Hichkiyan Muhabbat Ki Season 1 By Amna Mehmood Readelle50146 Episode 32 Pt.1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 32 Pt.1
دبیر گھر لوٹا تو عترت کو بہت دنوں بعد بہت خوش پایا. اس نے عترت سےکچھ نہیں کہنا اور نہ کچھ پوچھنا ہے مگر خود الجھ گیا یہ کونین کو دوسری طرح ٹھیک کرنا پڑے گا ورنہ یہ میری جان لے کر چھوڑے گا.
عترت ننگے پاؤں لان میں چل رہی تھی اور چہرے پر مسکراہٹ تھی. دبیر نے گاڑی پارک کرنے کیلیے ڈرائیور کو کیز دیں اور خود لان کی طرف بڑھ گیا.دبیر کو اپنی طرف آتا دیکھ کر وہ اپنی جگہ رک کر کھڑی ہو گئی.
آج میری گڑیا بہت خوش ہے..؟؟؟
دبیر نے عترت کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے پوچھا جس کے جواب میں وہ صرف مسکرائی مگر کہا کچھ نہیں….
اب دونوں بہن بھائی لان میں ٹہل رہے تھے.کافی دیر جب دونوں خاموش رہے تو دبیر نے عترت سے سوال کیا
تمہیں کونین کا فون آیا تھا…؟؟؟
جی آیا تھا…..عترت نے جتنی خوشی سے جواب دیا اس سے دبیر کو اندازہ ہوا کہ کم از کم کونین نے ایسا کچھ نہیں کہا جیسا اسے کہنے کو کہا گیا تھا
اچھا تو تم خوش ہو…..
دبیر نے عترت کو دیکھتے ہوئے پوچھا
بتایا تو ہے کہ خوش ہوں ویسے بھی مجھے معلوم تھا کہ آپ میری خوشی کا ضرور خیال رکھیں گے ہمیشہ کی طرح…..
I love u bro…..
عترت نے دبیر کی طرف دیکھ کر جواب دیا
پھر کل سے یونی جا رہی ہو…؟؟؟
دبیر نے اگلا سوال پوچھا
آپ میرا وویمن یونی میں ایڈمیشن کرا دیں پلیززززز
عترت نے لاڈ سے کہا
لیکن گڑیا اس طرح تو تمہارا پورا سال ضائع ہو جائے گا..؟؟
اور میں نہیں چاہتا ایسا ہو……
میں نے تمہاری خوشی کا خیال رکھا ہے تو تمہارا بھی فرض بنتا ہے کہ اب تم میری خوشی کا خیال رکھو….
دبیر نے بھی لاڈ سے عترت کو جواب دیا
اچھا ٹھیک ہے میں کل سے یونی جاؤں گی…
عترت نے کچھ دیر سوچ کر کہا
چلو اب اندر چلتے ہیں مجھے بہت زوروں کی بھوک لگی ہے.
………………….
دبیر اپنے کمرے میں مسلسل چکر لگا رہا تھا جب اماں بی کمرے میں داخل ہوئیں.
کیا بات ہے لڑکے..؟؟ مجھے کیوں بلایا ہے…؟؟؟ پتہ بھی ہے میں رات کو جلدی سو جاتی ہوں…
اماں بی نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے دبیر کی طرف ناگواری سے دیکھتے ہوئے کہا
ششششش آہستہ بولیں کہیں عترت نہ آ جائے…
دبیر نے اماں بی کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا
کیا کوئی خاص بات ہے..؟؟؟
اماں بی نے دبیر کو یوں کرتے ہوئے دیکھ کر پوچھا
جی…..دبیر نے ماں کی طرف اداسی سے دیکھ کر کہا
میرا دل ہول رہا ہے جلدی بتا کیا بات ہے…؟؟؟
اماں بی نے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا
پہلے آپ وعدہ کریں کہ چپ کر کہ میری ساری بات سنیں گی اور اس بارے میں عترت سے کچھ نہیں کہیں گئیں….؟؟
دبیر نے اماں بی سے وعدہ لیا
اچھا ٹھیک ہے…اماں بی کو بات سننے کی جلدی تھی اس لیے فوراً مان گئیں.
دبیر نے ایک لمبا سانس کھینچا اور کونین کے بارے میں سب کچھ اماں بی کے گوش گزار کر دیا.
