Hichkiyan Muhabbat Ki Season 1 By Amna Mehmood Readelle50146 Episode 21 Pt.2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 21 Pt.2
ماہ نور بھی فائرنگ کی آواز سن رہی تھی.
اللہ خیر کرے……
ابھی اس کے منہ سے یہ الفاظ نکلے ہی تھے کہ پارو اور ماہین کمرے میں داخل ہوئیں وہ بری طرح رو رہی تھیں.آپا وہ سب کہہ رہے ہیں کہ لالہ کو گولیاں لگیں ہیں.کچھ تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ لالہ مر گئے ہیں.
جیسے ہی یہ الفاظ ماہ نور نے سنے کچھ دیر کے لیے اس کے پورے جسم میں ایک لرزا طاری ہوا.اور دل کی دھڑکن بھی مختلف طرح دھڑکنے لگی.
کیا کہہ رہی ہو..؟؟ماہ نور کو اپنی سماعتوں پر یقین نہیں ہوا
ابھی دس منٹ پہلے تو وہ یہاں تھا ساتھ ہی دھیان اپنے ہاتھ میں پکڑی پائل پر گیا.جس پر ابھی بھی زریاب کا لمس محسوس ہو رہا تھا
نہیں ایسے کیسے ہو سکتا ہے..؟؟؟
بےساختہ ماہ نور کے منہ سے نکلا جبکہ ماہین اور پارو دونوں ماہ نور ساتھ لپٹیں رو رہیں تھیں
ماہ نور کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اس وقت خوش ہو کہ اس کی منت پوری ہو گئی ہے یا ایک دفعہ پھر بیوہ ہونے پر روئے…..
مگر جو بھی تھا وہ کم از کم خوش نہیں تھی پر وہ درو بھی نہیں رہی تھی….
کچھ دیر وہ ایسے ہی بیٹھی رہی پھر اچانک اماں اور چچی کا خیال آیا.
ماہین اور پارو پلیززز چپ کر جاؤ مجھے اماں اور چچی سے بات کر لینے دو پتہ نہیں تم دونوں کو کیا غلط فہمی ہوئی ہے میرا دل نہین مان رہا اور بابا سائیں کہاں ہیں…؟؟؟
اچانک ماہ نور کو اپنے والد کا خیال آیا جو زریاب پر جان چھڑکتے تھے آؤ میرے ساتھ بابا سائیں کے کمرے میں چلتے ہیں
ماہ نور، ماہین اور پارو کو لے کر بابا سائیں کے کمرے میں پہنچی جہاں پہلے سے ہی کوثر بیگم اور نسرین بیگم موجود تھیں.نسرین بیگم کی حالت بہت خراب تھی اور کوثر بیگم انھیں تسلی دے رہیں تھیں.اور سردار حشمت لال سرخ آنکھوں سے لیٹے چھت کو گھور رہے تھے.
ماہ نور کو دیکھتے ہی نسرین بیگم نے ماہ نور کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے رونا شروع کر دیا اور کہا
ماہ نور تم تو اللہ والی ہو اتنی عبادت کرتی ہو معصوم ہو تم دعا کرو زریاب بچ جائے اگر اسے کچھ ہو گیا تو میں مر جاؤں گی.
ماہین اور کوثر بیگم بھی باتیں سن کر رونے لگیں.
سردار حشمت نے ماہین کو مخاطب کر کے کہا افراسیاب کو فون کرو پوچھو کہ ہسپتال پہنچ گئے ہیں کہ نہیں….
جی بابا سائیں میں فون کرتی ہوں.ماہین کہتی ہوئی فون کرنے لگی.
حویلی میں زریاب کے لیے نوکر سے لے کر مالک تک سب ہی رو رہے تھے اس کی زندگی کے لیے دعائیں مانگ رہے تھےسوائے ماہ نور کے….
