Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10 Pt.1


ہالہ جیسے ہی ہسپتال کی پارکنگ میں پہنچی کونین نے جلدی سے بائیک آگے لا کر روک دی.
بیٹھیں ہالہ بی جلدی سے مجھے آج آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے..؟؟
صبر کرو بیٹھ رہی ہوںتم کیوں آج ہوا کے گھوڑے پر سوار ہو.؟؟؟
ہالہ نے بائیک پر بیٹھتے ہوئے کہا
بس ہالہ بی کیا بتاؤں بہت گڑ بڑ کر دی میں نے….
کونین نے بائیک چلاتے ہوئے کہا
کیا گڑ بڑ کر دی ہے میرے بھائی نے ….
ہالہ نے کونین کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
ہالہ بی کیا خیال ہے شوارمہ کھائیں گی؟؟؟کونین نے آفر ماری
نیکی اور پوچھ پوچھ…
ہالہ نے ہنستے ہوئے کہا
تبھی کونین نے ایک فاسٹ فورڈ کارنر پر بائیک روکی اور آڈر دینے کے بعددونوں بہن بھائی اندر چلے گئے
ہاں اب بتاؤ کیا بات ہے ہالہ نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا
کونین نے ہالہ کے سامنے بیٹھتے ہوئے افسردگی سے کہا
ہالہ بی آپ کو یاد ہے وہ لڑکی جس کو ہم ڈیفنس چھوڑنے گئے تھے
ہاں بھئی یاد ہے.عترت نام ہے شاید…
ہالہ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا
ہاں وہی کونین نے تصدیق کی
تو اس میں کیا خاص بات ہے؟؟؟
یہ بات تو اب کافی پرانی ہو گئی ہے.اور وہ دیکھو ویئٹر آگیا
ہالہ نے ویئٹرکی طرف اشارہ کیا
ویئٹر ان کا آڈر لگا کر اب جا رہا تھا
جب کونین نے ہالہ کو بتایا کہ میں نے اس لڑکی کو آج پرپوز کیا ہے
ہالہ کاشوارمے والا ہاتھ جو منہ کی طرف جا رہا تھا رک گیا اور اس نے بے یقینی کی حالت میں کونین کو دیکھا جیسے یقین کرنا چاہ رہی ہو کہ جو میں نے سنا وہ ٹھیک ہے..؟؟؟
پھر کونین نے اسے ساری بات ایک سانس میں بتا دی.
ہالہ کچھ دیر تو سکتے کی حالت میں رہی پھر زور زور سے ہنسنے لگی…
کیا ہوا ہالہ بی…کونین نے ہالہ کو یوں ہنستا ہوا دیکھا تو بول پڑا
مسٹر کونین آپ کو کس نے کہا تھا کہ اتنی بڑی چھلانگ لگاؤ.جب کہ پتہ بھی ہے کہ وہ لوگ کتنے امیر ہیں یاد نہیں اس کے گھر کا گیٹ کیسا تھا..؟؟؟ آپ نے اپنی اوقات سے بڑھ کر کام کیا ہے ویسے شاباش بنتی ہے یہ کہہ کر ہالہ نے تالی بجائی
ویسے اچانک یہ سب کرنے کی وجہ..؟؟؟؟ہالہ اب سیریس تھی.
وہ ہالہ بی آج بہت اداس تھی مجھ سے دیکھا نہیں جا رہا تھا میں اسے کچھ اور کہنا چاہ رہا تھا مگر منہ سے کچھ اور نکل گیا.
کونین نے صاف گوئی سے کام لیا.
اچھا تو اب پھر مسئلہ کیا ہے؟؟؟
ہالہ اب شوارمہ کھا رہی تھی.
ہالہ بی مسئلہ یہ ہے کہ میرا پرپوزل سن کر وہ ناراض نہیں ہوئی اور نہ ہی اس نے غصہ کیا بس چپ کر گئی.مجھے ڈر ہے کہ وہ کچھ دن بعد ہاں نہ بول دے.اگر اس نے ہاں بول دی تو کیا ہو گا..؟؟؟ امی بابا کو کیا کہوں گا…؟؟؟
کونین شوارمہ نہیں کھا رہا تھا.
ہالہ نے اپنا شوارمہ کھانے کے بعد ٹشو سے ہاتھ صاف کیے اور کونین سے پوچھا
میں تمہارا شوارمہ کھا سکتی ہوں؟؟؟ کیونکہ تم تو کھا نہیں رہے.
کھا لو ہالہ بی کھا لو اگر کہو تو میں اور بھی منگوا دو.مگر میرے مسئلہ کا حل بتاؤ..؟؟؟
کونین نے شوارمہ ہالہ کو دیتے ہوئے کہا
کونین اتنی پریشانی کی بات نہیں تم صبح یونی جا کر سے کہہ دینا کہ میں نے کل مذاق کیا تھا کیونکہ تم کل پریشان تھی.اور بس…..
دیکھو وہ لڑکی بہت اچھی ہے اور پیاری بھی مگر…..