یہ سب تیری ڈھیل کا نتیجہ ہے آگے تو کبھی تیری بہنوں نے ایسا نہیں کیا اب سید زادیاں یوں ایرے غیروں سے بیاہی جائیں گی…؟؟؟ میں تو یہ نہیں ہونے دوں گی مجھے نہیں پتہ تو اس کا رشتہ دیکھ اور اسے چلتا کر اس سے پہلے کہ وہ کوئی گل کھلا دے…..
اماں بی ساری بات سنتے ہی سیخ پا ہو گئیں غصہ سے ان کا چہرہ سرخ پڑ گیا اور آنکھوں میں نمی اتر آئی اور ماضی کی کوئی تلخ بات ان کے کانوں میں گونجی…
“اگر میری بیٹی نے ایسا کیا ہوتا تو میں اسے خود اپنے ہاتھوں سے مار دیتی تمہاری طرح بے غیرتی کا مظاہرہ نہ کرتی”
سچ کہا ہے کسی نے جو انسان بوتا ہے وہی کاٹتا بھی ہے یاد ہے نا تجھے کیا ہوا تھا آج سے پچیس سال پہلے…..
اماں بی نے روہانسی ہو کر دبیر سے پوچھا
اچھا بس میں ویسا کچھ نہیں ہونے دوں گا آپ کو جیسا میں کہوں گا آپ بلکل ویسا کریں گی.آپ کل صبح کونین کے گھر جائیں گی اور ہالہ کا رشتہ میرے لیے مانگیں گئیں ساتھ میں یہ بھی ان لوگوں کو بتا دینا کہ ہمارے ہاں وٹے سٹے کا رواج ہے اور ہاں یاد رہے عترت کا نام آپ استعمال نہیں کریں گئیں صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ آپ ہالہ کا رشتہ لے کر آئیں ہیں میں اپنی بہن کو بدنام نہیں کرنا چاہتا اور ماضی کے بارے میں عترت سے کچھ نہیں کہنا وہ بہت معصوم ہے اور میں اس کی معصومیت چھیننا نہیں چاہتا. سمجھی آپ……
دبیر نے اماں بی کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر کہا
وہ لوگ مان جائیں گے…؟؟؟
اماں بی اب کچھ پریشان دیکھائی دے رہی تھیں.
کیسے نہیں مانے گئے..؟؟؟ میرے جیسے رشتے تو لڑکی والے ڈھونڈتے ہیں پہلے آپ میرے رشتے کی ہاں کرانا اور پھر شرط بتا دینا.
دبیر نے اماں بی کو تسلی دی.اب آپ جا کر سو جائیں عترت بھی صبح یونی جائے گی آپ کوشش کرنا اس کے یونی سے لوٹنے سے پہلے گھر واپس آ جائیں ٹھیک ہے
اماں بی کے جانے کے بعد دبیر خود بھی سونے کے لیے لیٹ گیا مگر نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی بار بار رائحہ کا مسکراتا شرارت بھرا چہرہ آنکھوں میں گھوم رہا تھا.بلآخر دبیر اٹھ کر بیٹھ گیا.
“تمہیں پتا ہے مجھے نیند کیوں نہیں آتی ؟
تمہیں پتا ہی نہیں ہے، تبھی نہیں آتی!”
اچھا نہیں کیا کونین تم نے میری بات نہ مان کر….میں جو نہیں کرنا چاہتا تھا تم نے مجھے مجبور کر دیا ویسا کرنے پر…دل کرتا ہے تمہیں جان سے مار دوں مگر……
دبیر نے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو تھام لیا.اور لب سے صرف ایک نام نکلا….عترت
……………..
زریاب اب پہلے سے بہت بہتر محسوس کر رہا تھا کچھ تو دوائیوں کا اثر تھا اور کچھ ماہ نور کی دیکھ بھال کا…..ماہ نور نے زریاب کا بہت خیال رکھ رہی تھی وہ ایک اچھی بیوی ثابت ہو رہی تھی مگر………
زریاب ابھی انہیں سوچوں میں گم تھا جب ماہ نور کمرے میں داخل ہوئی
میں سوچ رہا ہوں آج آفس چلا جاؤں اتنے دن ہو گئے ہیں دبیر بیچارہ اکیلا ہی سب سمبھال رہا ہے ہمت ہے اس کی…..
زریاب نے ماہ نور کو دیکھتے ہوئے ایسے کہا جیسے ان دونوں کے درمیان بہت بےتکلفی ہو.