وہ عجیب کشمکش کا شکار تھی چھ سال جس کی موت کے لیے دعائیں مانگتی رہی اب کس منہ سے رب کے آگے اس کی زندگی کی دعا مانگوں اور کیوں مانگوں…….؟؟؟؟؟
حویلی میں کوئی بھی اپنے حواسوں میں نہیں تھا نہ کسی کو کھانے کا ہوش تھا نہ پینے کا نہ سونے کا…
اس وقت اگر کوئی اپنے حواسوں میں تھا تو وہ صرف اورصرف ماہ نور تھی. وہی سب کو دلاسے دے رہی تھی زبردستی کھانا کھلا رہی تھی. ماہین اور پارو کو اس نے اپنے میں سلا لیا تھا اور خود چچی ساتھ بیٹھی ان کو تسلی دے رہی تھی اور ساتھ ہی دوا دے کر سلانے کی کوشش بھی کر رہی تھی.
………………
رائحہ حنین کو سکون سے سوتا دیکھ کر کمرے سے باہر نکلنے لگی جب ملک نزیر کو اپنی طرف آتے دیکھا وہ ملک صاحب کو پہچانتی تو نہیں تھی مگر جس طرح وہ آرہے تھے اسے لگا شاید یہی حنین کے والد ہیں.اس کا شک یقین میں بدل گیا جب ملک نزیر نے پاس آتے ہی حنین کا پوچھا.
آپ پریشان نہ ہوں وہ بلکل ٹھیک ہے.میں نے اسے نیند کا انجکشن لگا دیا ہے جب وہ اپنی نیند پوری کر کے اٹھے گا تو بہت بہتر ہو گا.
رائحہ کہتے ہوئے ملک نزیر کو اپنے ساتھ کمرے میں لے آئی.جہاں حنین بیڈ پر لیٹا ہوا تھا آج اس کی بڑی بڑی گول مٹول آنکھیں بند تھیں حنین کا رنگ زرد پڑ چکا تھا اس کی ایک بازو پر سفید پٹی بندھی ہوئی تھی اور کہیں کہیں خون کے دھبے بھی لگے ہوئے تھے جبکہ شرٹ پوری خون سے بھری تھی.
حنین کو اس حالت میں دیکھ کر ملک نزیر کے آنسو خودبخود بہنے لگے وہ خاموشی سے حنین کے پاس پڑی کرسی پر بیٹھ گئے اور بچپن سے جوانی تک کی حنین کی شرارتیں آنکھوں میں گھومنے لگیں.
رائحہ نے ملک نزیر کو یوں پریشان دیکھا تو تسلی دیتے ہوئے کہنے لگی آپ پریشان نہ ہوں حنین ٹھیک ہے اور کمرے سے باہر نکل گئی.
وہ دوبارہ ایمرجنسی کی طرف بڑھ رہی تھی تاکہ معلوم کرے کہ زریاب کا کیا بنا.جب کوریڈور سے گزرتے ہوئے اس کی نظر دبیر پر پڑی جو مسلسل اپنے موبائل پر کچھ کر رہا تھا.
ناچاہتے ہوئے بھی رائحہ اس کے پاس چلی گئی اور کہا
اپ اور یہاں…؟؟؟ خیریت ہے ناااااا ….؟؟؟کیا میں آپ کی مدد کر سکتی ہوں..؟؟؟؟مجھے خوشی ہو گی..؟؟؟
دبیر کی نظر جیسے ہی رائحہ پر پڑی فوراً چونکا اور پھر ایکدم اس کی انکھیں کسی سوچ کے تحت چمکی اور کہا
کیا آپ مجھے بتا سکتی ہیں کہ ابھی ابھی جو پیشنٹ ایمرجنسی میں آیا ہے وہ اب کہاں ہے ..؟؟؟میرا مطلب آپ کی ڈیوٹی کہاں ہے..؟؟کیا آپ اس سلسلے میں میری کچھ مدد کر سکتی ہیں…؟؟
وہ جس کو گولیاں لگی ہیں اس کی حالت تو کافی سیریس ہے خون بھی بہت بہہ چکا ہے مجھے نہین لگتا کہ وہ بچے گامیرے خیال سے آپ اُنھی کا پوچھ رہے ہیں زریاب نام ہےشاید…….
