Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13 Pt.1


ہالہ نے دروازہ کھولا تو کونین کو بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے لیٹے دیکھا.
کیا ہوا ہے..؟؟؟ کھانا کیوں نہیں کھایا…؟؟؟ ہالہ نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے پوچھا
کیا بتاؤ ہالہ بی….
کونیں اٹھ کر بیٹھ گیا اور گود میں تکیہ رکھ لیا
کچھ تو ہے.. ؟؟؟ ہالہ نے جانچتی نظروں سے کونین کو دیکھا
کونین نے اپنی اور عترت کی ساری روداد سنا دی.
اچھا تو یہ بات ہے……
ہالہ نے پر سوچ انداز میں جواب دیا
میں اسے جھوٹی امید دلانا نہیں چاہتا.مگر وہ اتنی معصوم ہے کہ اس کو ہرٹ کرنے کابھی دل نہیں کرتا.
کونین نے بے بسی سے ہالہ کو دیکھا
اچھا ایک بات بتاؤ وہ تمہیں لگتی کیسی
ہے مطلب اس سے تمہیں محنت شحبت ہو سکتی ہے..؟؟؟
ہالہ نے پوچھا
کونین نے فوراً نفی میں سر ہلایا.
سوچنا بھی نہ ہالہ بی میں اور محبت..؟؟ وہ بھی اس بےوقوف لڑکی سے….never ever
مجھے آپ جیسی لڑکیاں اچھی لگتی ہیں.مضبوط اپنے مسئلہ خود حل کرنے والی……..
جبکہ وہ تو بلکل بچوں کی طرح behave کرتی ہے چھوٹی چھوٹی باتوں پر ضد کرنا،ایکدم خوش ہو جانا،اور دوسرے کی انگلی پکڑ کر چلنا
کونین نے سامنے دیکھتے ہوئے تبصرہ کیا جیسے عترت اس کے سامنے بیٹھی ہو
ہمممم….مگر یہ باتیں ایسی نہیں کہ ان کی وجہ سے کسی سے محبت نہ ہو سکے.اور رہی بات میری تو میں تو میں ہوں.میرا کوئی مقابلہ نہیں.ہالہ نے آخر میں اپنے فرضی کالر جھاڑے
اب دونوں بہن بھائی ہنس رہے تھے.
ویسے ایک بات کہوں ہالہ نے کونین کا موڈ نارمل ہوتے دیکھ کر کہا
چلو ہالہ بی اب آپ بھی پوچھ کر بات کریں گی…؟؟؟
کونین نے حیرت سے جواب دیا
مجھے عترت پہلے دن سے ہی بہت پسند ہے وہ یونی کی باقی لڑکیوں جیسی نہیں ہے بہت سادہ ہے پہلی ملاقات میں ہی مجھے اپنے بارے میں سب کچھ سچ سچ بتانے لگ گئی پھر ہماری کاسٹ کی بھی ہے اگر سٹیٹس اشو نہ ہوتا تو میں بخوشی اسے اپنی بھابی بنا لیتی.
کہتے ہوئے ہالہ نے کونین کے ناک پر اپنی انگلی ماری جو بڑی سنجیدگی سےاس سن رہا تھا.
یہ تو سچ ہے کہ وہ انتہائی بےوقوف ہے مجھے تو اس سے ڈر آتا ہے اپنی انھیں بےوقوفیوں کی وجہ سے کہیں پھنس نہ جائے.
کونین نے فکر مند لہجہ میں کہا
اچھا چھوڑو ہمیں کیا……
وہ کیا کرتی ہے کیا نہیں یہ اس کا مسئلہ ہے ہمارا نہیں…….
تم میرے ساتھ کچن میں چلو اور کھانا کھاؤ میں نے بھی ابھی تک نہیں کھا یا….
یہ کہتے ہی ہالہ نے کونین کا بازو کھینچا اور کونین نے گود سے تکیہ نکال کر بیڈ پر پھینک دیا اور خود ہالہ ساتھ چل پڑا.