ہمارے اور ان کے سٹیٹس میں بہت فرق ہے.ہم لوگ تو ان جیسوں سے دوستی نہیں کر سکتے رشتےداری تو دور کی بات ہے.سیانے کہتے ہیں چادر دیکھ کر پاؤں پھیلاؤ.
ہالہ نے سمجھاتے ہوئے کونین کو دیکھااور کونین نے ہاں میں سر ہلا دیا
……………………..
عترت جب سے یونی سے آئی تھی اپنے کمرے میں بند تھی.اس کی زندگی میں یہ پہلا واقعہ تھا اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیسا ری ایکٹ کرے.مگر عجیب بات جو اسی لگ رہی تھی وہ یہ تھی کہ اسے کونین پر غصہ بلکل بھی نہیں آ رہا تھا.کافی دیر وہ کمرے میں ٹہلتی رہی پھر تھک کر ٹیرس پر چلی گئی.اور سوچنے لگی…..
دبیر بھائی اور اماں وہاں سے دلہن لانے کو تیار نہیں…؟؟؟
تو مطلب یہ ہوا کہ وہاں سے دلہن آ نہیں سکتی …..
مگر جا تو سکتی ہے…..
اس سوچ کے ساتھ ہی اس کے چہرہ پر عجیب سی خوشی ظاہر ہوئی.جیسے وہ ہالہ کی بےعزتی کا بدلہ لینا چاہ رہی ہو.
میں کونین سے ہی شادی کروں گی.گندے محلہ میں…….
اور پھر ہنسنے لگی
دبیر کو جب اماں بی نےرات میں بتایا کہ عترت نے دوپہر کا کھانا نہیں کھایا اور جب سے آئی ہے کمرے سے باہر نہیں نکلی تو وہ اسے دیکھنے اس کے کمرے میں چلا گیا تین دفعہ دروازہ نوک کرنے پر جب دروازہ نہ کھلا تو وہ ہنڈل گھما کر اندر آگیا
عترت ٹیرس پر تھی اور اسے معلوم تھا کون ہو گا اسی لیے اٹھی نہیں…؟؟؟
دبیر عترت کے پاس بیٹھ گیا اور اسے اپنی بازؤں میں لے لیا….
گڑیا اتنی سردی ہے یہاں کیا کر رہی ہو..؟؟؟
کچھ نہیں بس ویسے ہی عترت نے جواب دیا
ناراض ہو..؟؟؟
نہیں.
تو اتنے دنوں سے شکل پر بارہ کیوں بج رہے ہین؟؟
دبیر نے عترت کا چہرہ اوپر کرتے ہوئے کہا
ویسے ہی بتایا تو ہے آپ یقین نہین کرتے..عترت نے جواب دیا
اچھا پھر خوش ہو کر دیکھاؤں؟؟
دبیر نے کہا
بھائی آپ کو پتہ ہے میں سچ مچ آج بہت خوش ہوں.
عترت نے دبیر سے الگ ہوتے ہوئے کہا
اچھا…..ایسی کیا بات ہے مجھے بھی تو پتہ چلے.؟؟؟
دبیر نے عترت کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
آپ کو ہی بتاؤں گی اور کس کو بتاؤں گی پر تھوڑا صبر کریں نا.
چلیں میں آپ کو کافی بنا کر پلاتی ہوں.عترت نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی دبیر بھی کھڑا ہو گیا.نہیں گڑیا پہلے کھانا
اور دونوں ٹیرس سے کمرے کی طرف بڑھ گیا.
………………
حنین گھر سے نکلا تو نرمین کی کلاس لینے تھا مگر راستے میں دبیر کا میسج ملنے کی وجہ سے زریاب کے فلیٹ پہنچ گیا.
جب حنین زریاب کے فلیٹ پہنچا تو زریاب اور دبیر ٹی وی لاؤنچ میں خاموشی سے بیٹھے تھے حنین سلام کر کے عادت کے مطابق دونوں کے درمیان بیٹھ گیا.زریاب چپ کر کے کچن میں چلا گیا جبکہ دبیر مکمل خاموش تھا.کچھ دیر بعد زریاب کافی کے تین مگ لے آیا اور لا کر ٹیبل پر رکھ دیے.
حنین دونوں کو مسلسل دیکھ رہا تھا جب مزید دس منٹ تک دونوں خاموش رہے تو حنین کا صبر جواب دے گیا
تم دونوں نے مجھے چارلی چپلن کی مووی دیکھنے کے لیے بلایا ہے؟؟؟
حنین کی بات پر زریاب مسکرایا مگر دبیر پھر بھی خاموش رہا
کچھ بتاؤ گے کہ کیا مسئلہ ہے یا پھر میں جاؤں..؟؟
فضول میں ٹائم ضائع کر رہے ہو میرا اتنی دیر تو میں کسی حسینہ کو نہیں دیکھ سکتا جتنی دیر سے تم لوگوں کی شکلیں دیکھ رہا ہوں.
اب کی بار زریاب نے قہقہ لگایا.