رائحہ نے تکا لگایا.مگر جیسے ہی رائحہ کے منہ سے یہ الفاظ نکلے دبیر نے تڑپ کر کہا
اللہ نہ کرے اُسے کچھ ہو اور ساتھ ہی دبیر کی لال آنکھیں پانی سے بھرنے لگیں.ایک تو حنین پتہ نہیں کہاں چلا گیا ہے فون بھی نہیں اٹھا رہا
دبیر نے بڑبڑاتے ہوئے دوبارہ نمبر ڈائل کیا جبکہ رائحہ حنین کے نام پر چونکی
آپ حنین کو جانتے ہیں.میرا مطلب کیا لگتے ہیں وہ آپ کے…؟؟؟ رائحہ نے دبیر سے پوچھا
حنین سے میرا وہی رشتہ ہے جو زریاب سے ہے اب آپ مہربانی فرما کر اپنا منہ بند رکھیں.کچھ اچھا نہیں بول سکتیں تو برا بھی مت کہیں.
دبیر کو رائحہ کی پہلی بات پر سخت غصہ تھا.
حنین کو بھی گولی لگی ہے ابھی ابھی سوئے ہیں.جیسے ہی رائحہ نے کہا دبیر کو اپنا سر چکراتا ہوا محسوس ہوا
کیا کہہ رہی ہیں آپ..؟؟؟
میری ابھی ابھی اس سے بات ہوئی ہے.یہ کیسے ہو سکتا ہے..؟؟؟
آپ آئیں میرے ساتھ ..
اور پھر رائحہ دبیر کو لے کر حنین کے روم میں آ گئی جہاں ملک نزیر پہلے سے ہی موجود تھے دبیر کو سامنے دیکھ کر اپنے جزبات کو قابو میں نہ رکھ سکے اور اس کے سینے لگ کر رونے لگے….
انکل حوصلہ کریں سب ٹھیک ہو جائے گا.جبکہ اسے خود اس وقت کسی سہارے کی ضرورت تھی.
……………….
آپریشن تھیٹر کے باہر اس وقت دبیر، ملک نزیر، افراسیاب، سردار دلاور اور کمدار کے ساتھ کافی لوگ موجود تھے. سب کی نظر لال بتی پر تھیں آپریشن سے پہلے ڈاکٹرز نے سردار دلاور سے ایک پرچے پر سائن کروائے تھے جس پر لکھا ہوا تھا
“اگر آپریشن کے دوران مریض کی موت واقع ہو جائے تو ڈاکٹرز پر کسی قسم کی کوئی ذمہ داری نہیں ہو گئی”
زریاب کو دو گولیاں بائیں بازو میں لگی تھیں جو کہ خطر ناک نہیں تھی ہاں البتہ ان کی وجہ سے خون کافی ضائع ہو گیا تھا مگر جو گولی سینےمیں لگی تھی سارا مسئلہ اس کا تھا کیونکہ وہ دل کے کافی قریب تھی.
رات کے بارہ بج رہے تھے سب ہی پریشان اور بےحال تھے سردار دلاود کو بار بار سردار حشمت کا فون آ رہا تھا.وہ ہر بار تسلی دے کر فون بند کر دیتے جبکہ دبیر اور افراسیاب کی حالت تو قابلِ رحم تھی
افراسیاب جتنی محبت اپنے لالہ سے کرتا تھا اتنی یا اس سے زیادہ دبیر اپنے دوستوں سے کرتا تھا وہ کبھی حنین کو دیکھنے اس کے کمرے میں چلا جاتا تو کبھی زریاب کے لیے آپریشن تھیٹر کے باہر آ کھڑا ہوتا.دبیر اس وقت وارڈ اور آپریشن تھیٹر کے درمیان پنڈولیم کی طرح لٹک رہا تھا.کبھی ادھر تو کبھی ادھر……..
چکر کاٹ کاٹ کر ٹانگیں شل ہو گئیں تھیں تو سوچ سو چ کر سر بھی درد کر رہا تھا
بلآخر تھک کر وہ ایک بینچ پر بیٹھ گیا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ لیا.اللہ جی سب ٹھیک کر دیں جلدی سے پلیززز پیارے اللہ جی.وہ دل ہی دل میں دعائیں مانگ رہا تھا .
اتنے میں آپریشن تھیٹر کی لال بتی بند ہوئی اور دروازہ کھلنے کی آواز آئی.
دبیر نے سر اٹھا کر دیکھا تو سرجن ڈاکٹرز آپریشن تھیٹر سے باہر آ رہے تھے.وہ جلدی سے ان کی جانب بڑھا.
…………..