…………………………
زریاب اور دبیر جیسے ہی جناح سپر پہنچے تو حنین کو پارکنگ میں پایا.
آ گے تم دونوں…..ویسے حد ہوتی ہے بندے کے سست ہونے کی جتنی دیر میں تم بلیو ایریے سے یہاں پہنچے ہو اتنی دیر میں تو میں ٹیکسلا سے ہو آتا.
حنین انھیں دیکھتے ہی شروع ہو گیا.
یار سوری میٹنگ تھی اس لیے دیر ہو گئی تو اپنی لسٹ نکال کیا کیا لینا ہے.؟؟
دبیر نے صلح جو انداز میں کہا جبکہ زریاب گاڑی لاک کر رہا تھا اور کچھ الجھا الجھا لگ رہا تھا.
اس کے منہ پر کیوں بارہ بجے ہوئے ہیں…؟؟؟؟
حنین نے زریاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دبیر سے پوچھا
کہاں بارہ بجے ہوئے ہیں بلکل ٹھیک ہوں…
دبیر کی بجائے زریاب نے جواب دیا
اچھا چھوڑو تم دونوں کیوں پارکنگ میں تھیٹر لگا رہے ہو.بتاؤ لینا کیا ہے…؟؟؟
دبیر نے جان چھڑانے والے انداز میں کہا
دبیر کی بات سن کر حنین کے چہرے پر مسکراہٹ عود آئی.
یار وہ کیا ہے نا کہ میں تو چھوٹی موٹی شاپنگ کرنے کے چکر میں تھا مگر جب میں تیری styloo کو گھر چھوڑنے گیا تو اس نے مجھے کہا کہ
“حنین تم اپنا موبائل تبدیل کر لو دبیر کے پیسوں سے..”
اب وہ اپنی گول مٹول آنکھوں میں شرارت سے مسکرا کر دونوں کو دیکھ رہا تھا.جبکہ زریاب نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا تو نہیں بدل سکتا اور دبیر نے حنین کی شرارت کو سمجھ کر کہا
“فون بدلنے کا مشورہ اس نے یقیناً دیا ہو گا یہ تبدیلی کی بیماری ہے اسےمگر میرے پیسوں سے….یہ جھوٹ ہے”
مطلب تو مجھے موبائل نہیں لے کر دے رہا..؟؟؟؟
حنین نے سوالیہ نظروں سے دبیر کو دیکھا
میں نے کب کہا نہیں لے کر دے رہا..؟؟؟
چل بتا کونسا لینا ہے…؟؟؟ دبیر نے کھلے دل سے آفر ماری
تیرے جیسا لینا ہے. جیسے ہی حنین نے کہا دبیر جو پارکنگ سے اندر کی طرف بڑھ رہا تھا حنین کی طرف مڑتے ہوئے بولا
“تین لاکھ کا “
تو کیا میں تین لاکھ کا موبائل استعمال نہیں ک سکتا. styloo کو تو تین ملاقاتوں میں 40000 دے سکتا ہے اور مجھے جو تیرے ساتھ پچھلے دس سال سے ہوں لاتعداد کام کیے میں نے تیرے ابھی بھی تیرا ہی کام کر کے آ رہا ہوں اور تیرے چکر میں میرے والی ناراض ہو گئی ہے
(حنین کو فوراً نرمین کا خیال آیا شاید ہسپتال والی بات سے ناراض ہو)اور تو بے شرموں کی طرح مجھ سے پوچھ رہا ہے
“تین لاکھ”
تم دونوں کماتے ہو اور میں سٹوڈنٹ ہوں تمہیں تو چاہیے کہ مجھے پاکٹ منی دیا کرو.
حنین نے کھڑے کھڑے پہلے دبیر کی اور آخر میں زریاب کی کلاس لے ڈالی
دبیر کو اپنے اوپر اس وقت سخت غصہ آ رہا تھا نہ وہ 40000 والی بات حنین کو بتاتا اور نہ آج اس کے ہاتھوں ایموشنلی بلیک میل ہوتا.