اگر تم ٹھیک ہو گئے ہو تو یہ بات چچا سائیں کو بھی بتا دو تاکہ میں تمہارے اس ڈربے جیسے فلیٹ سے اپنے گھر جا سکوں.
ماہ نور نے زریاب کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا
تم کہیں نہیں جا رہی اور نہ ہی میں تمہیں کہیں جانے دوں گا …؟؟؟؟
زریاب نے پیار سے ماہ نور کو کہا جو اس وقت صوفے پر پڑی چیزیں اٹھا رہی تھی.
کتنی دفعہ منع کیا ہے مجھ پر اپنا یہ رعب اور حکم مت چلایا کرو …..
ماہ نور نے غصہ سے جواب دیا
کیا ہو جاتا ہے تم ایکدم اتنی ہائپر کیوں ہو جاتی ہو…؟؟؟؟
زریاب نے ماہ نور کا رویہ بدلتے دیکھ کر کہا
زریاب مجھے تم بہت برے لگتے ہو پھر بھی میں اپنی پوری کوشش کر رہی ہوں کہ میں تمہارے ساتھ بہتر طریقے سے رہوں مگر اس سے زیادہ میری ہمت جواب دے گئی ہے اس لیے مجھے اب گاؤں واپس جانے دو.
ماہ نور نے اپنا لہجہ نارمل کرتے ہوئے کہا
زریاب بیڈ سے اٹھ کر ماہ نور ساتھ صوفے پر آ کر بیٹھ گیا
ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم ماضی بھول کر اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کریں پلیززز ماہ نور میں تمہارے ساتھ ایک ہنستی مسکراتی زندگی گزارنا چاہتا ہوں.
زریاب نے ماہ نور کا ہاتھ پکڑتے ہوئے پیار سے کہا
یاد ہے ایک دفعہ میں نے بھی کچھ ایسا ہی کہا تھا تم سے….
ماہ نور نے اپنا ہاتھ زریاب کے ہاتھ سے چھڑاتے ہوئے کہا
اگر میں نے اس وقت تمہارے ساتھ اچھا نہیں کیا تھا تو پلیززز تم اس وقت میرے ساتھ اچھا کرو. ورنہ مجھ میں اور تم میں کیا فرق رہ جائے گا…؟؟؟
زریاب پوری کوشش کر رہا تھا مصلحت کی….
بہت عرصے پہلے میری بھی یہی خواہش تھی مگر اب نہیں….
ماہ نور پھر سے ہائپر ہونے لگی
اچھا بتاؤ میں کیا کروں کہ تمہارے دکھوں کا مداوا ہو سکے
زریاب نے ماہ نور کا دوسرا ہاتھ بھی اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے اس کا رخ اپنی طرف موڑ لیا
تم میرے چھ سال واپس کر سکتے ہو..؟؟؟ مجھے کالج میں پڑھا سکتے ہو..؟؟ ساری دنیا کی سیر کروا سکتے ہو..؟؟ اور سب سے بڑھ کر “اسد” کو واپس لا سکتے ہو..؟؟ نہیں نااااااا
تو پھر کیوں تمہیں معاف کروں تم نے ہمیشہ میرا حق مارا مجھے تنگ کیا ہر وہ کام کیا جس سے مجھے چڑ تھی.
یہ سب باتیں کرتے ہوئے ماہ نور کی آواز بیٹھنے لگی جبکہ گالوں پر آنسو تواتر سے گر رہے تھے
“سردار زریاب علی خان “تم میری خوشیوں کے قاتل ہو میں کیسے تمہارے ساتھ خوش رہ سکتی ہوں بتاؤ…؟؟؟؟؟
بس کہ اور کچھ…..
زریاب کو ماہ نور کہ آنسو تکلیف دے رہے تھے مگر وہ چاہتا تھا کہ ماہ نور اپنا دل ہلکا کر لے
اور کچھ نہیں بہت کچھ..؟؟؟
زریاب تم بچپن سے مجھے ستاتے آئے ہو تم ماہین یا پارو کو کچھ نہیں کہتے تھے مگر مجھے بخشتے نہیں تھے آخر کیا دشمنی تھی میری تمہارے ساتھ بولو جواب دو……؟؟؟
ماہ نور پھر اپنے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرنے لگی مگر اس میں ناکام رہی کیونکہ زریاب کی گرفت مضبوط تھی
دیکھو ماہ نور بچپن میں تمہیں اس لیے میں تنگ کرتا تھا کیونکہ میری ایج کا کوئی اور بچہ گھر پر موجود نہیں تھا جو میرے ساتھ کھیلتا اور تم میرے ساتھ کھیلتی نہیں تھی اس لیے مجھے تم پر غصہ آتا اور میں تمہاری شکایت تایا سائیں کو لگا دیتا جب تمہیں ڈانٹ پڑتی تو مجھے مزے آتا پھر اسی طرح ہم بڑے ہوتے گئے تم نے کالج میں داخلہ کا کہا مگر میں نہیں چاہتا تھا کہ تم کالج جاؤ اس وقت مجھے یہ بات معلوم نہیں تھی کہ میں تمہیں کیوں کالج جانے سے روک رہا ہوں بس مجھے پسند نہیں تھا کہ تم کالج جاؤ….
