر بیگم غزالہ نے اپنے پاؤں سے چپل اتاری اس سے پہلے کہ وہ حنین کو مارتیں اس نے جلدی سے کا ہاتھ پکڑ لیا
موم آپ کا نشانہ بہت خراب ہے پھر آپ کیوں محنت کرتیں ہیں اور میں اسی ہئیر سٹائل میں شہزادہ لگتا ہوں.
“میرا حُسن بیاں نہ ہو سکا کسی سے.. ___ ![]()
![]()
تھک گئے لوگ شاعری کرتے کرتے…..![]()
“
حنین نے ماں کو گلے لگاتے ہوئے شعر پڑھا
اللہ کرے تیرے بچے بھی بلکل تیرے جیسے ہوں پھر تجھے پتہ چلے گا کہ ماں باپ کو ستاتے کیسے ہیں..؟؟؟
بیگم غزالہ نے حنین کو پیچھے کرتے ہوئے کہا
جس طرح آپ سب لوگ مجھے بدعائیں دیتے ہیں میں نے سوچا ہے کہ میں بچے پیدا ہی نہیں کروں گا.نہ ہو گا بانس نہ بجے گی بانسری……
حنین نے منہ بناتے ہوئے مزید بیگم غزالہ کو چڑایا
ہائے اللہ رحم کرے کبھی تو اچھا بولا کر ہر وقت بکواس کرتا رہتا ہے اللہ میرے گھر میں پوتے پوتیوں کی رونق لگائے……
بیگم غزالہ نے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے دہائی دی
میرے پاس رونق لگانے کے اور بھی کئی طریقے ہیں آپ ایسا کریں مرغی کے بچے نکلوا لیں ہر طرف چہل پہل ہو جائے گی اور ایک خرگوش کا جوڑا بھی لے آئیں تو سونے پر سہاگہ ہو جائے گا ….
گھر میں ہر طرف چوزے اور خرگوش کے بچے مگر……
حنین نے سر میں خارش کرتے ہوئے بیگم غزالہ کی طرف دیکھا اور کہا
مگر وہ آپ کو “دادی” نہیں کہیں گے…..
پھر شرارت سے ہنسنے لگا
حنین تو کبھی انسان نہیں بن سکتا…….
بیگم غزالہ نے اپنا سر نفی میں ہلاتے ہوئے جواب دیا
………………….
گھڑی رات کے آٹھ بجا رہی تھی ہلکی ہلکی ہوا جو کافی دیر سے چل رہی تھی اب وہ آندھی کی شکل اختیار کرنے لگی تھی مگر جب انسان کہ اندر آندھیاں چل رہی ہوں تو اسے باہر کی آندھیوں سے کچھ فرق نہیں پڑتا…….
ماہ نور کافی دیر سے ٹیرس پر بیٹھی تھی اور اپنی سوچوں کے بھنور میں پھسی ہوئی تھی ….
سمجھ نہیں آ رہی کیا کروں…؟؟؟؟.
ماہ نورنے اپنے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
زریاب اور حنین کی باتیں اس کے اندر تلاطم مچا رہیں تھیں اسے معلوم بھی نہیں ہوا کہ کب زریاب ٹیرس پر آ کر اس کے برابر کھڑا ہو گیا.
کب تک یہاں کھڑا رہنے کا ارادہ ہے بارش ہونے والی ہے چلو اندر آ جاؤ…
زریاب نے ماہ نور کے گرد اپنی بازو حائل کرتے ہوئے کہا
مگر ماہ نور کی طرف سے جب کافی دیر تک کوئی جواب نہ آیا تو زریاب نے ماہ نور کا رخ اپنی طرف موڑتے ہوئے دوبارہ خود ہی بات کا آغاز کیا
دیکھو میں کافی دیرسے نوٹ کر رہا ہوں کہ تم حنین کی باتوں سے بہت اپ سیٹ ہو. اس کی باتوں کو سیریس نہ لیا کرو وہ ایسے ہی بولتا رہتا ہے عادت ہے اسے ہر کسی کے معاملہ میں تانگ اڑانے کی……….
مگر وہ دل کا برا نہیں (پھر کچھ دیر چپ رہ کر دوبارہ کہا ) اگر تم گاؤں جانا چاہتی ہو تو میں تمہیں حنین کے نکاح کے بعد چھوڑ آؤں گا بس تم خوش رہو میں تمہیں اداس نہیں دیکھ سکتا حالانکہ میں خود تمہارے بغیر بہت اداس ہو جاؤں گا…..
زریاب کے چپ ہوتے ہی ماہ نور نے ایک نظر زریاب کی طرف دیکھا اور پھر نظریں جھکا لیں
میرے سر میں سخت درد ہے کہتے ہوئے ماہ نور کی آواز روہانسی ہو گئی پتہ نہیں اسے کس بات پر رونا آ رہا تھا مگر اس وقت اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ کسی کے کندھے ساتھ لگ کر خوب روئے…….
تم نے بتایا نہیں کہ تمہاری طبیعت خراب ہے سردی لگ گئی ہو گی کب سے ٹیرس پر کھڑی ہو کتنی ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے. چلو ڈاکٹر پاس چلتے ہیں……
زریاب نے فکر مندی سے ماہ نور کے ماتھے جو چھوا
نہیں ڈاکٹر پاس جانے کی ضرورت نہیں بس تھوڑی دیر آرام کروں گی تو ٹھیک ہو جاؤں گی.
ماہ نور کہتی ہوئی ٹیرس سے روم کی طرف بڑھ گئی جبکہ زریاب اسے پریشانی سے جاتے ہوئے دیکھنے لگا
“ﮐﭽــﮫ ﻟﻮگ___ﻭﺍﺟﺐ ﺍﻟﻤﺤﺒﺖ ﮨﻮﺗﮯﮨﯿﮟ___!!!
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻭﮦ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﻭﺡ ﻣﯿﮟﺍﺗﺮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ___!!”