اچھا ٹھیک ہے چل لے کر دیتا ہوں.دبیر نے ہار مانتے ہوئے کہا
وہ تینوں ایک موبائل شاپ کے اندر داخل ہو رہے تھے جب زریاب کی نظر شاپ کے باہر لگے سٹال پر پڑی.دبیر اور حنین شاپ میں داخل ہو کر موبائل دیکھنے لگے جبکہ زریاب اس سٹال سے ایک پازیب کا جوڑا دیکھتے ہوئے بولا
بھائی یہ پائل کی جوڑی دیکھائیں…؟؟؟
ساتھ ہی ماہ نور کے پاؤں خیالوں میں پائل م پہنے ہوئے دیکھے.ابھی وہ اسی سحر میں تھا جب حنین کی آواز پر چونکا
یہ کس کے لیے لے رہا ہے..؟؟؟
جو تیری حالت ہے تجھے پائل کی نہیں چوڑیوں کی ضرورت ہے..؟؟ اور قہقہ لگایا
حنین کسی وقت تو معاف کر دیا کر زریاب نے بیچارگی سے کہا
بتا ناااا کس کے لیے لے رہا ہے…؟؟
پیرنی کے لیے…؟؟؟
حنین نے خود ہی سوال کیا اور پھر خود ہی جواب دے دیا.
یار حد ہے تجھے اس کے پاؤں پسند ہے….؟؟
تو، تُو سچ مچ کا مرید ہے اس کا….اس کے پاؤں میں جا کر بیٹھ جا بے شرم مجھے تجھ سے یہ امید نہیں تھی تو نے تو رن مریدی کے سارے ریکارڈ توڑ دیے افسوس ہے مجھے تجھ پر……
حنین نے آخر میں افسوس سے زریاب کے کندھے پر ہاتھ رکھا.
اچھا رہنے دیں زریاب نے شاپ کیپر کو پائل واپس کرتے ہوئے کہا
نہیں دے دیں اسے رات نیند نہیں آئے گی…حنین نے شاپ کیپر سے واپس پائل لیتے ہوئے کہا
اتنے میں دبیر حنین کا موبائل لے آیا مگر دونوں کو بحث کرتا دیکھ کر انکھوں سے زریاب سے پوچھا
“اب کیا ہوا..؟؟ حنین کیوں ہنگامہ کر رہا ہے..؟؟ “
زریاب کے بولنے سے پہلے حنین بول پڑا.
یہ پیرنی کے لیے پائل لے رہا ہے مگر مانتا نہیں کہتا ہے وہسے ہی اچھی لگی تو لے لی.اب تو بتا میں نے اور تو نے “ویسے” کیوں نہیں لی…؟؟؟
اور سوالیہ نظروں سے دبیر کو دیکھا
دبیر نے مسکرا کر حنین کے گلے میں ہاتھ ڈالا اور بولا
یار بس کر جانے دے کیوں بات کی کھال اتار رہا ہے میں نے تجھے تین لاکھ کا موبائل لے کر دیا ہے تو خوش ہو پچاس روپے کی پائل کے پیچھے اپنا خون نہ جلا…
یار میں واپس کر رہا ہوں تو واپس بھی نہیں کرنے دے رہا.
زریاب نے دبیر کو اپنی صفائی دی
کیونکہ مجھے معلوم ہے تو ہمارے جانے کے بعد دوبارہ آئے گا پائل لینے……
میں تجھے تیری ماں سے بھی زیادہ جانتا ہوں میرے ساتھ ڈرامے نہ کیا کر….
حنین نے زریاب کو قدرے غصہ سے جواب دیا.جبکہ زریاب خاموش ہو گیا
اچھا چلو شام ہو رہی ہے حنین تو مجھے اور زریاب کو نئے موبائل کی خوشی میں کافی پلا.