پھر گھر والوں نے مجھ سے پوچھے بغیر تمہاری شادی اسد سے کر دی یہ خیال کہ تم اس گھر سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چلی جاؤ گی مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا تھا میں لاشعوری طور پر تمہیں ہمیشہ حویلی میں دیکھنا چاہتا تھا اور میں خود بھی یہی سمجھتا تھا کہ مجھے تم سے نفرت ہے اس لیے مجھے تم کو تنگ کرنے میں مزا آتا ہے مگر میں غلط تھا…
زریاب نے کہتے ہوئے اپنا سر نفی میں ہلایا اور اپنے اوپر تھوڑا سا مسکرایا جیسے اپنا مزاق اڑا رہا ہو جبکہ ماہ نور اسے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی.
مگر جب اسد کی ڈیٹھ ہوئی اور جرگہ نے تمہیں سزا دی ماہ نور قسم سے وہ دن اور آج کا دن میرے دل کو سوائے تمہارے کبھی کوئی خیال نہیں آیا مجھے کسی پل چین نہیں پڑتا تھا پھر مجھے معلوم ہوا مجھے تم سے عشق ہے اور اب سے نہیں بچپن سے میں تمہیں کسی ساتھ شئیر نہیں کر سکتا تھا اسی لیے تمہیں حویلی سے باہر نہیں جانے دیتا تھا مجھے ڈر تھا کوئی تمہیں مجھ سے چھین نہ لے اور دیکھو ایسا ہی ہوا میری عمر بھر کی ریاضت ضائع ہو گئی جبکہ اسد کی چند دنوں کی محبت جیت گئی اور میں ہار گیا….
زریاب نے اپنا سر نیچے جھکا لیا جبکہ اس قدر عجیب اظہارِ محبت پر ماہ نور شاکڈ زریاب کو دیکھ رہی تھی اس کے آنسو اب گالوں پر اپنا نشان چھوڑتے خشک ہو گئے تھے
میں تمہیں تمہارے چھ سال نہیں لوٹا سکتا میں ایک عام انسان ہوں خدا نہیں ….مگر میرا وعدہ ہے اگر تم مجھے معاف کر کہ میرا ساتھ دینے کا وعدہ کرو تو میں تمہاری ساری خواہشات ایک ایک کر کے پوری کر دوں گا تم مجھ پر بھروسہ کر کہ تو دیکھو ایک بار پلیزززززز
زریاب کی آنکھوں میں دکھ، کرب ،درد اور امید تھی ماہ نور کچھ دیر اس کو دیکھتی رہی پھر اپنا چہرہ موڑ لیا جو اس بات کا ثبوت تھا کہ زریاب کی باتیں ماہ نور کہ دل پر اثر کر رہی ہیں. تھوڑی دیر دونوں کہ درمیان خاموشی چھائی رہی پھر ماہ نور نے اسے توڑا
زریاب میرے ہاتھ چھوڑو مجھے کام ہے….
زریاب نے ماہ نور کہ ہاتھ چھوڑتے ہوئے کہا….
چھوٹے ہمیشہ اپنے بڑوں سے سیکھتے ہیں۔
عبادتیں بھی، محبتیں بھی، نفرتیں بھی__
ماہ نور میں نے بھی یہ سب چیزیں تمہیں سے سیکھیں ہیں اب تمہارے ہاتھ میں ہے کہ تم اپنی اور میری زندگی کو کیسا بناؤ گی …؟؟؟؟
خوشیوں بھری جس میں ، میں اور تم اپنے بچوں ساتھ ایک پر سکون زندگی گزارے گئے یا تم اس زندگی کو نفرت، انا اور انتقام کی بھیڑ چڑھا دو گی جہاں ہم دونوں زندہ تو ہوں گے مگر مردوں سے بدتر……