یار بات دراصل یہ ہے کہ…..
زریاب نے ابھی بات شروع ہی کی تھی کہ دبیر نے ٹوک دیا.
حنین یار مجھے تیری مدد کی ضرورت ہے مگر تو وعدہ کر میری بات سن کر مزاق نہیں اڑائے گا…..؟؟
دبیر نے منت بھرے لہجے میں کہا
حنین نے اپنی گول مٹول آنکھیں گھما کر شرارت سے زریاب کو دیکھا اور پھر دبیر کی طرف منہ کر کے بولا بات کیا ہے..؟؟؟
دبیر نے ایک لمبا سانس لیا اور رائحہ کی پہلی ملاقات سے لے کر آخری ملاقات تک سب بتا دیا
بتانے کے بعد دبیر نے آنکھیں بند کر لیں اور زریاب اب حنین کو دیکھ رہا تھا.دونوں کو اندازہ تھاکہ حنین خوب مذاق اڑائے گا.مگر اندازہ کے برعکس حنین کچھ دیر چپ رہا پھر غصے سے لاؤنچ میں ٹہلنے لگا…..
سخت افسوس ہے مجھے تجھ پر دبیر میں نے کبھی سوچا بھی نہین تھا کہ تو کسی لڑکی کے ہاتھوں الو بنے گا.زریاب تو خیر رن مریدی میں PHD کر رہا ہے مگر تُو تو میرے پر جاتا.ایک لڑکی تجھے 40000 کا ٹیکا لگا گئی وہ بھی دن دہاڑے …..
شرم آنی چاہیے تجھے مجھے یہ امید نہیں تھی.
حنین نے دکھ سے نفی مین سر ہلایا..
حنین مجھے تو تُو معاف کر دے زریاب نے ہاتھ جوڑے🙏🏻
کیون تجھے کیوں معاف کر دوں.تیرے ہی ساتھ رہتا ہے یہ سارا دن اپنے جیسا بنا دیا اسے…
حنین اب زریاب پر برس پڑا
حنین وہ بہت تیز لڑکی ہے یقین کر میں کچھ کر ہی نہیں پاتا.
دبیر نے بےبسی سے کہا
بات سن میری سید دبیر حسین شاہ یہ جو مرد ہے نا یہ صرف اپنی من پسند عورت کے ہاتھ بےوقوف بنتا ہے.اس لیے ڈرامے نہ کر سیدھی بات کر وہ بات جو تو چھپا رہا ہے.یہ جو عشق ہے نا اس کی مشک بہت بری ہے سو گز کے فاصلہ سے بھی آ جاتی ہے اور بڑوں بڑوں کی مت مار دیتی ہے یقین نہین آتا تو اپنے سردار زریاب علی خان کو دیکھ لے ….
ساتھ ہی زریاب کی طرف دیکھا کر مسکرایا
اچھا خاصا سمجھدار انسان ہے مگر ایسے گاؤں جاتا ہے جیسے اسے وہاں بہت ضروری کام ہو……؟؟
اب حنین باقاعدہ قہقے لگا رہا تھا.
زریاب نے مصنوعی غصہ سے حنین کو دیکھا
تجھے دبیر کے مسئلہ کے کیے بلایا ہے اور تو میری ہی مسلسل کلاس لے رہا ہے.
ہاں تو دبیر صاحب اب آپ بتائیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں؟؟؟
اب حنین دبیر سے مخاطب ہوا
یار مجھے اس کا بائیو ڈیتا چاہیے.
دبیر نے جواب دیا
ٹھیک ہے مل جائے گا مگر…
حنین نے اپنی گول مٹول آنکھیں گھما کر دبیر کی طرف دیکھااور کہا
مجھے اپنی سروسیز کی payment چاہیے..
اور خوب قہقے لگائے.
صوفے پر جتنے بھی کشن تھے دبیر نے سب کے سب حنین کو دے مارے
یار تم لوگ میری قدر نہیں کرتے کتنے ضروری کام سے جا رہا تھا مگر تم لوگوں کے کہنے پر میں یہاں آگیا …
حنین نے منہ بنایا
ضروری کام….؟؟؟ اور تجھے
زریاب نے حیران ہو کر کہا
جی جناب میں نرمین کی طرف جا رہا تھا مگر دبیر نے میسج کر کے بلا لیا اس اپنی سٹائلو کو40000سروسز کے نام پر دے دیے اور میرے لیے صرف کشن بچے….
وہ اب معصوم شکل بنا رہا تھا
نرمین پاس کیوں جا رہا تھا خیریت…؟؟ دبیر نے پوچھا
بس پیار آ رہا تھا اس پر ..😉
سوچا ایک نظر دیکھ آؤں..😉
حنین اب شرارت سے مسکرا رہا تھا
وہ جو تجھے اس پر آتا ہے وہ پیار ہے..؟؟؟
زریاب نے لقمہ دیا
نہیں جو پیرنی کو تجھ پر آتا ہے وہ پیار ہے
حنین نے جواب دیا
اب تینوں ہنس رہے تھے