دبیر نے سب کا موڈ نارمل کرتے ہوئے کہا
اب تینوں ایک کافی شاپ میں کافی پی رہے تھے جب حنین نے رائحہ کے بارے میں ساری تفصیل دبیر کو دیتے ہوئے کہا
چل اب میسج کر کے نرمین کو ساری صورتِ حال سے آگاہ کر….
اگر میں نے بتایا تو وہ یقین نہیں کرے گی..؟؟
تو اسی قابل ہے ..زریاب نے کافی کا سیپ لیتے ہو ئے کہا
اور تو بدعاؤں کے….
حنین نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا
کیا مسئلہ ہے تم دونوں کو چپ کر جاؤ…….
دبیر نے دونوں پر ایک نظر ڈال کر کہا اور نرمین کو میسج کیا
“نرمین حنین میرے کام سے ہسپتال گیا تھا وہاں صرف گائنی وارڈ ہے اس لیے کسی فیمیل کا ہونا ضروری تھا تو وہ تمہیں ساتھ لے گیا پلیززز اس سے ناراض نہ ہو میں تمہیں سوری کرتا ہوں.”
اور میسج سینڈ کر دیا
زریاب کا حال بھی مالاکنڈ ڈوثرن والا ہے. حنین نے کافی ختم کرتے ہوئے کہا..
مطلب….؟؟؟
زریاب اور دبیر دونوں نے ایک ساتھ پوچھا
مطلب یہ کہ جیسے سارے ملک کا موسم صاف ہو تو تب بھی محکمہ موسمیات والے مالاکنڈ ڈوثرن میں مطلع ابرا آلود اور گراچمک سے بارش ہی بتاتے ہیں.یعنی ملک میں کہیں بارش ہو نہ ہو مگر مالاکنڈ ڈوثرن میں ضرور ہوتی ہے.بلکل اسی طرح ساری دنیا خوش ہو سکتی ہے مگر زریاب نہیں اس کے منہ پر اداسی ہی چھائی رہتی ہے.
نین نے تبصرہ ختم کرتے کرسی سے ٹیک لگا لی.
نہیں یار آج بابا سائیں کا فون آیا تھا اس لیے پریشان ہوں..؟؟
وہ انھوں نے میرا، افراسیاب اور ماہ نور کا رشتہ کر دیا ہے جمعہ کو ماہ نور کا نکاح ہے.مجھے بلایا ہے دل نہیں کر رہا جانے کو…..
آگے بھی میری وجہ سے اس کی خوشیاں خراب ہوئیں میں نہیں چاہتا اب کی بار بھی کچھ ایسا ہو…….
پر سمجھ نہیں آ رہی کیا بہانہ بناؤں کہ میں نہیں آ سکتا…..
زریاب نے ساری تفصیل بتا کر حنین کو دیکھا
چلو یہ کیا بات ہوئی…؟؟؟
دبیر نے کہا
جبکہ حنین خاموش رہا
تو نہیں کچھ کہے گا….؟؟؟
زریاب نے اسے خاموش بیٹھے دیکھ کر پوچھا
کیا کہوں محبت اتنی ہے کہ اس کے سوا کچھ دیکھائی نہیں دیتا.اور ہمت اتنی بھی نہیں کہ اس کے لیے کچھ کر سکے.دکھ ہے تجھ پر بات نہ کر مجھ سے…
حنین نے اتنا کہہ کر منہ پھیر لیا
تو کیا کروں میں بول…؟؟
زریاب نے حنین کی بات کے جواب میں غصہ سے کہا
کہہ دے اپنے گھر والوں سے کہ تو اسے پسند کرتا ہے اور اسی سے شادی کرے گا تھوڑا ہنگامہ ہو گا پھر بات ختم ہو جائے گی.
حنین نے حل بتایا.
یار اس طرح تو وہ میرے سے اور بھی نفرت کرے گی..؟؟
زریاب نے اپنے اندیشہ سے آگاہ کیا
زریاب کی بات سنتے ہی حنین نے ہنسا شروع کر دیا اور ہنستے ہنستے دبیر کے کندھے پر سر رکھ دیا.اسے یوں ہنستا ہوا دیکھ کر زریاب مزید پریشان ہو گیا.
حنین نے ہنسنے کے بعد زریاب سے کہا…..
“آگے تو وہ صبح شام تیرے نام کی تسبیح پڑھتی ہے درگاہ پر تیری زندگی کے لیے چراغ جلاتی ہے تیرے راستے میں پھول بچھاتی ہے…..؟؟؟”
پھر کچھ دیر رک کر بولا جہاں اتنی نفرت تجھ سے کرتی ہے وہاں دو تین کلو کے مزید اضافہ سے کچھ فرق نہیں پڑنا.اسے اپنا زبردستی بنا لے پھر وہ خودبخود تیرے ساتھ ٹھیک ہو جائے گی.بیوی زیادہ دیر تک ناراض نہیں رہ سکتی کیونکہ اس کے پاس اپنی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے خاوند کے علاوہ کوئی اور چوائس نہیں ہوتی.
بیٹا جی محبوبہ کے نکاح کے چھوارے کھانا بہت مشکل کام ہےاور تیرے جیسا عاشق کم از کم یہ برداشت نہیں کر پائے گا. آگے تیری مرضی میں تو چلا.
ساتھ ہی اپنی چابیاں اور موبائل اٹھا کر کھڑاہو گیا.اسے کھڑا دیکھ کر دبیر اور زریاب بھی کھڑے ہو گئے.فلیٹ پر نہیں چلے گا.زریاب نے روک کر کہا
نہیں فلحال تو سسرال جاؤں گا بہت پریشان کیا ہے مجھے آج پڑھاکو نے اب اس کی باری ہے پریشان ہونے کی….
اور پارکنگ کی طرف بڑھ گیا.
حنین نے گاڑی سٹارٹ کرتے ایک دفعہ پھر موبائل چیک کیا مگر کوئی میسج یا مسڈ کال نہ تھی.حنین اس وقت نرمین کے گھر جانا نہیں چاہتا تھا وہ دن بھر کی ڈرائیونگ سے تنگ آچکا تھا.نرمین کا گھر راولپنڈی میں تھا جبکہ حنین کا اسلام آباد میں.آتے جاتے دو گھنٹے لگ جانے تھے اور وہ اس وقت آرام کرنا چاہتا تھا سو اس نے ایک آخری کوشش کی نرمین کے گھر نہ جانے کے لیے…
اور ایک میسج ٹائپ کیا
“نرمین میں آخری دفعہ کہہ رہا ہوں کہ مجھ سے بات کرو.اگر اب بھی تم نے جواب نہ دیا تو میں سیدھا عشق کے آٹھویں مقام پر پہنچوں گا پھر مجھ سے گلہ نہ کرنا”
اور جواب کا انتطار کرتے ہوئے گاڑی سڑک پر لے آیا.ابھی تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی کہ نرمین کی مسڈ کال آئی.(وہ کال نہیں کرتی تھی کیونکہ اس کا کہنا تھا تمہاری فضول بکواس کے لیے میں اپنا بیلس ضائع نہیں کر سکتی)
شکر ہے پڑھاکو ڈرپوک ہے بےشک ڈرپوک لڑکی بھی اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور نرمین کو ہنستے ہوئے کال کرنے لگا جو دوسری بل پر اٹینڈ ہو گئی
کہاں ہو صبح سے…کتنے میسجز اور کال کیے..؟؟؟
حنین نے چھوٹتے ہی کئی سوال کر ڈالے.
یہیں ہوں گھر پر……نرمین کی آواز میں لرزش دکھ اور نیند کے واضح آثار تھے.جسے حنین نے محسوس کیا
کیا ہوا ہے تمہیں..؟؟؟؟
حنین نے پریشانی سے پوچھا اور گاڑی سڑک کنارے روک دی
مجھے اپنے ضبط پہ ناز تھا
سرِبزم شام یہ کیا ہوا
میری آنکھ کیسے چھلک پڑی
مجھے رنج ہے یہ برا ہوا
نرمین جو صبح سے اپنے آنسو روکے بیٹھی تھی حنین کے پوچھنے پر رونے لگی
کیا ہوا ہے بتا کیوں نہیں رہی کیوں اتنا سسپنس create کر رہی ہو..؟؟؟
حنین اب الجھ گیا تھا پہلے کبھی نرمین نے ایسا نہیں کیا تھا.نرمین کی روتے روتے ہچکیاں بندھ گئیں. اور پھر وہ ہچکیاں بھی آہستہ آہستہ دم توڑتی گئیں
مگر نرمین کچھ نہ بولی اب وہ پہلے سے بہتر اپنے اپ کو محسوس کر رہی تھی.حنین نے حسبِ عادت اسے چپ نہیں کروایا تھا.جب دس پندرہ منٹ گزر گئے تو حنین کی آواز سپیکر سے ابھری
اگر تمہارا موڈ اب مزید ڈرامہ کرنے کا نہیں ہے تو بتا دو کیا ہوا ہے میں بہت تھکا ہوا ہوں.
یار پلیززز بات ختم کرو.
حنین نے اکتا کر بولا
بات ختم ہو گئی ہے حنین ہمیشہ کے لیے میرا بابا نے رشتہ طے کر دیا ہے اور دو ماہ بعد شادی ہے.ان کا کہنا ہے کہ وہ مجھے تم جیسے ناقدرے کو نہیں سونپ سکتے جو شخص تمہارے لیے MBA نہیں کر سکتا وہ زندگی میں تمہارا کیا خیال رکھے گا.اور مجھے بھی تم سے اب کوئی خاص امید نہیں مگر مجھے تم سے بہت شدید محنت ہے میرا دل نہیں مانتا کہ میں تمہاری جگہ کسی اور کو دوں.پر کیا کروں میرے بس میں کچھ نہیں میرا سر درد سے پھٹ رہا ہے.وقت کے ساتھ شاید سب نارمل ہو جائے مگر میں تمہیں کبھی بھول نہیں پاؤں گی. مجھے لگتا ہے میں مر جاؤں گی
اور ایک بار پھر وہ زور زور سے رونے لگی.
حنین کو اتنی سیریس سچویشن کا اندازہ نہیں تھا وہ جو ہر وقت زریاب کا مزاق اڑاتا تھا بولتے اس کی زبان نہیں رکتی تھی اب تالو سے چپک گئی تھی.
تم انسان نہیں ہو جانور ہو مگر شاید جانور سے بھی بدتر تمہارے سینے میں دل نہیں تم دوسروں کے جزبات نہیں سمجھ سکتے تمہیں کسی کی تکلیف سے فرق نہیں پڑتا تم بس اپنے آپ سے پیار کرتے ہو یہ جو ہم سب تمہاری بکواس برداشت کر لیتے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں کہ تم کوئی آسمان سے اتری مخلوق ہو بلکہ اس لیے برداشت کرتے ہیں کیونکہ ہم سب تم سے پیار کرتے ہیں تم مجھے اب فون اور کال مت کرنا پلیزززز……
نرمین نے کہا
اچھا ٹھیک ہے نہیں کرتا تم پلیززز کھانا کھا کر دوائی لو اور سونے کی کوشش کرو اور ہاں پریشان مت ہونا میں صبح کچھ کرتا ہوں حنین نے نرمین کو تسلی دینا چاہی.
تم کچھ نہیں کر سکتے حنین ملک …..
اگر کر سکتے تو چھ سال بہت ہوتے ہیں اور ساتھ ہی کال کاٹ دی.
حنین کچھ دیر سوچتا رہا کہ نرمین کو کیسے تسلی دے پھر ایک میسج ٹائپ کیا اور اسے سینڈ کر دیا.
“اپنے دل سے کہہ دو کسی اور کی محبت کا نہ سوچے.
ایک میں ہی کافی ھوں تجھے ساری عمر چاہنے کے لیے.”